– فلسفہ کی تاریخ (History of Philosophy) – قسط: 65 – کارولِنجی دور (Carolingian…

– قسط: 65
– کارولِنجی دور (Carolingian Period)
5ویں صدی عیسوی سے لے کر تقریباً 9ویں صدی عیسوی تک کا دور یورپ کے تاریخ میں تاریک دور (Dark ages) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس دور میں یورپ میں روم کی سلطنت کا زوال ہو گیا تھا، اور اس کی جگہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہوگئی تھیں۔ ان ریاستوں میں امن و امان کا فقدان تھا، اور ثقافت و تہذیب میں زوال آ گیا تھا۔
اس تاریک دور سے نکلنے کے لئے یورپی سماج نے کئی کوششیں کیں، جن میں سے تین کو نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ پہلا نشاۃ ثانیہ کارولنجی نشاۃ ثانیہ (Carolingian Renaissance) کہلاتا ہے، جسے یورپ کے عظیم بادشاہ شارلیمین (Charlemagne) نے شروع کیا تھا۔
کارولنجی نشاۃ ثانیہ 8ویں اور 9ویں صدی عیسوی کا عرصہ ہے، جس کا نام اس دور کے حکمرانوں، کارولنجین خاندان (Carolingian dynasty) سے لیا گیا ہے۔ اس دور میں ادب، فنون، علم اور مذہب میں بہت اہم پیشرفت ہوئی۔
• شارلیمین کے علمی و فکری خدمات
شارلیمین 771 عیسوی میں یورپ میں ایک بڑی سلطنت کے بانی بنے۔ وہ ایک بہادر اور دانشمند بادشاہ تھے، اور ان کی سلطنت میں امن و امان، تعلیم و تربیت، اور ثقافت و تہذیب کو فروغ دیا گیا۔
شارلیمین نے علم و حکمت کے فروغ کے لئے کئی اقدامات کیے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے 787 عیسوی میں ہر صوبے میں اسکول اور اس سے منسلک ایک لائبریری قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کے مطابق، ہر اسکول میں بچوں کو لکھنا، پڑھنا، حساب، اور مذہبی تعلیم دی جاتی تھی۔
اس اسکول کے سسٹم کے قیام سے یورپ کے سماج میں سیکھنے اور سمجھنے کی باقاعدہ ایک روایت وجود میں آئی جس کو اسکول کا نظام یا مدرسیت (Scholasticism) کہا جاتا ہے۔
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اس میں نہ صرف مذہبی متکلمین شامل تھے بلکہ ساتھ میں سیکولر اور غیر مذہبی مفکرین بھی شامل تھے اور ان کا آپس میں بڑے منطقی و فلسفیانہ بحث و مباحثے ہوا کرتے تھے۔
• پیلیٹائن اسکول (Palatine School)
پیرس (Paris) میں قائم پیلیٹائن اسکول (Palatine School) کارولنجی نشاۃ ثانیہ کا ایک اہم مرکز تھا۔
پیلیٹائن اسکول نے خاص طور پر یورپ میں تعلیم و تربیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اسکول سے فارغ ہونے والے طلباء نے یورپ کے مختلف حصوں میں جاکر تعلیم و تربیت کے مراکز قائم کیے۔
یہی پیلیٹائن اسکول آگے جاکر یونیورسٹی آف پیرس (University of Paris) بھی بنی۔
• مدرسیت اور اسکول کا سسٹم (Scholasticism)
اسکول کا سسٹم یا مدرسیت کے قائم ہونے سے پورے یورپ کے اندر علمی و فکری ماحول پیدا ہوا جس کے نتیجے میں ایک جگہ سے دوسرے جگہ بھی مفکرین اپنے افکار کا اظہار کرکے بھیجتے۔
اس دور کے اندر تقدیر (Determinism) اور آزاد مرضی (Free will) یا قوت ارادی کا بحث زور و شور پر تھا۔
تقدیر کے حامیوں (Determinists) کا خیال تھا کہ ہر چیز پہلے سے طے شدہ ہے، اور انسان کی اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ آزاد مرضی کے حامیوں کا خیال تھا کہ انسان اپنی زندگی پر اختیار رکھتا ہے، اور وہ اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔
مدرسیت کے پیروکاروں (Scholastics) کا خیال تھا کہ آزاد مرضی (Free will) ضروری ہے کیونکہ اگر انسان کی اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہ ہو تو جنت اور جہنم کا تصور ہی بیکار ہو جاتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان اپنی زندگی کے اعمال کی بنیاد پر جنت یا جہنم میں جائے گا۔
• لبرل آرٹس (Liberal Arts)
سکالسٹس (Scholastics) نے علوم و فنون کو سات (07) بنیادی لبرل آرٹس (Liberal Arts) کے اندر تقسیم کیا تھا۔ یہ سات لبرل آرٹس درج ذیل ہیں:
۱) گرائمر (Grammar)
۲) فن بیان (Rhetoric)
۳) جدلیات (Dialectics)
۴) علم حساب (Arithmetic)
۵) جیومیٹری (Geometry)
۶) علم فلکیات (Astronomy)
۷) موسیقی (Music)
The study of Literature, Arts, Architecture, Jurisprudence, liturgical reforms and Scriptural studies increased in the Carolingian Renaissance.
مذکورہ شعبوں میں مطالعے کی مقدار اور معیار دونوں میں اضافہ ہوا، جیسے؛
۰ ادب (Literature)
اس دور میں لاطینی ادب میں نئی تخلیقات ہوئیں، جن میں مذہبی اور غیر مذہبی دونوں موضوعات شامل تھے۔
۰ فنون (Arts)
فنون، موسیقی، اور شاعری میں نئے نمونے سامنے آئے۔
۰ فن تعمیر (Architecture)
اس دور میں تعمیرات ایک مخصوص "کارولنجین انداز” میں کی گئیں، جس میں رومی اور بازنطینی اثرات شامل تھے۔
۰ قانون و عدالت (Jurisprudence)
قانونی نظام کو مدون بنایا گیا اور بہتر بنایا گیا۔
۰ عبادات کے اصلاحات (Liturgical reforms)
مسیحی عبادات میں تبدیلیاں کی گئیں تاکہ وہ زیادہ باقاعدہ اور منظم ہوں۔
۰ صحائف کے مطالعے (Scriptural studies)
مزید یہ کہ انجیل اور دیگر مقدس صحیفوں کی نئی تفاسیر اور تشریحات سامنے آئیں۔
• کارولنجی نشاۃ ثانیہ کی محدود رسائی
کارولنجی نشاۃ ثانیہ کی ایک خامی یہ تھی کہ اس کی رسائی بہت محدود تھی۔ اس میں صرف وہ لوگ شامل تھے جو یا تو بادشاہت (ریاست) سے کسی نہ کسی طرح منسلک تھے یا وہ جو مذہبی علماء و متکلمین (Clergy) کے ساتھ منسلک تھے۔ یعنی اس میں عام عوام، مزدور اور کسان طبقہ شامل نہیں تھے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ کارولنجی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد شارلیمین کے حکم پر قائم کی گئی تھی، اور اس کا مقصد یورپ میں ثقافت و تہذیب کو فروغ دینا تھا۔ اس مقصد کے لئے، شارلیمین نے ہر صوبے میں ایک سکول قائم کیا، جہاں بچوں کو لکھنا، پڑھنا، حساب، اور مذہبی تعلیم دی جاتی تھی لیکن یہ اسکول (Schools) صرف ان بچوں کے لئے کھلے تھے جو امیر یا بااثر خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔
اس کی وجہ سے، کارولنجی نشاۃ ثانیہ کا اثر عام عوام پر اتنا نہیں پڑ سکا۔ اس نشاۃ ثانیہ نے یورپ میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں علم و حکمت کے لیے احترام کیا جاتا تھا، لیکن اس نے عام عوام کی زندگی کو بنیادی طور پر نہیں بدلا۔ اس کے برعکس، اٹلی کے بڑے نشاۃ ثانیہ (Italian Renaissance) کا اثر عام عوام پر بھی پڑا۔
باوجود اس محدودیت کے، کارلینجی نثاۃ ثانیہ نے بھی بہرحال کچھ بہت بڑے مفکرین بھی پیدا کیں جس میں خاص طور پر جان اسکوٹس ایریوجینا (John Scotus Eriugena) شامل ہیں، جس کا تفصیلی ذکر ہم اگلے قسط میں کریں گے۔
• کارولینجی مفکرین کی رومی بادشاہت کی طرف جھکاؤ
کارولینجی مفکرین کے مطابق، روم کی حکومت و حکمرانی بہترین طرز حکومت تھی۔ ان کا خیال تھا کہ روم کی بادشاہت ایک مثالی ریاست تھی جس میں امن، خوشحالی اور قانون کی حکمرانی تھی۔ باوجود اس کے کہ رومی سلطنت اور رومی سماج ازخود ٹھوٹ پوٹ کا شکار ہوگیا تھا مگر کارولینجی نشاۃ ثانیہ کے مفکرین کا یہ خیال تھا کہ روم کی بادشاہت ایک بہترین ریاست تھی۔ اس لئے، انہوں نے یورپی ریاست کو بھی اسی طرح تشکیل دینے کی کوشش کی۔
– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3857684954462009



