عالمی ادب

جین آسٹن،ٹیلر سوئفٹ اور عورتوں کے الفاظ: (ایلف شفق) اس بار مجھے قبل ازوقت ہی ای…

جین آسٹن،ٹیلر سوئفٹ اور عورتوں کے الفاظ:
(ایلف شفق)

اس بار مجھے قبل ازوقت ہی ایک ایسا کرسمس گفٹ ملا جس نے مجھے بےتحاشا خوشی دی۔
۔پرائڈ اینڈ پرجوڈس (
pride and Prejudice
کا خوبصورت انداز کی ہارڈ کاپی میں چھپا نیا ایڈیشن۔ایک ایسی کتاب جس کی دنیا بھر میں بیس لاکھ سے ذیادہ کتابیں بکیں اور جو 1811 میں پہلی بار چھپنے کے بعد آج صدیوں بعد بھی اسی شوق سے پڑھی اور مباحثے کا باعث بنتی ہے۔
جین آسٹن ایک حیران کن ہستی تھیں۔انسانی رویوں اور تعلقات پر بڑی گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ نہ صرف بے چین اور باغی دل رکھتی تھیں بلکہ خود بھی باغی تھیں۔ایک ایسے وقت میں جب عورت کے لئے یہ سوچا تک نہ جا سکتا تھا کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتیں انہوں نے ایسا کیا بھی۔

وہ بہت بہت تحمل اور بردباری سے اپنی تخلیقات میں اپنے زمانے میں رائج رسوم ورواج اور رویوں پر سوال اٹھاتی رہیں۔ایک ایسے کلچر میں جہاں یہ فرض کیا جاتا تھا کہ غیر شادی شدہ خواتین خود کو سنبھال سکتی ہیں نہ کوئی مفید ذندگی ہی گزار سکتی ہیں انہوں نے یہ کر دکھایا۔انکے ناول عزم ،ہمت اور ذہانت سے بنے گئے ہیں ۔جین آسٹن نے نے محبت اور ذخمی دلوں کی داستانیں لکھیں۔اس نے ایک ایسی ہیروئین تخلیق کی جو لوگوں سے محبت کرنے میں فنا ہونے پر یقین نہ رکھتی تھی۔
“اگر میں اس کے دل میں جھانک سکتی تو چیزیں بہت آسان ہو جاتیں”
یہ میریانے نے سینس اینڈ سینسبیلٹی
(sense and sensibility(
میں کہا تھا۔اگر ہم صرف محبوب کے دل کے اندر جھانک سکتے۔۔۔
جین آسٹن کی مہارت اور ذہانت کا اقرار کرتے ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ بہت طویل عرصے تک ادبی دنیا میں جین آسٹن کی انتہائی بے وقعتی کی گئی ہے خاص طور پر درمیانی عمر کےگورے مرد مصنفین کے ہاتھوں۔
جین آسٹن سے نفرت کرنا مارک ٹوین کا محبوب مشغلہ تھا۔ اس کا دعوی تھا کہ بہترین لائبریری وہ ہے جس میں جین آسٹن کا ایک بھی ناول نہ ہو۔اس کی نفرت کی حد تھی کہ ایک بار اس نےمزاق اڑاتے کہا:
“ہر بار جب میں پرائڈ اینڈ پریجوڈس پڑھتا ہوں میرا دل چاہتا ہے کہ میں جین آسٹن کو ڈھونڈوں اور اسکی کھوپڑی پر اسی کےگھٹنے سے ضرب لگاوں”۔

آرنلڈ بیننٹ جین کو ایک "عظیم چھوٹی ناولسٹ” کہہ کر بلاتا تھا۔اس کا دعوی تھا کہ آسٹن کوئی صلاحیت نہیں رکھتی چناچہ ایک بڑی ناول نگار کبھی نہیں بن سکتی۔اور اچھی بات یہ ہے کہ اس نے کبھی اس کی کوشس بھی نہیں کی۔”اسے اپنی جگہ کا پتا ہے۔”
ڈی ایچ لارنس مستقل جین آسٹن کی تحریروں کا مذاق اڑاتا۔اسی طرح ہینری جیمز کھلے عام اسکی تخلیقات کا مذاق اڑاتا رہا۔جوزف کونا ر نے تحقیر کرتے ہوئے ایچ جی ویلز سے پوچھا
“اس میں ہے کیا؟اور یہ سب کیا ہے؟
جین آسٹن نے اسے حیران کر دیا تھا اور یہی چیز اسے ناپسند تھی۔
اس بارے میں نابوکوف کو کیسے بھول سکتے ہیں۔
“مجھے جین ناپسند ہے!”
اس کا مشہور فقرہ ہے”مجھے پرائڈ اینڈ پریجوڈس میں کچھ نظر نہیں آتا!”
میں اس میں ایک اہم چیز کی نشاندہی کرنا چاہتی ہوں۔نابوکوف نے یہ نہیں کہا کہ اسے جین آسٹن ناپسند ہے (یا پھر آسٹن ہی)اس نے کہا "مجھے جین ناپسند ہے”۔
جین جیسے ایک چھوٹی سی لڑکی!جین ایک بچگانہ ہستی!
جین جو مردوں کے بڑی مہارت سے بنائے ادبی مندر میں کہیں بہت نچلے درجے پر ہے۔بالکل ایسے جیسے آرنلڈ بینینٹ نے کہا "عظیم چھوٹی ناولسٹ ”
نابوکوف کا سرنام کے بغیر نام پر اصرار دراصل جانتے بوجھتے یہ یقینی بنانے کے لئے تھا کہ "اسے اپنے مقام کی خبر رہے!”
میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ نابوکوف دووستوئیفسکی کو کبھی اسکے صرف ایک نام سے پکارےگا،نہیں! وہ کبھی اس عظیم روسی مصنف کو صرف فیودر کہہ کر نہیں پکارے گا۔بالکل ایسے ہی وہ کبھی پروست کو صرف مارسل نہیں کہے گا۔اور مجھے نہیں لگتا کہ کوئی تبصرہ نگار کبھی بھی خود نابوکوف کو صرف ولادیمیر کہہ کر بلائیں گے۔لیکن آسٹن کو صرف جین کہہ دینا بالکل مناسب حرکت ہے۔
جب نابوکوف نے کارنل یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا اس نے یورپی ادب کا سلیبس تیار کیا جو سارے کا سارا صرف مرد مصنفین سے بھرا تھا۔چارلس ڈکنس، گستاف فلابیر،رابرٹ لوئیس سٹیوینسن،مارسل پروست، فرانز کافکا،اور جیمز جائیس۔
یہ ایک شاندارسلیبس تھا مگر اس میں ایک اہم چیز کی کمی تھی_____عورت کی!
انتہائی عجیب لگتا تھا کہ مکمل سلیبس انتہائی دیدہ دلیری سے مردوں سے بھرا تھا اور جب اس نے ایڈمنڈواشنگٹن سے مشورہ مانگا تو واشنگٹن نے کہا کہ کم سے کم جین آسٹن کو ہی شامل کر لو۔نابوکوف نے اس مشورے کو یہ کہتے ٹھکرا دیا۔
"مجھے جین ناپسند ہے۔اور میں درحقیقت تمام خواتین مصنفین کو ناپسند کرتا ہوں۔وہ سب دوسری کلاس سے تعلق رکھتی ہیں ”
بلآخر نہ چاہتے ہوئے نابوکوف مینز فیلڈ پارک کو اپنے لیکچر سیریز میں شامل کرنے پر راضی ہو گیا۔لیکن پھر بھی اس کے لئے جین آسٹن پر تنقید کرنے سے گریز ناممکن تھا۔
"مادام باوری اور آنا کرینینا جیسے ناول خوبصورتی سے تراشے ہوئے شاہکار ہیں جبکہ میںنز فیلڈ پارک ایک خاتون کا کام ہے اور بچوں کا کھیل ہے جسکی کام کی ٹوکری میں سے سوئی کا خوبصورت کام جنم لے سکتا ہےاور اس بچے میں حیران کن ذہانت کا شائبہ ہے”
ایک عورت کا کام اور بچوں کا کھیل۔
دوسرے بہت سے مصنفین کی طرح نابوکوف کے لئے خواتین مصنفین خصوصا وہ جو پیار محبت پر لکھیں مکمل طور پر ایک دوسری کلاس سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں کوئی ادبی ہنر موجود ہے نہ کوئی حکایت گوئی کی صلاحیت۔ وہ ہمیشہ صرف جین ہی رہیں گئیں۔
اس ہفتے لندن سے کیمبرج سفر کرتے میں یہی سوچتی رہی۔میرا خیال تھا کہ جین آسٹن پر سبٹیک کے لئے ایک تحریر لکھوں گی کہ کسطرح اس نے ادبی انداز تحریر کے ساتھ تجربات کئے،اور کس طرح سے اس نے اسقدر خوبصورت اور دلچسپ مکالمے تخلیق کئے جو روزمرہ کی گفتگو کا انداز لئے ہوئے تھے۔اسی لمحے میں نے اپنے سامنے بیٹھے دو مردوں کی گفتگو سنی جو ٹیلر سوئفٹ پر بات کر رہے تھے۔
"مجھے سمجھ نہیں آتی لوگ اس کے بارے میں اتنے پاگل کیوں ہیں۔”ایک بولا
"اس کا ہر گانا صرف رومانس ہی ہے۔
خوبصورت چہرہ !
ہے ناں؟
بس اوکے آواز!
لیکن اتنی مقبولیت؟مجھے سمجھ نہیں آتی یہ ہو کیا رہا ہے۔”
دوسرے شخص نے سر ہلاتے ہوئے اتفاق کیا۔
پاگل پن ہے!””
مجھے یاد آیا کہ جوزف کونار نے ایچ جی ویلز سے جین آسٹن کے بارے میں کیا کہا تھا۔
"اس میں ہے کیا؟آخر یہ سب کیا ہے؟”
ٹیلر سوئفٹ لفظوں کی جادوگر ہے۔۔اس میں لفظوں کو خوبصورتی سے پرونے کا ہنر ہے۔یہ صرف شاعری کے معانی کی،انکے چنچل پن یا الفاظی جادوگری کی بات نہیں، بلکہ اس کے علاوہ اسکے الفاظ میں ایک سر بھی ہے جو مجھے انتہائی اہم صلاحیت لگتی ہے۔وہ ہمیشہ اپنے گیت خود لکھتی ہے اور اس پر کئی بار بحث کی گئی ہے کہ اس کے الفاظ کا ذخیرہ کتنا وسیع ہے۔
مجھے یہ دعوی نہیں کہ یہ دونوں خواتین ایک ہی کشتی کی سوار ہیں کہ جین آسٹن کی تو نہ صرف اپنے زمانے میں بلکہ بہت بعد تک پذیرائی نہ کی گئی جبکہ ٹیلر سوئفٹ جو اب اپنے کثیر تعداد فالورز کے ساتھ ایک امیر ترین خاتوں ہے۔ اٹھارویں صدی کے اواخر کے انگلینڈ سے آج کا تیز رفتار ڈیجیٹل زمانہ جتنا بھی مختلف ہو،کچھ ایسا ہے جو دونوں خواتین میں مشترک ہے۔آج بھی ایک عورت جو پیار محبت پر لکھتی ہے ایک گھٹیا قسم کی لکھاری سمجھی جاتی ہے ۔ضرورت سے ذیادہ مقبول جس کی وہ حقدار نہیں۔
ایک ایسا مصنف کبھی بھی ماہر حکایت گو نہیں کہلا سکتا۔ اسی طرح ایسا گلوکار آج کا ایوارڈ ونر نہیں کہلا سکتا۔
وہ ہمیشہ کمرشل گانے والا ہی رہے گا.یہ صرف گلوکار اور مصنفین ہی نہیں ہیں جنکو حقیر سمجھا جاتا ہے بلکہ ان کے پڑھنے اور سننے والوں کو بھی ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔جین آسٹن کے پڑھنے والی خواتین بیزار بیویاں،یا خوابوں میں رہنے والی نوجوان لڑکیاں سمجھی جاتیں۔اسی طرح ٹیلر سوئفٹ کو سننے والے نوجوانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے” ان نوجوانوں کو میوزک کا کیا پتا ہے”۔۔
جب کے اسی انداز کا ادب لکھنے والے مردوں کی طرف سے ایسا رویہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔
جین آسٹن اور ٹیلر سوئفٹ جس طرح بہادری سے اپنے ہنر میں نسوانیت کو اپناتے،معاشرے میں رائج حدوں اور گھٹیا ظرافت کو توڑتی ہیں یہی بات ان کے نقادوں کو بری لگتی ہے۔ ۔وہ دونوں اتنی مختلف ہیں کہ انکو اسی فریم میں دیکھیں تو سمجھ آتی ہے کہ
"رقص کا شوقین ہونا پیار کی طرف ایک قدم ہے”

پرائڈ اینڈ پریجوڈس
وقت میں جتنے لمحے ہوتے ہیں اتنی ہی اقسام کی محبت ہو تی ہے۔”
مینسفیلڈ پارک
ان کے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھیں "جیسے وہ کوئی صورتحال ہیں جنکو بدلنا ضروری ہے”
مجھے لگتا ہے یہ سب ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں سے کوئی جس نے ایک بار پیار کیا وہ ہمیشہ پیار کرتا رہے گا۔(ایما)
لوگوں سے بھری اس دنیا میں جہاں کوئی بیکار انعام جیتنے کے لئے بیکار کھیل کھیلتا ہے”وہ بڑی شدت سے اس بات پر یقین کرنا چاہتا ہے کہ ہر انجام جو تمھارے ساتھ ہو بہترین انجام ہے۔”
تو لوگوں کو جین اور ٹیلر سوئفٹ سے کیا ملتا ہے؟
بہت کچھ!
اسکا جواب اتنا طویل ہے کہ چند لفظوں میں سمیٹنا مشکل ہے۔لیکن یقینی طور پر ان دو مختلف خواتین میں جو چیز مشترک اور اہم ہے وہ انکی دلکش زبان ہے۔ جو زندگی ،ذہانت اور جرات سے بھری ہوئی ہے۔ جو جذبات اور مشاہدات کا مسحورکن اظہار کرتی ہے۔
یہی وہ راز ہے جو ان عورتوں کے الفاظ کی مقبولیت میں ہے
______تلخیص و ترجمہ:

صوفیہ کاشف

https://elifshafak.substack.com/p/jane-austen-taylor-swift-and-womens?utm_source=share&utm_medium=android&r=31siij&fbclid=IwAR0axzS55qzjBOWXxR4-MtWh2Qlf0otR9UH8RegaM91KZzP5JVrfYQ5XoMM



بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3827404000823438

Related Articles

5 Comments

  1. تفصیلی تبصرے کے لئے بہت شکریہ۔۔۔ مجھے جین آسٹین کے بارے میں یقینا پڑھنے کی ضرورت تھی۔۔۔ بدقسمتی سے ان سے متعلق ماسٹرز میں بھی بہت کم مواد ملا تھا۔۔۔

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/