منتخب نظمیں

دو سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو دھوکہ دیا تھا… ص…

💔 دو سال پہلے میں نے اپنی بیوی کو دھوکہ دیا تھا… صرف ایک بار۔ مگر اُس نے ایک لفظ کہے بغیر گھر چھوڑ دیا۔ پھر کل پتا چلا وہ ناروے میں کسی اور مرد کے بچے کی ماں بننے والی ہے… 🥹💥 🥀

میرا نام فراز ہے۔

اور میں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ یہ بولا تھا کہ میں نے اپنی بیوی کو “صرف ایک بار” دھوکہ دیا تھا۔

کیونکہ دھوکہ کبھی ایک بار نہیں ہوتا۔

وہ اُس لمحے شروع ہو جاتا ہے جب انسان اپنے شریکِ حیات کے اعتماد سے زیادہ اپنی خواہش کو اہم سمجھنے لگتا ہے۔

میری شادی حریم سے دس سال پہلے ہوئی تھی۔

وہ بہت خاموش طبیعت کی لڑکی تھی۔

ایسی عورت جو گھر میں شور نہیں، سکون لے کر آتی ہے۔

میں غصے میں ہوتا تو وہ پانی رکھ جاتی۔

میں تھکا ہوا آتا تو وہ بغیر پوچھے چائے بنا دیتی۔

میں کئی کئی دن مصروف رہتا، وہ شکایت نہیں کرتی تھی۔

اور شاید یہی میری سب سے بڑی بدقسمتی بنی۔

میں نے اُس کی خاموش محبت کو حق سمجھ لیا۔

شروع میں ہماری زندگی بہت اچھی تھی۔

چھوٹا سا فلیٹ، ہفتے کی فلمیں، رات کے کھانے پر لمبی باتیں، اور مستقبل کے خواب۔

پھر وقت گزرا۔

نوکری بہتر ہوئی۔

پیسہ آیا۔

مصروفیات بڑھیں۔

اور میں اُن مردوں میں شامل ہو گیا جو گھر کو “موجود” رکھ کر سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے شوہر ہیں۔

حریم بچوں کی خواہش رکھتی تھی۔

بہت۔

مگر ہر بار مایوسی ہوتی۔

ٹیسٹ، دوائیاں، دعائیں…

پھر خاموشی۔

ایک رات اُس نے روتے ہوئے کہا تھا،

“اگر کبھی ہمارا بچہ نہ ہوا… تو کیا تم پھر بھی مجھ سے محبت کرو گے؟”

میں نے فوراً اُسے گلے لگا لیا۔

“پاگل ہو؟ تم ہو تو سب کچھ ہے۔”

مگر انسان کے الفاظ اور اُس کے نفس کے درمیان اکثر بہت فاصلہ ہوتا ہے۔

پھر میری زندگی میں سارہ آئی۔

دفتر میں نئی پروجیکٹ مینجر۔

خوبصورت۔

پُراعتماد۔

وہ مجھے اُس توجہ سے دیکھتی تھی جس کا میں عادی ہو چکا تھا۔

اور میں نے خود کو یہ جھوٹ بولنا شروع کر دیا کہ یہ صرف دوستی ہے۔

پھر ایک رات دفتر کی پارٹی کے بعد…

میں نے وہ حد پار کر دی جس کے بعد انسان آئینے میں خود کو پہلے جیسا نہیں دیکھ سکتا۔

میں گھر آیا تو حریم سو رہی تھی۔

اُس کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔

اور اُس لمحے پہلی بار مجھے اپنے آپ سے نفرت ہوئی۔

مگر اگلے دن میں نے سچ نہیں بتایا۔

میں نے معافی نہیں مانگی۔

میں نے صرف یہ دعا کی کہ راز راز ہی رہے۔

مگر رازوں کی ایک عجیب عادت ہوتی ہے…

وہ خاموش رہتے رہتے بھی رشتوں میں بدبو بھر دیتے ہیں۔

حریم بدلنے لگی۔

وہ کم بولتی۔

کم ہنستی۔

اکثر مجھے غور سے دیکھتی رہتی، جیسے میرے چہرے پر کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہی ہو۔

پھر ایک دن اُس نے صرف ایک سوال پوچھا،

“فراز… کیا کوئی اور ہے؟”

میں نے فوراً انکار کر دیا۔

بغیر پلک جھپکائے۔

اور شاید ہمارا اصل خاتمہ وہیں ہوا تھا۔

دھوکے سے بھی زیادہ خطرناک چیز جھوٹ ہوتی ہے۔

دو ہفتے بعد وہ گھر چھوڑ گئی۔

نہ چیخ۔

نہ لڑائی۔

نہ تماشا۔

میں دفتر سے واپس آیا تو الماری کا آدھا حصہ خالی تھا۔

اور میز پر صرف ایک لفافہ پڑا تھا۔

خلا کے کاغذات۔

نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا:

“بعض رشتے ایک غلطی سے نہیں ٹوٹتے… اُس غلطی کے بعد کیے گئے انتخاب سے ٹوٹتے ہیں۔”

میں پاگل ہو گیا۔

فون۔

میسجز۔

معافیاں۔

قسمیں۔

شراب۔

رونا۔

غصہ۔

میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔

مگر حریم نے کبھی جواب نہیں دیا۔

اور یہی چیز مجھے اندر سے کھاتی رہی۔

مجھے لگتا تھا وہ مجھے سزا دے رہی ہے۔

میں دوستوں سے کہتا،

“صرف ایک بار تھا!”

جیسے “صرف” لفظ گناہ کو چھوٹا کر دیتا ہو۔

دو سال گزر گئے۔

پھر ایک دن ایک مشترکہ جاننے والے سے پتا چلا…

حریم ناروے میں ہے۔

دوبارہ شادی کر چکی ہے۔

اور سات ماہ کی حاملہ ہے۔

مجھے لگا کسی نے میرا سینہ چاک کر دیا ہو۔

میں کئی گھنٹے گاڑی میں بیٹھا رہا۔

صرف ایک سوال ذہن میں گونجتا رہا:

“وہ ماں بن سکتی تھی… مگر میرے ساتھ کیوں نہیں بنی؟”

اور پہلی بار میرے اندر کا مرد نہیں…

میرا زخمی غرور بول رہا تھا۔

میں نے خود کو سمجھانا شروع کیا کہ وہ مجھے جلانا چاہتی ہے۔

بدلہ لے رہی ہے۔

کسی غیر ملکی سے شادی صرف مجھے تکلیف دینے کے لیے کی ہوگی۔

کیونکہ انسان جب حقیقت برداشت نہیں کر پاتا… تو کہانیاں بنا لیتا ہے۔

پھر ایک رات میں نے پرانی ای میلز کھولیں۔

اور وہاں مجھے وہ فائل ملی…

حریم کی میڈیکل رپورٹس۔

میں نے برسوں پہلے کبھی دھیان سے پڑھی ہی نہیں تھیں۔

اصل مسئلہ حریم میں نہیں تھا۔

مسئلہ مجھ میں تھا۔

میرے اسپرم کاؤنٹ میں شدید مسئلہ تھا۔

ڈاکٹر نے مزید علاج کا کہا تھا۔

مگر میں نے رپورٹ بند کر دی تھی۔

کیونکہ میرا مردانہ غرور یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ “کمی” مجھ میں ہو سکتی ہے۔

اور میں نے خاموشی سے سارا بوجھ حریم کے کندھوں پر ڈال دیا۔

اُس نے کبھی مجھے الزام نہیں دیا۔

کبھی کسی کے سامنے میری مردانگی پر سوال نہیں اٹھایا۔

بلکہ ہر بار خود ٹیسٹ کرواتی رہی… خود دعائیں مانگتی رہی… خود ٹوٹتی رہی۔

اور میں؟

میں اُسے دھوکہ دے آیا۔

اُس رات میں بہت رویا۔

شاید پہلی بار حریم کے جانے پر نہیں…

اپنے اصل چہرے کو دیکھ کر۔

پھر کچھ دن بعد مجھے اُس کی ایک پرانی دوست کے ذریعے ایک چیز ملی۔

حریم کا لکھا ہوا ایک ای میل ڈرافٹ۔

جو اُس نے کبھی بھیجا نہیں تھا۔

اُس میں لکھا تھا:

“فراز… اگر تم صرف ایک بار سچ بول دیتے نا، تو شاید میں تمہیں معاف کر دیتی۔ مگر تم نے مجھے پاگل محسوس کروایا۔ میں راتوں کو جاگ جاگ کر خود میں خامیاں ڈھونڈتی رہی، جبکہ تم ہر روز میری آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ بولتے رہے۔ ایک عورت صرف بے وفائی سے نہیں ٹوٹتی… وہ اُس لمحے ٹوٹتی ہے جب اُسے احساس ہوتا ہے کہ جس مرد پر وہ سب سے زیادہ یقین کرتی تھی، وہی اُسے حقیقت سے محروم کر رہا تھا۔”

میں بہت دیر تک وہ ای میل دیکھتا رہا۔

پھر پہلی بار میرے اندر سے یہ جملہ ختم ہوا:

“وہ میری بیوی ہے۔”

نہیں۔

وہ کبھی میری ملکیت نہیں تھی۔

وہ ایک انسان تھی۔

جس نے مجھ سے محبت کی۔

وفاداری کی۔

اور آخر میں صرف اپنی عزت بچا کر چلی گئی۔

میں آج بھی اکیلا ہوں۔

مگر اب میں شراب نہیں پیتا۔

میں تھراپی جاتا ہوں۔

نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اور ہر اُس مرد کو ایک بات ضرور کہتا ہوں جو بے وفائی کو “صرف ایک غلطی” سمجھتا ہے:

عورتیں اکثر دھوکے پر نہیں جاتیں…

وہ اُس شخص سے چلی جاتی ہیں جو اُنہیں دھوکے کے بعد بھی سچ کے قابل نہیں سمجھتا۔

~Intikhaab-E-Sukhan~

#storytelling #urdu #family #husbandandwife

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/