ایک اور مختصر وقفہ ۔ وہ اپنی حیرانی چھپانے کی کوشش میں مگن تھا ۔ ” ڈیون ۔۔۔۔۔۔ …

” ایک کہانی ؟ مطلب ، ایک نئی نکور کہانی ؟” ڈیون فورآ سے ہی دلچسپی لینے لگی۔ ” کیا تمام جر–نا–لسٹ کہانیاں لکھتے ہیں؟”
"اچھا ____ ”
” کیا تم میرے لیے ایک کہانی لکھو گے ؟ اس نے ایک متحیرانہ تجسسس کے ساتھ سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ ” جب تم اسے لکھ لو گے تو کیا میں اسے کھا پاؤں گی ؟ میں نے کبھی بھی کوئی ایسی کہانی نہیں کھائی جو کہ صرف میرے لیے لکھی گئی ہو!”
مسکراہٹ اس کے چہرے سے ایسے پھسلی جیسے چھت پر سے برف پھسلتی ہے۔ ” اسے کھاؤ گی؟”
” اچھا تو ایسے بناتے ہیں کہانیاں ؟ میں ہمیشہ حیران ہوتی تھی مگر انکل ایک کہتے تھے کہ جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو وہ مجھے بتائیں گے۔ تم بھلا کیسے کہانی لکھ لیتے ہو ؟ میں تو نہیں لکھ سکتی۔ تو جب تم یہ مکمل کر لو گے تو کیا یہ کتاب بن جائے گی ؟ کیا تمام کہانیاں کتابیں بن جاتی ہیں ؟
Another pause, shorter this time. He was learning to hide his surprise. “Devon … interesting name, by the way … I actually came here in search of your family. There are rumors about a remote clan living in the moors. I was hoping I could write a story—”
“A story? Like, a new one?” Devon was immediately interested. “Can all jour-na-lists write stories?”
“Well—”
“Will you write one just for me?” Questions burst from her in an excited flurry. “Can I eat it when you’re done? I’ve never had a story written for me to eat!”
The smile slid from his face, like melting snow from a roof. “Eat it?”
“Is that how stories are made? I always wondered but Uncle Aike said he’d tell me when I was older. How do you write a story? I can’t write a story. Will it be a book when you’re finished? Do all stories become books?”
📖 The Book Eaters
🖋️ Sunyi Dean
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3847116748852163



