بلوچی ادب سے ۔ سید شناسی ۔ سید ظہور شاہ ہاشمی کی شاعری اور Power of now مہجور…

سید شناسی ۔
سید ظہور شاہ ہاشمی کی شاعری اور Power of now
مہجور بدر
بلوچی زبان و ادب کے ناول ، ڈکشنری ، رسم الخط کے موجد سید ظہور شاہ ہاشمی کو کون نہیں جانتا ، سید عظیم فلاسفر، سمندر ہے اکیڈمک پرسن ہے جہاں آپ کو ہر موضوع خرماں خرماں ملے گئ۔
سید پہ اب تک جتنا یا جس قدر ریسرچ و کام ہونا تھا اس قدر نہیں ہو پائ ، ستم ظریفی یہ ہے کہ سید کی کتابیں جو پہلی مرتبہ جو چھپ چکی ہیں ۔ اب مارکیٹ میں نایاب ہیں ۔ گمان غالب یہی ہے کہ کچھ کتاب ابھی منظر عام پہ نہیں آئ ہیں ۔ پروفیسر آے، آر، داد صاحب کی ایک مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا روزنامچہ کسی نے بہت سی کتابوں کے ساتھ چوری کیا ہے ۔
سید کی آبائ شہر گْوادر جہاں اس کی زندگی کے سنوری یادیں وابستہ تھی اس کا پورا گھر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہے ، ہونا تو یہ تھا اس کی سب چزیں محفوظ ہونی تھی ۔ مگر ۔۔۔
میرا مسلہ یہ ہے کہ میں تخلیقات کو اپنی نقطہ نظر سے ماپتا و ناپتہ ہوں ، پرکھتا ہوں ، بہت سے لوگ خوش ہوتےہیں ۔۔ بہت سے لوگ خفا ، یہ میرا مسلہ نہیں ہے ۔
اب ہم سید کے کچھ اشعار سامنے لاکر انکی گہرائ کے ان کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔
زی مجتی پتو نہ ات ، نے مرچی تئ میراس
باندات پہ باندات ءَ نہ بیت ، گوں تو شریدار
سید
(کتاب ۔ گسدگوار ۔ صحفہ ۔۴۵)
ترجمہ ۔ کل ہمیشہ تیرے ساتھ نہ تھا ، نہ ہی آج ہے تیرا میراث
صرف مستقبل کہنے سے مستقبل ہوگا نہیں تیرا شراکتدار
یہ شعر زمانوں پہ لکھا گیا ہے ، اس چیز کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ زمانے تین ہیں ۔
ماضی ، حال ، مستقبل ،
جرمن کا اک مشہور دانشور جس کا نام
”ارسٹو ٹولے ،، ہیں اس نے اک کتاب زمانوں کی نفسیات یا فلسفہ پہ نبشتہ کی ہے ۔ جس کا نام ”لحمہ موجود کی طاقت “The power of now
اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ جو حال کے لمحہ ہیں ان کی کتنی طاقت ہے ۔ اب سید کا کمال دیکھو کہ اس نے نہ اسے دیکھا ہے ۔ نہ اسے ہڑھا ہے ۔ مگر سید نے کتنی دقیق گہرای سے شعر قلمبند کی ہے ۔
اب مزید ان شعر کی طرف جاتے ہیں
کل گزشتہ تیرے لیے نہیں تھا کل جو گزر گیا وہ آپ کے لے نہیں تھی ۔ اور نہ ہی آج تیرا میراث ہے
اب دوسری لائن کو دیکھو تو بات مزید واضع ہوگی ۔ کہ صرف کل کے اچھے ہونے کے انتظار پہ ھاتھ دھرے بیھٹنے سے آپ کا مستقبل اچہا نہیں ہوگا، آپ کے موافق نہیں ہوگا۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ سید نے ایک چیز ابہم رکھی ہے جس کا زکر نہیں کیا مگر جب آپ گہرائ سےمطالعہ کریں گے تو آپ جانیں گے کہ سید کیا کہنا چاہتا ہے ۔ وہ چیز کیا ہے ۔
ویسے ہی سید کے پاس اس طرح اشعار کی بھرمار ہے جو آدمی کو ریچارج کری گے ۔
موٹیویٹ کریں گے
من جزماں سید کئیت وش دلیں باریگ ئے
ہر پیم ءَ سید گوازین اے رنج ءُ گم سالاں
سید
اب ڈپریشن ، نا امیدی اپنی آخری سیمارکھا پارکرتی ہے تو اس طرح عظیم لوگ خود اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں ۔
وقت اچہا بھی آے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑھی ہے ابھی
دراصل سید نےیہ شعر ہم جیسے لوگوں کی خاطر لکھا ہے کہ ہم ھاتھ پہ ھاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور منتظر فردا ہیں ۔ کہ ہم صرف اس اتنظار میں ہیں کہ کل اچھا ہوگا، کل بہتر ہوگا ۔ حالانکہ حدیث مبارکہ ہے ۔ ”ھلاک ھوگئے آجکل کرنے والے “
عربی مقولہ ہے ۔ وقت ایک تلوار اسےکاٹ لو نہیں تو وہ آپ کو کاٹ لے گا ۔
ان ریفرنس کا مطلب ہے کہ سیدنے وقت کا بہت قدر کیا اپنی مختصر زندگی میں ، رسم الخط ، ناول ، ڈکشنری ، شعری مجموعے ، خطوط ، افسانے ، عماپارہ کا ترجمہ، بلوچی زبان و ادب تاریخ ۔ اور بہت زبانوں میں طبع آزمائ کرنا ، یقینا یہ ڈسپلن آف ٹائم منجیمنٹ نہیں تو کیا ہے ۔۔۔
اب ہم آییں گے اس مبہم چیز کی طرف کی آتے ہیں تو وہ چیز ہے لمحمہ موجود اگر ہم موجودہ لحموں کو اچہی طرح گزاریں گے تو پھر ہمارا ، تینوں زمانے اچھی طرح گزریں گے ، تو پھر ہمارا آج ہمارا میراث بنئے گا ، مستقبل بھی ہمارے موافق ہوگا ۔
اب ہم سوچتے ہیں کہ سید نے اسٹو ٹولے کی تھیوری کو کس طرح دو اشعار میں قلمبند کی ہے یہ تھا سید ظہورشاہ ہاشمی کا فلسفیانہ نگاہ جہاں عام لوگوں کی نظر نہیں جاتی ۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3824423637788141




Azgar Zahir منتوار ۔زہیر
بڑے ادیب و شاعر کی فکر بھی اپنے اندر بہت وسعت لئے ہوتی اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے کے باوجود وہ اکثر ایک دوسرے اسی طرح سوچنے والے مفکر سے جا ملتی ہے جیسا کہ اپ نے لکھا بہت عمدہ تحریر
Mehtab Baloch منتوار مہتاب