چین کے نوبل یافتہ ادیب ” مویان ” کے نوبل خطبے سے ایک انتخاب احباب کی نذر: داستا…

داستان گو
معزز خواتین و حضرات اور قابل احترام اراکین اکیڈمی !
میرا خیال ہے کہ آپ سب لوگ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذریعے شمالی گاؤمی قصبے کے بارے میں جانتے ہوں گے۔۔ آپ نے میرے نوے سالہ بوڑھے والد کو دیکھا ہوگا۔ اُس کے علاوہ آپ نے میرے بھائیوں، میری بہن میری بیوی اور میری بیٹی حتی کہ میری پوتی کو بھی دیکھا ہو گا جو کہ اب ایک سال اور چار ماہ کی ہے، لیکن اِس وقت میں سب سے زیادہ جس کو یاد کر رہا ہوں وہ میری والدہ محترمہ ہیں، جو اب اِس دنیا میں نہیں رہیں۔ کاش کہ آج وہ بھی یہاں اس تقریب میں ہوتیں۔۔
میری والدہ 1922ء میں پیدا ہوئیں اور 1994 ء میں اِس جہان سے کوچ کر گئیں۔ ہم نے اُن کی تدفین گاؤں کے مشرق میں آڑو کے ایک باغ میں کی تھی۔ گزشتہ برس ہمیں اُن کی قبر کو گاؤں سے مزید آگے منتقل کرنا پڑا کیونکہ وہاں سے نئی ریلوے لائن کو گزرنا تھا۔ جب ہم نے اُن کی قبر کشائی کی تو تابوت گل چکا تھا اور اُن کا جسم مٹی میں مل چکا تھا۔ اِس لیے ہم نے آس پاس کی مٹی بھی کھود ڈالی، ایک
علامت کے طور پر، اور پھر اُنہیں نئی قبر میں لے گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ میری والدہ اِس زمین کا حصہ بن چکی ہے اور جب میں دھرتی ماں سے مخاطب ہوتا ہوں تو دراصل اپنی والدہ سے مخاطب ہوتا ہوں۔۔
میں اپنی ماں کا سب سے چھوٹا بچہ تھا۔۔
عوامی باورچی خانے سے ویکیوم بوتل میں پانی بھر کر لانا میری ابتدائی یادوں میں سے ایک یاد ہے۔ ہفتے کے اختتام پر میں بھوک سے نڈھال تھا۔ اِس لیے بوتل میرے ہاتھ سے گری اور ٹوٹ گئی۔ ڈر کے مارے سارا دن میں بھوسے کے ڈھیر میں چھپا رہا۔ شام کے وقت میں نے سنا کہ میری ماں مجھے میرے اصل نام سے پکار رہی ہے۔ میں رینگتا ہوا باہر آیا اور مار کھانے کے لیے تیار تھا۔ لیکن انہوں نے مجھ نہ مارا اور نہ ہی ڈانٹا۔ اُنہوں نے بس میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ایک آہ بھری۔۔
انہی یادوں میں ایک درد بھری یاد اُس دن کی ہے جب میں اپنی والدہ کے ساتھ کمیون کے کھیت میں گندم کے خوشے جمع کر رہا تھا۔ جیسے ہی محافظ آیا سب نے دوڑ لگا دی لیکن چھوٹے پاؤں ہونے کی وجہ سے میری والدہ بھاگ نہ سکی اور محافظ نے اُنہیں پکڑ لیا اور اتنی زور سے تھپڑ رسید کیا کہ وہ زمین پر جا گریں۔ اُس نے ہماری جمع کی ہوئی گندم ضبط کر لی اور سیٹی بجاتے ہوئے چل دیا۔ میری والدہ کے ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا۔ اُن کی آنکھوں میں ایسی مایوسی تھی جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ سالوں بعد جب بازار میں میرا سامنا اُس محافظ سے ہوا تو وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ میں نے اس سے بدلہ لینا چاہا لیکن میری والدہ نے مجھے روک دیا؛
"بیٹے” اُنہوں نے پیار سے کہا "یہ آدمی کوئی اور ہے۔”
مجھے مون فیسٹیول کے دن اچھی طرح یاد ہیں کیونکہ یہ تہوار ان چند دنوں میں ایک تھا جب ہم سب کو پیالے میں ایک ایک ڈمپلنگ ملتی تھی۔ ایک بار تہوار کے دن ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تو ایک بوڑھا فقیر آگیا۔ میں نے اسے آدھا پیالہ شکر قندی دے کر بھیجنا چاہا لیکن اسے غصہ آگیا۔۔
میں ایک بوڑھا آدمی ہوں، اُس نے کہا ” تم خود تو ڈمپلنگ کھا رہے ہو اور مجھے یہ دے رہے ہو۔ کوئی اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟ میں نے بھی غصے سے جواب دیا ” ہمیں سال میں بمشکل ایک ڈمپلنگ کھانے کو ملتی ہے۔ تمہیں شکر گزار ہونا چاہے کہ کم از تمہیں شکر قندی مل رہی ہے۔ لینی ہے تو لو ورنہ دفعہ ہو جاؤ۔ میری والدہ نے میری سرزنش کی اور اپنا آدھا پیالہ فقیر کے پیالے میں انڈیل دیا۔۔
میری یادوں میں سے ایک یاد ایسی ہے جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ میں بازار میں گوبھی بیچنے کے لیے اپنی والدہ کی مدد کیا کرتا تھا۔ میں نے پیسے وصول کرتے ہوئے ایک بزرگ سے ایک °جیاو زیادہ لے لیا۔ مجھے نہیں یاد کہ جان بوجھ کر یا بھول کر۔۔۔ اور پھر سکول چلا گیا۔۔ جب میں شام کو گھر واپس آیا تو میری والدہ رو رہی تھیں۔ میں حیران تھا کیونکہ وہ بہت کم رویا کرتی تھیں۔۔ مجھے ڈانٹے
کے بجائے اُنہوں نے پیار سے صرف اتنا کہا؛
” تم نے آج اپنی ماں کو شرمندہ کروا دیا۔۔”
ابھی میں کم سن ہی تھا کہ میری والدہ کو پھیپھڑوں کی بیماری ہوگئی۔ بھوک، بیماری اور کام کی زیادتی کی وجہ سے میرے خاندان کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ سامنے کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ مستقبل کے حوالے سے مایوس تھا۔ مجھے خدشہ تھا کہ والدہ خودکشی نہ کر لیں۔ ہر روز شام کو جب میں گھر واپس آتا تو سب سے پہلے اپنی والدہ کو آواز دیتا۔ ان کی آواز مجھے جینے کا حوصلہ دیتی اور اگر جواباً ان کی آواز نہ آتی تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی۔۔ میں اُنہیں آس پاس کے گھروں اور قریبی فیکٹری میں ڈھونڈنے چلا جاتا۔ ایک دن جب وہ کہیں بھی نظر نہ آئیں تو میں صحن میں بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔۔ عین اُسی وقت وہ کمر پر ایندھن کے لیے لکڑی لادے داخل ہوئیں۔۔ وہ بہت ناراض ہوئیں لیکن میں نے رونے کی اصل وجہ اُنہیں نہ بتائی۔ لیکن وہ جانتی تھیں۔۔
بیٹے اُنہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا؛
” پریشان مت ہو، چاہے میری زندگی میں کوئی خوشی نہ ہو، لیکن میں تمہیں تب تک چھوڑ کر نہیں جاؤں گی جب تک پاتال سے خدا کا بلاوا نہیں آتا۔۔”
میں پیدائشی بدصورت تھا۔ گاؤں والے میرا مذاق اُڑایا کرتے تھے اور سکول کے بدمعاش لڑکے مجھے مارا کرتے تھے۔ جب میں روتا ہوا گھر پہنچا تو میری والدہ کہا کرتی؛
” تم بدصورت نہیں ہو بیٹے۔ تمہاری ایک ناک اور دو آنکھیں ہیں، ہاتھ پاؤں بھی صحیح سلامت ہیں۔ تم بھلا بد صورت کیسے ہو سکتے ہو؟ اگر تمہارا دل صاف ہے اور تم ہمیشہ بھلائی کرتے ہو تو بدصورتی خوبصورتی میں بدل جاتی ہے۔“
بعد میں جب میں شہر منتقل ہو گیا تو پڑھے لکھے لوگ میری پیٹھ پیچھے مجھ پر ہنسا کرتے تھے۔ کچھ تو میرے
سامنے ہی میرا مذاق اُڑاتے تھے لیکن ہر بار میں اپنی ماں کی کہی ہوئی بات یاد کرتا اور عاجزی سے معافی کا طلبگار ہوتا۔۔۔
جو لوگ پڑھنا جانتے تھے، میری والدہ اُن کی بہت عزت کیا کرتی تھیں۔ ہم اتنے غریب تھے کہ ہمیں کبھی بھی یہ پتا نہ ہوتا تھا کہ اگلے وقت کا کھانا ملے گا یا نہیں لیکن جب بھی میں کتاب خریدنے یا لکھنے کے لیے کچھ خریدنے کی فرمائش کرتا تو میری والدہ وہ فرمائش ضرور پوری کرتیں۔۔
اُنہیں کام چور لوگ پسند نہیں تھے لیکن جب کتاب پڑھنے کی وجہ سے میں اپنے ذمے کا کام چھوڑ دیتا تو وہ کبھی کچھ نہ کہتیں۔۔
ایک بار بازار میں ایک داستان گو آیا اور میں چھپ کر اُس کی کہانی سنے پہنچ گیا۔ وہ نا خوش تھیں کہ میں کام چھوڑ کر کہانی سننے چلا گیا تھا۔ لیکن جب وہ رات کو مٹی کے تیل سے جلنے والے دیے کی روشنی میں ہمارے لیے سردی کے کپڑے سی رہی تھیں تو مجھ سے رہا نہ گیا اور اُنہیں بار بار وہ تمام کہانیاں سنائیں جو بازار میں داستان گو نے سنائی تھیں۔۔ پہلے پہل تو اُنہوں نے بے دلی سے میری کہانی سنی کیونکہ اُن کے خیال میں داستان گو لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور وقت کا ضیاع کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے میں کہانیاں سناتا گیا اُن کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ اُس دن کے بعد اُنہوں نے مجھے اِس بات کی مکمل اجازت دے دی کہ میں کام کے وقت جا کر مزید کہانیاں سن سکتا ہوں۔۔ اُن کی اس شفقت کے بدلے میں، میں گھر لوٹ کر اُنہیں کہانی کا ایک ایک لفظ سنایا کرتا تھا۔۔
جلد ہی میں داستان گو کی بنائی ہوئی کہانیاں دہرا دہرا کر اکتا گیا، اسی لیے میں نے اُن کہانیوں میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دیں۔ میں اُن کہانیوں میں جان بوجھ کر وہ باتیں شامل کرتا جو والدہ کو خوش کر دیتی تھیں اور بعض اوقات کہانیوں کا اختتام بھی تبدیل کر دیا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ سامعین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ میری والدہ کے ساتھ میری بڑی بہنیں، میری خالہ اور میری نانی بھی دلچسپی لینے لگیں۔ کبھی کبھی کہانی سنتے سنتے میری والدہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتی؛
” تم بڑے ہو کر کیا کرو کے بیٹے؟ ایسے ہی بچوں کی طرح کہانیاں سناتے رہو گے۔۔؟ ”
•••
ترجمہ: ریحان اسلام
حوالہ: مویان کی کہانیاں
انتخاب و ٹائپنگ: احمد بلال
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3852206858343152



