#تیری_دیوانی_از_سحرعلی #قسط_16_حصہ_دوم تاشہ تاش…

#قسط_16_حصہ_دوم
تاشہ تاشہ۔۔ میری جان یہ۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔ کیا ہوا ہے میر پیچھے۔۔ مجھے بتاؤ۔۔ وہ کمرے کی یہ حالت دیکھ کر کانپ گئی تھیں۔
زرتاشہ نے انہیں دیکھا اور ان کے گلے لگ کر رونے لگی۔۔
زرتاشہ مجھے بتاؤ پلیز۔۔ کیا ہوا ہے۔۔ میرا سانس بند ہو جائے گا۔۔ زاویار نے کچھ کہا ہے؟
ماما۔۔ وہ۔۔ وہ۔ اس سے بولا نہ گیا۔
شہناز بیگم نے اسے خود سے الگ کیا اور چہرے پر نظریں گاڑھ دیں۔۔ ان کی نظر اس کے چہرے پر پڑے انگلیوں کے نشانوں پر پڑی تو گھبرا گئیں۔
زاویار نے تم پہ ہاتھ اٹھایا ہے؟ زرتاشہ سچ سچ بتاؤ مجھے۔
زرتاشہ نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ پھر سے ان کے سینے پہ سر رکھ کر رونے لگی۔
اٹھو۔۔ اٹھو میرے بچے۔۔ ادھر آؤ۔۔ انہوں نے اسے صوفے پر بٹھایا۔۔ بس۔۔ بس چپ اب اور نہیں رونا۔۔ میں آگئی ہوں ناں۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کچھ ٹھیک نہیں ہو گا ماما۔۔ کچھ نہیں۔۔ زرتاشہ نے روتے روتے کہا۔
ک کیا مطلب ہے۔۔ کیوں۔۔ ٹھیک نہیں ہو گا۔۔ انہوں نے اٹک اٹک کر پوچھا۔۔ دل بری طرح کانپ رہا تھا۔۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا زاویار اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔۔ وہ اس حد تک گر جائے گا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔۔ مگر اس نے ایسا کیوں کیا یہ بات انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی۔
ماما وہ رات کو کسی لڑکی۔۔۔۔ وہ بس اتنا کہہ سکی۔۔
شہناز بیگم کا منہ کھلا رہ گیا۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔ زاویار ایسا نہیں ہے۔۔ سب سے پہلا خیال انہیں یہ ہی آیا۔۔ آخر ماں تھیں وہ بھلا کیسے بیٹے کو غلط کہہ سکتی ہیں۔۔ مگر تاشہ اس پر اتنا بڑا الزام کیسے لگا سکتی ہے۔۔ کچھ ہوا ہو گا تب ہی اس نے یہ بات کی ہے۔۔ آخر چنگاری ہو تو دھواں اٹھتا ہے۔۔ وہ اسے ساتھ لگائے سوچ میں گم تھیں۔۔
زرتاشہ کے چہرے پر پڑے نشان دیکھ کر دل نے دہائی دی۔۔ کیا یہ تربیت کی تھی میں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی۔
سوچوں کے چنگل سے آزاد ہوئیں تو اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا۔
زرتاشہ۔۔ میری بیٹی ہو ناں تم۔۔ ایک وعدہ کرو اپنی ماما سے۔۔ پلیز بیٹا یہ بات اس کمرے سے باہر نہ نکلے۔۔ دیکھو بیٹا اس گھر میں کسی کو کچھ پتہ چلا تو میں۔۔ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔۔ انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔۔ وہ کسی خوف کے زیراثر بول رہی تھیں۔
ماما پلیز۔۔ زرتاشہ نے تڑپ کر ان کے ہاتھ تھامے۔۔ ایسے مت کریں۔
بیٹا میں۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں تم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ زاویار خود تم سے معافی مانگے گا۔۔ مگر بیٹا جو کچھ ہوا کسی کو پتہ نہ چلے۔۔ وہ نم لہجے میں کہنے لگیں۔
زرتاشہ نے خاموشی سے سر اثبات میں ہلا دیا۔
زرتاشہ کو تسلی دے کر شہناز بیگم باہر چلی گئیں۔۔ ان کا چین سکون برباد ہو گیا۔۔ اگر احمد صاحب کو پتہ چل گیا تو قیامت آجائے گی۔
احمد صاحب کچھ دیر آرام کرنے کے بعد آفس چلے گئے۔
انہیں بھیج کر وہ بے چینی سے زاویار کا انتظار کرنے لگیں۔۔ مگر وہ نہ آیا۔۔ انہوں نے اسے کال کی۔
اسلام و علیکم ماما۔
واعلیکم اسلام۔۔ کہاں ہو؟ انہوں نے نارمل انداز میں بات کی۔
آفس ہوں۔۔ سب خیریت؟
ہاں خیریت ہے۔۔ تم دوپہر میں گھر آسکتے ہو؟
دوپہر میں۔۔ مشکل ہے ایک میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے تابش اور بابا سائیٹ پر جا رہے ہیں اس وجہ سے میرا ادھر ہونا ضروری ہے۔۔ اس نے ہمیشہ کی طرح تفصیل سے آگاہ کیا۔
ٹھیک ہے پھر شام کو جلدی آجانا گھر۔۔ انہوں نے حکم دیا۔
اوکے ماما۔۔ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔ ماما تاشہ جاگ گئی ہے تو۔۔ میری بات کروا دیں۔۔ اس کا نمبر ٹرائے کر رہا ہوں آف ہے۔
وہ سو رہی ہے۔۔ اٹھتی ہے تو کہہ دیتی ہوں تمہیں کال کرلے۔۔ انہوں نے فوراً جواب دیا۔
اوکے۔۔ اللہ حافظ۔۔ اس نے کہتے ہی فون بند کر دی۔۔ شکر ہے اس نے ماما کو کچھ نہیں بتایا۔۔ زاویار نے سوچا۔
شام کو وہ جلدی گھر آگیا۔۔ آتے ہی شہناز بیگم نے اسے اپنے کمرے میں بلوا لیا۔۔ زرتاشہ بھی ادھر ہی موجود تھی۔
اسلام و علیکم۔۔ اس نے سلام کیا اور زرتاشہ کو غور سے دیکھا۔۔ اس کی وہاں موجودگی اور شہناز بیگم کو اسے جلدی آنے کا حکم دینا۔۔ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
واعلیکم اسلام۔۔ بیٹھو۔
جی ماما۔۔ سب خیریت؟
یہ تو مجھے تم بتاؤ گے۔۔ خیریت ہے یا نہیں۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں۔۔ زاویار نے ایک نظر زرتاشہ پر ڈالی اور پھر شہناز بیگم کو دیکھنے لگا۔
کہاں کمی رہ گئی تھی میری تربیت میں جو آج مجھے یہ دن دیکھنا پڑا۔۔ وہ چلائیں۔
اوہ۔۔ تو آپ کو خبر مل گئی۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے تم جو کچھ بھی کرتے پھرو گے ہمیں کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔ اور اگر تمہاری بیوی تمہاری حرکتوں کے بارے میں تم سے کوئی سوال کرلے تو اس پر ہاتھ اٹھا کر اس کی زبان بند کروا دو گے؟ شہناز بیگم دھاڑیں۔۔ زاویار نے انہیں آج پہلی بار اتنے شدید غصے میں دیکھا تھا۔
ماما۔۔ آپ بھی اس کی باتوں میں آگئیں۔۔ یہ سب غلط سمجھ رہی۔
شٹ اپ۔۔ میں کوئی بکواس نہیں سنوں گی۔۔ اس سے پہلے کہ تمہارے بابا کو پتہ چلے تم سب سچ مجھے بتاؤ۔۔ اور اس سے معافی مانگ کر اسے یقین دلواؤ کے دوبارہ ایسی گھٹیا حرکت نہیں کرو گے۔
ماما میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔ اور تھپڑ بھی صرف اس کی بکواس کی وجہ سے مارا تھا۔۔ زاویار بھی غصے میں چلایا۔۔ اور زرتاشہ کو گھور کر دیکھا۔
جھوٹ بول رہے ہیں یہ۔۔ یہ کسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔ اس سے پہلے کہ اس کی بات مکمل ہوتی اس کی نظر سامنے دروازے سے اندر آتے احمد صاحب پر پڑی۔ شہناز بیگم اور زاویار نے بھی اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو گھبرا گئے۔
وہ چلتے ہوئے زاویار کے سامنے آ کر رکے۔۔ اور دھاڑے۔۔ کیا کہا تم نے۔۔ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایا؟
بابا وہ۔۔۔ زاویار سے کچھ بولا نہ گیا۔
زرتاشہ تم بتاؤ۔۔ اس نے تم پہ ہاتھ اٹھایا ہے؟ اور اگر ہاں تو کس وجہ سے؟ انہوں نے رخ زرتاشہ کی طرف کیا اور سخت لہجے میں پوچھا۔
خوف کے مارے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔ شہناز بیگم کی سانس بند ہونے لگی۔۔ انہیں نے نظروں ہی نظروں میں اسے انکار کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھیں یہ بات احمد صاحب تک پہنچنا کسی قیامت سے کم نہ ہو گی۔
شہناز بیگم۔۔ آپ اسے سچ بتانے سے منع مت کریں ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔ انہوں نے سخت تنبیہ کی۔۔ وہ شہناز بیگم کو اشارہ کرتے دیکھ چکے تھے۔
ہاں بولو زرتاشہ کیوں اس نے تم پہ ہاتھ اٹھایا۔۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنا رخ اس کی طرف موڑا۔
بابا میں بتاتا ہوں پلیز ایک بار میری بات سنیں۔۔ آخر زاویار کو ہمت کرنی پڑی۔
اچھا۔۔ چلو تم ہی بتا دو خود اپنے کارنامے۔۔ انہوں نے طنزیہ کہا۔
بابا اس نے میرے سے طلاق کا مطالبہ کیا تو مجھے۔۔۔۔
جھوٹ۔۔ جھوٹ بول رہے ہیں یہ بابا۔۔ یہ ساری رات کسی۔۔ کے ساتھ۔۔
زرتاشہ۔۔ بند کرو اپنی بکواس۔۔۔ زاویار دھاڑا۔۔
کیوں بند کروں۔۔ سچ بول رہی ہوں میں۔۔ وہ بھی چلائی۔
احمد صاحب یہ سن کر حواس پر قابو نہ رکھ سکے۔
بابا یہ سب جھوٹ ہے۔۔ زاویار نے التجائیہ نظروں سے باپ کو دیکھا۔۔ احمد صاحب نے زوردار تھپڑ زاویار کے منہ پر دے مارا۔
شہناز بیگم نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔۔ زرتاشہ کا بھی منہ کھل گیا۔
دفع ہو جاؤ۔۔۔ میری نظروں کے سامنے سے دور ہو جاؤ۔۔ انہوں نے زاویار کو دھکا دے کر اپنے کمرے سے نکالا۔۔ شہناز بیگم فوراً آگے بڑھیں۔۔
ملک صاحب پلیز۔۔ معاف کردیں اسے۔۔ جوان اولاد ہے۔۔ انہوں نے ان کے آگے ہاتھ جوڑے۔
شہناز تم خاموش رہو۔۔ بہت ترس آرہا ہے تو اسے کہو اپنی حرکتیں سیدھی کرلے ورنہ میرے گھر میں ایسی اولاد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔۔ انہوں نے شہناز بیگم کو بھی کھری کھری سنا دیں۔
زاویار خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔۔ زرتاشہ اب تک حیران تھی۔۔ اس کے جاتے ہی وہ بھی وہاں سے نکل گئی۔
گھر میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔۔ زاویار گھر سے ہی نکل گیا تھا۔۔ اس کے جانے کے بعد زرتاشہ بے چین ہو گئی۔۔ اسے اپنی بے چینی کی اصل وجہ معلوم نہ تھی۔
رات گزر گئی۔۔ صبح ہوئی تو زاویار نے گھر میں قدم رکھا۔۔
چپ چاپ اپنے کمرے میں آگیا۔۔ کمرہ بالکل خالی تھا اسے وہ ظالم لڑکی کہیں نظر نہ آئی جس نے اس کا چین سکون لوٹ لیا تھا۔۔ وہ اپنے بستر پر ڈھے گیا۔۔ دو دن شدید اذیت میں گزرے تھے لیٹتے ہی اسے نیند آگئی۔۔ دوپہر کو معمولی سی آہٹ سے اس کی نیند ٹوٹی۔۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ سامنے موجود تھی۔۔ زاویار اٹھا اور کپڑے لے کر واش روم گھس گیا۔ وہ صوفے پر خاموشی سے بیٹھی رہی۔۔ شہناز بیگم کے بلاوے پر باہر آئی۔
جی ماما آپ نے بلایا مجھے؟
ہاں بیٹا۔۔ کھانا لگوا لو میری کچھ تبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔ ہمت نہیں ہو رہی کچھ بھی کرنے کی۔۔ تمہارے بابا بھی گھر پر ہیں انہیں بھی بھوک لگ رہی ہے۔
جی ماما میں لگواتی ہوں۔۔ آپ آرام سے بیٹھ جائیں۔۔ اس نے تھکی تھکی شہناز بیگم کو دیکھا۔
زرتاشہ۔۔ وہ جانے لگی تو انہوں نے اسے پکارا۔۔ جی ماما۔۔
بیٹا۔۔ تم نے۔۔ ادھر کسی کو کچھ۔۔ بتایا تو نہیں؟ اماں یا مومنہ۔۔ انہوں نے اٹک ٹک کر پوچھا۔۔ ان کی نظریں شرمندگی کے باعث جھکی ہوئی تھیں۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔
نہیں ماما۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔ اور پلیز میرے ساتھ اس طرح بات مت کریں۔۔ میں تو آپ کی بیٹی ہوں ناں۔
ہاں بیٹا۔۔ اسی لیے تو شرمندہ ہوں۔۔ میرے بیٹے نے مجھے میری بیٹی کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔
ماما پلیز۔۔ اس نے ان کے ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگائے۔
اچھا چلو جاؤ کھانا لگاؤ۔۔ اور زاویار کو بلا لو۔۔ اچھا تم رہنے دو میں سکینہ کو کہتی ہوں اسے بلا لائے۔
جی ماما۔۔ وہ کہتے ہی چلی گئی۔
کھانا لگا کر سب کو بلایا۔۔ احمد صاحب اور شہناز بیگم کے ساتھ وہ موجود تھی۔۔ زاویار نے آ کر سب کو سلام کیا اور اپنی جگہ سنبھالی۔
شہناز بیگم کے علاوہ کسی نے جواب نہ دیا۔۔ بلکہ احمد صاحب اپنی جگہ سے اٹھ گئے۔۔
میرا کھانا کمرے میں بھجوا دو۔۔ وہ کہہ کے وہاں سے چلے گئے۔
شہناز بیگم نے دکھ سے انہیں دیکھا اور پھر بیٹے کو۔۔
چلو بیٹا تم لوگ شروع کرو۔۔ شہناز بیگم نے کہا اور احمد صاحب کے لیے کھانا نکالنے لگیں۔
مجھے بھوک نہیں ہے ماما میں چلتا ہوں۔۔ زاویار بھی اٹھ کر چلا گیا۔
شہناز بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔ ناجانے کس کی نظر لگ گئی ہے میرے گھر کو۔۔ دکھ بھری آواز زرتاشہ کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔ اسے احساس ندامت نے گھیر لیا۔۔ میری وجہ سے ہوا ہے سب۔۔ میں اگر یہ بات کسی کو نہ بتاتی تو۔۔ مگر اگلے ہی پل وہ اپنی بات پر ڈٹ گئی۔۔ نہیں میرا قصور نہیں ہے۔۔ زاویار کی غلطی ہے۔۔ وہ سوچتی رہ گئی۔
۞۞۞۞
جاری ہے۔۔


