میں اس رات اسٹیشن نہیں آیا تھا۔ میں مرنے نکلا تھا۔…
میرے نام کی اب کسی کو خاص ضرورت نہیں رہی۔
ریلوے اسٹیشن کے سامنے جو پرانا سا ہوٹل ہے، لوگ وہاں مجھے صرف "سلیم چاچا” کہہ کر پکارتے ہیں۔ اتنا ہی کافی ہے۔ بعض عمر کے بعد آدمی نام سے نہیں، عادت سے پہچانا جاتا ہے۔
میں پچھلے بائیس برس سے رات کی شفٹ کرتا ہوں۔
پہلے مجھے لگتا تھا رات صرف اندھیرا لاتی ہے۔
پھر آہستہ آہستہ معلوم ہوا…
رات آدمیوں کے اصل چہرے بھی ساتھ لے آتی ہے۔
دن میں یہاں شور رہتا ہے؛ قلیوں کی آوازیں، ٹرینوں کی سیٹیاں، مسافروں کی جلدی۔ لیکن جب گھڑی تین بجاتی ہے تو سارا اسٹیشن یوں لگتا ہے جیسے کسی نے اس کی روح نکال کر صرف سانسیں چھوڑ دی ہوں۔
اسی وقت لوگ آتے ہیں…
وہ لوگ، جنہیں کہیں اور بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی۔
میں نے ہوٹل کے پچھلے کونے والی میز کو دل ہی دل میں ایک نام دے رکھا ہے۔
آخری میز۔
یہ نام میں نے کبھی کسی سے نہیں کہا۔
نہ مالک سے، نہ باورچی سے۔
صرف اپنے رب سے۔
عجیب بات ہے، جس آدمی کے اندر امید کا آخری چراغ بجھنے لگتا ہے، وہ جانے کیوں سیدھا اسی میز پر جا بیٹھتا ہے۔
پہلے مجھے یہ اتفاق لگتا تھا۔
پھر میں نے اتفاق پر یقین کرنا چھوڑ دیا۔
ایک دسمبر کی رات تھی۔
دھند اتنی تھی کہ سامنے پلیٹ فارم کی روشنیاں بھی یتیم معلوم ہوتی تھیں۔
دروازہ ہلا، اور ایک نوجوان اندر آیا۔
اس کے کپڑے صاف تھے، مگر چہرہ ایسا جیسے کئی راتوں سے نیند اس سے ناراض ہو۔
وہ خاموشی سے آیا اور آخری میز پر بیٹھ گیا۔
میں نے پوچھا،
"کیا لاؤں، بیٹا؟”
اس نے نظریں جھکائے کہا،
"صرف ایک چائے۔”
میں نے چائے بنائی۔
ساتھ دو پراٹھے، آملیٹ اور اچار بھی رکھ دیا۔
وہ گھبرا گیا۔
"چاچا… میں نے یہ نہیں کہا تھا۔”
میں نے جھوٹ بولا۔
"آٹا کچھ زیادہ گوندھ گیا تھا۔ ضائع ہو جاتا۔”
اس نے میری طرف دیکھا۔
ایسے دیکھا جیسے پرکھ رہا ہو کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں یا رحم کر رہا ہوں۔
پھر اس نے کچھ نہیں کہا۔
پہلا نوالہ کھاتے ہوئے اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپے۔
میں نے نظریں پھیر لیں۔
بھوک کو دیکھنا آسان ہے۔
خودداری کو ٹوٹتے دیکھنا نہیں۔
کافی دیر بعد وہ خود میرے پاس آ گیا۔
جیب سے ایک لفافہ نکالا۔
بولا،
"آج نوکری چلی گئی ہے۔”
میں نے لفافہ نہیں کھولا۔
بعض کاغذ پڑھے بغیر بھی سمجھ آ جاتے ہیں۔
میں نے صرف کیتلی سے اس کے کپ میں دوبارہ چائے ڈال دی۔
وہ آہستہ سے بولا،
"گھر والوں سے کہہ آیا ہوں کہ اوور ٹائم لگا ہے۔”
میں خاموش رہا۔
جھوٹ کبھی کبھی گناہ نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی وہ بوڑھے باپ کے بلڈ پریشر اور ماں کی نیند بچا لیتا ہے۔
اس رات وہ بہت دیر بیٹھا رہا۔
باتیں کم کیں۔
خاموشیاں زیادہ چھوڑ گیا۔
جاتے ہوئے بل مانگا۔
میں نے کہا،
"تم سے پہلے والا دے گیا تھا۔”
اس نے مڑ کر دیکھا۔
ہوٹل میں اس وقت میرے اور اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔
وہ کچھ سمجھا۔
میں کچھ نہ بولا۔
اس رات کے بعد عجیب سلسلہ شروع ہوا۔
ایک رکشہ والا پچاس روپے زیادہ چھوڑ گیا۔
ایک نرس بولی،
"چاچا، اگر کسی کے پاس کم پڑ جائیں تو میری طرف سے۔”
ایک طالب علم نے اپنی پہلی ٹیوشن کی کمائی میرے ہاتھ پر رکھ دی۔
مالک رجسٹر دیکھتا، پھر بند کر دیتا۔
ایک دن اس نے مجھ سے صرف اتنا کہا،
"سلیم… نقصان ہر حساب میں نہیں لکھا جاتا۔”
اسی دن میں نے ایک پرانا پیتل کا ڈبہ دھو کر کاؤنٹر کے نیچے رکھ دیا۔
اس پر کوئلے سے لکھ دیا…
آخری میز۔
کوئی نہیں جانتا تھا اس میں کیا ہے۔
میں بھی نہیں۔
شاید لوگوں کا یقین۔
یا شاید اللہ کی امانت۔
تقریباً ایک برس گزر گیا۔
رمضان کا آخری عشرہ تھا۔
افطار سے کچھ پہلے ایک گاڑی آ کر رکی۔
وہی نوجوان اترا۔
اس بار اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ نہیں تھی۔
چہرے پر ہلکی سی داڑھی تھی۔
آنکھوں میں سکون کا ایک ننھا سا چراغ بھی۔
اس نے سلام کیا۔
پھر خاموشی سے ایک لفافہ اس پیتل کے ڈبے میں رکھ دیا۔
میں نے پوچھا،
"یہ کیا ہے، بیٹا؟”
وہ مسکرایا۔
بولا،
"اس رات آپ نے مجھ سے ایک سوال نہیں پوچھا تھا۔”
"کون سا؟”
"یہی… کہ کیوں رو رہے ہو؟”
میں خاموش ہو گیا۔
وہ بھی۔
پھر اس نے کہا،
"اگر آپ پوچھ لیتے تو شاید میں جھوٹ بول دیتا۔”
اس نے ایک لمبی سانس لی۔
"مگر آپ نے صرف کھانا رکھا… اور مجھے میری عزت سمیت کھانے دیا۔”
اس کی آواز بھرا گئی۔
"چاچا… میں اس رات اسٹیشن نہیں آیا تھا۔ میں مرنے نکلا تھا۔”
میرے ہاتھ کیتلی پر ہی ٹھہر گئے۔
وہ بولتا رہا۔
"بھوک لگ گئی تھی۔ سوچا، آخری بار چائے پی لوں۔”
اس نے ڈبے کی طرف دیکھا۔
"آج میری اپنی ورکشاپ ہے۔ پانچ لڑکے میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ہر مہینے اس لفافے میں کچھ رکھ جایا کروں گا۔”
میں نے لفافہ کھولا۔
اوپر ایک پرچی رکھی تھی۔
صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
"جس رات آدمی دنیا چھوڑنے نکلے، اسے نصیحت نہیں… ایک گرم روٹی چاہیے ہوتی ہے۔”
اب میری عمر انہتر برس ہے۔
ہاتھ پہلے جیسے مضبوط نہیں رہے۔
کبھی کبھی چائے چھلک جاتی ہے۔
لیکن رات کے تین بجے جب کوئی خاموش آدمی آ کر آخری میز پر بیٹھتا ہے، میں آج بھی دو پراٹھے اس کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔
اگر وہ کہے،
"چاچا، میں نے تو صرف چائے منگوائی تھی…”
تو میں ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا ہوں۔
"بیٹا…
آج پھر آٹا کچھ زیادہ گوندھ گیا تھا۔”
اور نہ جانے کیوں…
آج تک کبھی آٹا کم نہیں پڑا۔
افسانہ: آخری میز
©️ انتخاب سخن
#kindness