عالمی ادب

ننھا شہزادہ باب ہشتم جلد ہی میری اس پھول سے واقفیت ہو گئی۔ ننھے شہزادے کے سیارے …

ننھا شہزادہ
باب ہشتم
جلد ہی میری اس پھول سے واقفیت ہو گئی۔ ننھے شہزادے کے سیارے پر پھول ہمیشہ بہت ہی سادہ ہوتے تھے۔ ان میں پنکھڑیوں کا صرف ایک ہالہ ہوتا تھا، وہ بالکل جگہ نہیں گھیرتے تھے اور نہ ہی کسی کو ستاتے تھے۔ ایک دن صبح سویرے گھاس میں کھل اٹھتے تھے، اور رات کےآںے تک اطمینان سے مرجھا جاتے تھے۔ لیکن ایک دن، ایک ایسے بیج سے جو خدا جانے کہاں سے آیا، ایک نیا پھول کھلا۔ اور ننھے شہزادہ اس چھوٹی سے کونپل کو بہت دھیان سے دیکھتا رہا، جو اس کے سیارے پر کھلنے والی کسی بھی کلی سے نہیں ملتی تھی۔ کیونکہ آپ تو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک نئی طرح کا باوباب بھی ہو سکتا تھا۔
اس جھاڑی نے جلد ہی اگنا بند کر دیا، اور ایک پھول کھلانے کی تیاری کرنے لگی۔ ننھا شہزادہ، جو اس بڑے سے غنچے کے نمودار ہونے کے وقت موجود تھا، فورا محسوس کرنے لگا کہ اس سے کسی قسم کا معجزہ نمودار ہو گا۔ لیکن یہ کلی اس بات پر مطمئن نہیں تھی کہ وہ اپنا بناوسنگھار اپنے سبز پردے دارکمرے میں مکمل کرے۔ اس نے اپنے رنگ بہت ہی دھیان سے منتخب کیے۔ اس نے اپنا لباس بہت آہستہ آہستہ زیب تن کیا۔ باری باری اس نے اپنی پنکھڑیوں کو ترتیب دیا۔ وہ پژمردہ حالت میں دنیا میں نمودار نہیں ہونا چاہتی تھی، جیسے کوئی عام سا میدان میں کھلنے والا پوست کا پھول۔ وہ اپنے حسن کی مکمل ترین حالت میں دنیا کے سامنے آنا چاہتی تھی۔ ہاں! وہ ایک طرح دار مخلوق تھی، اور اس کے پراسرار بناو سنگھار میں دن پہ دن گزرتے گئے۔
پھر ایک صبح، عین طلوع آفتاب کے وقت، وہ یک دم نمودار ہوئی۔
اور اتنی مشقت آمیز نفاست سے کام کرنے کے بعد اس نے جمائی لی اور کہا:
اوہ! میں بہ مشکل جاگ رہی ہوں۔ میری معذرت قبول کیجیے، میری پتیاں ابھی تک بکھری ہوئی ہیں۔۔۔۔
لیکن ننھا شہزادہ اسے سراہے بغیر نہ رہ سکا:
اوہ، تم کتنی خوبصورت ہو!
ہاں، واقعی، کلی نے میٹھے لہجے میں جواب دیا، اور میں سورج کے ساتھ ساتھ پیدا ہوئی ہوں۔
ننھا شہزادہ آسانی سے اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ کوئی زیادہ منکسر مزاج نہیں تھی، لیکن کتنی مسحور کن اور دلچسپ تھی وہ!
مجھے لگ رہا ہے کہ ناشتے کا وقت ہو گیا ہے، کلی نے ایک لمحے کے توقف کے بعد کہا، اگر آپ اتنی مہربانی کریں کہ میری ضروریات کا خیال رکھیں۔۔۔
اور ننھا شہزادہ جھینپ کر تازہ پانی چھڑکنے والا کیبن ڈھونڈنے نکل گیا۔ اس طرح اس نے کلی کی دیکھ بھال کرنا شروع کر دیا۔
اسی طرح بہت جلد ہی کلی نے اپنے غرور میں ننھے شہزادے کو ستانا شروع کر دیا۔ سچ یہ ہے کہ اسے سنبھالنا ذرا مشکل کام تھا۔ مثال کے طور پر، ایک دن اپنے چار کانٹوں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے اس نے ننھے شہزادے سے کہا:
شیر ذرا اپنے پنجے لے کر آئیں تو سہی!
میرے سیارے پر شیر نہیں ہیں، ننھے شہزادے نے اعتراض کیا، اور ویسے بھی شیر جڑی بوٹیاں نہیں کھاتے۔
میں کوئی جڑی بوٹی نہیں ہوں، کلی نے شیرینی بھرے لہجے میں کہا۔
مجھے معاف کر دیجیے۔
میں شیروں سے بالکل نہیں ڈرتی،اس نے بات جاری رکھی، لیکن مجھے ہوا کے جھکڑوں سے خوف آتا ہے۔ تمھارے پاس میرے لیے ہوا سے بچنے کی خاطر کوئی عارضی آڑ تو نہیں ہو گی؟
ہوا کے جھکڑوں کا خوف، یہ تو ایک پودے کے لیے بدشگونی ہے، ننھے شہزادے نے تبصرہ کیا۔ پھر اس نے اپنے آپ سے کہا، یہ پھول تو بہت ہی پیچیدہ مخلوق ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ رات کے وقت تم مجھے ایک شیشے کے مرتبان کے اندر رکھ دو۔ جہاں تم رہتے ہو، وہاں بہت ٹھنڈ ہے۔ میں جہاں سے آئی ہوں وہاں۔۔
لیکن یہاں پہنچ کر اس نے اپنے آپ کو روک لیا۔ وہ ایک بیج کی شکل میں آئی تھی۔ اسے دوسری دنیاوں کے بارے میں کچھ علم ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ ایسا سیدھا سادا جھوٹ بولنے پر پکڑے جانے کی شرمندگی کے مارے وہ دو تین مرتبہ کھانسی تاکہ ننھے شہزادے کی کوئی غلطی ڈھونڈ سکے۔
اور وہ عارضی باڑ؟
جب تم نے مجھ سے بات کی تو میں اسے ڈھونڈنے کے لیے جانے لگا تھا۔
پھر وہ جان بوجھ کر کھانسنے لگی تاکہ ننھا شہزادہ مزید پشیمانی محسوس کرے۔
تو اس طرح ننھا شہزادہ، اس تمام تر نیک نیتی کے باوجود جو اس کی محبت میں شامل تھی، جلد ہی اس پر شک کرنے لگا۔ اس نے ایسے الفاظ کو سنجدیدگی سے لیا تھا جن کی کوئی اہمیت نہیں تھی، اور وہ اس بات پر بہت ناخوش ہو گیا تھا۔
مجھے اس کی بات سننی ہی نہیں چاہیے تھی، اس نے ایک دن مجھے راز میں لیتے ہوئے کہا۔ پھولوں کی بات کبھی بھی نہیں سننی چاہیے۔ صرف انھیں دیکھنا چاہیے اور ان کی خوشبو کو خود میں جذب کرنا چاہیے۔میرے پھول نے میرا سارا سیارہ مہکا دیا۔ مگر میں جانتا نہیں تھا کہ اس کی دلکشی سے کیسے لطف اٹھانا ہے۔ یہ پنجوں کی کہانی، جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا، اس پے میرے دل سے صرف ترحم اور مہربانی کے سوتے پھوٹنے چاہیے تھے۔
اس نے اپنے انکشافات جاری رکھے۔
سب یہ ہے کہ میں کچھ بھی سمجھنا نہیں جانتا تھا۔ مجھے اعمال سے نیت کا اندازہ لگانا چاہیے تھا، اقوال سے نہیں۔ اس نے اپنی خوشبو اور اپنے نور سے مجھ پر سایہ کر دیا۔ مجھے کبھی بھی اس سے دور نہیں بھاگنا چاہیے تھا۔ مجھے سمجھنا چاہیے تھا کہ اس کی تمام تر اداؤں کے پیچھے کس قدر محبت تھی۔ پھول بے انتہا تلون مزاج ہوتے ہیں! لیکن میں کم عمری کے مارے یہ نہیں جانتا تھا کہ اس سے کیسے محبت کروں۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3864435377120300

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/