عالمی ادب
میری شیلے (Mary Shelley) کی "فرینکنسٹائن (Frankenstein) جو کوہ ایلپس کے رومانی ن…

میری شیلے (Mary Shelley) کی "فرینکنسٹائن (Frankenstein) جو کوہ ایلپس کے رومانی نظاروں میں بائرن کے ساتھ گفتگو سے متاثر ہوکر لکھی گئی، میں وہ بات ہے جو رومانی تحریک کے ارتقا کی تاریخ کی تمثیلی پیش گوئی بن گئی۔ فرینکنسٹائن کا بدنما شخص محض ایسا بدنما نہیں جیسا کہ وہ بات چیت میں محاوراً بن گیا ہے۔ ابتدا میں وہ ایک شریف انسان ہے جو انسان ہے جو انسانی محبت کا بھوکا ہے۔ لیکن وہ جن لوگوں کی محبت پانے کی کوشش کرتا ہے ان ہی کے دل میں اپنی بدنما شکل و صورت سے خوف پیدا کردیتا ہے۔ یہ ردعمل اسے نفرت و تشدد کی طرف لے جاتا ہے۔ خود نظر آئے بغیر وہ غریب لوگوں میں ایک نیک خاندان کا مشاہدہ کرتا ہے۔ ان کی محنت و مشقت میں وہ چوری چوری ان کی مدد کرتا ہے۔ بالآخر وہ ان کے سامنے آنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
"میں انہیں جتنا زیادہ دیکھتا میرے دل میں ان سے اپنی حفاظت و شفقت پانے کی خواہش اتنی ہی زیادہ بڑھ جاتی۔ میرے دل میں شدید لگن پیدا ہوئی کہ ان کے سامنے آؤں اور ان ہنس مکھ اور خوش دل لوگوں سے چاہا جاؤں۔ میری خواہش کی انتہائی حد یہ تھی کہ ان کی میٹھی اور محبت بھر نگاہیں مجھ پر پڑیں۔ میں نے یہ سوچنے کی کوشش ہی نہ کی کہ وہ نفرت و خوف کے ساتھ مجھ سے منہ موڑ لیں گے۔ ”
لیکن انہوں نے ایسا کیا۔ پہلے تو اس نے اپنے مالک سے یہ مطالبہ کیا وہ اسے اس جیسی ایک مخالف جنس مہیا کرے۔ جب اس سے انکار کیا گیا تو اس نے ان سکو، جنہیں فرنکنسٹائن پیار کرتا تھا ایک ایک کرکے مار دینے کی ٹھان لی۔ لیکن اس وقت بھی جب وہ تمام کو قتل کرچکا اور جب فرینکنسٹائن کے مردہ جسم کو بغور دیکھ رہا تھا، بدنما شخص کے جذبات شریفانہ رہے۔
"یہ بھی میرا مقتول ہے! اس کے قتل میں میرے جرائم مکمل ہوگئےہیں۔ میرے وجود کا بے چارا نابغہ اپنے خاتمے تک زخمی ہوچکا ہے۔ آہ! فرینکنسٹائن! فیاض مگر خودپرست انسان! اب میں جو تم سے معافی کا طلبگار ہوں تو اس کا کیا فائدہ ہے؟ میں نے ان سب کو قتل کرکے جن سے تم پیار کرتے تھے، ناقابلِ تلافی طور پر تمہیں برباد کردیا ہے۔ افسوس! وہ بے جان پڑا ہے۔ وہ میری بات کا جواب نہیں دے سکتا۔ جب میں اپنے گناہوں کی خوفناک طویل فہرست پر نگاہ دوڑاتا ہون تو میں یقین نہیں کرسکتا کہ میں وہی انسان ہوں جس کے خیالات کبھی نیکی کی عظمت اور حسن کے عظیم و ارفع خوابوں سے لبریز تھے۔ لیکن یہ ایسا ہی ہے۔ مرد و فرشتہ کینہ ور شیطان بن جاتا ہے۔ لیکن خدا اور انسان کے اس دشمن کے بھی اس کی ویرانی کی حالت میں دوست اور ساتھی تھے۔ میں تنہا ہوں۔”
اگر اس اس سے رومانی کیفیت الک کردی جائے تو اس نفسیات میں کوئی غیر حقیقی بات نہیں ہے۔ اسی جیسے قزاقوں اور وینڈل بادشاہوں کی تلاش غیر ضروری ہے۔ پہلے قیصر نے ڈورن پر انگریز مہمان سے یہ رونا رویا کہ انگریز قوم اب اس سے مزید محبت نہیں کرتی۔ ڈاکٹر برٹ اپنی کتاب نابالغ مجرم میں سات سال کے ایک بچے کا ذکر کرتا ہے جس نے ایک دوسرے لڑکے کو ریجنٹ کی نہر میں ڈبو دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نہ تو اس کے اہل خانہ اور نہ ہی اس کے ہم عصر اس سے محبت کرتے تھے۔ لیکن برٹ اس سے شفقت سے پیش آیا اور وہ ایک معزز شہری بن گیا ۔ لیکن کسی ڈاکٹر برٹ نے فرینکسٹائن کے بدنما شخص کی اصلاح کا بیڑا نہ اٹھایا۔
(اقتباس : باب 18 رومانوی تحریک)
کتاب: فلسفۂ مغرب کی تاریخ
مصنف : برٹرینڈرسل
مترجم : پروفیسر محمد بشیر
"میں انہیں جتنا زیادہ دیکھتا میرے دل میں ان سے اپنی حفاظت و شفقت پانے کی خواہش اتنی ہی زیادہ بڑھ جاتی۔ میرے دل میں شدید لگن پیدا ہوئی کہ ان کے سامنے آؤں اور ان ہنس مکھ اور خوش دل لوگوں سے چاہا جاؤں۔ میری خواہش کی انتہائی حد یہ تھی کہ ان کی میٹھی اور محبت بھر نگاہیں مجھ پر پڑیں۔ میں نے یہ سوچنے کی کوشش ہی نہ کی کہ وہ نفرت و خوف کے ساتھ مجھ سے منہ موڑ لیں گے۔ ”
لیکن انہوں نے ایسا کیا۔ پہلے تو اس نے اپنے مالک سے یہ مطالبہ کیا وہ اسے اس جیسی ایک مخالف جنس مہیا کرے۔ جب اس سے انکار کیا گیا تو اس نے ان سکو، جنہیں فرنکنسٹائن پیار کرتا تھا ایک ایک کرکے مار دینے کی ٹھان لی۔ لیکن اس وقت بھی جب وہ تمام کو قتل کرچکا اور جب فرینکنسٹائن کے مردہ جسم کو بغور دیکھ رہا تھا، بدنما شخص کے جذبات شریفانہ رہے۔
"یہ بھی میرا مقتول ہے! اس کے قتل میں میرے جرائم مکمل ہوگئےہیں۔ میرے وجود کا بے چارا نابغہ اپنے خاتمے تک زخمی ہوچکا ہے۔ آہ! فرینکنسٹائن! فیاض مگر خودپرست انسان! اب میں جو تم سے معافی کا طلبگار ہوں تو اس کا کیا فائدہ ہے؟ میں نے ان سب کو قتل کرکے جن سے تم پیار کرتے تھے، ناقابلِ تلافی طور پر تمہیں برباد کردیا ہے۔ افسوس! وہ بے جان پڑا ہے۔ وہ میری بات کا جواب نہیں دے سکتا۔ جب میں اپنے گناہوں کی خوفناک طویل فہرست پر نگاہ دوڑاتا ہون تو میں یقین نہیں کرسکتا کہ میں وہی انسان ہوں جس کے خیالات کبھی نیکی کی عظمت اور حسن کے عظیم و ارفع خوابوں سے لبریز تھے۔ لیکن یہ ایسا ہی ہے۔ مرد و فرشتہ کینہ ور شیطان بن جاتا ہے۔ لیکن خدا اور انسان کے اس دشمن کے بھی اس کی ویرانی کی حالت میں دوست اور ساتھی تھے۔ میں تنہا ہوں۔”
اگر اس اس سے رومانی کیفیت الک کردی جائے تو اس نفسیات میں کوئی غیر حقیقی بات نہیں ہے۔ اسی جیسے قزاقوں اور وینڈل بادشاہوں کی تلاش غیر ضروری ہے۔ پہلے قیصر نے ڈورن پر انگریز مہمان سے یہ رونا رویا کہ انگریز قوم اب اس سے مزید محبت نہیں کرتی۔ ڈاکٹر برٹ اپنی کتاب نابالغ مجرم میں سات سال کے ایک بچے کا ذکر کرتا ہے جس نے ایک دوسرے لڑکے کو ریجنٹ کی نہر میں ڈبو دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نہ تو اس کے اہل خانہ اور نہ ہی اس کے ہم عصر اس سے محبت کرتے تھے۔ لیکن برٹ اس سے شفقت سے پیش آیا اور وہ ایک معزز شہری بن گیا ۔ لیکن کسی ڈاکٹر برٹ نے فرینکسٹائن کے بدنما شخص کی اصلاح کا بیڑا نہ اٹھایا۔
(اقتباس : باب 18 رومانوی تحریک)
کتاب: فلسفۂ مغرب کی تاریخ
مصنف : برٹرینڈرسل
مترجم : پروفیسر محمد بشیر
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3868982706665567



