عالمی ادب
نطشے کی مجذوبیت کا سبب فلسفے اور خدا کی موت سے کہیں زیادہ اس کے وراثتی جینیات می…

نطشے کی مجذوبیت کا سبب فلسفے اور خدا کی موت سے کہیں زیادہ اس کے وراثتی جینیات میں بھی تھا۔ باپ ایک قابل ذہین استاد اور معلم تھا ، مگر اسے کئی دماغی عارضے تھے۔دماغ میں رسولی تھی اور محض 35 برس کی جوان عمر میں اس کا دماغ رسولیوں سے نرم ہونا شروع ہوا اور وہ کئی ماہ قومے میں رہ کر مر گیا۔نطشے کی دادی آخری عمر تک صحت سے بھرپور تھی مگر دو سوتیلی پوپھیاں بھی ذہنی طور پر ابنارمل تھیں اور اس کے باپ کے مرنے تک ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ ایک پوپھی نے خودکشی کی اور ایک چچا پاگل پن کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔اس کے علاوہ ننھیال سے ایک سگے ماموں نے حواس کھو کر خودکشی کی تھی۔نطشے کا ایک بھائی جوزف ، اس سے چار سال بعد پیدا ہوا۔ماں کی گود میں ہی ایک دن اچانک اس نے آنکھیں بند کیں اور بولنا بند کر دیا ، پھر اسی رات مر گیا۔
نطشے نے خود اپنی حالت کو اپنے خاندان کا عطیہ قرار دیا ہے اور وہ خود کو اپنے باپ کا دوسرا روپ کہتا تھا۔نطشے نے بھی اپنی زندگی کے آخری 12 برس مکمل مجذوبیت اور دماغی پاگل پن میں بسر کیے تھے۔البتہ اس کی ماں خوب عورت تھی۔وہ پادری کی بیٹی تھی اور جب نطشے کا باپ مرا تو وہ محض 23 سال کی بیوہ تھی۔نطشے کو آخری عمر میں بھی اس نے سنبھالا جب وہ مکمل حواس سے عاری تھا۔نطشے سے 3 برس پہلےاس کی ماں کا انتقال ہوا۔اور مزید حیران کن یہ کہ اس کی اکلوتی بہن ، جو کے ایک متحرک سوشل خاتون تھی اس کے شوہر یعنی نطشے کے بہنوئی نے بھی خودکشی کی تھی۔مگر نطشے کو اس کی قوت ادراک نے آخری سانس تک اپنی حساسیت کے خلاف نبرد آزما رکھا۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3846941952202976



