منتخب غزلیں
معروف شاعر اور نغمہ نگار سیف الدین سیف کا یومِ وفا…

معروف شاعر اور نغمہ نگار سیف الدین سیف کا یومِ وفات
(پیدائش: 20 مارچ، 1922ء – وفات: 12 جولائی، 1993ء)
——
منتخب کلام
——
سیف انداز بیان رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
——
جاتے ہی ان کے سیفؔ شبِ غم نے آ لیا
رخصت ہوا وہ چاند ستارے چلے گئے
——
پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہو گئی ہو گی
——
ان کا آنا محال سا کچھ ہے
پھر بھی اک احتمال سا کچھ ہے
جانے کیا سوچتا ہوں رک رک کر
ہر قدم پر سوال سا کچھ ہے
——
ہر اک چلن میں اسی مہرباں سے ملتی ہے
زمیں ضرور کہیں آسماں سے ملتی ہے
——
اب دیدۂ پرنم کی حقیقت کیا ہے
تو ہے تو مرے غم کی حقیقت کیا ہے
اک جام اگر حسنِ ادا سے مل جائے
افکارِ دو عالم کی حقیقت کیا ہے
——
مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے
مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
کوئی ایسا اہل دل ھو کہ فسانہ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے
مری آرزو کی دنیا دل ناتواں کیحسرت
جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے
تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے
جو سنائی انجمن میں شب غم کی آپ بیتی
کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے
——
مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں
کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے کہاں
یہ کہاں تک پھیلتی جاتی ہیں دل کی وسعتیں
حسرتو! دیکھو سمٹ آئے ہیں ویرانے کہاں
میں بہت بچ بچ کے گزرا ہوں غمِ ایام سے
لُٹ گئے تیرے تصور سے پری خانے کہاں
یہ بھی تیرے غم کا اِک بدلا ہوا انداز ہے
میں کہاں ورنہ غمِ دوراں کہاں
بزم سے وحشت ہے، تنہائی میں جی لگتا نہیں
اب کِسی کی یاد لے جائے خدا جانے کہاں
سیف ہنگامِ وصال آنکھوں میں آنسو آگئے
یاد آئے اُن کی بے مہری کے افسانے کہاں
——
ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا
رونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا
کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا
جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا
حسن مغرور کا یہ رنگ بھی دیکھا آخر
آخر ان کو بھی کسی بات پہ رونا آیا
کیسے مر مر کے گزاری ہے تمہیں کیا معلوم
رات بھر تاروں بھری رات پہ رونا آیا
کتنے بیتاب تھے رم جھم میں پئیں گے لیکن
آئی برسات تو برسات پہ رونا آیا
حسن نے اپنی جفاؤں پہ بہائے آنسو
عشق کو اپنی شکایات پہ رونا آیا
کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں
کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا
اول اول تو بس ایک آہ نکل جاتی تھی
آخر آخر تو ملاقات پہ رونا آیا
سیفؔ یہ دن تو قیامت کی طرح گزرا ہے
جانے کیا بات تھی ہر بات پہ رونا آیا
——
جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں
پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمہیں
تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو
لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں
حسرتو ! دیکھو یہ ویرانہ دل
اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمہیں
میری وحشت، مرے غم کے قصے
لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمہیں
آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے
یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمہیں
آج کیا بات کہی ہے تم نے
پھر کبھی یاد دلائیں گے تمہیں
سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل
جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمہیں
——
آپ اپنی آرزو سے بیگانے ہو گئے ہیں
ہم شوق ِ جستجو میں دیوانے ہو گئے ہیں
فرقت میں جن کو اپنا کہہ کہہ کر دن گزارے
وہ جب سے مل گئے ہیں بیگانے ہو گئے ہیں
کہتے ہیں قصہ غم ہر انجمن میں جا کر
ہم اہل دل بھی کیسے دیوانے ہو گئے ہیں
آنکھوں سے جو نہاں تھے ار دل میں کارفرما
وہ راز ہوتے ہوتے افسانے ہو گئے ہیں
یا اب تری جفا میں وہ لذتیں نہیں ہیں
یا ہم تری نظر میں بیگانے ہو گئے ہیں
گو بے تعلقی ہے اُس انجمن میں پھر بھی
جب مل گئی ہیں نظریں افسانے ہو گئے ہیں
ہر منزل ِ طلب میں رفتار ِ پا سے اپنی
جو نقش بن گئے ہیں بت خانے ہو گئے ہیں
تعمیر کی ہوس نے سو بار دل اجاڑا
پہلو میں سیف کتنے ویرانے ہوگئے ہیں
——
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
کس طرح روکتا ھوں اشک اپنے
کس قدر دل پہ جبر کرتا ھوں
آج بھی کارزار ھستی میں!
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم
کس محلے میں ھے مکاں تیرا
کون بتلائے گا نشاں تیرا
تیری رسوائیوں سے ڈرتا ھوں
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
حال دل بھی نہ کہہ سکا گرچہ
تو رھی مدتوں قریب مرے
تو مجھے چھوڑ کے چلی بھی گئی
خیر قسمت مری نصیب مرے
گو زمانہ تری محبت کا
ایک بھولی ھوئی کہانی ھے
کس تمنا سے تجھ کو چاہا تھا
کس محبت سے ھار مانی ھے
اشک پلکوں پہ آنہیں سکتے
دل میں ھے تیری آبرو اب بھی
تجھ سے روشن ھے کائنات مری
ترے جلوے ھیں چار سو اب بھی
اب بھی میں تجھ کو پیار کرتا ھوں
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
آج بھی کارزار ھستی میں
تو اگر ایک بار مل جائے
آرزوؤں کو چین آجائے
——
وعدہ
اِس سے پہلے کہ تیری چشمِ کرم
معذرت کی نِگاہ بن جائے
اِس سے پہلے کہ تیرے بام کا حُسن
رفعت ِ مہر و ماہ بن جائے
پیار ڈھل جائے میرے اشکوں میں
آرزو ایک آہ بن جائے
مجھ پہ آ جائے عشق کا الزام
اور تو بے گناہ بن جائے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
اِس سے پہلے کے سادگی تیری
لبِ خاموش کو گِلہ کہہ دے
میں تجھے چارہ گر خیال کروں
تو مرے غم کو لا دوَا کہہ دے
تیری مجبوریاں نہ دیکھ سکے
اور دل تجھ کو بے وفا کہہ دے
جانے میں بے خُودی میں کیا پُوچُھوں
جانے تو بے رُخی سے کیا کہہ دے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
چارہء درد ہو بھی سکتا تھا
مجھ کو اِتنی خُوشی بہت کچھ ہے
پیار گو جاوداں نہیں پھر بھی
پیار کی یاد بھی بہت کچھ ہے
آنے والے دِنوں کی ظلمت میں
آج کی روشنی بہت کچھ ہے
اِس تہی دامنی کے عالم میں
جو مِلا ہے، وہی بہت کچھ ہے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
چھوڑ کر ساحل ِ مراد چلا
اب سفینہ مِرا کہیں ٹھہرے
زہر پینا مِرا مقدر ہے
اور ترے ہونٹ انگبیں ٹھہرے
کِس طرح تیرے آستاں پہ رکوں
جب نہ پاوں تلے زمیں ٹھہرے
اِس سے بہتر ہے دل یہی سمجھے
تو نے روکا تھا، ہم نہیں ٹھہرے
میں ترا شیر چھوڑ جاؤں گا
مجھ کو اِتنا ضرور کہنا ہے
وقتِ رُخصت ،سلام سے پہلے
کوئی نامہ نہیں لکھا میں نے
تیرے حرفِ پیام سے پہلے
توڑ لوں رشتہء نظر میں بھی
تم اُتر جاؤ بام سے پہلے
لے مری جاں میرا وعدہ ہے
کل کِسی وقت شام سے پہلے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
…
ان کے کچھ مشہور نغمات میں یہ ہیں:
——
جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے (انارکلی)
وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا امید گئی ارمان گئے (لخت جگر)
چل ہٹ ری ہوا گھونگھٹ نہ اٹھا (مادر وطن)
جس طرف آنکھ اٹھاؤں تیری تصویراں ہیں (ثریا بھوپالی)
میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا (شمع اور پروانہ)
اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے (انجمن)
جو بچا تھا لٹانے کے لیے آئے ہیں (امراؤ جان ادا)
آئے موسم رنگیلے سہانے تو چھٹی لے کے آجا بالما (سات لاکھ)
………………….
(پیدائش: 20 مارچ، 1922ء – وفات: 12 جولائی، 1993ء)
——
منتخب کلام
——
سیف انداز بیان رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
——
جاتے ہی ان کے سیفؔ شبِ غم نے آ لیا
رخصت ہوا وہ چاند ستارے چلے گئے
——
پھر پلٹ کر نگاہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہو گئی ہو گی
——
ان کا آنا محال سا کچھ ہے
پھر بھی اک احتمال سا کچھ ہے
جانے کیا سوچتا ہوں رک رک کر
ہر قدم پر سوال سا کچھ ہے
——
ہر اک چلن میں اسی مہرباں سے ملتی ہے
زمیں ضرور کہیں آسماں سے ملتی ہے
——
اب دیدۂ پرنم کی حقیقت کیا ہے
تو ہے تو مرے غم کی حقیقت کیا ہے
اک جام اگر حسنِ ادا سے مل جائے
افکارِ دو عالم کی حقیقت کیا ہے
——
مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے
مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
کوئی ایسا اہل دل ھو کہ فسانہ محبت
میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے
مری آرزو کی دنیا دل ناتواں کیحسرت
جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے
تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے
جو سنائی انجمن میں شب غم کی آپ بیتی
کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے
——
مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں
کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے کہاں
یہ کہاں تک پھیلتی جاتی ہیں دل کی وسعتیں
حسرتو! دیکھو سمٹ آئے ہیں ویرانے کہاں
میں بہت بچ بچ کے گزرا ہوں غمِ ایام سے
لُٹ گئے تیرے تصور سے پری خانے کہاں
یہ بھی تیرے غم کا اِک بدلا ہوا انداز ہے
میں کہاں ورنہ غمِ دوراں کہاں
بزم سے وحشت ہے، تنہائی میں جی لگتا نہیں
اب کِسی کی یاد لے جائے خدا جانے کہاں
سیف ہنگامِ وصال آنکھوں میں آنسو آگئے
یاد آئے اُن کی بے مہری کے افسانے کہاں
——
ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا
رونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا
کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا
جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا
حسن مغرور کا یہ رنگ بھی دیکھا آخر
آخر ان کو بھی کسی بات پہ رونا آیا
کیسے مر مر کے گزاری ہے تمہیں کیا معلوم
رات بھر تاروں بھری رات پہ رونا آیا
کتنے بیتاب تھے رم جھم میں پئیں گے لیکن
آئی برسات تو برسات پہ رونا آیا
حسن نے اپنی جفاؤں پہ بہائے آنسو
عشق کو اپنی شکایات پہ رونا آیا
کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں
کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا
اول اول تو بس ایک آہ نکل جاتی تھی
آخر آخر تو ملاقات پہ رونا آیا
سیفؔ یہ دن تو قیامت کی طرح گزرا ہے
جانے کیا بات تھی ہر بات پہ رونا آیا
——
جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں
پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمہیں
تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو
لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں
حسرتو ! دیکھو یہ ویرانہ دل
اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمہیں
میری وحشت، مرے غم کے قصے
لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمہیں
آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے
یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمہیں
آج کیا بات کہی ہے تم نے
پھر کبھی یاد دلائیں گے تمہیں
سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل
جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمہیں
——
آپ اپنی آرزو سے بیگانے ہو گئے ہیں
ہم شوق ِ جستجو میں دیوانے ہو گئے ہیں
فرقت میں جن کو اپنا کہہ کہہ کر دن گزارے
وہ جب سے مل گئے ہیں بیگانے ہو گئے ہیں
کہتے ہیں قصہ غم ہر انجمن میں جا کر
ہم اہل دل بھی کیسے دیوانے ہو گئے ہیں
آنکھوں سے جو نہاں تھے ار دل میں کارفرما
وہ راز ہوتے ہوتے افسانے ہو گئے ہیں
یا اب تری جفا میں وہ لذتیں نہیں ہیں
یا ہم تری نظر میں بیگانے ہو گئے ہیں
گو بے تعلقی ہے اُس انجمن میں پھر بھی
جب مل گئی ہیں نظریں افسانے ہو گئے ہیں
ہر منزل ِ طلب میں رفتار ِ پا سے اپنی
جو نقش بن گئے ہیں بت خانے ہو گئے ہیں
تعمیر کی ہوس نے سو بار دل اجاڑا
پہلو میں سیف کتنے ویرانے ہوگئے ہیں
——
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
کس طرح روکتا ھوں اشک اپنے
کس قدر دل پہ جبر کرتا ھوں
آج بھی کارزار ھستی میں!
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم
کس محلے میں ھے مکاں تیرا
کون بتلائے گا نشاں تیرا
تیری رسوائیوں سے ڈرتا ھوں
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
حال دل بھی نہ کہہ سکا گرچہ
تو رھی مدتوں قریب مرے
تو مجھے چھوڑ کے چلی بھی گئی
خیر قسمت مری نصیب مرے
گو زمانہ تری محبت کا
ایک بھولی ھوئی کہانی ھے
کس تمنا سے تجھ کو چاہا تھا
کس محبت سے ھار مانی ھے
اشک پلکوں پہ آنہیں سکتے
دل میں ھے تیری آبرو اب بھی
تجھ سے روشن ھے کائنات مری
ترے جلوے ھیں چار سو اب بھی
اب بھی میں تجھ کو پیار کرتا ھوں
جب ترے شہر سے گزرتا ھوں
آج بھی کارزار ھستی میں
تو اگر ایک بار مل جائے
آرزوؤں کو چین آجائے
——
وعدہ
اِس سے پہلے کہ تیری چشمِ کرم
معذرت کی نِگاہ بن جائے
اِس سے پہلے کہ تیرے بام کا حُسن
رفعت ِ مہر و ماہ بن جائے
پیار ڈھل جائے میرے اشکوں میں
آرزو ایک آہ بن جائے
مجھ پہ آ جائے عشق کا الزام
اور تو بے گناہ بن جائے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
اِس سے پہلے کے سادگی تیری
لبِ خاموش کو گِلہ کہہ دے
میں تجھے چارہ گر خیال کروں
تو مرے غم کو لا دوَا کہہ دے
تیری مجبوریاں نہ دیکھ سکے
اور دل تجھ کو بے وفا کہہ دے
جانے میں بے خُودی میں کیا پُوچُھوں
جانے تو بے رُخی سے کیا کہہ دے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
چارہء درد ہو بھی سکتا تھا
مجھ کو اِتنی خُوشی بہت کچھ ہے
پیار گو جاوداں نہیں پھر بھی
پیار کی یاد بھی بہت کچھ ہے
آنے والے دِنوں کی ظلمت میں
آج کی روشنی بہت کچھ ہے
اِس تہی دامنی کے عالم میں
جو مِلا ہے، وہی بہت کچھ ہے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
چھوڑ کر ساحل ِ مراد چلا
اب سفینہ مِرا کہیں ٹھہرے
زہر پینا مِرا مقدر ہے
اور ترے ہونٹ انگبیں ٹھہرے
کِس طرح تیرے آستاں پہ رکوں
جب نہ پاوں تلے زمیں ٹھہرے
اِس سے بہتر ہے دل یہی سمجھے
تو نے روکا تھا، ہم نہیں ٹھہرے
میں ترا شیر چھوڑ جاؤں گا
مجھ کو اِتنا ضرور کہنا ہے
وقتِ رُخصت ،سلام سے پہلے
کوئی نامہ نہیں لکھا میں نے
تیرے حرفِ پیام سے پہلے
توڑ لوں رشتہء نظر میں بھی
تم اُتر جاؤ بام سے پہلے
لے مری جاں میرا وعدہ ہے
کل کِسی وقت شام سے پہلے
میں ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
…
ان کے کچھ مشہور نغمات میں یہ ہیں:
——
جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے (انارکلی)
وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا امید گئی ارمان گئے (لخت جگر)
چل ہٹ ری ہوا گھونگھٹ نہ اٹھا (مادر وطن)
جس طرف آنکھ اٹھاؤں تیری تصویراں ہیں (ثریا بھوپالی)
میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا (شمع اور پروانہ)
اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے (انجمن)
جو بچا تھا لٹانے کے لیے آئے ہیں (امراؤ جان ادا)
آئے موسم رنگیلے سہانے تو چھٹی لے کے آجا بالما (سات لاکھ)
………………….



