عالمی ادب

**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)** **افسانہ نمبر 580 : بُرے کَرم ( Bad…

**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)**

**افسانہ نمبر 580 : بُرے کَرم ( Bad Karma )**

**تحریر : ایٹگر کریٹ ( Etgar Keret )**

**اردو قالب ؛ قیصر نذیر خاورؔ**

”ہر مہینے دئیے گئے پندرہ شیکل آپ کی بیٹی کو اس بات کی گارنٹی دیتے ہیں کہ خدانخواستہ آپ اگر فوت ہو جائیں تو اسے ایک لاکھ ملیں گے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک لاکھ ایک نوجوان یتیم کی زندگی کیسے بدل سکتے ہیں ؟ یہ فرق بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک سفید پوش پیشے اور ایک دندان ساز کے استقبالیے پر بیٹھی لڑکی کی زندگی کے درمیان ہو تا ہے ۔“

حادثے کے بعد سے ، اوشری بیمہ پالیسیاں تیزی سے بیچنے لگا تھا ۔ یہ بات واضح نہیں تھی کہ اس کا تعلق اس کے لنگڑا کر چلنے سے تھا یا کہ اس کے فالج زدہ دائیں بازو سے ، لیکن لوگ جو اس سے وقت لے کر اس کے سامنے بیٹھے ہوتے وہ اس سے سب کچھ لے لیتے ، جو وہ انہیں پیش کر رہا ہوتا ؛ زندگی کا بیمہ ، کمانے کی صلاحیت کے کم ہو جانے کا بیمہ ، بیماری کی صورت میں پوری ادائیگی کا بیمہ اور وہ سب کچھ جو اس کے پاس تھا ۔ پہلے پہل تو اوشری نے اس بات کو بار بار استعمال کیا کہ کیسے ایک یَمنی کو ، اسی دن ایک آئس کریم والے ٹرک نے ، کچل دیا تھا جب وہ بیمہ پالیسی لے کر اپنی بیٹی کو کنڈرگارٹن سے لینے جا رہا تھا ، یا اس بات کو جب اس نے مضافات میں رہنے والے ایک بندے کو صحت کا بیمہ لینے کا مشورہ دیا تھا تو وہ اس پر ہنسا تھا لیکن ایک ماہ بعد ہی اس نے اسے فون کرکے روتے ہوئے بتایا تھا کہ اسے لبلبے کا کینسر تشخیص ہوگیا تھا ۔ لیکن اسے جلد ہی احساس ہو گیا کہ اس کی اپنی کہانی ہی فریب دینے یا موئکل گھیرنے کے لیے باقی سب سے بہتر تھی ۔

ہوا یوں تھا کہ بیمہ ایجنٹ ، اوشری سیوان اُس وقت ’ڈاﺅن ٹاﺅن‘ کے ایک شاپنگ آرکیڈ کے پاس ایک کیفے میں اپنے ایک متوقع موئکل کے ساتھ میٹنگ کے وسط میں ہی پہنچا تھا کہ ان کی گفتگو کے درمیان ہی ، ایک نوجوان ، جس نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ، ساتھ والی عمارت کی 11 ویں منزل کی کھڑکی سے کودا اور سیدھا اوشری کے سر پر آن گرا ۔ گرنے سے وہ نوجوان تو مر گیا اور اوشری جس نے ابھی تذبذب کے شکار اپنے موئکل کو یمنی اور آئس کریم والے ٹرک کا قصہ ختم ہی کیا تھا ، موقع پر ہی بے ہوش گیا ۔ وہ اس وقت بھی ہوش میں نہ آیا جب اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے ، نہ ایمبولینس میں ، نہ ہی ایمرجنسی میں اور نہ ہی انتہائی نگہداشت والے یونٹ میں ۔ وہ کوما میں تھا ۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ کسی لمحے بھی مر سکتا تھا ۔ اس کی بیوی اس کے بستر کے پاس بیٹھی روئے جا رہی تھی اور اس کی ننھی بچی بھی یہی کر رہی تھی ۔ اگلے چھ ہفتے تک اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، لیکن پھر اچانک ایک معجزہ ہوا ۔ اس نے سیدھے سے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ لیکن اس معجزے کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی سامنے آئی : اوشری نے خود وہ نہیں کیا ، جس کا سبق وہ دوسروں کو پڑھاتا تھا ۔ اس نے کبھی بھی اپنے لیے کوئی بیمہ نہیں کرایا تھا ۔ وہ ، چنانچہ ، مکان کے پٹے ( mortgage ) کو برقرار نہیں رکھ سکا اور اسے اپنا اپارٹمنٹ بیچ کر کرائے کے مکان میں جانا پڑا ۔

”مجھے دیکھو ۔“ ، اوشری نے اپنی اُداس کر دینے والی کہانی کا اختتام کرتے ہوئے اور اپنے دائیں بازو کو ہلانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہتا ۔” مجھے دیکھو ، میں خون تھوکتے ہوئے ، تمہارے ساتھ اس کیفے میں بیٹھا ، تمہیں بیمہ پالیسی بیچ رہا ہوں ۔ میں نے اگر ہر ماہ تیس شیکل ایک طرف کیے ہوتے ۔ ۔ ۔تیس شیکل ، جو کچھ بھی نہیں ، اس میں مشکل سے ایک میٹنی شو کی ٹکٹ ہی آتی ہے ، جس کے ساتھ ’ پاپ کارن ‘ بھی نہیں ملتے ۔ ۔ ۔ میں ایک بادشاہ کی طرح آرام سے لیٹا ہوتا جس کے اکاﺅنٹ میں دو لاکھ پڑے ہوتے ۔ میں ، مجھے موقع ملا تھا ، لیکن میں نے اسے گنوا دیا ، لیکن مَوتی ، کیا تم میری غلطی سے سبق نہیں سیکھو گے ؟ نکتوں والی اس لکیر پر دستخط کرو اور اس بات کو نبٹائو ۔ کون جانتا ہے کہ ٹھیک پانچ منٹ بعد تم پر کیا بیتنا ہے ۔“

اور اس کے سامنے بیٹھے یہ مَوتی یا ویگل یا کوئی مِکی اسے ایک منٹ کے لیے گھورتا اور اس کے صحیح والے ہاتھ میں اپنی طرف بڑھے قلم کو پکڑتا اور دستخط کر دیتا ۔ ان میں سے سبھی یہ کر تے ۔ کوئی اگر مگر نہ کرتا ۔ اور اوشری آنکھ کے اشارے سے انہیں الوداع کہتا ، کیونکہ جب دایاں ہاتھ مفلوج ہو تو ہاتھ ملایا نہیں جا سکتا ، لیکن وہ وہاں سے جاتے ہوئے انہیں کچھ ایسا بھی کہتا کہ انہوں کتنا درست فیصلہ کیا تھا ۔ اور یوں ، کچھ زیادہ تَگ و دو کیے بغیر اوشری سیوان کاخالی ہوا بنک اکاﺅنٹ تیزی سے بھرنے لگا ، اور تین ماہ میں ہی اس اور اس کی بیوی نے ایک نیا اپارٹمنٹ خرید لیا جس کی پٹے کی رقم پہلے والے کے مقابلے میں بہت کم تھی ۔ اور تو اور کلینک میں ہونے والی فیزیو تھراپی کی وجہ سے اس کا ہاتھ بھی بہتر ہونا شروع ہو گیا ، گو جب بھی کوئی موئکل ہاتھ ملانے کے لیے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ یہی ظاہر کرتا کہ وہ تو اپنے دائیں بازو کو بالکل بھی نہیں ہلا سکتا ۔

”وہاں نیلے ، پیلے و سفیدرنگ ہیں اور میرے منہ میں نرم میٹھا ذائقہ ہے ۔ کچھ ایسا ہے جو مجھے اوپر ، اور اوپر لیے جا رہا ہے ۔ یہ اچھا ہی ہے ، میں جس کی جانب بڑھ رہا ہوں ۔ ۔ ۔ میں جس کی جانب بڑھ رہا ہوں ۔“

رات میں ، اس نے اِس بارے میں خواب دیکھا۔ ۔۔یہ حادثے کے بارے میں نہیں تھا ، یہ کوما کے بارے میں تھا ۔ یہ عجیب تھا ، گو بہت سمے بیت چکا تھا لیکن ، وہ اسے ابھی بھی یاد کر سکتا تھا ۔ اس کی ہر تفصیل ، بلکہ ہر وہ شے جو اس نے اُن چھ ہفتوں میں محسوس کی ۔ اسے رنگ ، ذائقہ اور تازہ ہوا بھی یاد تھی جو اس کے چہرے کو ٹھنڈا رکھتی ۔ اسے یاد تھا کہ اس کی یادداشت کھو چکی تھی ۔ اسے احساس تھا کہ وہ بے نام تھا جس کا ، اس حال میں ہوتے ہوئے ، کوئی ماضی نہ تھا ۔ چھ ہفتوں کا زمانہ حال ، جس میں رہتے ہوئے اسے بس یہی محسوس ہوتا کہ اس کے پاس مستقبل کاایک اشارہ بھی نہ تھا ، البتہ اپنے’ ہونے ‘ کی ایک عجیب طرح کی ہمیشہ بندھی رہنے والی امید پرستی کا احساس تھا ۔ اسے ان چھ ہفتوں میں یہ تک معلوم نہ تھا کہ اس کا نام کیا تھا یا یہ کہ وہ شادی شدہ تھا یا پھر یہ کہ اس کی ایک ننھی بچی بھی تھی ۔ اسے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ وہ ایک حادثے کا شکار ہوا تھا اور یہ کہ وہ اس وقت ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا ۔ سوائے اس بات کے کہ وہ زندہ تھا ، اسے اور کچھ معلوم نہ تھا ۔ اور اس بات نے اسے بے تحاشہ خوشی دے رکھی تھی ۔ بہ حیثیت مجموعی نیست میں سوچنے اور اسے محسوس کرنے کا تجربہ اُس سب سے کہیں زیادہ شدید تھا جو اس کے ساتھ پہلے بیت چکا تھا ، یہ کچھ ایسا تھا جیسے پس منظر کا سارا شور غائب ہو گیا ہو اور اس کی ذات اس حد تک پوِتر اور خوبصورت ہو گئی ہو جیسے آنسو ہوتے ہیں ۔ اس نے یہ بات اپنی بیوی یا کسی اور کو نہ بتائی ۔ جب آپ موت کے اتنا قریب ہوں تو آپ کو اتنی خوشی نہیں ہونی چاہیے ۔ آپ کو اپنے کوما سے سنسنی محسوس نہیں کرنی چاہیے جب آپ کی بیوی اور بچی ،آپ کے بستر سے لگی زار و قطار رو رہی ہوں ۔ انہوں نے ، چنانچہ ، جب اس سے یہ پوچھا کہ اسے کوما کے بارے میں کچھ یاد تھا ، تو اس نے انہیں یہی کہا کہ اسے کچھ یاد نہ تھا ، اسے ایک بھی شے یاد نہ تھی ۔ اور جب وہ کومے سے باہر آیا تھا تو اس کی بیوی نے اس سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اسے اور اپنی بیٹی ، میتل کو سنتا رہا جب وہ اس سے باتیں کرتی تھیں ، تو اس نے اپنی بیوی کو کہا کہ گو اسے یہ یاد نہ تھا کہ وہ انہیں سن رہا تھا کہ نہیں ، لیکن اسے یقین تھا کہ ان کا باتیں کرنا اس کے لیے مدد گار رہا ہو گا ۔ اس نے اسے ، لاشعور کی سطح پر طاقت دی ہو گی اور زندہ رہنے کی امید کو بڑھایا ہو گا ۔اس نے اپنی بیوی کو یہ بتایا تھا ، لیکن یہ سچ نہیں تھا ، کیونکہ جب وہ کوما میں تھا تو اس نے بسا اوقات باہر کی دنیا سے آتی آوازوں کو ضرور سنا تھا ۔ یہ عجیب تھیں ، کٹیلی تھیں لیکن ساتھ میں مبہم بھی ، کچھ ایسی ، جیسے آپ کو تب آتی ہیں جب آپ زیر آب ہوتے ہیں ۔ اور اسے یہ سب پسند نہ رہا تھا ۔ یہ اسے ڈراتی دھمکاتی محسوس ہوتیں اور ایسا اشارہ دیتی تھیں جو اس رنگین خوشگوار احساس سے کہیں پرے تھا ، جس میں وہ رہ رہا تھا ۔

” تم دوبارہ کبھی دُکھی نہ ہو ۔“

اوشری ’ شیوا ‘ * کے ہفتے میں تو ، اس جوان کے گھر والوں کو فون نہ کر سکا ، جو اس کے سر پر آ گرا تھا ۔ وہ قبر کی تختی کی نقاب کشائی کے موقع پر بھی نہ جا سکا ، لیکن جب پہلی برسی آئی تو وہ پھول اور دیگر لوازمات لیے وہاں گیا ۔ قبرستان میں لڑکے کے ماں باپ کے علاوہ اس کی بہن اور ہائی سکول کا ایک موٹا لڑکا تھا ۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون تھا ۔ ماں کا خیال تھا کہ وہ اس کے بیٹے کا باس تھا کیونکہ اس کا نام بھی اوشری تھا ۔ اس کی بہن اور موٹے لڑکے نے یہ سمجھا کہ وہ اس کے والدین کا دوست تھا ۔ لیکن جب سب نے قبر پر چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ دئیے تو ماں نے لوگوں سے علیک سلیک شروع کی ، تو اس نے اسے بتایا کہ وہ ، وہ تھا جس پر اس کا بیٹا ، نیتی ، یہ اس لڑکے کا نام تھا ، کھڑکی سے کود کر اس پر آن گرا تھا ۔ جیسے ہی ماں نے یہ سنا تو وہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خود کو رونے سے نہ روک سکی ۔ باپ نے اسے چُپ کرانے کی کوشش کی اور اوشری کو شک بھری نظروں سے دیکھنے لگا ۔ بیوی کے ہذیانی رونے کے پانچ منٹ بعد اس نے اوشری سے رسمی طور پر کھردرے انداز میں کہا کہ اسے ، اس پر جو بیتی ، کا دکھ تھا اور یہ کہ اگر نیتی زندہ ہوتا تو وہ بھی اس پر شرمسار ہوتا ، لیکن اب سب کے لیے یہی بہتر تھا کہ اوشری وہاں سے چلا جائے ۔ اوشری نے اس سے فوراً اتفاق کیا لیکن جلدی سے یہ بھی کہا کہ وہ اب بالکل ٹھیک ہو چکا تھا اور اب جبکہ سب کچھ بھگتا ،کہا اور سنا جا چکا تو یہ اتنا بھیانک نہیں رہا تھا ۔ ۔ ۔ اور یہ اس المناک کیفیت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جس میں سے نیتی کے والدین گزر رہے تھے ۔ باپ نے اس کا جملہ کاٹا اور کہا ؛

”کیا تم ہم پر مقدمہ کرنا چاہتے ہو ؟ اور اگر ایسا ہے تو یہ جان لو کہ تم اپنا وقت ضائع کرو گے ۔ زیوا اور میرے نام پر ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے ۔تم نے میری بات سنی ؟ ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ۔“

ان الفاظ نے ماں کو اور زیادہ رونے پر مجبور کر دیا اور اوشری کچھ ایسا بُڑبُڑایا جیسے وہ انہیں پھر سے یہ یقین دلانا چاہتا ہو کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف کوئی بغض نہ تھا اور پھر وہ ، وہاں سے چل دیا ۔ اور جب وہ قبرستان کے دروازے پر لکڑی کے بکسے میں کاغذی ’ یارملکی‘ ( کیپا)* رکھ رہا تھا تو نیتی کی بہن اس کے پاس آئی اور اپنے والد کے رویے پر معذرت کی ۔ اس نے اصل میں معذرت نہیں کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ اس کا والد احمق تھا اور یہ کہ نیتی اس سے نفرت کرتا تھا ۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس کے والدکے سر پر یہ سوار رہتا تھا کہ ہر کوئی اس کے درپے تھا اور پھر بالآخر ایسا ہی کچھ ہوا کہ اس کا شریک کاروبار اس کا سارا سرمایہ لے اڑا ۔

” اگرنیتی یہ دیکھ سکتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور چیزیں کیسے بدلیں تو وہ ہنس ہنس کے پاگل ہو چکا ہوتا ۔“ ، نیتی کی بہن نے کہا اور اس نے خود کو اپنے نام سے متعارف کرایا ۔ اس کا نام ’ مایان ‘ تھا ۔ اوشری نے مایان کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اپنی عادت کے مطابق نظرانداز کیا ۔ اپنے موئکلوں کے ساتھ ، یہ ظاہر کر کر کے کہ اس کا دایاں بازو مفلوج تھا ، وہ اس مقام تک جا پہنچا تھا کہ وہ جب گھر میں اکیلا بھی ہوتا توکئی بار بھول جاتا کہ وہ اسے استعمال کر سکتا تھا ۔ مایان نے جب دیکھا کہ وہ اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے رہا تو اس نے اپنا ہاتھ فطری سے انداز میں اس کے کندھے پر رکھا ۔ ۔ ۔ یہ حرکت دونوں کو کچھ زیادہ اچھی نہ لگی ۔

” تمہارا یہاں موجود ہونا عجیب ہے ۔“ ، اس نے ایک منٹ کی خاموشی کے بعد کہا ، ” نیتی تمہارے لیے کیا تھا ،کیونکہ تم تو اسے جانتے بھی نہیں تھے ۔“

” یہی تو شرم کی بات ہے ۔“ ، اوشری نے کہا ، اسے معلوم نہ تھا کہ کس طرح کا ردعمل دکھائے ۔” کہ میں اسے نہیں جانتا تھا ، میرا مطلب ہے کہ وہ یقیناً ایک ایسا بندہ تھا جسے ، مجھ کو جاننا چاہیے تھا ۔“

اوشری اس کو بتانا چاہ رہا تھا کہ اس کا وہاں موجود ہونا بالکل بھی عجیب نہیں تھا ۔ اور یہ کہ اُس اور اس کے بھائی کے درمیان کچھ ایسامعاملہ تھا جو نامکمل تھا ۔ اس دن کیفے میں اور بھی بہت سے لوگ تھے اور ان میں سے نیتی کو وہی کیوں نظر آیا تھا کہ وہ اس پر گرے ۔ اور یہی سمجھنے کے لیے وہ وہاں آیا تھا ۔ لیکن اس سے پہلے کہ اسے کچھ کہنے کا موقع ملتا ، اسے احساس ہو گیا کہ یہ پوچھنا ایک احمقانہ بات تھی ، اس نے ، اسی لیے ، مایان سے یہ پوچھا کہ نیتی نے خودکشی کیوں کی تھی ۔ ۔ ۔ وہ تو ابھی نوجوان تھا ۔ مایان نے کندھے اچکائے ۔ وہ پہلا بندہ نہیں تھا ، جس نے اس سے یہ سوال کیا تھا ۔ اس سے پہلے کہ وہ الگ الگ راستوں پر چل دیتے ، اوشری نے مایان کو اپنا ’ وزٹنگ کارڈ ‘ دیا اور اسے کہا کہ اگر اسے کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو وہ اس سے رابطہ کر سکتی تھی ۔ وہ مسکرائی اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھی جو خود ہی سب کچھ کچھ سنبھال سکتے تھے ۔ اس نے کارڈ پر ایک اور نظر ڈالی اور بولی ، ” تم بیمہ ایجنٹ ہو ؟ یہ ایک عجیب بات ہے ۔ نیتی کو بیمے سے نفرت تھی ۔ وہ اسے ’ بُرا کرم ‘ کہتا تھا ۔ جیسے بیمہ کرانا ، ‘ اچھے ‘ کی امید رکھنے کے منافی ہو ۔“

اوشری یہ سن کر خود میں ہی سمٹ گیا ۔ ”بہت سے نوجوان اسی طرح سوچتے ہیں ۔“ ، اس نے کہا ، ” لیکن جب آپ بال بچے دار ہو جاتے ہیں تو پھر آپ چیزوں کو اور طرح سے دیکھنے لگتے ہیں ۔ اور آپ بے شک اس پر یقین رکھیں کہ سب کچھ اچھا ہی ہو گا لیکن پھر بھی آپ بہت زیادہ محتاط نہیں رہ سکتے ۔ پھر بھی ، اگر ضرورت پیش آئے تو ، رابطہ ضرور کرنا ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں تمہیں بیمہ پالیسی بیچنے کی کوشش نہیں کروں گا ۔“ ، اس نے جاتی ہوئی مایان سے کہا ۔ وہ مسکرائی اور سر ہلا دیا ۔ ان دونوں کو پتہ تھا کہ مایان نے اوشری سے رابطہ نہیں کرنا تھا ۔

اوشری جب قبرستان سے گھر واپس جا رہا تھا تو اسے اپنی بیوی کا فون آیا ۔ وہ چاہتی تھی کہ اوشری ، میتل کو اُس اضافی کلاس کے بعد اٹھائے ، جو وہ سکول کے بعد لیا کرتی تھی اور گھر لیتا آئے ۔ اوشری نے اس سے اتفاق کیا اور جب اس نے یہ پوچھا کہ وہ اس وقت کہا ں تھا تو اس نے جھوٹ بولا اور کہا کہ اس کی اپنے ایک موئکل کے ساتھ’ ریمت ہیشرون‘ میں ملاقات طے تھی ۔ وہ خود کو سمجھا نہ پایا کہ اس نے جھوٹ کیوں بولا تھا ۔ یہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ اسے اپنے کندھے پر مایان کا چھونا ابھی بھی محسوس ہو رہا تھا اور یہ اس لیے بھی نہیں تھا کہ وہ بغیر کسی معقول وجہ کے ، اس میموریل سروس میں چلا گیا تھا ۔ اگر کچھ تھا تو یہ ۔ ۔ ۔ اسے ڈر تھا کہ وہ کہیں یہ بات محسوس نہ کر لے کہ وہ اس لڑکے ، نیتی ، کا کتنا مشکور تھا ، جو یقیناً اوشری کی ہی طرح سیانا اور کامیاب رہا ہو گا اور لوگ اس سے محبت کرتے رہے ہوں گے اور پھر بھی اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ کھڑکی سے کود کر اپنی زندگی ختم کر دے ۔ جب اس نے میتل کو لیا ، تو اس نے فخر سے اس کو ہوائی جہاز کا وہ ماڈل دکھایا جو اس نے بنایا تھا ۔ اس نے میتل کی تعریف کی اور اس سے پوچھا کہ کہ وہ کب آسمانوں پر اڑنے کا ارداہ رکھتی تھی ۔

” کبھی نہیں ۔“ ، میتل نے کہا اور اسے تضحیکی انداز میں دیکھا ، ” یہ تو صرف ایک ماڈل ہے ۔“ اور اوشری نے خجل ہوئے ، سر ہلاتے ہوئے اسے کہا کہ وہ ایک ننھی لیکن خاصی ہوشیار بچی تھی ۔

خوشگوار خواب

جب سے حادثہ پیش آیا تھا وہ اور اس کی بیوی کم کم ہی اختلاط کرتے ۔ وہ اس کے بارے میں کبھی بات بھی نہ کرتے لیکن اسے یہ اندازہ تھا کہ اس کی بیوی بھی اسے مناسب ہی سمجھتی تھی ۔ ایسا کہ جیسے حادثے وغیرہ کے بعد ، وہ اسے واپس پا کر ہی اتنا خوش تھی کہ وہ حادثے سے پہلے والی بھرپورجنسی زندگی کودوبارہ برقرار رکھنا نہ چاہتی ہو ۔ وہ جب بھی کبھی ہم بستر ہوتے تو ان کا اختلاط ٹھیک ہی ہوتا ، اتنا ہی ٹھیک ، جیسا کہ پہلے ہوا کرتا تھا ، لیکن اتنا فرق ضرور پڑا کہ اوشری نے زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا تھا ، جس کا تعلق اس دنیا سے تھا ، جس میں آپ تبھی پہنچ سکتے ہیں جب آپ کے سر پر کوئی بندہ سب سے اوپر والی منزل سے آ گرے ، یہ دیکھنے کا ایک ایسا زاویہ تھا جس نے باقی ہر شے کو بونا بنا دیا تھا ۔ یہ صرف جنسی خواہش ہی نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق بیوی سے محبت سے بھی تھا اور بیٹی کی محبت سمیت ہر شے کے بارے میں تھا ۔

وہ جب جاگا ہوتا ، تو اسے یاد ہی نہ ہوتا کہ کوما کی دنیا میں وہ کیسا محسوس کرتا تھا اور جب وہ کسی کو اس بارے میں بتانے کی کوشش کرتا تو بتا نہ پاتا ۔اس نے ایک بار ایسا کیا تھا جب وہ ایک اندھی عورت کو زندگی کی بیمہ پالیسی بیچنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اسے یہ کبھی سمجھ نہ آئی تھی کہ اس نے یہ توقع کیسے کر لی تھی کہ اس عورت نے ، باقی سب کے برعکس اس کی بات سمجھ لینی تھی ، لیکن تین جملے بول کر ہی وہ جان گیا کہ وہ اُسے سوائے خوفزدہ کرنے کے اور کچھ نہیں کر رہا تھا ۔ وہ چنانچہ رُک گیا ۔ لیکن وہ سوتے میں ، اپنے خوابوں میں دوبارہ اس کیفیت میں چلا جاتا ۔ اور قبرستان میں جانے والے دن کے بعد سے تو اس کو کوما والے خواب اکثر آنے لگے تھے ۔ اسے محسوس ہوا کہ اسے ان خوابوں کی لَت پڑ گئی تھی ۔ اور یہ اس حد تک بڑھی کہ وہ شام کے وقت ، سونے سے کہیں پہلے ہی ، ان کا خیال کرکے کانپنے لگتا ، ویسے ہی جیسے بندہ برسوں جلاوطنی کاٹ کر اس پرواز کو لے رہا ہو جس نے اسے وطن واپس پہنچانا ہو ۔ یہ مضحکہ خیز بات تھی ، کیونکہ بعض اوقات وہ اتنا جوشیلا ہو جاتا کہ وہ سو بھی نہ پاتا ۔ تب وہ خود کو بستر میں اپنی سوئی ہوئی بیوی کے ہمراہ ساکت لیٹا پاتا اور خود کو سلانے کے لیے ہر طرح کا جتن کرنے لگتا ۔ اس میں ایک طریقہ مشت زنی تھا ۔ اور جب سے وہ میموریل سروس سے واپس آیا تھا تو مشت زنی کرتے وقت مایان کے بارے میں ہی سوچتا کہ اس نے کس طرح سے اس کے کندھے کو چھوا تھا ۔ یہ اس لیے نہیں تھا کہ وہ خوبصورت تھی اور اس لیے بھی نہیں کہ وہ خوبصورت نہیں تھی ، گو اس کی خوبصورتی ویسی ہی وقتی تھی جیسی جوانی میں ہر عورت پر آتی ہے ، ویسی ہی جس کی مدت جلد ، بہت جلد ہی ختم ہونے والی ہوتی ہے ۔ اور جیسا کہ یہ پہلے ہو چکا تھا ، سالوں پہلے، جب وہ پہلی بار ملے تھے ، تو اس کی بیوی پر بھی یہ خوبصورتی چھائی ہوئی تھی ۔ لیکن یہ بھی وجہ نہ تھی کہ اسے مایان کا خیال آتا تھا ۔ یہ اس لیے تھا کہ مایان اور اس بندے کے درمیان ایک رشتہ تھا ، وہ بندہ جس کی وجہ سے وہ رنگوں کی اس خاموش دنیا میں پہنچا تھا ۔ اور جب وہ مایان کا خیال کرتے ہوئے مشت زنی کر رہا ہوتا تو یہی دنیا ، اچانک اس کے لیے ایک عورت کا روپ دھار لیتی ، جس کے لیے وہ اس کا شکرگزار تھا ۔

اس دوران وہ بہت سرعت سے بیمہ پالیسیاں بیچتا رہا ۔ بِنا کسی مطلب ، کسی معانی اور غرض کے وہ ایسا کرنے میں بہتر سے بہتر ہوتا گیا ۔ اب جب وہ کسی کو بیمہ پالیسی بیچنے کی کوشش کرتا تو اکثر خود کو روتے ہوئے پاتا ۔ اور یہ کسی طرح کی جوڑ توڑ یا ہیرا پھیری نہیں تھی ۔ یہ سچ مُچ کا رونا تھا جو نجانے کہاں سے آ جاتا تھا ۔ یہ موئکل سے ملاقات کومختصر کر دیتا ۔ اوشری روتا اور پھر اس کے لیے معذرت کرتا اور موئکل ، اسی سمے پالیسیاں خریدنے کے لیے ہاں کر دیتے اور دستخط کر دیتے ۔ ایسے میں اسے ہلکا سا احساس ہوتا جیسے وہ ایک دغاباز اور فریبی تھا ، لیکن اس کا رونا واقعی میں اصلی ہوتا ۔

ساحلی سڑک پر بھیڑ

ایک ہفتہ واری تعطیل پر وہ ، اپنی بیٹی کے ہمراہ ایک نئی بسائی گئی آبادی میں، اپنی بیوی کے والدین سے ملنے کے بعد واپس لوٹ رہا تھا ۔ وہ دو کاروں کے ٹکراﺅ والے حادثے کے پاس سے گزرے ۔ ان کے آگے والے ڈرائیوروں گاڑیاں آہستہ کر لیں اور جائے حادثے کو تجسس سے دیکھنے لگے ۔ اس کی بیوی نے کہا کہ یہ خاصی نفرت انگیز بات تھی اور یہ کہ یہ اسرائیل ہی تھا جہاں لوگ اس طرح کا رویہ اختیار کرتے تھے ۔ ان کی بیٹی جو پچھلی نشست پر سو رہی تھی ایمبولینس کے سائرن کی آواز سن کر جاگ گئی ۔ اس نے اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیا اور دیکھا کہ خون میں لت پت ، ایک بیہوش بندے کو سٹریچر پر لے جایا جا رہا تھا ۔ اس نے ان سے پوچھا کہ وہ ، اسے کہاں لے جا رہے تھے ، تو اوشری نے اسے جواب دیا ؛” وہ اسے ایک اچھی جگہ لے جا رہے ہیں ۔ ایک ایسی جگہ جو رنگوں ، ذائقوں اور خوشبوﺅں سے بھری ہے اور جس کا وہ تصور بھی نہ کر سکتی ۔“ ، اس نے اسے اس جگہ کے بارے میں بتایا اور یہ بھی ،” وہاں بندے کے جسم بے وزن ہو جاتا ہے اور حالانکہ بندہ کسی شے کی اِچھا نہیں کرتا لیکن اس کی چاہی ہر شے اسے مل جاتی ہے ۔ اور یہ بھی کہ وہاں کسی طرح کا خوف ، کسی طرح کا ڈر نہیں ہوتا اور یہ کہ اگر کوئی شے تکلیف بھی دینا چاہے تو یہ ایک اور ہی احساس میں بدل جاتی ہے ، ایک ایسے احساس میں ، جس کے لیے آپ شکر کرتے ہیں کہ یہ آپ کونصیب ہوا ۔ ۔ ۔ ۔“ ، وہ تب تک بولتا چلا گیا جب تک اس نے اپنی بیوی کے غصہ بھرے چہرے کی طرف نہ دیکھ لیا ۔ ریڈیو پر ، وہ بتا رہے تھے کہ ہائی وے پر ٹریفک کا بھاری دباﺅ تھا ۔ اور جب اس نے عقبی آئینے میں دوبارہ دیکھا تو وہ یہ دیکھ سکتا تھا کہ میتل مسکرا رہی تھی اور سٹریچر پر لیٹے بندے کو ‘ بائی بائی ‘ کے انداز میں ہاتھ ہلا رہی تھی ۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3857316921165479

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/