منتخب نظمیں

"نہیں بیٹا… تمہارے ابو سے نہیں ہوگا۔ تین بچوں ک…

💥 "نہیں بیٹا… تمہارے ابو سے نہیں ہوگا۔ تین بچوں کو سنبھالنا کھیل نہیں۔” 💔🥺

گھر کی دیوار پر ایک زنگ آلود کیل میں چابیوں کا ایک پرانا گچھا ہمیشہ لٹکا رہتا تھا۔ اس میں کئی چابیاں تھیں، مگر اب شاید ہی کوئی کسی تالے میں لگتی ہو۔ پھر بھی صغریٰ بیگم ہر شام اسے انگلی پر گھماتے ہوئے گھر کا چکر ضرور لگاتیں، جیسے کچھ دروازے لوہے کے نہیں، دل کے ہوں۔

اسی دوپہر فون بجا۔

"امی…”

صرف ایک لفظ۔

اور صغریٰ بیگم نے فوراً پہچان لیا کہ ان کی بیٹی حنا رو رہی ہے۔

"کیا ہوا؟”

ادھر چند لمحے خاموشی رہی، پھر دبی ہوئی آواز آئی۔

"پیٹ میں بہت شدید درد ہے… ڈاکٹر نے کہا ہے فوراً ہسپتال آ جاؤ… شاید بچے کی پیدائش کے بعد کوئی مسئلہ ہو گیا ہے…”

صغریٰ نے بے اختیار پوچھا، "گولیاں وقت پر کھا رہی تھی نا؟”

"امی… مجھے نہیں معلوم… بس درد برداشت نہیں ہو رہا…”

سانسوں کے بیچ ایک اور جملہ ٹوٹا۔

"ابو گھر پر ہیں؟ اگر دو گھنٹے بچوں کو دیکھ لیں تو بلال مجھے لے جائے…”

صغریٰ کی نظر صوفے پر پڑی۔ ناصر اخبار آنکھوں پر رکھے اونگھ رہے تھے۔ دو ماہ پہلے فیکٹری بند ہوئی تھی، تب سے وہ زیادہ تر گھر ہی رہتے تھے، مگر بچوں کی آواز سے ہمیشہ گھبرا جاتے تھے۔ دو پوتے چار اور دو سال کے، اور ایک دودھ پیتا بچہ…

صغریٰ نے چابیوں کا گچھا مٹھی میں دبا لیا۔

"نہیں بیٹا… تمہارے ابو سے نہیں ہوگا۔ تین بچوں کو سنبھالنا کھیل نہیں۔”

دوسری طرف خاموشی اتر آئی۔

ایسی خاموشی جس میں فون بند ہونے کی آواز بھی بہت اونچی لگتی ہے۔

صغریٰ نے جلدی سے کہا، "بلال سب بچوں کو گاڑی میں بٹھا لے۔ تم اندر ڈاکٹر کو دکھا لینا، وہ باہر انتظار کر لے گا۔”

"اچھا…”

صرف اتنا۔

اور کال کٹ گئی۔

شام کو پتا چلا، سامنے والی گلی کی نصرت آپا دونوں بڑے بچوں کو اپنے گھر لے گئی تھیں۔ نومولود کو ساتھ لے کر بلال ہسپتال گیا۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ دونوں بیضہ دانیوں میں رسولیاں بن گئی ہیں۔ ایک کافی بڑی تھی۔ اگر دیر ہو جاتی تو معاملہ خطرناک بھی ہو سکتا تھا۔

صغریٰ نے فون کیا۔

"الحمدللہ، وجہ تو پتا چل گئی۔”

"جی…”

بس ایک لفظ۔

اس کے بعد جیسے بیٹی کی آواز سے موسم نکل گیا۔

چند ہفتوں میں سب معمول پر آ گیا۔

کم از کم باہر سے۔

حنا اب فون کم کرتی تھی۔ اگر صغریٰ کال کرتیں تو اکثر جواب آتا، "امی، ابھی بچوں کو کھانا کھلا رہی ہوں، بعد میں بات کرتی ہوں۔”

وہ "بعد میں” اکثر کئی دن بعد آتا۔

عید آئی۔

گھر بھر گیا۔

چار سالہ حمزہ صحن میں گیند اچھال رہا تھا، دوسرا بچہ پردوں میں چھپ رہا تھا، اور ننھا سا بچہ ماں کی گود میں سو رہا تھا۔

ناصر نے پوتے کو گود میں لینے کی کوشش کی تو وہ ضد کر کے ماں سے لپٹ گیا۔

ناصر نے ہنس کر کہا، "لگتا ہے مجھے بھول گیا۔”

حنا بھی مسکرائی۔

لیکن وہ مسکراہٹ آنکھوں تک نہ پہنچی۔

کھانے کے بعد صغریٰ نے آہستہ سے کہا، "بیٹا… اب طبیعت تو ٹھیک ہے؟”

حنا نے پانی کا گلاس میز پر رکھا۔

"جی۔”

پھر خاموشی۔

صغریٰ نے خود ہی بات چھیڑی۔

"اس دن تم ناراض ہو گئی تھیں؟”

حنا نے فوراً انکار نہیں کیا۔

کافی دیر تک چمچ سے پلیٹ کے کنارے پر ہلکی ہلکی لکیریں کھینچتی رہی۔

پھر بولی۔

"امی… میں ناراض نہیں ہوئی تھی۔”

صغریٰ نے سکھ کا سانس لیا۔

لیکن اگلا جملہ اس سانس میں کہیں اٹک گیا۔

"میں نے بس اس دن ایک بات سمجھ لی تھی۔”

"کون سی بات؟”

"یہ کہ ہر رشتہ ایک خاص وزن تک ساتھ اٹھاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی خود ہی راستہ ڈھونڈ لیتا ہے۔”

صغریٰ نے کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ حلق میں اٹک گئے۔

ناصر نے بے خبری میں ٹی وی کی آواز بڑھا دی۔

گھر میں شور تھا۔

اور انہی آوازوں کے درمیان کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو رہا تھا۔

سردیوں کی ایک صبح صغریٰ باتھ روم میں پھسل گئیں۔

کولہے کی ہڈی میں شدید چوٹ آئی۔

ناصر کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ایمبولینس آنے میں دیر تھی۔

انہوں نے کئی نمبروں پر فون کیا۔

کسی نے کہا دفتر میں ہوں۔

کسی نے کہا شہر سے باہر ہوں۔

آخر انہوں نے حنا کا نمبر ملایا۔

"بیٹا…”

ناصر کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

"تمہاری امی گر گئی ہیں…”

ادھر سے ایک لمحہ خاموشی رہی۔

ناصر کا دل بیٹھنے لگا۔

پھر حنا نے صرف اتنا پوچھا،

"آپ لوگ دروازہ کھلا چھوڑ دیں… میں آ رہی ہوں۔”

بیس منٹ بعد وہ پہنچ گئی۔

تینوں بچے بھی ساتھ تھے۔

بڑا بیٹا اپنی نانی کے لیے پانی کا گلاس پکڑے کھڑا تھا۔

چھوٹا بچہ نانا کی ٹانگ سے لپٹا ہوا تھا۔

اور نومولود گاڑی کی سیٹ میں سو رہا تھا۔

وہی تین بچے…

جنہیں کبھی "بہت زیادہ” کہا گیا تھا۔

ہسپتال میں داخلے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے ناصر کی نظریں بار بار حنا پر اٹھتی رہیں۔

اس نے ایک بار بھی پرانا قصہ نہیں چھیڑا۔

ایک بار بھی نہیں۔

چند دن بعد صغریٰ گھر واپس آئیں۔

چلنے کے لیے سہارے کی ضرورت تھی۔

حنا نے جاتے جاتے دیوار پر لٹکا ہوا چابیوں کا پرانا گچھا اتارا، گرد صاف کی، اور خاموشی سے اپنی ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔

"امی…”

صغریٰ نے اس کی طرف دیکھا۔

"چابیاں ہمیشہ تالے نہیں کھولتیں…”

حنا نے دھیرے سے کہا۔

"…کبھی کبھی ایک دروازہ بند ہونے کی آواز بھی عمر بھر یاد رہتی ہے۔”

صغریٰ نے پہلی بار محسوس کیا کہ ان کے ہاتھ میں چابیوں کا گچھا نہیں، ایک ایسا دن رکھا ہے جسے وہ چاہ کر بھی دوبارہ نہیں کھول سکتیں۔

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/