مختصر کہانیاں
#توہی_عشق_توہی_جنون #ازصاحبہ_فردوس #قسط_10 وہ س…

#توہی_عشق_توہی_جنون
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط_10
وہ سوچنے لگی تھی کے ارشمیل یزدانی کتنا عجیب انسان ہے اپنے خلاف کو بات برداشت نہیں کرسکتا ہے وہ جوکہہ وہ جو کرے وہ سب صحیح ہے اور جودوسرے کرے وہ غلط تھااس کی نظرمیں
اسے اپنی قسمت پر بے تہاشہ رونا آرہا کے کس انسان کے ساتھ جاکراس کی قسمت پھو ٹی ہے جس کے سینے میں دل ہی نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو پتھر کا جس پر خاک اثر نہیں پڑھتا تھا ۔
٭٭٭
وہ رات بھر جاگتی رہی افسوس منا تی رہی تھی تبھی دھڑام سے روم کا دروازہ کھولا اور وہ اس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا اسے اپنے سامنے دیکھ کر عمائمہ نے منہ پھیرلیا تھاتبھی اس نے عمائمہ کاہاتھ پکڑ کراسے اٹھا کراپنے سامنے کھڑا کیااور بولا۔
"کب سے تمہیں کال کررہا تھا مگر تم اپنے یار سے بچھڑنے کےاتنے افسوس میں ہوکے کسی چیز کی خبر ہی نہیں ہے تمہیں "۔ارشمیل کا لہجہ ہمیشہ کی طرح سرد تھاوہ نکھرے ہوئے سے ارشمیل یزدانی کےطرف نفرت سے دیکھتے ہوئے گویاہوئی۔
"صحیح کہا میں اس ہی سے بچھڑنے کاافسوس مناتی رہی ہورات بھر "۔وہ براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی اس وقت اس کی آنکھوں میں ارشمیل کو دیکھ کر خوف نہیں تھابلکہ ڈھٹائی تھی ۔
"تمہاری یہ سر خ آنکھیں تمہارے رات بھر جاگنے کی چغلیاں کھارہی تم سچ نا بھی کہتی تو مجھے تمہاری ان آنکھوں میں دیکھ کر پتا چل جاتا "۔
"اچھاہوا نا تمہیں پتا چل گیا تم جو جاننا چاہتے تھے تم وہ جان گئے ہواب تم یہاں سے جاسکتے ہو "۔اس کی بات ارشمیل یزدانی کو غصہ دلا گئی تھی ارشمیل نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامااوراسےاپنےسے قریب کرتے ہوئے بولا ۔
"ڈئیر مسز تم شاید بھول رہی ہویہ گھر میرا ہے میں کہی پر بھی آجا سکتا ہو تم مجھے روک ٹوک کرنے والی کوئی نہیں ہوتی ہو "۔عمائمہ نے اسے دھکادیتے ہوئے پرے دھکیلا اور بولی ۔
"میں نے کب کہاہے کے یہ تمہارا گھر نہیں ہے مگر یہ اب میرا بھی گھر بن چکا ہے "۔اس نے یہ بات صرف ارشمیل کوزچ کرنے کے لیے کہاتھا مگر ارشمیل نے اس کی بات کا کوئی اور ہی مطلب اخذ کرتے ہوئے کہا تھا۔
"اس کا مطلب ہے کے تم نے میرے گھر کو اپنا لیا ہے چلواچھا ہے اب تم مجھے بھی دل سے قبول کر لو”۔اس کی بات سن کر عمائمہ کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹنے لگی تھی ۔
"تم سے کس نے کہا کے میں نے تمہیں اور تمہارے گھر کو قبول کرلیا ہے میں تم جیسے شخص کو کبھی قبول ہی نہیں کر سکتی جو دل میں دوسروں کے لیے نفرت رکھتا ہو حسد رکھتا ہو جو خود کو دنیا والوں کی نظروں میں اچھا ثابت کرنے کے لیے ڈرامے بازی کرتا ہے جھوٹ بولتا ہےمیں اسے کیسے قبول کرسکتی ہو "۔وہ اتنی نفرت سے گویا ہوئی تھی کے ارشمیل کو اس کی اپنے لیے اتنی شدید نفرت دیکھ کر افسوس ہونے لگا تھا مگر وہ اس کی آخری بات سن کر تلملا گیا تھا تبھی تو اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ موڑتے ہوئے بولا ۔
"کیا جھو ٹ بولا ہے میں کونسا ڈرامہ کیا ہے "۔اس عمائمہ اس وقت اس سے بحث نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے تواپنا منہ موڑ کر کہا۔
"میں نہیں بتانا چاہتی ہو "۔ارشمیل نے اس کا چہرے اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے اپنے سامنے کیا اور بولا۔
” اب خاموش کیو ں ہوگئی ہو بتاؤ نا کیا جھوٹ بولا میں نے کونسا ڈرامہ کیا ہے "۔
"تم نے سب کے سامنے ڈرامہ کیوں کیا کے تم مجھ سے شادی نہیں کرناچاہتے ہو کیوں جھوٹ کہا اپنے مام ڈیڈ سے کے تم یہ شادی ان کی مرضی سے کررہ ہو ان کے دباؤمیں آکرکررہ ہو "۔اس کی بات سن کرارشمیل پتا نہیں کیوں مسکرانے لگاتھا اسے مسکراتا دیکھ کر وہ بری طرح جل گئی تھی ۔
"اچھاتو میری بیوی کو اس بات کا ملال ہے کے میں نے سب کے سامنے آکر تمہارا ہاتھ کیوں نہیں تھاما کیوں اتنا ڈرامہ کیا ہے نا "۔عمائمہ اس کے مکروں چہرے کو دیکھ کر سوچنے لگی کے یہ شخص کتنا ذلیل ہے کتنا کمینہ ہے ہر بات کو اپنے مطلب کی بات بنا کر پیش کرتا ہے وہ جوکہتا ہے وہ جوکرتا
ہے اسے ہی دنیاوالوں کو دیکھاتا ہے ۔
"مجھے تمہارے یہ سب کرنے پر کوئی ملال نہیں ہے مجھے تو افسوس ہے کے تم کتنا جھوٹ کہتے ہو دن بھر میں کتنے لوگو ں کو بے وقوف بنا تے ہو ان سب باتوں میں تمہارا دماغ کتنا دوڑتا ہے "۔
"ہاں یہ تو ہے ڈئیر مسز اگر میں اپنا دماغ نہیں چلاؤ گا تو تمہیں کون زچ کرے گا کون پریشان کرے گا چلوں جانے دو تم اس بات کودل پہ مت لو میں تمہاری یہ شکایت بعد میں دور کر دو گا تم ابھی ڈائیننگ ہال میں چلوں سب تمہارا ویٹ کررہ ہے "۔وہ اتنا کہے کراس کا چہرہ تھپتھپا کر چلا گیا اور وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کے لیے مٹھیاں بیچتے رہ گئی تھی ۔
٭٭٭
دودن کیسے نکل گے پتا ہی نہیں چلا وہ جب فریش ہو کر لاؤنج میں آئی تھی تو گھر میں بہت گہماگہمی تھی وہ سمجھنے سے قاصررہی تھی کے یہ سب کیا ہورہا ہے تبھی وہ ایک صوفے پر جا کر بیٹھ گئی تھی اس کاسر بہت درد کررہا تھا وہ اپنے سرکو اپنے ہاتھوں سے دبانے کی کوشش کررہی تھی تبھی شہلابیگم اس کے پاس آبیٹھے اور تشویش سے بولے ۔
"کیا ہوا عمائمہ "۔وہ شہلا بیگم کواپنے پاس دیکھ کر حیران ہوگئی اسے پتا ہی نہیں چلاتھا کے وہ کب اس کے پاس آکر بیٹھے تھے ۔
"جی کچھ نہیں بس سر میں درد ہو رہا تھا "۔
"میں تمہارے لیے کافی بلاتی ہو تم ناشتہ کرنے نہیں آئی تھی تو میں تبھی سمجھ گئی کے تمہاری طبیعت ابھی بھی ٹھیک نہیں ہوئی ہے "۔
"نہیں ابھی ٹھیک ہے بس تھوڑا سا سر میں درد تھا کافی پینے کے بعد ٹھیک ہو جائے گا "۔کافی پینے
کے بعد اس کا سردرد ٹھیک ہو ا تو اسے بہتر محسوس ہوا تھا۔
"اب کیسا محسوس ہورہا ہے "۔
"جی اب بہتر محسوس ہورہا ہے "۔وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی ۔
"آپ کچھ دیر آرام کر لواس کے بعد بیو ٹیشن آپ کو تیار کر جائے گی "۔ان کی بات سن کر عمائمہ حیران ہوگئی تھی کے کس لیے بیوٹیشن آرہی ہے ۔
"کس لیے بیو ٹیشن آرہی ہے "۔اس کی بات سن کر شہلا بیگم ہنستے ہوئے بولے ۔
"آج آپ کا ولیمہ ہےاور یہ سب چہل پہل اس ہی خوشی میں ہے "۔ان کی بات سن کراسے یاد آگیا کے دو دن پہلے وقار صاحب نے ناشتے کی میز پر ان کے ولیمے کا علان کیا تھا ولیمے کا ذکر سنتے ہی اس کا حلق تک کڑوا ہوچکاتھا تبھی وہاں پراس کا اور ایک پل بیٹھنا محال ہوچکاتھاس لیے وہ روم میں آگئی تھی وہ دن میں ارشمیل کےروم میں رہتی اور رات میں گیسٹ روم میں پچھلے دو د ن سے یہی اس کا معمول رہا تھا ۔
وہ کھڑکی کے سامنے رکھے صوفے پربیٹھی تھی اور اپنے موبائیل میں اپنی اور مرتضی کی ساتھ نکالی ہوئی تصویر یں دیکھنے لگی تھی اسے اب مرتضی سے بہت نفرت محسوس ہورہی کیونکہ وہ چند پیسوں کی خاطر بک چکاتھااسےبے مول کرکے چلاگیاتھااس نے نا اس کی عزت کا مان رکھا تھا نا ہی اپنے ڈیڈ کی عزت کااس نے تو اقبال صاحب سے کیے ہوئے وعدے کا بھی مان نہیں رکھا تھا وہ سوچوں میں اور اس کی اور اپنی فوٹو دیکھنے میں اتنی محو تھی کے اسے خبرہی نہیں ہوئی کے وہ اس کے سر پر کھڑا ہے اور اس کی کار کردگی دیکھ رہا ہے وہ تو بس آنسوں کو باہر نکلنے سے روکنے کی کوشش میں لگی تھی تبھی ارشمیل نے اس کے ہاتھ سے موبائیل چھن لیااس کی اور مرتضی کی ایک دوسرے کے بہت قریب نکالی فوٹو کودیکھ کر ہنستے ہوئے بولا ۔
"ابھی تک اپنے بچھڑے ہوئے یار کی یادوں سے نہیں نکلی ہو تم "۔اس کی حرکت پر عمائمہ پہلے ہی تلملائی کھڑی تھی اس کی بات سن کر ڈبل تلملا گئی وہ ارشمیل کووران کرتے ہوئے لہجے میں بولی تھی ۔
"دیکھوں تم میرے پرسنل چیزوں میں دخل دینا بند کردو "۔اپنے طرف اس کی اٹھی ہوئی انگلی
دیکھ کر ارشمیل مسکرانے لگا تھااس نے عمائمہ کے ہاتھ کو تھام لیااور نرمی سے گویا ہوا ۔
” ہزبینڈ وائف کے بیچ کوئی بھی چیز پر سنل نہیں رہتی ہے اب تم اپنی چھوٹی بہت کو ہی دیکھ لو وہ احد سے کچھ بھی نہیں چھپاتی ہے "۔
"یس ڈئیر ہزبینڈ آپ نے صحیح کہا ہے ہزبینڈ وائف کے بیچ کچھ بھی پرسنل نہیں رہتا ہے مگر وہ لوگ ہم سے بہت الگ ہے انھوں نے ایک دوسرے کو دل سے قبول کیا نا کے احد نے اس سے زبردستی نکاح کیا تھا اگر میرا مرتضی سے نکاح ہو جاتا تو شاید میں بھی کبھی اس سے اپنا کوئی معملا پرسنل رکھتی تھی "۔اس کی بات سن کر ارشمیل کو غصہ تو بہت آیاتھا مگر وہ تحمل سے کام لیتے ہوئے اس ہی کے اندازمیں اس سے مخاتب ہوا تھا ۔
"اگر آ پ کو میرے زبردستی نکاح کرنے سے اتنی ساری شکا یتیں ہے تو رات کو یہ شکایتیں بھی دور کردو گا تب تک آپ انتظار کیجیے گا "۔اتنا کہے کر وہ جیسا آیا تھاویسا ہی چلا گیا اور ادھر عمائمہ سوچنے لگی کے اس نے تو اس سے کوئی بھی شکایت نہیں کی تھی پھر وہ اس کی بات کے غلط معنی لیتے ہوئے کیوں چلا گیا تھا ان ہی سوچوں میں وہ شام کےولیمہ کے لیےبیوٹیشن اسے تیار کرکے گئی تھی پستا اور گولڈن کلر کے لہنگے میں اس کی سفید رنگت اور بہت زیادہ دمک رہی تھی اس پراس نے گولڈن کلر کی ڈائمنڈ کی جیولری کاانتخاب کیا تھا بالوں کو اسٹائیل سے سیٹ کرکے کھولا
چھوڑ دیا تھا دوپٹے کوسر پر لینے کی بجائے کندھے پرلیاتھااوراس کاایک سرا ہاتھ پر رکھا ہوا تھا وہ اس روپ میں بہت الگ بہت اسٹائیلش لگ رہی تھی جب عدینہ نے اسے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئی تھی ۔
"آپی آپ تو بلا کی خوبصورت لگ رہی ہے "۔ اس کی بات سن کر عمائمہ بس جھوٹ موٹ کا مسکرانے لگی تھی اپنی اندرونی حالت تو صرف اسے ہی پتا تھی کے کیا ہورہی تھی ۔
ولیمہ بہت دھوم سے بڑے فائی اسٹار ہوٹل میں ہوا تھا شہر کے سبھی بڑے بڑے لوگ اس میں مدعو تھے ان میں کچھ دل جلی حسینائے بھی شامل ہوئی تھی جنھیں ارشمیل کے شادی کرنے پر بہت افسوس ہورہا تھا تبھی تو سب لڑکیاں برے برے منہ بنا ئے کھڑی تھی عمائمہ کوان لڑکیوں کودیکھ کر افسوس ہوا تھاوہ سمجھ رہی تھی کےان سب لڑکیوں کواحد نے دھوکادیا ہے یہ سب دیکھ کراس کے دل میں ارشمیل کے لیے اور بھی زیادہ بفرت بھرگئی تھی وہ ارشمیل کے ہنستے مسکراتے ہوئے چہرے کودیکھتے ہوئے دل ہی دل میں بولی تھی ۔
"اور کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کروگے ارشمیل یزدانی اور کتنی لڑکیوں کے جذبات سے کھیلوں گے "۔ولیمہ رات دیر تک چلاتھا رات میں جب وہ لوگ گھر واپ آئے تو بہت تھک چکے تھے عدینہ نے اپنی بڑی بہن کا ہاتھ تھام کراسےارشمیل کے روم میں لایاتھا عمائمہ تو سیدھے اپنے
رات کے ٹھکانے پرجانا چاہ رہی تھی مگر جب عدینہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے کہا تھاکے وہ اسےاس کے روم میں چھوڑے گی توعمائمہ نے کچھ نہیں کہا تھاوہ چپ چاپ اس کےساتھ ارشمیل کےروم میں آگئی تھی ارشمیل کاروم سفید اور گلابی پھولوں سے سجایا گیا تھا کچھ جگہ پر دل بنائے گے تھے ان میں عمائمہ کانام لکھا گیا تھا جگہ جگہ وائٹ اور پنک کلر کےکینڈل لگائے گے تھےیہ سب دیکھ کر اچانک سے اس کادل تیزی سے دھڑکنے لگا تھاوہ حیرت سے عدینہ کودیکھنے لگی تھی جیسے اس سے پوچھ رہی ہو کے یہ سب کیا ہے عدینہ اس کی نظروں کا مفہوم سمج کر جلدی سے بولی ۔
"آپی یہ سب مام ڈیڈ کے کہنے پر کیا ہے ان کا کہنا تھا کے شادی جن بھی حالات میں ہوئی ہو اس کے آگے کی رسمیں ویسے ہی ہونا چاہئے جیسےعام شادی میں ہوتی ہے "۔عدینہ کی بات سن کراس نے کچھ نہیں کہا تھا پھر جیسے ہی عدینہ اسے چھوڑ کر گئی تھی تب اس نے ایک منٹ کی دیری لگائے بغیر ہی وارڈروب سے سادہ سا سوٹ نکالااور پلٹی ہی تھی کے وہ اسے اپنے سامنے ایستادہ دیکھ کر گھبرا گئی مگر پھراس نے خود میں اعتماد پید ا کیااور وہاں سے جانے لگی تھی کے ارشمیل نے اس کا چوڑیوں سے بھرا ہاتھ تھام کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا وہ یہ دیکھ کر نفرت زدہ لہجے میں بولی ۔
"اب کیا کیا ہے میں نے جوتم میرے سامنے آکھڑے ہوئے ہو”۔اس کی با ت سن کر ارشمیل
مسکراتے ہوے بولا ۔
"یہی تو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہو کے تم نے مجھ پر کونسا جادو کیا ہے کے رات دن مجھے تمہارے ہی خیال آنے لگتے ہے میرادل تمہارے ہی بارے میں سوچنے لگتا ہے "۔اس کی باتوں پر عمائمہ کو رتی بھر یقین نہیں تھااسے پتا تھا کے یہ سین بھی اس کے گیم کاایک حصہ ہے اس لیے وہ سنبھل کربولی تھی ۔
"اچھا ایسا ہے تو پھر تم اپنے دل کا علاج کسی ڈاکٹر سے کراؤ میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے "۔اس کی بات سن کرارشمیل کے چہرے پرازلی مسکراہٹ در آئی تھی وہ اپنے خوبصورت چہر پر پرسوچ لہجے میں ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔
"اچھاہوا تم نے مجھے بتادیا ورنہ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا "۔عمائمہ کواس کی بات ہمیشہ کی طرح بے تکی لگی تھی اس لیے تو وہ رمی سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہو ئے جانے لگی تھی کے وہ دوبارہ اس کے سامنے جاکھڑا ہوا پھراس نے عمائمہ کے ہاتھ سے اس کے کپڑے چھین لیااور دور اچھال دیااور پھر عمائمہ کواپنے قریب کرتے ہوئے بولا ۔
"میں تو کئی دفعہ ڈاکٹر سے اپناعلاج کروا چکا ہو مگر ڈاکٹر کا کہنا کے جس نے یہ دل کا درد دیا ہے اس ہی سے علاج کرواؤ اب تم ہی بتاؤ میں ڈاکٹر کے بعد تمہارے ہی پاس آؤگا نا "۔اس کی گھٹیاں
باتیں عمائمہ کو زہر لگ رہی تھی اس لیے اس کا ہاتھ اٹھااور ارشمیل کے چہرے پر اپنی پانچوں انگلیاں امٹا گیااس کے اس اقدام پر ارشمیل یزدانی غصے سے بلبلا تا رہ گیا تھا ۔
جاری ہے
#ازصاحبہ_فردوس
#قسط_10
وہ سوچنے لگی تھی کے ارشمیل یزدانی کتنا عجیب انسان ہے اپنے خلاف کو بات برداشت نہیں کرسکتا ہے وہ جوکہہ وہ جو کرے وہ سب صحیح ہے اور جودوسرے کرے وہ غلط تھااس کی نظرمیں
اسے اپنی قسمت پر بے تہاشہ رونا آرہا کے کس انسان کے ساتھ جاکراس کی قسمت پھو ٹی ہے جس کے سینے میں دل ہی نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو پتھر کا جس پر خاک اثر نہیں پڑھتا تھا ۔
٭٭٭
وہ رات بھر جاگتی رہی افسوس منا تی رہی تھی تبھی دھڑام سے روم کا دروازہ کھولا اور وہ اس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا اسے اپنے سامنے دیکھ کر عمائمہ نے منہ پھیرلیا تھاتبھی اس نے عمائمہ کاہاتھ پکڑ کراسے اٹھا کراپنے سامنے کھڑا کیااور بولا۔
"کب سے تمہیں کال کررہا تھا مگر تم اپنے یار سے بچھڑنے کےاتنے افسوس میں ہوکے کسی چیز کی خبر ہی نہیں ہے تمہیں "۔ارشمیل کا لہجہ ہمیشہ کی طرح سرد تھاوہ نکھرے ہوئے سے ارشمیل یزدانی کےطرف نفرت سے دیکھتے ہوئے گویاہوئی۔
"صحیح کہا میں اس ہی سے بچھڑنے کاافسوس مناتی رہی ہورات بھر "۔وہ براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی تھی اس وقت اس کی آنکھوں میں ارشمیل کو دیکھ کر خوف نہیں تھابلکہ ڈھٹائی تھی ۔
"تمہاری یہ سر خ آنکھیں تمہارے رات بھر جاگنے کی چغلیاں کھارہی تم سچ نا بھی کہتی تو مجھے تمہاری ان آنکھوں میں دیکھ کر پتا چل جاتا "۔
"اچھاہوا نا تمہیں پتا چل گیا تم جو جاننا چاہتے تھے تم وہ جان گئے ہواب تم یہاں سے جاسکتے ہو "۔اس کی بات ارشمیل یزدانی کو غصہ دلا گئی تھی ارشمیل نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامااوراسےاپنےسے قریب کرتے ہوئے بولا ۔
"ڈئیر مسز تم شاید بھول رہی ہویہ گھر میرا ہے میں کہی پر بھی آجا سکتا ہو تم مجھے روک ٹوک کرنے والی کوئی نہیں ہوتی ہو "۔عمائمہ نے اسے دھکادیتے ہوئے پرے دھکیلا اور بولی ۔
"میں نے کب کہاہے کے یہ تمہارا گھر نہیں ہے مگر یہ اب میرا بھی گھر بن چکا ہے "۔اس نے یہ بات صرف ارشمیل کوزچ کرنے کے لیے کہاتھا مگر ارشمیل نے اس کی بات کا کوئی اور ہی مطلب اخذ کرتے ہوئے کہا تھا۔
"اس کا مطلب ہے کے تم نے میرے گھر کو اپنا لیا ہے چلواچھا ہے اب تم مجھے بھی دل سے قبول کر لو”۔اس کی بات سن کر عمائمہ کی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹنے لگی تھی ۔
"تم سے کس نے کہا کے میں نے تمہیں اور تمہارے گھر کو قبول کرلیا ہے میں تم جیسے شخص کو کبھی قبول ہی نہیں کر سکتی جو دل میں دوسروں کے لیے نفرت رکھتا ہو حسد رکھتا ہو جو خود کو دنیا والوں کی نظروں میں اچھا ثابت کرنے کے لیے ڈرامے بازی کرتا ہے جھوٹ بولتا ہےمیں اسے کیسے قبول کرسکتی ہو "۔وہ اتنی نفرت سے گویا ہوئی تھی کے ارشمیل کو اس کی اپنے لیے اتنی شدید نفرت دیکھ کر افسوس ہونے لگا تھا مگر وہ اس کی آخری بات سن کر تلملا گیا تھا تبھی تو اس کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ موڑتے ہوئے بولا ۔
"کیا جھو ٹ بولا ہے میں کونسا ڈرامہ کیا ہے "۔اس عمائمہ اس وقت اس سے بحث نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے تواپنا منہ موڑ کر کہا۔
"میں نہیں بتانا چاہتی ہو "۔ارشمیل نے اس کا چہرے اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے اپنے سامنے کیا اور بولا۔
” اب خاموش کیو ں ہوگئی ہو بتاؤ نا کیا جھوٹ بولا میں نے کونسا ڈرامہ کیا ہے "۔
"تم نے سب کے سامنے ڈرامہ کیوں کیا کے تم مجھ سے شادی نہیں کرناچاہتے ہو کیوں جھوٹ کہا اپنے مام ڈیڈ سے کے تم یہ شادی ان کی مرضی سے کررہ ہو ان کے دباؤمیں آکرکررہ ہو "۔اس کی بات سن کرارشمیل پتا نہیں کیوں مسکرانے لگاتھا اسے مسکراتا دیکھ کر وہ بری طرح جل گئی تھی ۔
"اچھاتو میری بیوی کو اس بات کا ملال ہے کے میں نے سب کے سامنے آکر تمہارا ہاتھ کیوں نہیں تھاما کیوں اتنا ڈرامہ کیا ہے نا "۔عمائمہ اس کے مکروں چہرے کو دیکھ کر سوچنے لگی کے یہ شخص کتنا ذلیل ہے کتنا کمینہ ہے ہر بات کو اپنے مطلب کی بات بنا کر پیش کرتا ہے وہ جوکہتا ہے وہ جوکرتا
ہے اسے ہی دنیاوالوں کو دیکھاتا ہے ۔
"مجھے تمہارے یہ سب کرنے پر کوئی ملال نہیں ہے مجھے تو افسوس ہے کے تم کتنا جھوٹ کہتے ہو دن بھر میں کتنے لوگو ں کو بے وقوف بنا تے ہو ان سب باتوں میں تمہارا دماغ کتنا دوڑتا ہے "۔
"ہاں یہ تو ہے ڈئیر مسز اگر میں اپنا دماغ نہیں چلاؤ گا تو تمہیں کون زچ کرے گا کون پریشان کرے گا چلوں جانے دو تم اس بات کودل پہ مت لو میں تمہاری یہ شکایت بعد میں دور کر دو گا تم ابھی ڈائیننگ ہال میں چلوں سب تمہارا ویٹ کررہ ہے "۔وہ اتنا کہے کراس کا چہرہ تھپتھپا کر چلا گیا اور وہ اپنا غصہ ضبط کرنے کے لیے مٹھیاں بیچتے رہ گئی تھی ۔
٭٭٭
دودن کیسے نکل گے پتا ہی نہیں چلا وہ جب فریش ہو کر لاؤنج میں آئی تھی تو گھر میں بہت گہماگہمی تھی وہ سمجھنے سے قاصررہی تھی کے یہ سب کیا ہورہا ہے تبھی وہ ایک صوفے پر جا کر بیٹھ گئی تھی اس کاسر بہت درد کررہا تھا وہ اپنے سرکو اپنے ہاتھوں سے دبانے کی کوشش کررہی تھی تبھی شہلابیگم اس کے پاس آبیٹھے اور تشویش سے بولے ۔
"کیا ہوا عمائمہ "۔وہ شہلا بیگم کواپنے پاس دیکھ کر حیران ہوگئی اسے پتا ہی نہیں چلاتھا کے وہ کب اس کے پاس آکر بیٹھے تھے ۔
"جی کچھ نہیں بس سر میں درد ہو رہا تھا "۔
"میں تمہارے لیے کافی بلاتی ہو تم ناشتہ کرنے نہیں آئی تھی تو میں تبھی سمجھ گئی کے تمہاری طبیعت ابھی بھی ٹھیک نہیں ہوئی ہے "۔
"نہیں ابھی ٹھیک ہے بس تھوڑا سا سر میں درد تھا کافی پینے کے بعد ٹھیک ہو جائے گا "۔کافی پینے
کے بعد اس کا سردرد ٹھیک ہو ا تو اسے بہتر محسوس ہوا تھا۔
"اب کیسا محسوس ہورہا ہے "۔
"جی اب بہتر محسوس ہورہا ہے "۔وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی ۔
"آپ کچھ دیر آرام کر لواس کے بعد بیو ٹیشن آپ کو تیار کر جائے گی "۔ان کی بات سن کر عمائمہ حیران ہوگئی تھی کے کس لیے بیوٹیشن آرہی ہے ۔
"کس لیے بیو ٹیشن آرہی ہے "۔اس کی بات سن کر شہلا بیگم ہنستے ہوئے بولے ۔
"آج آپ کا ولیمہ ہےاور یہ سب چہل پہل اس ہی خوشی میں ہے "۔ان کی بات سن کراسے یاد آگیا کے دو دن پہلے وقار صاحب نے ناشتے کی میز پر ان کے ولیمے کا علان کیا تھا ولیمے کا ذکر سنتے ہی اس کا حلق تک کڑوا ہوچکاتھا تبھی وہاں پراس کا اور ایک پل بیٹھنا محال ہوچکاتھاس لیے وہ روم میں آگئی تھی وہ دن میں ارشمیل کےروم میں رہتی اور رات میں گیسٹ روم میں پچھلے دو د ن سے یہی اس کا معمول رہا تھا ۔
وہ کھڑکی کے سامنے رکھے صوفے پربیٹھی تھی اور اپنے موبائیل میں اپنی اور مرتضی کی ساتھ نکالی ہوئی تصویر یں دیکھنے لگی تھی اسے اب مرتضی سے بہت نفرت محسوس ہورہی کیونکہ وہ چند پیسوں کی خاطر بک چکاتھااسےبے مول کرکے چلاگیاتھااس نے نا اس کی عزت کا مان رکھا تھا نا ہی اپنے ڈیڈ کی عزت کااس نے تو اقبال صاحب سے کیے ہوئے وعدے کا بھی مان نہیں رکھا تھا وہ سوچوں میں اور اس کی اور اپنی فوٹو دیکھنے میں اتنی محو تھی کے اسے خبرہی نہیں ہوئی کے وہ اس کے سر پر کھڑا ہے اور اس کی کار کردگی دیکھ رہا ہے وہ تو بس آنسوں کو باہر نکلنے سے روکنے کی کوشش میں لگی تھی تبھی ارشمیل نے اس کے ہاتھ سے موبائیل چھن لیااس کی اور مرتضی کی ایک دوسرے کے بہت قریب نکالی فوٹو کودیکھ کر ہنستے ہوئے بولا ۔
"ابھی تک اپنے بچھڑے ہوئے یار کی یادوں سے نہیں نکلی ہو تم "۔اس کی حرکت پر عمائمہ پہلے ہی تلملائی کھڑی تھی اس کی بات سن کر ڈبل تلملا گئی وہ ارشمیل کووران کرتے ہوئے لہجے میں بولی تھی ۔
"دیکھوں تم میرے پرسنل چیزوں میں دخل دینا بند کردو "۔اپنے طرف اس کی اٹھی ہوئی انگلی
دیکھ کر ارشمیل مسکرانے لگا تھااس نے عمائمہ کے ہاتھ کو تھام لیااور نرمی سے گویا ہوا ۔
” ہزبینڈ وائف کے بیچ کوئی بھی چیز پر سنل نہیں رہتی ہے اب تم اپنی چھوٹی بہت کو ہی دیکھ لو وہ احد سے کچھ بھی نہیں چھپاتی ہے "۔
"یس ڈئیر ہزبینڈ آپ نے صحیح کہا ہے ہزبینڈ وائف کے بیچ کچھ بھی پرسنل نہیں رہتا ہے مگر وہ لوگ ہم سے بہت الگ ہے انھوں نے ایک دوسرے کو دل سے قبول کیا نا کے احد نے اس سے زبردستی نکاح کیا تھا اگر میرا مرتضی سے نکاح ہو جاتا تو شاید میں بھی کبھی اس سے اپنا کوئی معملا پرسنل رکھتی تھی "۔اس کی بات سن کر ارشمیل کو غصہ تو بہت آیاتھا مگر وہ تحمل سے کام لیتے ہوئے اس ہی کے اندازمیں اس سے مخاتب ہوا تھا ۔
"اگر آ پ کو میرے زبردستی نکاح کرنے سے اتنی ساری شکا یتیں ہے تو رات کو یہ شکایتیں بھی دور کردو گا تب تک آپ انتظار کیجیے گا "۔اتنا کہے کر وہ جیسا آیا تھاویسا ہی چلا گیا اور ادھر عمائمہ سوچنے لگی کے اس نے تو اس سے کوئی بھی شکایت نہیں کی تھی پھر وہ اس کی بات کے غلط معنی لیتے ہوئے کیوں چلا گیا تھا ان ہی سوچوں میں وہ شام کےولیمہ کے لیےبیوٹیشن اسے تیار کرکے گئی تھی پستا اور گولڈن کلر کے لہنگے میں اس کی سفید رنگت اور بہت زیادہ دمک رہی تھی اس پراس نے گولڈن کلر کی ڈائمنڈ کی جیولری کاانتخاب کیا تھا بالوں کو اسٹائیل سے سیٹ کرکے کھولا
چھوڑ دیا تھا دوپٹے کوسر پر لینے کی بجائے کندھے پرلیاتھااوراس کاایک سرا ہاتھ پر رکھا ہوا تھا وہ اس روپ میں بہت الگ بہت اسٹائیلش لگ رہی تھی جب عدینہ نے اسے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئی تھی ۔
"آپی آپ تو بلا کی خوبصورت لگ رہی ہے "۔ اس کی بات سن کر عمائمہ بس جھوٹ موٹ کا مسکرانے لگی تھی اپنی اندرونی حالت تو صرف اسے ہی پتا تھی کے کیا ہورہی تھی ۔
ولیمہ بہت دھوم سے بڑے فائی اسٹار ہوٹل میں ہوا تھا شہر کے سبھی بڑے بڑے لوگ اس میں مدعو تھے ان میں کچھ دل جلی حسینائے بھی شامل ہوئی تھی جنھیں ارشمیل کے شادی کرنے پر بہت افسوس ہورہا تھا تبھی تو سب لڑکیاں برے برے منہ بنا ئے کھڑی تھی عمائمہ کوان لڑکیوں کودیکھ کر افسوس ہوا تھاوہ سمجھ رہی تھی کےان سب لڑکیوں کواحد نے دھوکادیا ہے یہ سب دیکھ کراس کے دل میں ارشمیل کے لیے اور بھی زیادہ بفرت بھرگئی تھی وہ ارشمیل کے ہنستے مسکراتے ہوئے چہرے کودیکھتے ہوئے دل ہی دل میں بولی تھی ۔
"اور کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کروگے ارشمیل یزدانی اور کتنی لڑکیوں کے جذبات سے کھیلوں گے "۔ولیمہ رات دیر تک چلاتھا رات میں جب وہ لوگ گھر واپ آئے تو بہت تھک چکے تھے عدینہ نے اپنی بڑی بہن کا ہاتھ تھام کراسےارشمیل کے روم میں لایاتھا عمائمہ تو سیدھے اپنے
رات کے ٹھکانے پرجانا چاہ رہی تھی مگر جب عدینہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے کہا تھاکے وہ اسےاس کے روم میں چھوڑے گی توعمائمہ نے کچھ نہیں کہا تھاوہ چپ چاپ اس کےساتھ ارشمیل کےروم میں آگئی تھی ارشمیل کاروم سفید اور گلابی پھولوں سے سجایا گیا تھا کچھ جگہ پر دل بنائے گے تھے ان میں عمائمہ کانام لکھا گیا تھا جگہ جگہ وائٹ اور پنک کلر کےکینڈل لگائے گے تھےیہ سب دیکھ کر اچانک سے اس کادل تیزی سے دھڑکنے لگا تھاوہ حیرت سے عدینہ کودیکھنے لگی تھی جیسے اس سے پوچھ رہی ہو کے یہ سب کیا ہے عدینہ اس کی نظروں کا مفہوم سمج کر جلدی سے بولی ۔
"آپی یہ سب مام ڈیڈ کے کہنے پر کیا ہے ان کا کہنا تھا کے شادی جن بھی حالات میں ہوئی ہو اس کے آگے کی رسمیں ویسے ہی ہونا چاہئے جیسےعام شادی میں ہوتی ہے "۔عدینہ کی بات سن کراس نے کچھ نہیں کہا تھا پھر جیسے ہی عدینہ اسے چھوڑ کر گئی تھی تب اس نے ایک منٹ کی دیری لگائے بغیر ہی وارڈروب سے سادہ سا سوٹ نکالااور پلٹی ہی تھی کے وہ اسے اپنے سامنے ایستادہ دیکھ کر گھبرا گئی مگر پھراس نے خود میں اعتماد پید ا کیااور وہاں سے جانے لگی تھی کے ارشمیل نے اس کا چوڑیوں سے بھرا ہاتھ تھام کر اسے اپنے مقابل کھڑا کیا وہ یہ دیکھ کر نفرت زدہ لہجے میں بولی ۔
"اب کیا کیا ہے میں نے جوتم میرے سامنے آکھڑے ہوئے ہو”۔اس کی با ت سن کر ارشمیل
مسکراتے ہوے بولا ۔
"یہی تو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہو کے تم نے مجھ پر کونسا جادو کیا ہے کے رات دن مجھے تمہارے ہی خیال آنے لگتے ہے میرادل تمہارے ہی بارے میں سوچنے لگتا ہے "۔اس کی باتوں پر عمائمہ کو رتی بھر یقین نہیں تھااسے پتا تھا کے یہ سین بھی اس کے گیم کاایک حصہ ہے اس لیے وہ سنبھل کربولی تھی ۔
"اچھا ایسا ہے تو پھر تم اپنے دل کا علاج کسی ڈاکٹر سے کراؤ میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے "۔اس کی بات سن کرارشمیل کے چہرے پرازلی مسکراہٹ در آئی تھی وہ اپنے خوبصورت چہر پر پرسوچ لہجے میں ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔
"اچھاہوا تم نے مجھے بتادیا ورنہ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا "۔عمائمہ کواس کی بات ہمیشہ کی طرح بے تکی لگی تھی اس لیے تو وہ رمی سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہو ئے جانے لگی تھی کے وہ دوبارہ اس کے سامنے جاکھڑا ہوا پھراس نے عمائمہ کے ہاتھ سے اس کے کپڑے چھین لیااور دور اچھال دیااور پھر عمائمہ کواپنے قریب کرتے ہوئے بولا ۔
"میں تو کئی دفعہ ڈاکٹر سے اپناعلاج کروا چکا ہو مگر ڈاکٹر کا کہنا کے جس نے یہ دل کا درد دیا ہے اس ہی سے علاج کرواؤ اب تم ہی بتاؤ میں ڈاکٹر کے بعد تمہارے ہی پاس آؤگا نا "۔اس کی گھٹیاں
باتیں عمائمہ کو زہر لگ رہی تھی اس لیے اس کا ہاتھ اٹھااور ارشمیل کے چہرے پر اپنی پانچوں انگلیاں امٹا گیااس کے اس اقدام پر ارشمیل یزدانی غصے سے بلبلا تا رہ گیا تھا ۔
جاری ہے


