مختصر کہانیاں
#توہی_عشق_توہی_جنون #ازصاحبہ_فردوس #لاسٹ_ایپی_س…

#توہی_عشق_توہی_جنون
#ازصاحبہ_فردوس
#لاسٹ_ایپی_سوڈ
عمائمہ کو لگا کے وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی شور مچائے گا چلائے گا اس پر ستم کر ے گا مگر اس نے بہت ہی آرام سے کہا ۔
"ٹھیک ہے میں تمہیں ڈئیوارس دینے کے لیے تیار ہو "۔اتنا کہہ کر وہ اطمینان سے بیڈ پر سونے چلاگیااور عمائمہ منہ کھولے اسے دیکھتے رہ گئی وہ بیڈ پر لیٹے عمائمہ کے چہرے کے مدوجز سے کافی لطف انداز ہورہاتھااسے عمائمہ میں در آئی تبدیلی واضح طور پر نظر آرہی تھی وہ اس ہی لیے توجان بوجھ کر دور گیاتھا تاکہ یہ دوری اسے احساس دلاسکےکہ وہ اپنی دانست میں کیا کھورہی ہے عمائمہ اس بار اپنے آنسوں ضبط نہیں کر سکی تھی ایک ننھاساقطرہ اس کی آنکھ سے جھلک کر اس کے ہاتھ پر گر پڑا تھا جس کوارشمیل نے صاف طور پر دیکھا تھاایک پل کے لیے ارشمیل کا دل چاہا کے وہ اسےگلے لگالےاور اس کے سارےگلِےشکوے دور کر دے مگر پھراس نے اپنی دانست میں اسے تھوڑا سا سبق سکھانے کا سوچا تاکہ وہ زندگی میں دوبارہ کبھی اس کے ساتھ ایسا نا کر عمائمہ نے ایک نظر خود کو گھورتے ہوئے ارشمیل پر ڈالی پھراپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے بیڈ کے پاس کھڑے ہو کر بولی ۔
” ٹھیک ہے تم مجھے ڈئیوارس دینے والے ہو تو کیوں نا یہ نیک کا م ابھی کر لو ابھی مجھے تین لفظ کہہ کر فارغ کر دو اور اپنی اس گرل فرینڈ ایلیف عرف ایلی سے شادی کر لوویسے بھی بنا سوچے سمجھے اسے گھر تو لے آئے ہواب اس روم میں بھی لے آؤ "۔اس کی باتیں سن کر ارشمیل کو غصہ آنے کے بجائے ہنسی آرہی تھی وہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولا۔
"کیا تمہیں آس پاس سے جلنے کی بو نہیں آرہی ہے کیا ؟؟”اس کی بات سن کر عمائمہ کا غصہ دوچَند ہوگیا وہ کونفرت سے گھورتے ہوئے بولی ۔
"تمہیں کیا لگ رہاہے کہ میں یہ سب کچھ میں حسد میں آکر کررہی ہو تو تم سن لو ارشمیل یزدانی میں یہ سب کچھ حسد میں آکر نہیں کررہی ہو بلکہ تمہاری نفرت میں کررہی ہو مجھےسے نفرت ہے تم ابھی کے ابھی مجھے آزاد کر دو "۔وہ جتنا زور دیتے ہوئے بولی ارشمیل نے اتنے ہی ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا تھا ۔
"ایک ساتھ تین طلاق دے کر مجھے جیل نہیں جانا ہے لہذاتم صبرکا دامن تھا م کر رکھوں جب تک میں تمہیں آزادنا کردو تب تک تم اپنے شوہر کی خدمت کرؤ کیسی بیوی ہو تم ؟؟شوہر اتنے دن بعد پرائے پردیس سے واپس آیا ہے تمہیں تواپنے شوہرسے اس کا حال احوال دریافت کرنا چاہئے تھا اس سے دوچار پیار محبت کے لفظ کہنا چاہئے مگر نہیں تمہیں تو یہ کسی نے سکھایا ہی نہیں ہے”۔وہ ایسے بات کررہا تھا جیسے برسوں سے وہ دونو ں ایک دوسرے سے اس ہی لہجے میں بات کرنے کے عادی ہے عمائمہ اس کے اس انداز سے بری طرح زچ ہوئی تھی اس نے ارشمیل کے سائیڈ میں رکھا کشن اسے مارنے کے لیے اٹھا یا مگر ارشمیل نے اس کا اردہ بھاپتے ہوئے سُرعَت سے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لیا جس سے وہ اپنی جگہ تلملاتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی ۔
"اگر تم اس بیچ صلح کرنا چاہتی ہو تو بے شک کرسکتی ہو "۔وہ ارشمیل کی لَو دیتی ہوئی نگا ہوں میں براہِ راست دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے بولی ۔
"میں تم سے صرف علیحدگی چاہتی ہو "۔
"اچھاتو اس کامطلب ہے اب ہمارے درمیان کبھی صلح نہیں ہوسکتی ہے "۔
"نہیں بالکل بھی نہیں "۔وہ یہ کہنا چاہ رہتی تھی کے پہلےصلح ہوسکتی تھی لیکن تم نے ایلیف کو ہمارے درمیان لاکر بہت بڑی غلطی کربیٹھے وہ یہ سب کچھ سوچ ہی سکی تھی بول نہیں پائی تھی تبھی ارشمیل اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوااسکے قریب آیا اوراس کے چہرے پر آتی آورہ زلفوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا ۔
"دیکھ لینا ایک دن تم میرے لیے تڑپوں گی "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کے تم کہا جارہ ہو ۔
"میں کئی نہیں جارہا ہو مگر تم تو چلی جاؤگی نا ڈئیوارس کے بعد "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹنے لگی تھی تبھی وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑاکر جانے لگی تھی کے ارشمیل اس کا اردہ بھاپ لیا اور اسے اپنے مضبوط باہوں کے حصارے میں قید کرلیا کیسی بے بسی تھی اس کی آنکھوں میں ،کیسی بے خودی تھی؟ کیسی دیوانگی در آئی تھی اسکی آنکھوں ارشمیل کی اسے حاصل کرنے کی تمنّا اور بڑھ گئی تھی ، کیا چاہ رہا تھا وہ اس لمحے عمائمہ نے اس کا مضبوط آہنی حصارہ توڑنا چاہامگر اس نے ایسا ہونے نہیں دیا تھا عمائمہ کو اپنادل بہت تیزی سے دھڑکتا محسوس ہوا تھا تبھی اس نے دھیرے سے کہا ۔
"مجھے جانے دو "۔عمائمہ کے دھیرے سے کہنے پر بھی وہ نہیں مانا تھا پھر وہ اسے اپنی بے تابی کے قصے سنانے لگا ۔
"تم شاید نہیں جانتی ہو میں جب تم سے دور گیا تھا تو تمہارے لیے کتنا تڑپا تھا مگر شاید تمہیں میرے احساسات کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے "۔عمائمہ کہنا چاہتی تھی کے اسے پرواہ ہے مگر اس وقت اس کے لب جیسے سیل چکے تھے وہ کچھ بھی کہہ نہیں پارہی تھی وہ تو بس اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جس میں صرف اس کا اپنا عکس جھلک رہا تھا مگر ایک بار پھر اس کادل ارشمیل کے طرف سے بدگمان ہونے لگا تھا تبھی تو وہ خود کو اس سے آزاد کرنے کی سعی کرتے ہوئے بولی تھی ۔
"ٹھیک ہے میں مان لیتی ہوکے تمہارے جذبات میرے لیے سچے ہے اب تو مجھے جانے دو”۔اس نے ارشمیل سے پیچھا چھوڑانے کے لیے کہا تھا مگر وہ کہااتنی آسانی سے اس کا پیچھا چھوڑنے والا تھا ۔
"مانتی ہو تو پھر اتنی دوریاں کیوں بنا رکھا ہے تم نے ؟” اس کی بات سن کر عمائمہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے ۔
"تم شاید کچھ دیرپہلے ہمارے درمیان ہوئی بات کو بھول چکے ہو "۔عمائمہ نے اسے اپنے مابین ہوئی کچھ دیر پہلے طلاق کی بات یاد دلا یا اتنا کہہ کر وہ ارشمیل سے اپنا آپ چھڑوا کر وہاں سے اپنے کاؤچ پر سونے چلی گئی ارشمیل جواسے زچ کرنا چاہتا تھا وہ اپنے مقصد میں کا میاب ہوا تھاعمائمہ اس کی طر ف پیٹھ کرکے رات بھر روتے رہی تھی پتا نہیں کیوں اسےکچھ دیر پہلے ارشمیل کے ہامی بھرنے سے بہت دکھ ہوا تھا ۔
٭٭٭
ارشمیل جوایک دن بھی آفس سے غیر حاضری نہیں ہوتا تھا وہی اب آفس کو چھوڑ کر ہر روز ایلیف کے ساتھ کئی نا کئی گھومنے نکل جاتا تھا اور وہ یہ سب دیکھ کر اندار ہی اندار کُڑھتے رہتی تھی ایک دن تو حد ہوگئی تھی وہ اپنے روم بیٹھی ارشمیل کی کار کردگی دیکھ رہی تھی تبھی ایلیف بلاایجازت ان کے روم میں گُھس آئی تھی عمائمہ اسے روم میں دیکھ کر اپنی جگہ ڈسٹرب ہوچکی تھی ایلیف نے عمائمہ کو سرے سے نظر انداز کر دیا تھااور سیدھے کئی جانے کے لیے تیار ہوتے ارشمیل کے پاس پہنچ گئی تھی اسے اپنے روم میں دیکھ کر ارشمیل کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی تبھی تو وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔
"آج میرے روم میں کیسے آنا ہو ا”۔ارشمیل نے شائستہ انگریزی میں کہا تھااس نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا ۔
"میں تویہ دیکھنے آئی تھی کے میراپاٹنر تیارہواہے یا نہیں "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ جل کر خاکستر ہو چکی تھی اور وہ مسکراتارہاتھا عمائمہ کا دل چاہاوہ اپنے قریب پڑا واز اس چڑیل کے سر پر دے مارے مگر وہ اپنے دل کی شدید خواہش کو دل میں ہی دبا کر رہ گئی تھی ارشمیل وارڈروب میں سے میچنگ ٹائے نکال رہا تھا تبھی وہ وہاں بھی پہنچ گئی اور بولی ۔
"کیا میں تمہارے لیے ٹائے میچنگ کرسکتی ہو "۔اس کی اس بات پر بھی ارشمیل نےمسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا تھا عمائمہ جس نے کبھی ارشمیل کے وارڈروب میں جھانکنے کی زحمت نہیں کی تھی آج ایلیف اس کی جگہ پر کھڑی اس ہی کے کرنے والے کام کررہی تھی پھر نا صرف اس نے اپنی پسند سے ٹائے نکالا تھا بلکہ اسے باندھ بھی دیا تھا یہ سب دیکھ کر عمائمہ کا وہاں ایک پل بھی ٹھہرنا مُحال ہوچکا تھا تبھی وہ خود پر ضبط کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی اسے ایسے جاتا دیکھ کر ایلیف نے ارشمیل سے دریافت کیا تھا۔
"یہ ایسے کیوں چلی گئی ہے ؟”
"پتا نہیں "۔ارشمیل کا مختصر سا جواب جب اس کی سماعتوں سے ٹکرا یا تو اسے دونوں سے ہی بے حد نفرت ہو تی محسوس ہوئی تھی ۔
٭٭٭
ایلیف کو آئے ہوئے ایک مہینے سے زائد دن ہوچکےتھے مگر وہ ارشمیل سے ایسے چمٹی بیٹھی تھی کے جانے کا نا م ہی نہیں رہی تھی ایک طرح سے وہ ایلی کو اپنا حَرِیف سمجھ بیٹھی تھی ایلیف جب بھی عمائمہ سے بات کرنے کی کوشش کرتی توعمائمہ کوئی نا کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے اٹھ جاتی تھی ارشمیل اس کی ایسی حرکتوں سے عاجز آچکا تھا تبھی تواس نے ایک دو بار اسے سیدھے طریقے سے سمجھانے کی کوشش کیا تھا مگر وہ کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھی اس کی ان ہی حرکتوں کے وجہ سے ارشمیل نے اسے اگنور کرنا شروع کر دیا تھاابھی بھی وہ اپنے جاننے والے کی پارٹی میں جارہا تھا اس پارٹی میں کپل ہی جاسکتے تھے مگراس نے عمائمہ کو جھوٹے منہ بھی اپنے ساتھ چلنے کا نہیں کہا تھا وہ تو ایلی کے ساتھ پہلے ہی الگ پلان بنا بیٹھا تھا عمائمہ کو جب یہ بات پتا چلی تو اس نے ارشمیل سے کچھ نہیں کہاتھاوہ چپ چاپ اپنے روم سے نکل گئی تھی وہ جب لاونج میں آئی تو اس نے عدینہ کو پریشان بیٹھا دیکھا تو اس سےاس کے پریشانی کا سبب پوچھا جس پر عدینہ نے کہا تھا ۔
"آپی احد کو مسٹر شاہ کی پارٹی میں جانا تھا مگر میں اس حالت میں اس کے ساتھ کیسے جا سکتی ہو اب آپ ہی احد کو سمجھائے کے وہ مجھے اپنے ساتھ چلنے پر اصرار نا کرے "۔اس کی بات سن
کرعمائمہ دھیمے لہجے میں بولی ۔
"چلی جا ؤ نا عدینہ تم کیوں احد کو پریشان کررہی ہو "۔اس کی بات سن کر عدینہ کو بیٹھے بیٹھائے ایک خیال آیا تو وہ بولی ۔
"آپی کیوں نا آپ احد کے ساتھ چلے جائے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کو ہنسی آگئی تھی ۔
"نہیں عدی میں احد کے ساتھ کیسے جا سکتی ہو یہ کپل پارٹی ہے "۔
"آپی میں جانتی ہو کے احد آپ کےلیے بھائی جیسا ہے مگر پلیز آپ میری پریشانی سمجھنے کی کوشش کرے نا میں اس حالت میں کیسے جا سکتی ہو دیکھے ارشمیل بھا ئی بھی تو اس ایلیف کے ساتھ چلے گے جب کے آپ کوان کے ساتھ پارٹی میں جانا چاہئے تھا پلیز آپی آپ چلے جا ئے نا "۔عدینہ کے بے حد اصرار کرنے پر وہ مان گئی تھی تو عدینہ خوش ہوکر اس کے گلے لگ گئی تھی پھر وہ تیار ہونے کے لیے اپنے روم میں آگئی حالانکہ اس کادل بالکل بھی نہیں چاہ رہا تھا مگر اسےاپنی بہن سے کیے وعدے کو بنھانا تھااس لیے وہ بے دلی سے تیار ہو گئی تھی اس نےآف وائٹ کلر کاشولڈر کٹ گاؤن زیب تن کیا تھااس پر میچنگ ہلکی سی جیولری پہنی تھی اپنےلمبے بالوں کو کرلی کرکے کھولا چھوڑ دیا تھا ہلکے سے میک آپ میں وہ بجلیاں گرارہی تھی تیار ہونے کے بعد وہ احد کے ساتھ کار میں بیٹھ کر پارٹی میں چلی گئی اسے احد کے ساتھ جانا تھوڑا عجیب لگ رہا تھا اس لیے تو وہ کار میں چپ چاپ بیٹھی تھی اسے خاموش دیکھ کر احد نے کار کا سکوت توڑا تھا ۔
” بھابھی آپ کو نہیں لگتا بھائی ایلیف میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہ ہے؟ "احدکے سوال سے وہ ایک پل کے لیے اپنی جگہ پر سُن ہو چکی تھی ۔
"ہاں شاید تم صحیح کہے رہ ہو ”
"ارے بھابھی میں مذاق کررہاتھا آپ میرے مذاق کو سیریس نا لے بھائی آپ کے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتے ہے "۔احد کی بات پر وہ دل میں ہی خود سے بولی ۔
"احدتم نے مذاق میں ہی صحیح مگرسچ کہا ہے اب تو سب کو محسوس ہونے لگا ہے کے ارشمیل اس ایلیف سے محبت کرتاہے "۔کچھ دیر بعد وہ پارٹی میں پہنچ گے تھے پارٹی شروع ہو چکی تھی ہر طر ف لوگ ہی لوگ نظر آرہ تھے تبھی لوگوں کے ہجوم میں اس کا ہنستا مسکراتا ہوا چہرہ اسے نظر آیا وہ اور یلیف ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بہت قریب کھڑے تھے ارشمیل نے ایلیف کو کچھ کہا تھا جس سے اس نے خوب ہنستے ہو ئے اپناسر ارشمیل کے کندھے پر ٹکادیا تھا یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں بھر آئی تھی وہ اس بھری محفل میں خود کا تماشہ نہیں بنانا چاہتی تھی اس لیے تو احد کے ساتھ آگے بڑھ گئی احد بھی ارشمیل کو دیکھ کر وہی آگیا تھاناچارہ اسے بھی وہی جانا پڑا ارشمیل کی نظریں جب اس پر ی پیکر پر پڑی تو وہ اسے دیکھ کر ٹِھٹک گیا تھا ایلی کا بھی یہی حال تھاوہ کہاارشمیل کے ساتھ اکیلے وقت بتانے کا سوچ کر آئی تھی اور اب عمائمہ کو وہاں دیکھ کر ٹِھٹک گئی تھی عمائمہ نے ارشمیل اور ایلی کو ایسے نظر انداز کیا جسے وہ انھیں جانتی ہی نہیں ہے جب ارشمیل نے احد سے عمائمہ کی آمد کی وجہ دریافت کیا تو احد نے اسے اس کے آنے کی اصل وجہ بتا دیاجس سے ارشمیل نے کسی بھی قسم کا درعمل ظاہر نہیں کیا تھا احد نے عمائمہ کا ہاتھ تھام لیااور ارشمیل کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولا ۔
"بھائی آپ بھابھی کے ساتھ رہ میں آپ کی ایلی کو لے جاتا ہو "۔احد ایلیف کواپنے ساتھ لے گیا اور اسے ارشمیل کے پاس چھوڑ گیا اس کے ایسا کرنے پر عمائمہ اپنی جگہ تڑپتے رہ گئی تھی تبھی ارشمیل نے اسے ایک جست سے اپنے پاس کیا تھااس بھری محفل میں اسے ارشمیل سے اس حرکت کی امید نہیں تھی مگر وہ شاید بھول گئی تھی کے وہ شخص کئی بھی کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
"پارٹی میں آنا تھا تو پہلے ہی بتا دیا ہو تا میں خود تمہیں اپنے ساتھ لے آتا تھا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اسے غصے سے گھورتے ہوئے من ہی من میں بولی۔
"دوغلہ انسان "۔
"اس میں دوغلے پن کی کوئی بات نہیں ہے ڈئیر وائف ویسے آج تم بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو تمہیں دیکھ کر دل بے ایمان ہونے لگا ہے تم ایسے کیل کانٹوں سے لیس ہوکر میرےسامنے نا آیا کرو "۔مسکراتے ہوئے اس نے عمائمہ کو زچ کیا تھا وہ اسے غصے سے تک رہی تھی اور وہ پیار سےاسے تکتا رہا تبھی ان دونوں کی سماعتوں میں باؤ لی وڈ کا کافی مشہور گانا ٹکرایا تھا ۔
لگ جاگلے کی پھر یہ حسن رات ہو ناہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نا ہو
وہ گا نا ارشمیل کو بہت پسند تھااس لیے اس نے عمائمہ سے کہا ۔
"کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرو گی "۔اب وہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے اسے ڈانس کر نے کا کہہ رہا تھااس کی بات سن کر عمائمہ نے ڈانس فلور پر رقص کرتے ہوئے کپل کے طرف دیکھا پھر نفی میں سر ہلا تے ہوئے بولی ۔ "تمہارے ساتھ بالکل بھی نہیں "۔اس کے انکار پرارشمیل اپنا سامنہ لےکررہ گیا تھا پھر وہ عمائمہ کو چھوڑ کر ایلیف کے پاس گیا ایلیف کو اس نے اپنے ساتھ ڈانس کرنے کی آفر پیش کیا تو ایلیف نے ایک پل میں ہی اس کی آفر کو قبول کر لیا تھا پھر وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ڈانس فلور پر رقص کررہ تھے اور وہ لوگوں کے ہجوم میں کھڑی ان دونوں کے لیے تالیاں بجا رہی تھی اس وقت ایلیف کو اور ارشمیل کو ایک ساتھ اتنے قریب دیکھ کر اس کے دل کی کیا کیفیت ہو رہی تھی صرف وہی جانتی تھی تبھی اسے تنہادیکھ کر احد وہاں چلا آیاتھااس کے ایک ہاتھ میں مشروب کا گلاس تھا جو وہ شاید اس ہی کے لیے لایا گیا تھا احد نے اپنے ہاتھ میں پکڑا گلاس عمائمہ کے طرف بڑھا دیا جس کواس نے تھام لیا تھا عمائمہ جوس کے چھوٹے چھوٹے سِپ لے رہی تھی تبھی احد بولا ۔
"بھابھی کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کے اس ایلیف کے ساتھ کچھ نا کچھ گڑبڑ ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے چونکتے ہوئے احد کے طرف دیکھا اور پھر بولی ۔
"کیسی گڑ بڑ ؟”
"مجھے لگتا ہے ایلیف بھائی سے محبت کرتی ہے آپ نے دیکھا نہیں جب میں اسے آپ دونوں کے درمیان سے لے جا رہا تھا تو وہ مجھے کیسی کھا جانے والی نظروں سے گھوررہی تھی "۔اس کی بات تو عمائمہ کو سو فی صد درست لگی تھی آج اس کا شک یقین میں بدل چکا تھا کے ایلیف ہی نہیں ارشمیل بھی اس میں دلچسپی رکھتا ہے تبھی اس کی نظر دوبارہ ان دونو ں پر پڑی تھی ایلیف ارشمیل کے بے حد قریب تھی شاید اتنا کے ارشمیل کی سانسوں کو بھی محسوس کر سکتی تھی وہ گھڑی عمائمہ کے لیے طوفا ن ثابت ہورہی تھی دل میں لگی آگ پورے جسم کا احاطہ کررہی تھی اس کو لگا وہ ان دونوں کو پھر سے دیکھے گی تو صدمے سے مر جائے گی ۔
ہم کو ملی ہے آج یہ گھڑیاں نصیب سے
جی بھر کے دیکھ لیجیے ہم کو قریب سے
پھر آپ کے نصیب میں یہ بات ہو نا ہو
شاید اس جنم میں ملاقات ہو نا ہو
ارشمیل کو حاصل کرنے کی ایلیف کی چاہ اور بڑ گئی تھی تبھی تو وہ ارشمیل کے قریب سے قریب تر ہونے کی کوشش کررہی تھی اور ارشمیل بھی عمائمہ کے طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر ایلیف کے کچھ اور قریب ہوا تھا ۔
پاس آئیے کی ہم نہیں آئے گے اورباربار
بائیں گلے میں ڈال کے ہم رولے گے زار زار
آنکھوں سے پھر یہ پیار کی بر سات ہونا ہو
شاید اس جنم میں ملاقات ہوناہو ۔۔۔۔
عمائمہ کو ایسا لگا کے یہ گا نا اسپیشل ایلی کے دل کے جذبات کو جان کر بجایا گیا ہو تبھی تو اس کے ہاتھ کی گرفت گلاس پر مضبوط ہوچکی تھی وہ اپنی لہوں جھلکاتی ہوئی نظروں سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے وہاں سے نکل گئی تھی احد بھی اس کے پیچھے چلا آیا تھا وہ عمائمہ کی بدلتی ہوئی حالت کو بہت اچھے طرح سےجان چکا تھا اس لیے اس نے کچھ نہیں کہا چپ چاپ کار ڈرائیو کرتا رہا عمائمہ اس وقت کو کوسنے لگی جب اس نے عدینہ سے وعدہ لیا تھا کے وہ پارٹی میں احد کی پاٹنر بن کر شامل ہوگی گھر آکر بھی وہ اپنے روم میں قید ہوگئی اس نے اپنا لباس بھی تبدیل نہیں کیاتھا ایسے ہی بیڈ پر گر کر آنسوں بہانے لگی اسے ایک ہی پوزیشن میں روتے روتے بہت رات ہوچکی تھی تبھی ارشمیل روم میں آیا تھاارشمیل کو دیکھ کر اس نے کروٹ لے لیااور سوتا بننے کی کوشش کی اسے لگاارشمیل اسے بیڈ پر سوتادیکھ کر کاؤچ پر چلا جائے مگر اس نے
ایسا نہیں کیا تھااس کے قدموں کی چاپ عمائمہ کو اپنے قریب ہی سنا ئی دی تھی اس کادل بہت تیزی سے دھڑک اٹھا تھا عمائمہ کو لگا وہ اس کے پاس آئے گا تو سارے بھید کھول جائے گے وہ دعا کررہی تھی کے ارشمیل اس کے پاس نا آئے کچھ دیر کے لیے اسےاپنی سانسیں بند ہوتی ہوئی محسوس ہو ئی تھی اب ارشمیل اس کےاور پاس آچکا تھا ارشمیل اس پر جھک گیا اس نے دیکھا کے عمائمہ کا چہرہ رونے سے وجہ سے سرخ ہوچکا تھا اسے کچھ پل کے لیے ندامت ہوئی تھی پھر اس نے عمائمہ کے آنکھوں کے کنارےپر آئے آنسوں صاف کیااس وقت عمائمہ کی جان پر بن آئی تھی اس سے یہ قربت کے لمحے برداشت نہیں ہوئے تو اس نے اپنی آنکھیں کھول دیااور اپنی جگہ سے اٹھ گئی کر وہاں سے جانے لگی تھی کچھ پل کے لیے ارشمیل اپنے جگہ شرمندہ ہوا تھا تبھی اپنی خجل مٹانے کے لیے ان نے عمائمہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہی ٹھہرنے پر مجبور کیا عمائمہ نے بھیگی پلکوں سے ارشمیل کو دیکھا اور اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔
"چھوڑوں میرا ہاتھ "۔اس کی کوشش کو دیکھتے ہوئے ارشمیل نے اپنے ہاتھ کی گرفت اور بھی زیادہ مضبوط کردیاتھا ۔
"پہلے بتاؤ کیوں ناراض ہو "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نفرت سے گویا ہوئی ۔
"تم مجھے سے اس طرح کے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے ہو بہتر ہو گا کہ تم میرا ہاتھ چھوڑ کراُس ایلیف عرف ایلی کا ہاتھ تھام لو مجھ سے زیادہ اسے تمہاری ضرورت ہے وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے اور شاید تم بھی "۔آخر کے الفا ظ عمائمہ نے دھیرے سے کہہ تھے مگر پھر بھی ارشمیل نے سن لیا تھا وہ اس کی باتیں سن کر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا تھا ۔
"صحیح کہاتم نے تم سے زیادہ اسے میری ضرورت ہے اس لیے میں اسکے پاس جارہا ہو "۔اتنا کہے کر وہ روم سے چلا گیااور وہ ہکا بکا سی اسے جاتے دیکھتی رہ گئی تھی وہ ارشمیل کے اس روایہ سے بہت زیادہ دل برداشتہ ہوئی تھی کیا تھا اگر وہ اسے تھوڑا سابھی اسے منانے کی سعی کر تا اور وہ نامانتی تو بے شک وہ ایلیف کے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا سکتا تھا ۔
٭٭٭
ہر روز وہ جلتے ہوئے صحرا میں تپ رہی تھی ایلی کی اور ارشمیل کی قربت دن بہ دن بڑھتے جارہی تھی اور وہ کچھ بھی نہیں کرپارہی تھی جب بھی وہ انھیں ایک دوسرے کے ساتھ دیکھتی تھی اس کا غصہ دو چند ہوجاتا وہ غصے میں آپے سے باہر ہوجاتی اور ارشمیل کو کھری کھوٹی سنا دیتی تھی ابھی بھی کسی بات پراس کی اور ارشمیل کی جم کر بحث ہوئی تھی اور وہ غصے میں بیٹھی تھی تبھی ارشمیل دوبارہ روم میں آیا اوراسے مخاتب کرتے ہوئے بولا تھا ۔
"عمائمہ بات سنو "۔وہ ارشمیل کی آواز سن کر بے زاریت سے بولی تھی ۔ "مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سنُناہے "۔ارشمیل اس کی بات سن کر غصے میں آگیا تھا اس لیےوہ اسکے وہ اس کے پاس آیااور اسے بازوں سے تھام کر اپنی سے جگہ کھڑا کرتے ہوئے بولا ۔
"مجھے اس وقت تم سے الجھنا نہیں ہے لہذا تم میری بات غور سے سنو”۔ارشمیل کا غصہ دیکھ کر وہ خود بھی گھبرا گئی تھی کے وہ اتنے غصے میں کیوں آگیا ہے اس نے تو غصہ کرنا چھوڑ دیا تھا ۔
"عدینہ کی حالت بہت خراب ہوچکی ہے اسے مام اور احد نے ہاسپٹل لے گے ہے "۔ارشمیل کی بات سن کر وہ حواس باختہ ہو گئی تھی ۔
"کیا ہوا عدینہ کواور کسی نے مجھے بتا یا کیوں نہیں ؟”اسے الٹا سوا ل کرتا دیکھ کر ارشمیل اس پر برس پڑا تھا ۔
"تم سب کے درمیان رہو گی تو تبھی تمہیں خبر ہوگی نا جب دیکھوں تب تم روم میں پائی جاتی ہو اپنی خود غرضی کو ایک طرف رکھ کر سوچوں کے تم جس کی وجہ سے آج یہاں موجود ہو تم نے اسے ہی پوری طرح سے فراموش کر دیا تم اپنے مسائل میں اتنا الجھ گئی کے تم نے کبھی اپنی بہن کی پرواہ نہیں کیا اور اب بھی اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے مجھ سے شکوے کررہی ہو "۔اسے ارشمیل کی بات سو فی صد درست لگی تھی وہ اپنے مسائل اپنے غموں میں اتنا الجھ کررہ گئی تھی کے اس نے اپنی بہن کی پرواہ ہی نہیں کیا تھا سچ کہتے ہے یہ کمبخت محبت ہمیں سب چیزوں سے لا پروہ بنا دیتی ہے اس کی محبت نے بھی اسےدنیا سے بے گانہ دور اور لاپرواہ بنا دیا تھااس نے ارشمیل کو دھکا دیااور وہاں سے دوڑتے ہوئے چلی گئی وہ جب ہاسپٹل میں پہنچی تو شہلا بیگم احد اور وقار صاحب ہاسپٹل کے ویٹنگ روم میں بیٹھے تھے اور دوسرے طرف عدینہ کا آپریشن چل رہا تھااس کی حالت بہت نازک تھی کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتاتھا وہ ویٹنگ روم میں بیٹھنے کے بجائے آپریشن تھیٹر کے سامنے کھڑی تھی اسے اپنی کو تاہیوں رہ رہ کر پربہت رونا آرہا ساتھ ہی ساتھ ارشمیل کی ب کہی باتیں یاد آرہی تھی ڈاکٹر زکچھ بھی بتانے کے لیے تیار نہیں تھےوہ اصطرابی کیفیت میں وہی ٹہل رہی تھی تبھی ارشمیل بھی وہی چلا آیاتھا اس کی بھی حالت دیکھنے کے قابل ہورہی تھی ارشمیل سے اس کا رونا دیکھا نہیں گیا تو و ہ عمائمہ کا ہاتھا متے ہوئے بولا ۔
"فکر نا کر وانشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا”۔اس کی با ت سن کر عمائمہ نے اپناسر اس کے سینے پر رکھ دیا اوربولی۔
"تم نے سچ کہا تھا میں اپنے مسائل میں اتنی الجھ گئی کے عدینہ کی خبر گیری کرنا ہی چھوڑ دیا یہ سب میری لا پروائی کی وجہ سے ہوا ہے "۔وہ خود کو قصوروار سمجھ رہی تھی تبھی ارشمیل نے اپنے ہاتھ سے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولا ۔
"تم خود کو قصوروار مت سمجھوں وہ تو بس میں نے غصے میں کہہ دیا تھا آئے ایم سوری "۔ارشمیل کے معافی مانگنے پر بھی اس کارونا کم نہیں ہوا تھا وہ ہنوز اس کے سینے پر سر رکھے روئے جارہی تھی تبھی کافی وقت گزرنے کے بعد لیڈی ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر نکلی اور انھیں مبارک بعد دیتے ہوئے بولی ۔ "مبارک ہو آپ کی پیشنٹ کو بیٹا ہوا ہے اب ماں اوربچے دونوں بھی ٹھیک ہے "۔ یہ خبر سنتے ہی وہ شہلا بیگم وقار صاحب اور احد کو بتانے کے لیے دوڑ پڑی ارشمیل اس کی حرکت پر مسکراتے رہ گیا تھا ۔
دو تین دن عدینہ ہاسپٹل میں رہی تھی اسکے بعد ننھے منے سے بے بی کو لے کر گھر آگئی تھی اس کے گھر آتی ہی گھر میں بہت رونک درآئی تھی چارو ں طرف دن بھر چہل پہل رہتی تھی پورے گھر میں دن بھر بچے کے رونے کی آواز کونجتے رہتی تھی اسکے رونے کی آواز سب سے زیادہ بھلی عمائمہ کو لگتی تھی وہ تو جب سے عدینہ گھر آئی تھی تب سے اپنے روم میں کم اور عدینہ کے روم میں زیادہ رہتی تھی چند ہی دنوں میں وہ ارشمیل سے پوری طرح غافل ہوچکی تھی اس نے یہ بھی سوچنا بند کردیا تھا کے وہ دن بھر کہا رہتا ہے کس کے ساتھ رہتا ہے کیاکرتا ہے اسے یاد رہا تھا تو صرف اپنی بہن عدینہ اور اس کا ننھا منا سا بے بی وہ ابھی بھی لاونج بے بی کو اپنے ہاتھ میں تھامے بیٹھی تھی اور اس سے باتیں کررہی تھی ۔
"میرے ننھے منے سے راج کمار میں آپ کی ماسی ہو آپ مجھے زیادہ تنگ نا کیا کرے "۔اس کی بات سن کر وہاں موجود شہلابیگم ہنس پڑےاور عدینہ بھی مسکراتے ہوئے بولی تھی ۔
"نہیں آپی آپ ماسی ہی نہیں آپ تو اس ننھے سے راج کمار بڑی ماما بھی ہے اب آپ ہی بتائے یہ آپ کو کیا کہہ کر بلائے گا میرا ننھا سا بیٹا تو کنفیوز ہو جائے گا نا ؟” "مجھے لگتا ہے ماسی ہی ٹھیک ہے پہلے ہم دونوں کا رشتہ خالہ اور بھانجے کا ہوگااس کے بعد ہی دوسرا رشتہ ہمارے درمیان آئے گا "۔ لاونج میں آتے ہوئے ارشمیل نےاس کی بات سن لیا تھا ارشمیل نے عمائمہ کوپوری طرح نظر انداز کر دیاتھاپھر اس نےعمائمہ کے ہاتھ میں سے بے بی کو لے لیا اور عمائمہ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا ارشمیل کے پیچھے احد اور وقار صاحب بھی آگے تھےلاونج میں شام کے وقت محفل جم چکی تھی تبھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدینہ نے عمائمہ سے کہا ۔
"آپی آپ اور ارشمیل بھائی بھول رہ ہے میں نے بےبی کا نام رکھنے کی ذمے دار آپ دونوں پر سونپی تھی "۔اس کی بات سن کر احد نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ۔
"ہاں اب آپ دونوں ابھی کے ابھی جلدی سے کوئی اچھاسا نام رکھ دے تاکے میں بھی اپنے بچے کواس کا نام لے کر پکار سکوں "۔آخرمیں احدنے شرارت سے کہا تو سب کے قہقہے
فضا میں بلند ہوئے تبھی عمائمہ اور ارشمیل بے بی کا نام سوچنے لگے تھے کے ایلیف بھی شور سن کر اپنےروم سے باہر نکل آئی اور وہی سب کے درمیان بیٹھتے ہوئے بولی تھی ۔
"یہاں کیا ہو رہا ہے؟ "احد نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بولا ۔
"بے بی کی ماسی اور بڑے پاپا مل کر بے بی کا نا م رکھ رہ ہے "۔یہ سن کر ایلیف بھی مسکرادی کافی دیر سوچنے کے بعد عمائمہ اور ارشمیل ایک ساتھ بولے ۔
"حدید "عمائمہ نے حدید کہا تو ارشمیل نے کہا ۔ "عمر” دونوں کے منہ سے الگ الگ نام سن کر وہاں موجود سب ہی کنفیوز ہو چکے تھے تبھی اس کنفیوزن کا حل نکالتے ہوئے ایلیف نے کہا ۔
"کیوں نا ہم بےبی کا نا حدید عمر رکھ دے "۔اس کا آئیڈیا برا نہیں تھا اس لیے سب نے یہی ٹھیک سمجھا تھا کافی دیر بعد محفل بر خاست ہوئی تو وہ اپنے روم میں چلی آئی ارشمیل بھی اس کے پیچھے چلا آیا تھا وہ ابھی سونے کی ہی تیاری کر رہی تھی تب ارشمیل اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہو ئے اسے اپنی جگہ سے اٹھاتے ہوئے بولا ۔
"کب تک ایسے نارا ض رہو گی کیا میری خطائیں معافی کے قابل نہیں ہے جو تم مجھ سے اتنا روٹھ کر بیٹھی ہو ؟”عمائمہ ارشمیل کے تھکے ہو ئے چہرے پر نظر ڈالیتےہوئے سوچنے لگی کے آج اسے کیا ہوگیا ہے وہ کیوں اتنا بکھرا بکھرا ساکیوں لگ رہا تھا ۔
"نہیں شایدتمہار خطائیں معاف کرنے قابل نہیں ہے "۔وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کررہی تھی مگر ارشمیل نے اسکے ہاتھ پر اپنی ہاتھ کی گرفت سختی سے بڑھاتے ہوئے کہا ۔
"عمائمہ سچ سچ بتاؤ کیا تم نے کبھی بھی میر ے بارے میں نہیں سوچا ہے؟”اس کے اس سوال پر عمائمہ اس سے نگاہ چراتے ہوئے بولی ۔ "نہیں کبھی بھی نہیں "۔اس نے عمائمہ کو اپنے سے بہت قریب کر لیا اتنا کے اس کی گرم گرم سانسوں سے عمائمہ چہرے کو جھلسا رہی تھی ۔ "کاش کے تم کبھی میری کسی بات پر اعتبار کرتی میری بات کا یقین کرتی کے میں تم سے کتنی محبت کرنے لگا ہو مگر تمہیں سمجھنا سب بے سودثابت ہورہا ہے "۔اتنا کہے کر اس نے عمائمہ کو چھوڑ دیا پھر اپنے کوٹ کے جیب میں سے کسی چیز کے پیپر ز اسے تھما تے ہوئے بولا ۔
"یہ لو ان پیپرز پر سائن کر دو "۔ یہ سن کر عمائمہ کے ہوش اُڑ گے تھے اس نے اپنے کانپتے
ہوئے ہاتھوں سے وہ پیپرز تھام لیے تھے اس وقت اس کاجی چاہ رہاتھا کے وہ دھاڑے مار مار کر روئے مگر اس نے ایک بھی آنسوں اپنی آنکھوں سے گرنے نہیں دیا تھا وہ پیپرز تھا م لیےاور ارشمیل کے طرف شکواہ کرتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے من ہی من میں خود سے بولی تھی ۔
"تو کیا یہ آخری رات ہے میری اس گھر میں؟؟”
عمائمہ نے اپنی ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے وہ پیپر ز کھول کر دیکھی تو حیران ہو گئی کر ارشمیل کے طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
"یہ کیا ہے ؟؟”
"میرے خیال سے تمہیں پڑھنا آتا ہے "۔وہ خود کو انجان ظاہر کرتے ہو ئے بولا تو عمائمہ حیران ہوئے بولی ۔
"ہا ں مگر تم نے تو میرا گھر بیچ دیا تھا نا اور یہ آفس کے پیپرز یہ ۔۔یہ سب کیا ہے ؟”
"یہ سب تمہاری امانت ہے جو میرے پاس تھی میں نے تمہارا گھرنہیں بیچا تھا وہ تو بس تم سے بدلہ لینے کے لیے تمہیں پریشان کرنے کے لیے جھوٹ کہا تھا اور تمہاری کمپنی بھی تمہارے ہی نام ہے تم دیکھ سکتی ہو "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کو خوشی نہیں ہوئی تھی اس نے وہ پیپرز ارشمیل کے طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
"مجھے تمہارا کوئی احسان نہیں لینا ہے یہ تم اپنے پاس ہی رکھوں”۔
"یہ کوئی احسان نہیں ہے بس تمہاری چیزیں تھی جو دوبارہ تمہارے پاس واپس آرہی ہے "۔
"مگر مجھے اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ضرورت ہے تو صرف تم سے علیحدگی کی "۔وہ ابھی بھی اپنی ضد پر اڑی تھی تبھی ارشمیل نے اسے غصے میں اس کے بازوں پر اپنے پنجے گاڑ دیا جس سے اس کے پورے وجود میں درد کی لہریں ابھر ی تھی اوراس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے بولا۔
"آئندہ ایسی بات اپنے منہ سے نکالا نا تو میں بھول جا ؤگا کے میں تم سے محبت کرتا ہو اب سیدھے طریقے سے مان جاؤ ورنہ مجھے زبردستی منانا بھی آتا ہے "۔اس کے غصے سے کہنے پر عمائمہ کے آنسوں نکل آئے تھے اس کے آنسوں دیکھ کر ارشمیل کو اپنے جذباتی پن پر غصہ آیا تووہ تھوڑے ملائم لہجے میں بولا ۔
"میں تم پر غصہ نہیں کرنا چاہتا ہو مگر تم ایسی بات کر دیتی ہو کے بندہ غصہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اب رونا بند کر و اور پلیز مان جا و میں بہت تھک چکا ہو مجھے تمہاری ضرورت ہے تمہاری محبت کی ضرورت ہے "۔ عمائمہ اس کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔
"کیاتم نے مجھے کبھی یقین دلا نے کی کوشش کیا کے تم میراساتھ کبھی نہیں چھوڑوگے مجھے کبھی دھوکہ نہیں دو تو پھر میں کیسے تمہاری بات کا یقین کر و”۔
"اگرتمہیں اس بات کا ڈر ستا رہا ہے کے میں تمہیں آگے چل کر دھوکا دوگااور ایلی کے ساتھ چلاجاؤگا تو تم غلط سوچ رہی ہو میں نے آج تک تمہارے علاوہ کسی کے بارے میں نہیں سوچا ہےاور نا سوچوں گا "۔
"تم جھو ٹ بول رہ ہو تم میرے علاوہ بھی بہت سی لڑکیوں کے ساتھ رہ ہو مجھے تمہاری کسی بھی بات پر اعتبار نہیں ہے "۔وہ ہنوز اس کے قریب کھڑی اس پر الزامات لگا رہی تھی ۔
"پہلے کی بات کچھ اور تھی مگر جب سے تم دوبارہ میری زندگی میں واپس آئی ہو تب سے میں نے تمہارے علاوہ کسی کو نہیں سوچا ہے ہروقت میرادل تمہارے بارے میں سوچتا رہتا اس لیے تو جب جب مجھے پتا چلا کے تم مرتضی کے ساتھ ہو تو تب تب میں نے تمہیں روکنے کی کوشش کیا تم پر پابندیاں عائد کر تا رہا تا کے میرے علاوہ تمہیں کوئی اور نا دیکھے کوئی اور تم سے محبت نا کر جب مجھے پتا چلا کے تم مرتضی کے ساتھ انگیجڈ ہو تو تب میں پاگل ہو چکا تھا میرے سمجھ نہیں آرہا تھا کے تمہیں کیسے حاصل کر و اس لیے میں نے تم سے زبردستی نکاح کرلیا تھا تاکہ تم میری نظر وں کے سامنے رہو مجھ سے کبھی دور نا جا سکوں اور اس کے بعدبھی میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا وہ سب کچھ تمہاری محبت میں آکر کیا تھا میں خود یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کے مجھے تم سے محبت ہے یہ احساس بھی تم نے ہی مجھے دلایا اگر اب بھی تمہیں لگتا ہے کے میری یہ بے تا بی بے قراری جھوٹی ہے تو تم بے شک مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور ہو سکتی ہو "۔
"تم نے اپنی محبت کے اپنی بے قراریوں کے قصے تو سنا دیے مگر یہ تو ابھی تک نہیں بتا یا کےتم اس ایلیف کو اپنے ساتھ کیوں لے کر آئے اس کے ساتھ پارٹی میں مد ہوش ہوکر رقص کیوں کررہ تھے تم دونوں کا کیا رشتہ ہے ؟”اس کی بات سن کر ارشمیل کے لب دوبارہ مسکرا ئے تھے ۔
"تم سے دور جانا اور ایلی کو اپنے ساتھ لا نا یہ میری پلاننگ کا حصہ تھا ایلی کو جب میں نے بتا کے میری شادی ہوچکے ہے اور میں تم سے محبت کرتا ہو تو وہ بہت دکھی ہوئی تھی مگر پھرمیں نے اسے ہمارے رشتے کی سچائی بتایا تو اسے تو صدمہ ہی لگ چکا تھا پھراس نے مجھے کہا کے وہ تمہیں میرے قریب لانے میں میری مدد کرے گی لہذاوہ اس ہی مقصد کے تحت میرے ساتھ آئی تھی اور کوئی بات نہیں ہے "۔عمائمہ کواس کی بات پر یقین آچکا تھا اس لیے تو بولی ۔
"بس یہی بات ہے اور کوئی با ت نہیں ہے نا "۔
"ہاں میری جان بس یہی با ت ہے "۔ارشمیل اسے یقین دلا نے کی جی توڑ کوشش کرتے
ہوئے بولا تھا ۔
"کیا تم سچ میں میرے ڈیڈ کی آخری نشانی مجھے واپس کررہ ہو ؟”اسے ارشمیل کی باتوں پر تو یقین آچکا تھا لیکن اس نے جو گھر کےاور کمپنی کے دستاویز واپس کیا تھا اس کا یقین نہیں آرہا تھا لہذاوہ دوبارہ اپنی تسلی کرنے کے لیے بولی تھی ۔
"ہاں میں یہ سب کچھ لےکر کیا کروگا یہ تمہاری امانت ہے اسے تمہارے اور عدینہ کے پاس ہی ہونا چاہئے "۔اس کی بات سن کر خوشی سے جھومتے ہوئے ارشمیل کے گلے لگ کر بولی تھی۔
"تھنک یوسو مچ تم نے یہ سب واپس کرکے مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دیا ہے تم نہیں جانتے میرے ڈیڈ کا گھر اور ان کی کمپنی ہم دونوں بہوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے ”
"تمہارے جذبات نہیں جانتا تو یہ سب کبھی واپس نہیں کرتا اور بھی کچھ چاہئے تو بتا دو مطلب ڈئیوار س وغیرہ آج بندہ موڈ میں ہے تو کچھ بھی دے سکتا ہے”۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے اپنے ہاتھ اس کے لب پر رکھ دیےاور بولی ۔
” نہیں مجھے بس تم چاہئے اور تم سے ہمیشہ وفا کا وعدہ چاہئے تم نہیں جانتے میں آج کتنے عرصے بعداس قدر خوش ہوئی ہو جو درد تم نےمجھے دیےتھے وہ سب کےسب مٹ چکےہے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل ہنستے ہوئے بولا تھا ۔ "تو کیا ڈئیر مسز آپ کو ارشمیل یزدانی دل وجان سے قبول ہے ؟”اتنا کہے کر وہ عمائمہ سے دو قدم قریب ہوا تو عمائمہ دو قدم پیچھے ہوتے ہوئے بولی ۔
"سوچ کر بتاؤ گی "۔تبھی ارشمیل نے اسے خود سے قریب کر لیا اور بولا ۔
"سوچنے کا وقت نہیں ہے تمہارے پاس ابھی بتا دو ورنہ بہت ساری ایلی میرے انتظار میں کھڑی ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کینہ توز نظروں سے ارشمیل کو گھورتے ہوئے بولی ۔
"ٹھیک ہے ان بہت ساری ایلی کو تم لے آؤ اور مجھے بھول جاو "۔
"میں ان سب کو چھوڑ سکتا ہو مگر تمہیں نہیں بھول سکتا”۔
"تو پھر ٹھیک ہے مسٹر ارشمیل یزدانی مجھے آپ قبول ہے "۔عمائمہ نے اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا تو ارشمیل دوبارہ اس کے پاس آگیااور بولا ۔
"اگر ان پیپرز کی جگہ ڈئیوارس پیپرز ہوتے تو تم کیا کرتی ؟”اسکے سوال پر عمائمہ نے تھوڑی توقف کے بعد بولی ۔
"تو میں شاید ان پیپرز پر سائن کردیتی "۔اس کی بات سن کر ایک پل میں ارشمیل کا لہجہ شعلہ بار ہوچکا تھا ۔
"مگر میں تمہیں کبھی ان پیپرز پر سائن نہیں کرنے دیتا کیونکہ تم نے ارشمیل یزدانی کا جنون نہیں دیکھا ہے "۔
"تمہارے جنون کو دیکھ کر تو میں تمہارے عشق میں گرفتار ہوئی ہو "۔عمائمہ کے منہ سے اقرار سن کر ارشمل یزادنی اپنادل تھا م کررہ گیا اسے یقین نہیں ہورہاتھا کے اس مغرور لڑکی نے بھی آج اس سے اظہار ِمحبت کر دیا ہے ۔
"ہائے مجھے لگتا ہے میں میرادل پھٹ جائے گا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ آپ سیٹ ہوچکی تھی اس تبھی بولی ۔
"ایسی باتیں مت کر و مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے "۔
"ایسا ہے تو تم مجھ سے اتنے دوری پر کیوں کھڑی ہو "۔ارشمیل اس سے فاصلے سمیٹتے ہوئے اس کے پاس آیااور اسے اپنے آہنی حصارے میں قید کرلیا تو عمائمہ کے پورے وجود میں سنسنا ہٹ دوڑ گئی وہ اپنی لرزتی ہوئی پلکوں سےارشمیل کو دیکھنے لگی اور بولی ۔
"ارشمیل مجھے نیند آرہی ہے "۔ارشمیل اس کی فطری جھجک کو سمجھ گیا تھااس لیے اس نے عمائمہ کو چھوڑتے ہوئے سہولت سے کہا ۔
"ٹھیک ہے تم سو جاؤ "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے سکھ کا سانس لیا اس کے دل کی دھڑکنیں منشر ہوچکی تھی وہ ا پنے دھڑکتے ہوئے دل کو سنبھالتے ہوئے اپنےکاؤچ پر جا کر لیٹ گئی تبھی وہ دوبارہ اس کے پاس آیااور اس کے کان میں سر گوشی کرتے ہوئے بولا ۔
"میں نے تمہیں سونے کا ضرور کہا ہے مگر یہاں نہیں بیڈ پر "۔اس کی بات سن کر عمائمہ
مسکرانے لگی تو ارشمیل بھی مسکرا دیا دونوں کے قہقہے ایک ساتھ فضامیں بلند ہوئے تھے۔
٭٭٭
کچھ دن بعد ایلی واپس چلی گئی تھی توعمائمہ نے جاتےوقت ایلیف سے اپنے روایے کی معافی مانگی تھی جس کو ایلیف نے با خوشی قبول کیا تھا اور اسے معاف کردیا تھا عمائمہ ابھی حدید کو گود میں لے کر بیٹھی تھی حدیدرو رو کر اسے بہت پریشان کر رہا تھا تبھی اس کی نظر لاؤنج میں آتے ہو ئے ارشمیل پر پڑی تو وہ حدید کو پیار کرتے ہوئے بولی ۔
"حدید بیٹا ماسی کو اتنا پریشا ن نہیں کرتے "۔اس کی بات سن کر لاؤنج میں بیٹھے گھر کے سبھی افراد ہنسنے لگے تھے ارشمیل بھی اس کے پاس آکر بیٹھ گیا تو وہ حدید کو ارشمیل کے طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔
"یہ لو اب تم اپنے بڑے پاپا کو پریشان کر و میں جارہی ہو "۔اس کے بڑے پاپا کہنے پر ہر بار کی طر ح ارشمیل اس بار بھی چڑ تے ہوئے بولا ۔
” ابھی تو مجھے بچے بھی نہیں ہوئے ہے اور تم نےبڑےپاپا کہہ کہہ کر میرے ناک میں دم کر دیا ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ ہنسنے لگی تو احد بھی ہنستے ہوئے بولا ۔
"ہاں تو بھائی لیٹ شادی کرے گے تو یہی حال ہوگا نا "۔احد کی بات سن کر سبھی خوب ہنسنے لگے تھے جن میں وہ دونوں بھی شامل تھے ۔
ختم شدہ
#ازصاحبہ_فردوس
#لاسٹ_ایپی_سوڈ
عمائمہ کو لگا کے وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی شور مچائے گا چلائے گا اس پر ستم کر ے گا مگر اس نے بہت ہی آرام سے کہا ۔
"ٹھیک ہے میں تمہیں ڈئیوارس دینے کے لیے تیار ہو "۔اتنا کہہ کر وہ اطمینان سے بیڈ پر سونے چلاگیااور عمائمہ منہ کھولے اسے دیکھتے رہ گئی وہ بیڈ پر لیٹے عمائمہ کے چہرے کے مدوجز سے کافی لطف انداز ہورہاتھااسے عمائمہ میں در آئی تبدیلی واضح طور پر نظر آرہی تھی وہ اس ہی لیے توجان بوجھ کر دور گیاتھا تاکہ یہ دوری اسے احساس دلاسکےکہ وہ اپنی دانست میں کیا کھورہی ہے عمائمہ اس بار اپنے آنسوں ضبط نہیں کر سکی تھی ایک ننھاساقطرہ اس کی آنکھ سے جھلک کر اس کے ہاتھ پر گر پڑا تھا جس کوارشمیل نے صاف طور پر دیکھا تھاایک پل کے لیے ارشمیل کا دل چاہا کے وہ اسےگلے لگالےاور اس کے سارےگلِےشکوے دور کر دے مگر پھراس نے اپنی دانست میں اسے تھوڑا سا سبق سکھانے کا سوچا تاکہ وہ زندگی میں دوبارہ کبھی اس کے ساتھ ایسا نا کر عمائمہ نے ایک نظر خود کو گھورتے ہوئے ارشمیل پر ڈالی پھراپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے بیڈ کے پاس کھڑے ہو کر بولی ۔
” ٹھیک ہے تم مجھے ڈئیوارس دینے والے ہو تو کیوں نا یہ نیک کا م ابھی کر لو ابھی مجھے تین لفظ کہہ کر فارغ کر دو اور اپنی اس گرل فرینڈ ایلیف عرف ایلی سے شادی کر لوویسے بھی بنا سوچے سمجھے اسے گھر تو لے آئے ہواب اس روم میں بھی لے آؤ "۔اس کی باتیں سن کر ارشمیل کو غصہ آنے کے بجائے ہنسی آرہی تھی وہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولا۔
"کیا تمہیں آس پاس سے جلنے کی بو نہیں آرہی ہے کیا ؟؟”اس کی بات سن کر عمائمہ کا غصہ دوچَند ہوگیا وہ کونفرت سے گھورتے ہوئے بولی ۔
"تمہیں کیا لگ رہاہے کہ میں یہ سب کچھ میں حسد میں آکر کررہی ہو تو تم سن لو ارشمیل یزدانی میں یہ سب کچھ حسد میں آکر نہیں کررہی ہو بلکہ تمہاری نفرت میں کررہی ہو مجھےسے نفرت ہے تم ابھی کے ابھی مجھے آزاد کر دو "۔وہ جتنا زور دیتے ہوئے بولی ارشمیل نے اتنے ہی ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوا تھا ۔
"ایک ساتھ تین طلاق دے کر مجھے جیل نہیں جانا ہے لہذاتم صبرکا دامن تھا م کر رکھوں جب تک میں تمہیں آزادنا کردو تب تک تم اپنے شوہر کی خدمت کرؤ کیسی بیوی ہو تم ؟؟شوہر اتنے دن بعد پرائے پردیس سے واپس آیا ہے تمہیں تواپنے شوہرسے اس کا حال احوال دریافت کرنا چاہئے تھا اس سے دوچار پیار محبت کے لفظ کہنا چاہئے مگر نہیں تمہیں تو یہ کسی نے سکھایا ہی نہیں ہے”۔وہ ایسے بات کررہا تھا جیسے برسوں سے وہ دونو ں ایک دوسرے سے اس ہی لہجے میں بات کرنے کے عادی ہے عمائمہ اس کے اس انداز سے بری طرح زچ ہوئی تھی اس نے ارشمیل کے سائیڈ میں رکھا کشن اسے مارنے کے لیے اٹھا یا مگر ارشمیل نے اس کا اردہ بھاپتے ہوئے سُرعَت سے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لیا جس سے وہ اپنی جگہ تلملاتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی ۔
"اگر تم اس بیچ صلح کرنا چاہتی ہو تو بے شک کرسکتی ہو "۔وہ ارشمیل کی لَو دیتی ہوئی نگا ہوں میں براہِ راست دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے بولی ۔
"میں تم سے صرف علیحدگی چاہتی ہو "۔
"اچھاتو اس کامطلب ہے اب ہمارے درمیان کبھی صلح نہیں ہوسکتی ہے "۔
"نہیں بالکل بھی نہیں "۔وہ یہ کہنا چاہ رہتی تھی کے پہلےصلح ہوسکتی تھی لیکن تم نے ایلیف کو ہمارے درمیان لاکر بہت بڑی غلطی کربیٹھے وہ یہ سب کچھ سوچ ہی سکی تھی بول نہیں پائی تھی تبھی ارشمیل اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوااسکے قریب آیا اوراس کے چہرے پر آتی آورہ زلفوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا ۔
"دیکھ لینا ایک دن تم میرے لیے تڑپوں گی "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کے تم کہا جارہ ہو ۔
"میں کئی نہیں جارہا ہو مگر تم تو چلی جاؤگی نا ڈئیوارس کے بعد "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹنے لگی تھی تبھی وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑاکر جانے لگی تھی کے ارشمیل اس کا اردہ بھاپ لیا اور اسے اپنے مضبوط باہوں کے حصارے میں قید کرلیا کیسی بے بسی تھی اس کی آنکھوں میں ،کیسی بے خودی تھی؟ کیسی دیوانگی در آئی تھی اسکی آنکھوں ارشمیل کی اسے حاصل کرنے کی تمنّا اور بڑھ گئی تھی ، کیا چاہ رہا تھا وہ اس لمحے عمائمہ نے اس کا مضبوط آہنی حصارہ توڑنا چاہامگر اس نے ایسا ہونے نہیں دیا تھا عمائمہ کو اپنادل بہت تیزی سے دھڑکتا محسوس ہوا تھا تبھی اس نے دھیرے سے کہا ۔
"مجھے جانے دو "۔عمائمہ کے دھیرے سے کہنے پر بھی وہ نہیں مانا تھا پھر وہ اسے اپنی بے تابی کے قصے سنانے لگا ۔
"تم شاید نہیں جانتی ہو میں جب تم سے دور گیا تھا تو تمہارے لیے کتنا تڑپا تھا مگر شاید تمہیں میرے احساسات کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے "۔عمائمہ کہنا چاہتی تھی کے اسے پرواہ ہے مگر اس وقت اس کے لب جیسے سیل چکے تھے وہ کچھ بھی کہہ نہیں پارہی تھی وہ تو بس اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جس میں صرف اس کا اپنا عکس جھلک رہا تھا مگر ایک بار پھر اس کادل ارشمیل کے طرف سے بدگمان ہونے لگا تھا تبھی تو وہ خود کو اس سے آزاد کرنے کی سعی کرتے ہوئے بولی تھی ۔
"ٹھیک ہے میں مان لیتی ہوکے تمہارے جذبات میرے لیے سچے ہے اب تو مجھے جانے دو”۔اس نے ارشمیل سے پیچھا چھوڑانے کے لیے کہا تھا مگر وہ کہااتنی آسانی سے اس کا پیچھا چھوڑنے والا تھا ۔
"مانتی ہو تو پھر اتنی دوریاں کیوں بنا رکھا ہے تم نے ؟” اس کی بات سن کر عمائمہ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے ۔
"تم شاید کچھ دیرپہلے ہمارے درمیان ہوئی بات کو بھول چکے ہو "۔عمائمہ نے اسے اپنے مابین ہوئی کچھ دیر پہلے طلاق کی بات یاد دلا یا اتنا کہہ کر وہ ارشمیل سے اپنا آپ چھڑوا کر وہاں سے اپنے کاؤچ پر سونے چلی گئی ارشمیل جواسے زچ کرنا چاہتا تھا وہ اپنے مقصد میں کا میاب ہوا تھاعمائمہ اس کی طر ف پیٹھ کرکے رات بھر روتے رہی تھی پتا نہیں کیوں اسےکچھ دیر پہلے ارشمیل کے ہامی بھرنے سے بہت دکھ ہوا تھا ۔
٭٭٭
ارشمیل جوایک دن بھی آفس سے غیر حاضری نہیں ہوتا تھا وہی اب آفس کو چھوڑ کر ہر روز ایلیف کے ساتھ کئی نا کئی گھومنے نکل جاتا تھا اور وہ یہ سب دیکھ کر اندار ہی اندار کُڑھتے رہتی تھی ایک دن تو حد ہوگئی تھی وہ اپنے روم بیٹھی ارشمیل کی کار کردگی دیکھ رہی تھی تبھی ایلیف بلاایجازت ان کے روم میں گُھس آئی تھی عمائمہ اسے روم میں دیکھ کر اپنی جگہ ڈسٹرب ہوچکی تھی ایلیف نے عمائمہ کو سرے سے نظر انداز کر دیا تھااور سیدھے کئی جانے کے لیے تیار ہوتے ارشمیل کے پاس پہنچ گئی تھی اسے اپنے روم میں دیکھ کر ارشمیل کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی تبھی تو وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔
"آج میرے روم میں کیسے آنا ہو ا”۔ارشمیل نے شائستہ انگریزی میں کہا تھااس نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا ۔
"میں تویہ دیکھنے آئی تھی کے میراپاٹنر تیارہواہے یا نہیں "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ جل کر خاکستر ہو چکی تھی اور وہ مسکراتارہاتھا عمائمہ کا دل چاہاوہ اپنے قریب پڑا واز اس چڑیل کے سر پر دے مارے مگر وہ اپنے دل کی شدید خواہش کو دل میں ہی دبا کر رہ گئی تھی ارشمیل وارڈروب میں سے میچنگ ٹائے نکال رہا تھا تبھی وہ وہاں بھی پہنچ گئی اور بولی ۔
"کیا میں تمہارے لیے ٹائے میچنگ کرسکتی ہو "۔اس کی اس بات پر بھی ارشمیل نےمسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا تھا عمائمہ جس نے کبھی ارشمیل کے وارڈروب میں جھانکنے کی زحمت نہیں کی تھی آج ایلیف اس کی جگہ پر کھڑی اس ہی کے کرنے والے کام کررہی تھی پھر نا صرف اس نے اپنی پسند سے ٹائے نکالا تھا بلکہ اسے باندھ بھی دیا تھا یہ سب دیکھ کر عمائمہ کا وہاں ایک پل بھی ٹھہرنا مُحال ہوچکا تھا تبھی وہ خود پر ضبط کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی اسے ایسے جاتا دیکھ کر ایلیف نے ارشمیل سے دریافت کیا تھا۔
"یہ ایسے کیوں چلی گئی ہے ؟”
"پتا نہیں "۔ارشمیل کا مختصر سا جواب جب اس کی سماعتوں سے ٹکرا یا تو اسے دونوں سے ہی بے حد نفرت ہو تی محسوس ہوئی تھی ۔
٭٭٭
ایلیف کو آئے ہوئے ایک مہینے سے زائد دن ہوچکےتھے مگر وہ ارشمیل سے ایسے چمٹی بیٹھی تھی کے جانے کا نا م ہی نہیں رہی تھی ایک طرح سے وہ ایلی کو اپنا حَرِیف سمجھ بیٹھی تھی ایلیف جب بھی عمائمہ سے بات کرنے کی کوشش کرتی توعمائمہ کوئی نا کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے اٹھ جاتی تھی ارشمیل اس کی ایسی حرکتوں سے عاجز آچکا تھا تبھی تواس نے ایک دو بار اسے سیدھے طریقے سے سمجھانے کی کوشش کیا تھا مگر وہ کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھی اس کی ان ہی حرکتوں کے وجہ سے ارشمیل نے اسے اگنور کرنا شروع کر دیا تھاابھی بھی وہ اپنے جاننے والے کی پارٹی میں جارہا تھا اس پارٹی میں کپل ہی جاسکتے تھے مگراس نے عمائمہ کو جھوٹے منہ بھی اپنے ساتھ چلنے کا نہیں کہا تھا وہ تو ایلی کے ساتھ پہلے ہی الگ پلان بنا بیٹھا تھا عمائمہ کو جب یہ بات پتا چلی تو اس نے ارشمیل سے کچھ نہیں کہاتھاوہ چپ چاپ اپنے روم سے نکل گئی تھی وہ جب لاونج میں آئی تو اس نے عدینہ کو پریشان بیٹھا دیکھا تو اس سےاس کے پریشانی کا سبب پوچھا جس پر عدینہ نے کہا تھا ۔
"آپی احد کو مسٹر شاہ کی پارٹی میں جانا تھا مگر میں اس حالت میں اس کے ساتھ کیسے جا سکتی ہو اب آپ ہی احد کو سمجھائے کے وہ مجھے اپنے ساتھ چلنے پر اصرار نا کرے "۔اس کی بات سن
کرعمائمہ دھیمے لہجے میں بولی ۔
"چلی جا ؤ نا عدینہ تم کیوں احد کو پریشان کررہی ہو "۔اس کی بات سن کر عدینہ کو بیٹھے بیٹھائے ایک خیال آیا تو وہ بولی ۔
"آپی کیوں نا آپ احد کے ساتھ چلے جائے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کو ہنسی آگئی تھی ۔
"نہیں عدی میں احد کے ساتھ کیسے جا سکتی ہو یہ کپل پارٹی ہے "۔
"آپی میں جانتی ہو کے احد آپ کےلیے بھائی جیسا ہے مگر پلیز آپ میری پریشانی سمجھنے کی کوشش کرے نا میں اس حالت میں کیسے جا سکتی ہو دیکھے ارشمیل بھا ئی بھی تو اس ایلیف کے ساتھ چلے گے جب کے آپ کوان کے ساتھ پارٹی میں جانا چاہئے تھا پلیز آپی آپ چلے جا ئے نا "۔عدینہ کے بے حد اصرار کرنے پر وہ مان گئی تھی تو عدینہ خوش ہوکر اس کے گلے لگ گئی تھی پھر وہ تیار ہونے کے لیے اپنے روم میں آگئی حالانکہ اس کادل بالکل بھی نہیں چاہ رہا تھا مگر اسےاپنی بہن سے کیے وعدے کو بنھانا تھااس لیے وہ بے دلی سے تیار ہو گئی تھی اس نےآف وائٹ کلر کاشولڈر کٹ گاؤن زیب تن کیا تھااس پر میچنگ ہلکی سی جیولری پہنی تھی اپنےلمبے بالوں کو کرلی کرکے کھولا چھوڑ دیا تھا ہلکے سے میک آپ میں وہ بجلیاں گرارہی تھی تیار ہونے کے بعد وہ احد کے ساتھ کار میں بیٹھ کر پارٹی میں چلی گئی اسے احد کے ساتھ جانا تھوڑا عجیب لگ رہا تھا اس لیے تو وہ کار میں چپ چاپ بیٹھی تھی اسے خاموش دیکھ کر احد نے کار کا سکوت توڑا تھا ۔
” بھابھی آپ کو نہیں لگتا بھائی ایلیف میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہ ہے؟ "احدکے سوال سے وہ ایک پل کے لیے اپنی جگہ پر سُن ہو چکی تھی ۔
"ہاں شاید تم صحیح کہے رہ ہو ”
"ارے بھابھی میں مذاق کررہاتھا آپ میرے مذاق کو سیریس نا لے بھائی آپ کے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتے ہے "۔احد کی بات پر وہ دل میں ہی خود سے بولی ۔
"احدتم نے مذاق میں ہی صحیح مگرسچ کہا ہے اب تو سب کو محسوس ہونے لگا ہے کے ارشمیل اس ایلیف سے محبت کرتاہے "۔کچھ دیر بعد وہ پارٹی میں پہنچ گے تھے پارٹی شروع ہو چکی تھی ہر طر ف لوگ ہی لوگ نظر آرہ تھے تبھی لوگوں کے ہجوم میں اس کا ہنستا مسکراتا ہوا چہرہ اسے نظر آیا وہ اور یلیف ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بہت قریب کھڑے تھے ارشمیل نے ایلیف کو کچھ کہا تھا جس سے اس نے خوب ہنستے ہو ئے اپناسر ارشمیل کے کندھے پر ٹکادیا تھا یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں بھر آئی تھی وہ اس بھری محفل میں خود کا تماشہ نہیں بنانا چاہتی تھی اس لیے تو احد کے ساتھ آگے بڑھ گئی احد بھی ارشمیل کو دیکھ کر وہی آگیا تھاناچارہ اسے بھی وہی جانا پڑا ارشمیل کی نظریں جب اس پر ی پیکر پر پڑی تو وہ اسے دیکھ کر ٹِھٹک گیا تھا ایلی کا بھی یہی حال تھاوہ کہاارشمیل کے ساتھ اکیلے وقت بتانے کا سوچ کر آئی تھی اور اب عمائمہ کو وہاں دیکھ کر ٹِھٹک گئی تھی عمائمہ نے ارشمیل اور ایلی کو ایسے نظر انداز کیا جسے وہ انھیں جانتی ہی نہیں ہے جب ارشمیل نے احد سے عمائمہ کی آمد کی وجہ دریافت کیا تو احد نے اسے اس کے آنے کی اصل وجہ بتا دیاجس سے ارشمیل نے کسی بھی قسم کا درعمل ظاہر نہیں کیا تھا احد نے عمائمہ کا ہاتھ تھام لیااور ارشمیل کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولا ۔
"بھائی آپ بھابھی کے ساتھ رہ میں آپ کی ایلی کو لے جاتا ہو "۔احد ایلیف کواپنے ساتھ لے گیا اور اسے ارشمیل کے پاس چھوڑ گیا اس کے ایسا کرنے پر عمائمہ اپنی جگہ تڑپتے رہ گئی تھی تبھی ارشمیل نے اسے ایک جست سے اپنے پاس کیا تھااس بھری محفل میں اسے ارشمیل سے اس حرکت کی امید نہیں تھی مگر وہ شاید بھول گئی تھی کے وہ شخص کئی بھی کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
"پارٹی میں آنا تھا تو پہلے ہی بتا دیا ہو تا میں خود تمہیں اپنے ساتھ لے آتا تھا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اسے غصے سے گھورتے ہوئے من ہی من میں بولی۔
"دوغلہ انسان "۔
"اس میں دوغلے پن کی کوئی بات نہیں ہے ڈئیر وائف ویسے آج تم بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو تمہیں دیکھ کر دل بے ایمان ہونے لگا ہے تم ایسے کیل کانٹوں سے لیس ہوکر میرےسامنے نا آیا کرو "۔مسکراتے ہوئے اس نے عمائمہ کو زچ کیا تھا وہ اسے غصے سے تک رہی تھی اور وہ پیار سےاسے تکتا رہا تبھی ان دونوں کی سماعتوں میں باؤ لی وڈ کا کافی مشہور گانا ٹکرایا تھا ۔
لگ جاگلے کی پھر یہ حسن رات ہو ناہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نا ہو
وہ گا نا ارشمیل کو بہت پسند تھااس لیے اس نے عمائمہ سے کہا ۔
"کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرو گی "۔اب وہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے اسے ڈانس کر نے کا کہہ رہا تھااس کی بات سن کر عمائمہ نے ڈانس فلور پر رقص کرتے ہوئے کپل کے طرف دیکھا پھر نفی میں سر ہلا تے ہوئے بولی ۔ "تمہارے ساتھ بالکل بھی نہیں "۔اس کے انکار پرارشمیل اپنا سامنہ لےکررہ گیا تھا پھر وہ عمائمہ کو چھوڑ کر ایلیف کے پاس گیا ایلیف کو اس نے اپنے ساتھ ڈانس کرنے کی آفر پیش کیا تو ایلیف نے ایک پل میں ہی اس کی آفر کو قبول کر لیا تھا پھر وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ڈانس فلور پر رقص کررہ تھے اور وہ لوگوں کے ہجوم میں کھڑی ان دونوں کے لیے تالیاں بجا رہی تھی اس وقت ایلیف کو اور ارشمیل کو ایک ساتھ اتنے قریب دیکھ کر اس کے دل کی کیا کیفیت ہو رہی تھی صرف وہی جانتی تھی تبھی اسے تنہادیکھ کر احد وہاں چلا آیاتھااس کے ایک ہاتھ میں مشروب کا گلاس تھا جو وہ شاید اس ہی کے لیے لایا گیا تھا احد نے اپنے ہاتھ میں پکڑا گلاس عمائمہ کے طرف بڑھا دیا جس کواس نے تھام لیا تھا عمائمہ جوس کے چھوٹے چھوٹے سِپ لے رہی تھی تبھی احد بولا ۔
"بھابھی کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کے اس ایلیف کے ساتھ کچھ نا کچھ گڑبڑ ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے چونکتے ہوئے احد کے طرف دیکھا اور پھر بولی ۔
"کیسی گڑ بڑ ؟”
"مجھے لگتا ہے ایلیف بھائی سے محبت کرتی ہے آپ نے دیکھا نہیں جب میں اسے آپ دونوں کے درمیان سے لے جا رہا تھا تو وہ مجھے کیسی کھا جانے والی نظروں سے گھوررہی تھی "۔اس کی بات تو عمائمہ کو سو فی صد درست لگی تھی آج اس کا شک یقین میں بدل چکا تھا کے ایلیف ہی نہیں ارشمیل بھی اس میں دلچسپی رکھتا ہے تبھی اس کی نظر دوبارہ ان دونو ں پر پڑی تھی ایلیف ارشمیل کے بے حد قریب تھی شاید اتنا کے ارشمیل کی سانسوں کو بھی محسوس کر سکتی تھی وہ گھڑی عمائمہ کے لیے طوفا ن ثابت ہورہی تھی دل میں لگی آگ پورے جسم کا احاطہ کررہی تھی اس کو لگا وہ ان دونوں کو پھر سے دیکھے گی تو صدمے سے مر جائے گی ۔
ہم کو ملی ہے آج یہ گھڑیاں نصیب سے
جی بھر کے دیکھ لیجیے ہم کو قریب سے
پھر آپ کے نصیب میں یہ بات ہو نا ہو
شاید اس جنم میں ملاقات ہو نا ہو
ارشمیل کو حاصل کرنے کی ایلیف کی چاہ اور بڑ گئی تھی تبھی تو وہ ارشمیل کے قریب سے قریب تر ہونے کی کوشش کررہی تھی اور ارشمیل بھی عمائمہ کے طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر ایلیف کے کچھ اور قریب ہوا تھا ۔
پاس آئیے کی ہم نہیں آئے گے اورباربار
بائیں گلے میں ڈال کے ہم رولے گے زار زار
آنکھوں سے پھر یہ پیار کی بر سات ہونا ہو
شاید اس جنم میں ملاقات ہوناہو ۔۔۔۔
عمائمہ کو ایسا لگا کے یہ گا نا اسپیشل ایلی کے دل کے جذبات کو جان کر بجایا گیا ہو تبھی تو اس کے ہاتھ کی گرفت گلاس پر مضبوط ہوچکی تھی وہ اپنی لہوں جھلکاتی ہوئی نظروں سے ان دونوں کو گھورتے ہوئے وہاں سے نکل گئی تھی احد بھی اس کے پیچھے چلا آیا تھا وہ عمائمہ کی بدلتی ہوئی حالت کو بہت اچھے طرح سےجان چکا تھا اس لیے اس نے کچھ نہیں کہا چپ چاپ کار ڈرائیو کرتا رہا عمائمہ اس وقت کو کوسنے لگی جب اس نے عدینہ سے وعدہ لیا تھا کے وہ پارٹی میں احد کی پاٹنر بن کر شامل ہوگی گھر آکر بھی وہ اپنے روم میں قید ہوگئی اس نے اپنا لباس بھی تبدیل نہیں کیاتھا ایسے ہی بیڈ پر گر کر آنسوں بہانے لگی اسے ایک ہی پوزیشن میں روتے روتے بہت رات ہوچکی تھی تبھی ارشمیل روم میں آیا تھاارشمیل کو دیکھ کر اس نے کروٹ لے لیااور سوتا بننے کی کوشش کی اسے لگاارشمیل اسے بیڈ پر سوتادیکھ کر کاؤچ پر چلا جائے مگر اس نے
ایسا نہیں کیا تھااس کے قدموں کی چاپ عمائمہ کو اپنے قریب ہی سنا ئی دی تھی اس کادل بہت تیزی سے دھڑک اٹھا تھا عمائمہ کو لگا وہ اس کے پاس آئے گا تو سارے بھید کھول جائے گے وہ دعا کررہی تھی کے ارشمیل اس کے پاس نا آئے کچھ دیر کے لیے اسےاپنی سانسیں بند ہوتی ہوئی محسوس ہو ئی تھی اب ارشمیل اس کےاور پاس آچکا تھا ارشمیل اس پر جھک گیا اس نے دیکھا کے عمائمہ کا چہرہ رونے سے وجہ سے سرخ ہوچکا تھا اسے کچھ پل کے لیے ندامت ہوئی تھی پھر اس نے عمائمہ کے آنکھوں کے کنارےپر آئے آنسوں صاف کیااس وقت عمائمہ کی جان پر بن آئی تھی اس سے یہ قربت کے لمحے برداشت نہیں ہوئے تو اس نے اپنی آنکھیں کھول دیااور اپنی جگہ سے اٹھ گئی کر وہاں سے جانے لگی تھی کچھ پل کے لیے ارشمیل اپنے جگہ شرمندہ ہوا تھا تبھی اپنی خجل مٹانے کے لیے ان نے عمائمہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہی ٹھہرنے پر مجبور کیا عمائمہ نے بھیگی پلکوں سے ارشمیل کو دیکھا اور اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔
"چھوڑوں میرا ہاتھ "۔اس کی کوشش کو دیکھتے ہوئے ارشمیل نے اپنے ہاتھ کی گرفت اور بھی زیادہ مضبوط کردیاتھا ۔
"پہلے بتاؤ کیوں ناراض ہو "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نفرت سے گویا ہوئی ۔
"تم مجھے سے اس طرح کے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے ہو بہتر ہو گا کہ تم میرا ہاتھ چھوڑ کراُس ایلیف عرف ایلی کا ہاتھ تھام لو مجھ سے زیادہ اسے تمہاری ضرورت ہے وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے اور شاید تم بھی "۔آخر کے الفا ظ عمائمہ نے دھیرے سے کہہ تھے مگر پھر بھی ارشمیل نے سن لیا تھا وہ اس کی باتیں سن کر مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا تھا ۔
"صحیح کہاتم نے تم سے زیادہ اسے میری ضرورت ہے اس لیے میں اسکے پاس جارہا ہو "۔اتنا کہے کر وہ روم سے چلا گیااور وہ ہکا بکا سی اسے جاتے دیکھتی رہ گئی تھی وہ ارشمیل کے اس روایہ سے بہت زیادہ دل برداشتہ ہوئی تھی کیا تھا اگر وہ اسے تھوڑا سابھی اسے منانے کی سعی کر تا اور وہ نامانتی تو بے شک وہ ایلیف کے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا سکتا تھا ۔
٭٭٭
ہر روز وہ جلتے ہوئے صحرا میں تپ رہی تھی ایلی کی اور ارشمیل کی قربت دن بہ دن بڑھتے جارہی تھی اور وہ کچھ بھی نہیں کرپارہی تھی جب بھی وہ انھیں ایک دوسرے کے ساتھ دیکھتی تھی اس کا غصہ دو چند ہوجاتا وہ غصے میں آپے سے باہر ہوجاتی اور ارشمیل کو کھری کھوٹی سنا دیتی تھی ابھی بھی کسی بات پراس کی اور ارشمیل کی جم کر بحث ہوئی تھی اور وہ غصے میں بیٹھی تھی تبھی ارشمیل دوبارہ روم میں آیا اوراسے مخاتب کرتے ہوئے بولا تھا ۔
"عمائمہ بات سنو "۔وہ ارشمیل کی آواز سن کر بے زاریت سے بولی تھی ۔ "مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سنُناہے "۔ارشمیل اس کی بات سن کر غصے میں آگیا تھا اس لیےوہ اسکے وہ اس کے پاس آیااور اسے بازوں سے تھام کر اپنی سے جگہ کھڑا کرتے ہوئے بولا ۔
"مجھے اس وقت تم سے الجھنا نہیں ہے لہذا تم میری بات غور سے سنو”۔ارشمیل کا غصہ دیکھ کر وہ خود بھی گھبرا گئی تھی کے وہ اتنے غصے میں کیوں آگیا ہے اس نے تو غصہ کرنا چھوڑ دیا تھا ۔
"عدینہ کی حالت بہت خراب ہوچکی ہے اسے مام اور احد نے ہاسپٹل لے گے ہے "۔ارشمیل کی بات سن کر وہ حواس باختہ ہو گئی تھی ۔
"کیا ہوا عدینہ کواور کسی نے مجھے بتا یا کیوں نہیں ؟”اسے الٹا سوا ل کرتا دیکھ کر ارشمیل اس پر برس پڑا تھا ۔
"تم سب کے درمیان رہو گی تو تبھی تمہیں خبر ہوگی نا جب دیکھوں تب تم روم میں پائی جاتی ہو اپنی خود غرضی کو ایک طرف رکھ کر سوچوں کے تم جس کی وجہ سے آج یہاں موجود ہو تم نے اسے ہی پوری طرح سے فراموش کر دیا تم اپنے مسائل میں اتنا الجھ گئی کے تم نے کبھی اپنی بہن کی پرواہ نہیں کیا اور اب بھی اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے مجھ سے شکوے کررہی ہو "۔اسے ارشمیل کی بات سو فی صد درست لگی تھی وہ اپنے مسائل اپنے غموں میں اتنا الجھ کررہ گئی تھی کے اس نے اپنی بہن کی پرواہ ہی نہیں کیا تھا سچ کہتے ہے یہ کمبخت محبت ہمیں سب چیزوں سے لا پروہ بنا دیتی ہے اس کی محبت نے بھی اسےدنیا سے بے گانہ دور اور لاپرواہ بنا دیا تھااس نے ارشمیل کو دھکا دیااور وہاں سے دوڑتے ہوئے چلی گئی وہ جب ہاسپٹل میں پہنچی تو شہلا بیگم احد اور وقار صاحب ہاسپٹل کے ویٹنگ روم میں بیٹھے تھے اور دوسرے طرف عدینہ کا آپریشن چل رہا تھااس کی حالت بہت نازک تھی کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتاتھا وہ ویٹنگ روم میں بیٹھنے کے بجائے آپریشن تھیٹر کے سامنے کھڑی تھی اسے اپنی کو تاہیوں رہ رہ کر پربہت رونا آرہا ساتھ ہی ساتھ ارشمیل کی ب کہی باتیں یاد آرہی تھی ڈاکٹر زکچھ بھی بتانے کے لیے تیار نہیں تھےوہ اصطرابی کیفیت میں وہی ٹہل رہی تھی تبھی ارشمیل بھی وہی چلا آیاتھا اس کی بھی حالت دیکھنے کے قابل ہورہی تھی ارشمیل سے اس کا رونا دیکھا نہیں گیا تو و ہ عمائمہ کا ہاتھا متے ہوئے بولا ۔
"فکر نا کر وانشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا”۔اس کی با ت سن کر عمائمہ نے اپناسر اس کے سینے پر رکھ دیا اوربولی۔
"تم نے سچ کہا تھا میں اپنے مسائل میں اتنی الجھ گئی کے عدینہ کی خبر گیری کرنا ہی چھوڑ دیا یہ سب میری لا پروائی کی وجہ سے ہوا ہے "۔وہ خود کو قصوروار سمجھ رہی تھی تبھی ارشمیل نے اپنے ہاتھ سے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولا ۔
"تم خود کو قصوروار مت سمجھوں وہ تو بس میں نے غصے میں کہہ دیا تھا آئے ایم سوری "۔ارشمیل کے معافی مانگنے پر بھی اس کارونا کم نہیں ہوا تھا وہ ہنوز اس کے سینے پر سر رکھے روئے جارہی تھی تبھی کافی وقت گزرنے کے بعد لیڈی ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر نکلی اور انھیں مبارک بعد دیتے ہوئے بولی ۔ "مبارک ہو آپ کی پیشنٹ کو بیٹا ہوا ہے اب ماں اوربچے دونوں بھی ٹھیک ہے "۔ یہ خبر سنتے ہی وہ شہلا بیگم وقار صاحب اور احد کو بتانے کے لیے دوڑ پڑی ارشمیل اس کی حرکت پر مسکراتے رہ گیا تھا ۔
دو تین دن عدینہ ہاسپٹل میں رہی تھی اسکے بعد ننھے منے سے بے بی کو لے کر گھر آگئی تھی اس کے گھر آتی ہی گھر میں بہت رونک درآئی تھی چارو ں طرف دن بھر چہل پہل رہتی تھی پورے گھر میں دن بھر بچے کے رونے کی آواز کونجتے رہتی تھی اسکے رونے کی آواز سب سے زیادہ بھلی عمائمہ کو لگتی تھی وہ تو جب سے عدینہ گھر آئی تھی تب سے اپنے روم میں کم اور عدینہ کے روم میں زیادہ رہتی تھی چند ہی دنوں میں وہ ارشمیل سے پوری طرح غافل ہوچکی تھی اس نے یہ بھی سوچنا بند کردیا تھا کے وہ دن بھر کہا رہتا ہے کس کے ساتھ رہتا ہے کیاکرتا ہے اسے یاد رہا تھا تو صرف اپنی بہن عدینہ اور اس کا ننھا منا سا بے بی وہ ابھی بھی لاونج بے بی کو اپنے ہاتھ میں تھامے بیٹھی تھی اور اس سے باتیں کررہی تھی ۔
"میرے ننھے منے سے راج کمار میں آپ کی ماسی ہو آپ مجھے زیادہ تنگ نا کیا کرے "۔اس کی بات سن کر وہاں موجود شہلابیگم ہنس پڑےاور عدینہ بھی مسکراتے ہوئے بولی تھی ۔
"نہیں آپی آپ ماسی ہی نہیں آپ تو اس ننھے سے راج کمار بڑی ماما بھی ہے اب آپ ہی بتائے یہ آپ کو کیا کہہ کر بلائے گا میرا ننھا سا بیٹا تو کنفیوز ہو جائے گا نا ؟” "مجھے لگتا ہے ماسی ہی ٹھیک ہے پہلے ہم دونوں کا رشتہ خالہ اور بھانجے کا ہوگااس کے بعد ہی دوسرا رشتہ ہمارے درمیان آئے گا "۔ لاونج میں آتے ہوئے ارشمیل نےاس کی بات سن لیا تھا ارشمیل نے عمائمہ کوپوری طرح نظر انداز کر دیاتھاپھر اس نےعمائمہ کے ہاتھ میں سے بے بی کو لے لیا اور عمائمہ سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا ارشمیل کے پیچھے احد اور وقار صاحب بھی آگے تھےلاونج میں شام کے وقت محفل جم چکی تھی تبھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عدینہ نے عمائمہ سے کہا ۔
"آپی آپ اور ارشمیل بھائی بھول رہ ہے میں نے بےبی کا نام رکھنے کی ذمے دار آپ دونوں پر سونپی تھی "۔اس کی بات سن کر احد نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا ۔
"ہاں اب آپ دونوں ابھی کے ابھی جلدی سے کوئی اچھاسا نام رکھ دے تاکے میں بھی اپنے بچے کواس کا نام لے کر پکار سکوں "۔آخرمیں احدنے شرارت سے کہا تو سب کے قہقہے
فضا میں بلند ہوئے تبھی عمائمہ اور ارشمیل بے بی کا نام سوچنے لگے تھے کے ایلیف بھی شور سن کر اپنےروم سے باہر نکل آئی اور وہی سب کے درمیان بیٹھتے ہوئے بولی تھی ۔
"یہاں کیا ہو رہا ہے؟ "احد نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بولا ۔
"بے بی کی ماسی اور بڑے پاپا مل کر بے بی کا نا م رکھ رہ ہے "۔یہ سن کر ایلیف بھی مسکرادی کافی دیر سوچنے کے بعد عمائمہ اور ارشمیل ایک ساتھ بولے ۔
"حدید "عمائمہ نے حدید کہا تو ارشمیل نے کہا ۔ "عمر” دونوں کے منہ سے الگ الگ نام سن کر وہاں موجود سب ہی کنفیوز ہو چکے تھے تبھی اس کنفیوزن کا حل نکالتے ہوئے ایلیف نے کہا ۔
"کیوں نا ہم بےبی کا نا حدید عمر رکھ دے "۔اس کا آئیڈیا برا نہیں تھا اس لیے سب نے یہی ٹھیک سمجھا تھا کافی دیر بعد محفل بر خاست ہوئی تو وہ اپنے روم میں چلی آئی ارشمیل بھی اس کے پیچھے چلا آیا تھا وہ ابھی سونے کی ہی تیاری کر رہی تھی تب ارشمیل اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہو ئے اسے اپنی جگہ سے اٹھاتے ہوئے بولا ۔
"کب تک ایسے نارا ض رہو گی کیا میری خطائیں معافی کے قابل نہیں ہے جو تم مجھ سے اتنا روٹھ کر بیٹھی ہو ؟”عمائمہ ارشمیل کے تھکے ہو ئے چہرے پر نظر ڈالیتےہوئے سوچنے لگی کے آج اسے کیا ہوگیا ہے وہ کیوں اتنا بکھرا بکھرا ساکیوں لگ رہا تھا ۔
"نہیں شایدتمہار خطائیں معاف کرنے قابل نہیں ہے "۔وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کررہی تھی مگر ارشمیل نے اسکے ہاتھ پر اپنی ہاتھ کی گرفت سختی سے بڑھاتے ہوئے کہا ۔
"عمائمہ سچ سچ بتاؤ کیا تم نے کبھی بھی میر ے بارے میں نہیں سوچا ہے؟”اس کے اس سوال پر عمائمہ اس سے نگاہ چراتے ہوئے بولی ۔ "نہیں کبھی بھی نہیں "۔اس نے عمائمہ کو اپنے سے بہت قریب کر لیا اتنا کے اس کی گرم گرم سانسوں سے عمائمہ چہرے کو جھلسا رہی تھی ۔ "کاش کے تم کبھی میری کسی بات پر اعتبار کرتی میری بات کا یقین کرتی کے میں تم سے کتنی محبت کرنے لگا ہو مگر تمہیں سمجھنا سب بے سودثابت ہورہا ہے "۔اتنا کہے کر اس نے عمائمہ کو چھوڑ دیا پھر اپنے کوٹ کے جیب میں سے کسی چیز کے پیپر ز اسے تھما تے ہوئے بولا ۔
"یہ لو ان پیپرز پر سائن کر دو "۔ یہ سن کر عمائمہ کے ہوش اُڑ گے تھے اس نے اپنے کانپتے
ہوئے ہاتھوں سے وہ پیپرز تھام لیے تھے اس وقت اس کاجی چاہ رہاتھا کے وہ دھاڑے مار مار کر روئے مگر اس نے ایک بھی آنسوں اپنی آنکھوں سے گرنے نہیں دیا تھا وہ پیپرز تھا م لیےاور ارشمیل کے طرف شکواہ کرتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے من ہی من میں خود سے بولی تھی ۔
"تو کیا یہ آخری رات ہے میری اس گھر میں؟؟”
عمائمہ نے اپنی ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے وہ پیپر ز کھول کر دیکھی تو حیران ہو گئی کر ارشمیل کے طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
"یہ کیا ہے ؟؟”
"میرے خیال سے تمہیں پڑھنا آتا ہے "۔وہ خود کو انجان ظاہر کرتے ہو ئے بولا تو عمائمہ حیران ہوئے بولی ۔
"ہا ں مگر تم نے تو میرا گھر بیچ دیا تھا نا اور یہ آفس کے پیپرز یہ ۔۔یہ سب کیا ہے ؟”
"یہ سب تمہاری امانت ہے جو میرے پاس تھی میں نے تمہارا گھرنہیں بیچا تھا وہ تو بس تم سے بدلہ لینے کے لیے تمہیں پریشان کرنے کے لیے جھوٹ کہا تھا اور تمہاری کمپنی بھی تمہارے ہی نام ہے تم دیکھ سکتی ہو "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کو خوشی نہیں ہوئی تھی اس نے وہ پیپرز ارشمیل کے طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
"مجھے تمہارا کوئی احسان نہیں لینا ہے یہ تم اپنے پاس ہی رکھوں”۔
"یہ کوئی احسان نہیں ہے بس تمہاری چیزیں تھی جو دوبارہ تمہارے پاس واپس آرہی ہے "۔
"مگر مجھے اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ضرورت ہے تو صرف تم سے علیحدگی کی "۔وہ ابھی بھی اپنی ضد پر اڑی تھی تبھی ارشمیل نے اسے غصے میں اس کے بازوں پر اپنے پنجے گاڑ دیا جس سے اس کے پورے وجود میں درد کی لہریں ابھر ی تھی اوراس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے بولا۔
"آئندہ ایسی بات اپنے منہ سے نکالا نا تو میں بھول جا ؤگا کے میں تم سے محبت کرتا ہو اب سیدھے طریقے سے مان جاؤ ورنہ مجھے زبردستی منانا بھی آتا ہے "۔اس کے غصے سے کہنے پر عمائمہ کے آنسوں نکل آئے تھے اس کے آنسوں دیکھ کر ارشمیل کو اپنے جذباتی پن پر غصہ آیا تووہ تھوڑے ملائم لہجے میں بولا ۔
"میں تم پر غصہ نہیں کرنا چاہتا ہو مگر تم ایسی بات کر دیتی ہو کے بندہ غصہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اب رونا بند کر و اور پلیز مان جا و میں بہت تھک چکا ہو مجھے تمہاری ضرورت ہے تمہاری محبت کی ضرورت ہے "۔ عمائمہ اس کی آنکھوں میں براہِ راست دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔
"کیاتم نے مجھے کبھی یقین دلا نے کی کوشش کیا کے تم میراساتھ کبھی نہیں چھوڑوگے مجھے کبھی دھوکہ نہیں دو تو پھر میں کیسے تمہاری بات کا یقین کر و”۔
"اگرتمہیں اس بات کا ڈر ستا رہا ہے کے میں تمہیں آگے چل کر دھوکا دوگااور ایلی کے ساتھ چلاجاؤگا تو تم غلط سوچ رہی ہو میں نے آج تک تمہارے علاوہ کسی کے بارے میں نہیں سوچا ہےاور نا سوچوں گا "۔
"تم جھو ٹ بول رہ ہو تم میرے علاوہ بھی بہت سی لڑکیوں کے ساتھ رہ ہو مجھے تمہاری کسی بھی بات پر اعتبار نہیں ہے "۔وہ ہنوز اس کے قریب کھڑی اس پر الزامات لگا رہی تھی ۔
"پہلے کی بات کچھ اور تھی مگر جب سے تم دوبارہ میری زندگی میں واپس آئی ہو تب سے میں نے تمہارے علاوہ کسی کو نہیں سوچا ہے ہروقت میرادل تمہارے بارے میں سوچتا رہتا اس لیے تو جب جب مجھے پتا چلا کے تم مرتضی کے ساتھ ہو تو تب تب میں نے تمہیں روکنے کی کوشش کیا تم پر پابندیاں عائد کر تا رہا تا کے میرے علاوہ تمہیں کوئی اور نا دیکھے کوئی اور تم سے محبت نا کر جب مجھے پتا چلا کے تم مرتضی کے ساتھ انگیجڈ ہو تو تب میں پاگل ہو چکا تھا میرے سمجھ نہیں آرہا تھا کے تمہیں کیسے حاصل کر و اس لیے میں نے تم سے زبردستی نکاح کرلیا تھا تاکہ تم میری نظر وں کے سامنے رہو مجھ سے کبھی دور نا جا سکوں اور اس کے بعدبھی میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا وہ سب کچھ تمہاری محبت میں آکر کیا تھا میں خود یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کے مجھے تم سے محبت ہے یہ احساس بھی تم نے ہی مجھے دلایا اگر اب بھی تمہیں لگتا ہے کے میری یہ بے تا بی بے قراری جھوٹی ہے تو تم بے شک مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور ہو سکتی ہو "۔
"تم نے اپنی محبت کے اپنی بے قراریوں کے قصے تو سنا دیے مگر یہ تو ابھی تک نہیں بتا یا کےتم اس ایلیف کو اپنے ساتھ کیوں لے کر آئے اس کے ساتھ پارٹی میں مد ہوش ہوکر رقص کیوں کررہ تھے تم دونوں کا کیا رشتہ ہے ؟”اس کی بات سن کر ارشمیل کے لب دوبارہ مسکرا ئے تھے ۔
"تم سے دور جانا اور ایلی کو اپنے ساتھ لا نا یہ میری پلاننگ کا حصہ تھا ایلی کو جب میں نے بتا کے میری شادی ہوچکے ہے اور میں تم سے محبت کرتا ہو تو وہ بہت دکھی ہوئی تھی مگر پھرمیں نے اسے ہمارے رشتے کی سچائی بتایا تو اسے تو صدمہ ہی لگ چکا تھا پھراس نے مجھے کہا کے وہ تمہیں میرے قریب لانے میں میری مدد کرے گی لہذاوہ اس ہی مقصد کے تحت میرے ساتھ آئی تھی اور کوئی بات نہیں ہے "۔عمائمہ کواس کی بات پر یقین آچکا تھا اس لیے تو بولی ۔
"بس یہی بات ہے اور کوئی با ت نہیں ہے نا "۔
"ہاں میری جان بس یہی با ت ہے "۔ارشمیل اسے یقین دلا نے کی جی توڑ کوشش کرتے
ہوئے بولا تھا ۔
"کیا تم سچ میں میرے ڈیڈ کی آخری نشانی مجھے واپس کررہ ہو ؟”اسے ارشمیل کی باتوں پر تو یقین آچکا تھا لیکن اس نے جو گھر کےاور کمپنی کے دستاویز واپس کیا تھا اس کا یقین نہیں آرہا تھا لہذاوہ دوبارہ اپنی تسلی کرنے کے لیے بولی تھی ۔
"ہاں میں یہ سب کچھ لےکر کیا کروگا یہ تمہاری امانت ہے اسے تمہارے اور عدینہ کے پاس ہی ہونا چاہئے "۔اس کی بات سن کر خوشی سے جھومتے ہوئے ارشمیل کے گلے لگ کر بولی تھی۔
"تھنک یوسو مچ تم نے یہ سب واپس کرکے مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دیا ہے تم نہیں جانتے میرے ڈیڈ کا گھر اور ان کی کمپنی ہم دونوں بہوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے ”
"تمہارے جذبات نہیں جانتا تو یہ سب کبھی واپس نہیں کرتا اور بھی کچھ چاہئے تو بتا دو مطلب ڈئیوار س وغیرہ آج بندہ موڈ میں ہے تو کچھ بھی دے سکتا ہے”۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے اپنے ہاتھ اس کے لب پر رکھ دیےاور بولی ۔
” نہیں مجھے بس تم چاہئے اور تم سے ہمیشہ وفا کا وعدہ چاہئے تم نہیں جانتے میں آج کتنے عرصے بعداس قدر خوش ہوئی ہو جو درد تم نےمجھے دیےتھے وہ سب کےسب مٹ چکےہے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل ہنستے ہوئے بولا تھا ۔ "تو کیا ڈئیر مسز آپ کو ارشمیل یزدانی دل وجان سے قبول ہے ؟”اتنا کہے کر وہ عمائمہ سے دو قدم قریب ہوا تو عمائمہ دو قدم پیچھے ہوتے ہوئے بولی ۔
"سوچ کر بتاؤ گی "۔تبھی ارشمیل نے اسے خود سے قریب کر لیا اور بولا ۔
"سوچنے کا وقت نہیں ہے تمہارے پاس ابھی بتا دو ورنہ بہت ساری ایلی میرے انتظار میں کھڑی ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کینہ توز نظروں سے ارشمیل کو گھورتے ہوئے بولی ۔
"ٹھیک ہے ان بہت ساری ایلی کو تم لے آؤ اور مجھے بھول جاو "۔
"میں ان سب کو چھوڑ سکتا ہو مگر تمہیں نہیں بھول سکتا”۔
"تو پھر ٹھیک ہے مسٹر ارشمیل یزدانی مجھے آپ قبول ہے "۔عمائمہ نے اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا تو ارشمیل دوبارہ اس کے پاس آگیااور بولا ۔
"اگر ان پیپرز کی جگہ ڈئیوارس پیپرز ہوتے تو تم کیا کرتی ؟”اسکے سوال پر عمائمہ نے تھوڑی توقف کے بعد بولی ۔
"تو میں شاید ان پیپرز پر سائن کردیتی "۔اس کی بات سن کر ایک پل میں ارشمیل کا لہجہ شعلہ بار ہوچکا تھا ۔
"مگر میں تمہیں کبھی ان پیپرز پر سائن نہیں کرنے دیتا کیونکہ تم نے ارشمیل یزدانی کا جنون نہیں دیکھا ہے "۔
"تمہارے جنون کو دیکھ کر تو میں تمہارے عشق میں گرفتار ہوئی ہو "۔عمائمہ کے منہ سے اقرار سن کر ارشمل یزادنی اپنادل تھا م کررہ گیا اسے یقین نہیں ہورہاتھا کے اس مغرور لڑکی نے بھی آج اس سے اظہار ِمحبت کر دیا ہے ۔
"ہائے مجھے لگتا ہے میں میرادل پھٹ جائے گا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ آپ سیٹ ہوچکی تھی اس تبھی بولی ۔
"ایسی باتیں مت کر و مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے "۔
"ایسا ہے تو تم مجھ سے اتنے دوری پر کیوں کھڑی ہو "۔ارشمیل اس سے فاصلے سمیٹتے ہوئے اس کے پاس آیااور اسے اپنے آہنی حصارے میں قید کرلیا تو عمائمہ کے پورے وجود میں سنسنا ہٹ دوڑ گئی وہ اپنی لرزتی ہوئی پلکوں سےارشمیل کو دیکھنے لگی اور بولی ۔
"ارشمیل مجھے نیند آرہی ہے "۔ارشمیل اس کی فطری جھجک کو سمجھ گیا تھااس لیے اس نے عمائمہ کو چھوڑتے ہوئے سہولت سے کہا ۔
"ٹھیک ہے تم سو جاؤ "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے سکھ کا سانس لیا اس کے دل کی دھڑکنیں منشر ہوچکی تھی وہ ا پنے دھڑکتے ہوئے دل کو سنبھالتے ہوئے اپنےکاؤچ پر جا کر لیٹ گئی تبھی وہ دوبارہ اس کے پاس آیااور اس کے کان میں سر گوشی کرتے ہوئے بولا ۔
"میں نے تمہیں سونے کا ضرور کہا ہے مگر یہاں نہیں بیڈ پر "۔اس کی بات سن کر عمائمہ
مسکرانے لگی تو ارشمیل بھی مسکرا دیا دونوں کے قہقہے ایک ساتھ فضامیں بلند ہوئے تھے۔
٭٭٭
کچھ دن بعد ایلی واپس چلی گئی تھی توعمائمہ نے جاتےوقت ایلیف سے اپنے روایے کی معافی مانگی تھی جس کو ایلیف نے با خوشی قبول کیا تھا اور اسے معاف کردیا تھا عمائمہ ابھی حدید کو گود میں لے کر بیٹھی تھی حدیدرو رو کر اسے بہت پریشان کر رہا تھا تبھی اس کی نظر لاؤنج میں آتے ہو ئے ارشمیل پر پڑی تو وہ حدید کو پیار کرتے ہوئے بولی ۔
"حدید بیٹا ماسی کو اتنا پریشا ن نہیں کرتے "۔اس کی بات سن کر لاؤنج میں بیٹھے گھر کے سبھی افراد ہنسنے لگے تھے ارشمیل بھی اس کے پاس آکر بیٹھ گیا تو وہ حدید کو ارشمیل کے طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔
"یہ لو اب تم اپنے بڑے پاپا کو پریشان کر و میں جارہی ہو "۔اس کے بڑے پاپا کہنے پر ہر بار کی طر ح ارشمیل اس بار بھی چڑ تے ہوئے بولا ۔
” ابھی تو مجھے بچے بھی نہیں ہوئے ہے اور تم نےبڑےپاپا کہہ کہہ کر میرے ناک میں دم کر دیا ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ ہنسنے لگی تو احد بھی ہنستے ہوئے بولا ۔
"ہاں تو بھائی لیٹ شادی کرے گے تو یہی حال ہوگا نا "۔احد کی بات سن کر سبھی خوب ہنسنے لگے تھے جن میں وہ دونوں بھی شامل تھے ۔
ختم شدہ


