عالمی ادب
"ڈاکٹر فاسٹس” کی آخری خودکلامی ڈرامہ میں”خود کلامی” کا مطلب ہے بلند آواز سے سوچ…

"ڈاکٹر فاسٹس” کی آخری خودکلامی
ڈرامہ میں”خود کلامی” کا مطلب ہے بلند آواز سے سوچنا۔ یہ دراصل ڈرامے کے ناظرین یا قاری کے سامنے کردار کا باطنی انکشاف یا کردار کی ظاہری شکل سامنے لاتی ہے۔ Soliloquy کو ایک ایسے ذریعے یا عمل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ڈرامہ نگار کردار کے پوشیدہ خیالات اور ارادے، ناظرین یا ڈرامے کے قاری تک پہنچاتا ہے، جس کے بارے میں ڈرامے کے دوسرے کردار نہیں جانتے۔
انگلینڈ کی نشاہ ثانیہ کے عظیم ڈراما نگار کرسٹوفر مارلو کا شہرہ آفاق ڈراما "ڈاکٹر فاسٹس”الزبیتھن دور کے لکھے گئے المیہ ڈراموں میں سے ایک ہے۔ اس ڈرامے میں
فاسٹس کی پہلی اور آخری خودکلامی پورے ڈرامے کے دو اہم ترین حصے ہیں۔ یہاں ہمیں فاسٹس کے مکمل طور پر دو مختلف کردار ملتے ہیں۔ پہلے میں ہمیں ایک ایسا فاسٹس ملتا ہے، جو ذہین فطین اور متکبر آدمی ہے۔ لیکن آخری گفتگو میں ہمیں ایک بہت ہی خوف زدہ اور بے بس فاسٹس ملتا ہے جو پچھتاوے کا شکار ہے اور معافی کا طلبگار ہے۔ مارلو نے ڈرامے میں خود کلامی کے یہ دو بالکل مختلف پہلو بہت زبردست انداز میں پیش کئے ہیں۔
پہلی گفتگو میں ہم ایسے ڈاکٹر فاسٹس سےملتے ہیں جو ایک عظیم سکالر ہے، جو اپنے مطالعہ کی میز پر بیٹھ کر علم کے حصول کے لیے مختلف شعبوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اور ان شعبوں میں سے فاسٹس مابعد الطبیعاتی فلسفہ، طب، قانون اور الوہیت کا انتخاب کرتا ہے، اور انہیں سلسلہ وار رد کرتا ہے کیونکہ یہ مضامین ڈاکٹر فاسٹس کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر آخر کار وہ کالے جادو کو اپنانے کا فیصلہ کرتا ہے جو اسے بےحد پرکشش نظر آتا ہے۔ جادو نہ صرف اس کے لیے دھن لائے گا بلکہ اسے سب سے زیادہ طاقتور بنائے گا۔ کالے جادو کے ذریعے فاسٹس دوسرے ملک کے راز جان سکتا ہے۔ اس سے اس کے پاس وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہے گا۔ لہذا، فاسٹس کے خیال میں یہ کالا جادو ہی ہے جس کا اس کی زندگی پر بہت گہرا اثر ہے۔ جادو سیکھنے سے زمین پر وہ اسی طرح اپنے اختیارات سے لطف اندوز ہوگا جیسے دیوتا آسمان پر ۔ فاسٹس کا خیال ہے-
"ایک ماہر جادوگر ایک طاقتور دیوتا کی مانند ہوتا ہے۔”
اس گفتگو سے ہمارے سامنے ایک ایسا فاسٹس آتا ہے جو بہت پڑھا لکھا، تیز طرار، پراعتماد، مغرور اور لالچی شخص ہے۔ جو سچائی کے لیے نہیں بلکہ طاقت کے حصول کے لیے جادو کا علم حاصل کرناچاہتا ہے۔ وہ اپنا موازنہ خدا کے ساتھ کرتا ہے اور بائبل سے انکاری ہو جاتا ہے جو اس کی زندگی کو ایک بھیانک انجام کی طرف لے جاتا ہے۔
جب فاسٹس جادو کی کتاب پڑھنی شروع کرتا ہے تو، اسی دوران شیطان کا نائب میفسٹوفیلس اس کے پاس آ تا ہے۔ فاسٹس میفسٹوفیلس کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کرتا ہے کہ وہ 24 برس تک کی خدمت کے عوض اپنی روح شیطان لوسیفر کو بیچ دے گا اور وہ اس کی روح کوجہنم میں لے جانے کا اختیار رکھےگا۔ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد فاسٹس زمینی زندگی سے بھر پور طریقے سے لطف اندوز ہوتا ہے اور اپنی تمام خواہشات کو پورا کرواتا ہے۔ لیکن جب 24 برس گزر جاتے ہیں تو فاسٹس پچھتاوے کا شکار ہو جاتا ہے آدھی رات کو شیطان فاسٹس کی روح ہمیشہ کے لیے جہنم میں لے جانے کے لیے آنے ہی والے ہوتے ہیں تو فاسٹس کی دماغی حالت قابلِ رحم ہوجاتی ہے۔ اس کی آخری خودکلامی میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بد حال فاسٹس جس کی پریشان کن نفسیاتی حالت کو کرسٹوفر مارلو جس چابک دستی اور خوبصورتی سے بیان کرتا ہے، یہ نہ صرف مارلو کو اپنے وقت کا عظیم ڈراما نگار بنادیتا ہے بلکہ اس خودکلامی کو بھی ایک لازوال خودکلامی بنا دیتا ہے ۔
آخری خودکلامی میں ہمیں مکمل طور پر ایک مختلف فاسٹس ملتا ہے۔ ایک ایسا شخص جسے محض کچھ دیر کے لیے زندہ چھوڑ دیا گیا ہو اور پھر اس کی روح ہمیشہ کے لیے شیطان کے قبضے میں جانے والی ہو۔ اب فاسٹس کو اپنے گناہوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ معافی کا طلبگار ہوتا ہے، کبھی وہ حرکت کرتے سیاروں کے سامنے گڑگڑاتا ہے، آہ و بکا کرتا ہے، کبھی وہ وقت کو ابدی بن جانے کی ترغیب دیتا نظر آتا ہے تا کہ وہ توبہ کر سکے۔ کہیں فاسٹس پہاڑوں اور چٹانوں کو خود پر گرکر ملیامیٹ کرنےکی درخواست کرتا ہے الغرض وہ ہر خیال اور سوچ سامنے لاتا ہے کہ نجات کی کوئی صورت گری ممکن ہو ۔ آئیے آپ کو دکھاتے یہ لازوال خودکلامی بہت خوب صورت اردو ترجمے کے ساتھ، اگر فاسٹس خود اردو میں پرفارم کرتا تو شاید ایسے ہی کرتا۔ فیصلہ آپ پر ہے۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3841530816077423



