مثنوی مولانا روم اردو ترجمہ و تفسیر گذشتہ قسط می…

مثنوی مولانا روم
اردو ترجمہ و تفسیر
گذشتہ قسط میں بات ہورہی تھی کہ کم عقل وہ ہوتے ہیں کہ جو اپنے حال پر دوسروں کو قیاس کرلیتے ہیں۔ انسان کی نیچر پر غور کریں۔ آپ خود بیتی سے ہے جگ پربیتے ہرواقع کی وضاحت کرتے ہیں۔ آپ کی انا کا جو ڈھانچہ ہے جو لالچیں جو نفرتیں جو دکھ اور سکھ کا تجربہ آپ کو ہوتا ہے اسی عینک سے ہی آپ دوسروں کی زندگیوں اور تجربوں کو پرکھتے ہیں۔ جیسے اس قصے میں دکاندار کا طوطا اپنے گنجے ہوجانے کا قیاس ایک فقیر کے گنجے پن سے کرتا ہے۔ گنجے فقیر کو دیکھ کرطوطا کہتا ہے کہ تم نے بھی اپنے مالک کی دکان میں تیل کی شیشیاں گرائی ہوں گی اس لیے تم بھی گنجے ہو۔ کیونکہ اس کے گنجے پن کی وجہ یہی تھی۔ نادان لوگ بھی اپنے دکھوں کو فقیروں صوفیوں کے مسائل پر قیاس کرتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ بڑا فرق ہوتا ہے اس شخص میں جسے دنیا ملی ہی نہ ہو اور اس شخص میں کہ جسے دنیا ملی ہو مگر جس نے ترک کردی ہو۔ وہ شخص کہ جو بھیک مانگ رہا ہے کیونکہ اس کے پاس اور کوئی وسائل نہیں ہیں اور وہ شخص کہ جو بھیک مانگ رہا ہے مگر جس نے سلطنتیں چھوڑ رکھی ہیں۔ ابراہیم بن ادہم بادشاہ سے بھکاری ہوئے، سدھارتھ بدھا شہزادہ ہونے کو چھوڑ کر بھیک مانگ رہا ہے۔ اب ان فقیروں کو عام بھکاریوں سے ایک کردینے والے نادان ہی کہے جاسکتے ہیں۔ ہاں بجا کہ دیکھنے میں شاید ان دونوں کے درمیاں کوئی فرق محسوس نہ ہو کہ دونوں کہ ہاتھ میں ہی کشکول ہیں مگر ان کو ایک سمجھنا نری حماقت کے سوا اور کیا ہوگا۔ ایک بھکاری وہ ہے کہ جو یہ جان چکا ہے کہ اس دنیا کی مال ومتاع عہدے شاہیاں بے کار ہیں اور ایک مانگ رہا ہے اس لیے کہ کسی طرح وہ پیسے جمع کرکے رتبے والا مال و دولت والا ہوجائے ایک اس لیے بھیک مانگ رہا ہے کہ اس نے شاہی جی لی ہے اور ایک اس لیے بھیک مانگ رہا ہے کہ وہ شاہی جینا چاہتا ہے۔ ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مولانا رومی اس فرق کو کئی مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جن کا گذشتہ اسباق میں ہم ذکر بھی کرآئے ہیں۔ اس سے آگے بھی مولانا رومی کئی مثالیں دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو اگلی مثال ہے وہ بھی بڑی دلچسپ ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ نادان معجزے کو جادو پر قیاس نہ کر۔ معجزے اور جادو کو غور سے دیکھیں تو دونوں میں بظاہر کوئی فرق نہیں ۔ دونوں ہی خرق عادت ہیں۔ دونوں ہی روٹین سے ہٹ کر ہوئی ایکٹویٹی ہیں، دونوں ہی انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ دونوں ہی عام قوانین فطرت کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ مگر اس سیم نیس کی بنیاد پر جادوگر اور معجزے دکھانے والے نبی کو ایک سمجھ لینا نری حماقت کے سوا اور کیا ہوگا۔ رومی کہتے ہیں کہ موسیؑ کے اعصا اور جادوگروں کی لکڑیوں کو ایک سمجھ لینا جہالت ہے۔ ہاں دونوں ہی جگہ لکڑیاں سانپ بنیں مگرایک ہی ایکشن کے باوجود دونوں ایکشنز میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک ڈاکو ہے چھرا مار کرکسی کا بدن چیر رہا ہے اور ایک ڈاکٹر ہے وہ بھی چھری مار کر مریض کا بدن چیر رہا ہے اور جراحی کررہا ہے۔ ان دونوں کا ایکشن ایک جیسا ہے مگر کیا ڈاکو اور ڈاکٹر ایک جیسے ہیں۔ ایک زندگی چھین رہا ہے ایک زندگی دے رہا ہے۔ ایک بیماری پیدا کررہا ہے ایک بیماری کا علاج کررہا ہے۔ فرعون کے دربار میں موسی اور جادوگروں کا ایکشن بھی بالکل ویسے ہی ہے۔ جادوگر فرعون اور اہل مصر کی بیماری کو بڑھا رہے تھے اور موسی ان کی بیماری کا علاج کررہا تھا۔ جادوگرحق چھپانے کے لیے اللے تللے کررہے تھے اور موسی ان کا سحر توڑ کر حقیقت اعلی کی طرف لوگوں کو بلا رہے تھے۔ رومی کہتے ہیں کہ ان دونوں کو ایک سمجھنے والےے ہو اور افسوس سے سرہلاسکتے ہو کہ بے چارا کتنی بری حالت میں ہے لیکن تم اس تجربے کو نہیں دیکھ سکتے جو اس پر گزررہا ہوتا ہے جس حالت وحدت میں وہ بینگ کو انجوائے کررہے ہوتا ہے اسے تم نہیں دیکھ سکتے کیونکہ تمھارے دکھ سکھ کے پیمانے وہی ہیں جو تم جیتے ہو۔ مولانا رومی کہتے ہیں کہ موسی اور جادوگروں کے ایکشن کو دیکھو تو ہوسکتا ہے کہ تمھیں وہ ایک جیسے لگ رہے ہوں مگر ان دونوں کی حالت بہت ہی مختلف ہے۔ ایک خدا کی آیتوں کو چھپا رہے ہیں اور ایک خدا کی آیتوں کو دکھا رہا ہے۔ ایک کے عمل پر اللہ کی لعنت برس رہی اور دوسرے کے عمل پر اللہ کی رحمت برس رہی ہے۔ تاریخ میں کتنی بار صوفیوں کو اللہ کے ولیوں کو اللہ کے پیغمبروں کو مشکلات کا سامنا ہوا ان کے اعمال کو سوسائٹی کے سیٹ پیٹرن کے مخالف قرار دے کر انہیں اذیتیں دی گئیں مگر وہ جس حقیقت اعلی کو پاچکے تھے اس کا انعام انہیں کیسے ملا۔ وہ جو ہستی سے ایک ہوگئے وہ آج بھی زندہ ہیں۔ اور جو ہستی کے مخالف کھڑے ہوگئے ان کا نام و نشان تک نہیں۔ موسی اور فرعون کے درباری جادوگر، جنہیں بادشاہ وقت کی سرپرستی حاصل تھی، جن کا احترام تھا وقار تھا، جن کی شاہی خلعتیں تھیں، جن کا طوطی بولتا تھا، ان میں سے آج کس کا نام تم جانتے ہو۔ اور جب موسیؑ کا نام آتا ہے تو ہرآنکھ ادب سے جھک جاتی ہے۔ اس لیے ظاہری اعمال سے تم حقیقت کو پانے گئے تو تم صرف گمراہ ہوسکتے ہو۔ کیونکہ تم صوفی فقیر کے ایکشنز کو ظاہری حالت کو دیکھ سکتے ہو لیکن وہ جس تجربے سے گزرتے ہیں اس تجربے سے تم وہی ہوئے بنا نہیں گزر سکتا۔ کبھی تم نے صوفیا کی تعلیمات کو غور سے دیکھنے کی کوشش کی ہے وہ اپنے تجربے تمھیں دکھانے کے لیے بے چین نہیں ہوتے۔ ان کی اگر کوئی کوشش ہوتی ہے تو بس ایک ہی کہ جو وہ دیکھ رہے ہیں وہ تم بھی دیکھ سکو۔ اگلے شعر میں مولانا رومی کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو صوفیوں کو ولیوں کو اللہ کے نبیوں کو انکار کرتے رہے ان کو چیلنج کرتے رہے وہ بندر کی خصلت رکھے والے لوگ تھی اور ان کی یہی خصلت ہی ان میں چھپی ہوئی اصل آفت ہے۔ یہ بہت ہی اہم شعر ہے۔ مولانا رومی کا اس شعر میں اشارہ ہے انسانی انا کی طرف۔ انسانی انا کہ جو دماغ تراشتا ہے اور دماغ کی نیچر بندر جیسی ہے۔ تبت کے یوگی تو انسانی دماغ کو منکی مائنڈ قرار دیتے ہیں، جو ہروقت بے چین رہتا ہے۔ تم بھی کبھی غور سے اپنے ذہن کو دیکھنا۔ جیسے بندر ایک سے دوسری شاخ پرپھدکتا رہتا ہے اسی طرح انسانی دماغ بھی ایک خیال کی شاخ سے دوسرے خیال کی شاخ پر جھولتا رہتا ہے۔ اور یہی سارے انسانی دکھوں کی بنیاد ہے۔ میڈی ٹیشن مراقبہ اور عبادات کے ذریعے اسی منکی مائنڈ کو سٹل کرنے کی ہی کوشش ہوجاتی ہے۔ جس کا ذہن سٹل ہونا سیکھ جاتا ہے وہ وہی انسان ہے جو حقیقی خوشی کو پاسکتا ہے۔
مکمل تفصیل اس لنک میں

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2960631620834018



