عالمی ادب

جارج صلیبا کی تحقیق؟ دوسرا حصہ گفتگو: کلیم حسین…

جارج صلیبا کی تحقیق؟
دوسرا حصہ

گفتگو: کلیم حسین
ترجمہ: ناصر فاروق

نشاۃ ثانیہ کا یورپ فقط شاہی گھرانوں کا ایک سلسلہ تھا۔ ازمنہ وسطٰی کے اس یورپ کی جڑیں جاگیردارانہ نظام میں گہری تھیں۔ سولہویں صدی کی ابتدا میں یہاں عربی علمی نسخے، خاص طورپر سائنسی نسخے جمع کیے جارہے تھے۔ یہ ترقی پذیر یورپ کی دیگر سرگرمیوں کی طرح ایک اہم سرگرمی تھی، کہ جسے علمی ترقی کے لیے ناگزیر باور کیا گیا تھا۔ یہ یورپ نئی دنیا دریافت کررہا تھا۔ اس یورپ پر سلطنت عثمانیہ کے اثرات بھی گہرے تھے۔ اسلام عثمانی سلطنت کی صورت میں یورپی زندگی میں نفوذ کررہا تھا۔ دیگر ساری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ علمی نسخوں کی منتقلی بھی جاری تھی۔ یوں یہ عربی نسخے یورپ کے ’دور دریافت‘ کی میراث ہیں۔ یہ یورپ کی اپنی تاریخ جدید کا بھی تعمیری حصہ ہیں۔ یورپیوں نے ان کا جتنا اور جیسا استعمال ہوسکتا تھا، کیا۔ جیسا کہ ہم کوپرینکس کے معاملہ میں دیکھ چکے ہیں، کس کس طرح اُس نے عربی علوم سے بھرپور استفادہ کیا۔ لیکن جب آپ اس سوال سے سامنا کرتے ہیں کہ اب تک یہ علمی تعلقات معلوم کیوں نہ تھے؟ تب یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ سائنس کی تاریخ نویسی کس قدر غیر معیاری رہی ہے!یہی وجہ ہے کہ آج ہم سائنس کی اصلاح شدہ تاریخ ازسرنو لکھ رہے ہیں۔
یہ بہت سنجیدہ سوال ہے، کہ سائنس کی تاریخ کیسے لکھی جائے اور کون لکھے؟ یورپی بڑے مطمئن تھے، اوردور تنویر سے اب تک خود کوکلاسیکی یونانی لاطینی عہدسے جوڑتے رہے تھے، اور چھلانگ لگاکر ازمنہ وسطٰی سے دور جدید میں داخل ہوئے تھے۔ یہ اُن کے لیے آسان تھا کہ یونان اور لاطینی دنیا سے خود کو نظریاتی طورپر تسلسل دے سکیں۔اسلامی سائنس کی تاریخ اُن کا موضوع ہی نہ تھا، باوجود اس حقیقت کے کہ مستشرقین اس نوعیت کی تحقیق میں دلچسپی لیتے تھے، مگر یہ دلچسپی دوسرے درجہ کی تھی۔ یہ محض اتفاق تھا، جو 1957میں پیش آیا، ایک عجیب اتفاق کہ ابن شاطر دمشقی کا عربی نسخہ، جوآکسفورڈ یونیورسٹی کی Bodleian لائبریری میں محفوظ تھا، ایک شخص کی توجہ میں آگیا، سائنس کا ایک جید مؤرخ جس کا نام Otto E. Neugebauerہے۔ اُس نے جیسے ہی اس نسخہ کا مطالعہ کیا، کوپرینکس سے اس کاربط نظر میں آگیا، اور پھر پورا پینڈورا بکس کھُل گیا۔لوگ اس قسم کے کسی ”تعلق“ کی جستجو میں نہیں تھے، اور نہ ہی انھیں یہ حقیقت نظر آنے والی تھی۔
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں، کہ یہ لوگ ایسی کسی جستجومیں کیوں نہ تھے، تواستشراقیت کی روایت میں یہ حقیقت پاسکتے ہیں، کہ جس کی نسل در نسل ذہن سازی نے اس یقین کوپختہ کردیا تھا، کہ اسلام میں سائنسی علوم کا کہیں کوئی گزر نہیں۔ خاص طورپرغزالی کی ”تحافۃ الفلاسفہ“ کے بعد، مستشرقین نے ہمیں یہ سبق پڑھایا کہ مسلمانوں میں سائنسی علوم کا کوئی رجحان باقی نہ رہا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاضی میں شاندارپیشرفت اور اعلٰی سیاراتی اکتشافات امام غزالی کے بعد سامنے آئے۔ لہٰذا جب آپ جستجو نہیں کرتے، کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی، اور ایسا ہی ہوا۔ اس باب میں، یورپ اور اسلامی دنیا میں کہیں کوئی جستجو موجود نہ تھی۔ اگر 1957کا ’حُسن اتفاق‘ پیش نہ آتا، اورOtto E. Neugebauerکی عبقری نگاہ نہ پڑتی، یہ ”تعلق“ یوں ہی نسخوں کی گرد میں مدفون رہ جاتا، اور کبھی کوئی نہ جان پاتا، کہ کیسی تاریخ ساز حقیقت پوشیدہ رہ گئی۔
کچھ لوگ، جیسے کہ دسویں صدی کے عبدالرحمان صوفی ”ستاروں کے قوانین“ کی دوروایتوں کے امین تھے، مطلب یہ کہ ستاروں کا وہ بیان کہ جسے ہم ”مستقل کواکب“ اور”ثابت ستارے“ کہتے ہیں، یہ سیاروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ عبدالرحما ن صوفی نے ایک جانب قدیم ’عربی قانون ِ فلک‘بیان کیا،دوسری جانب یونانی ’فلک شناسی‘ سے بھی واقفیت حاصل کی۔ دونوں عربی اور یونانی روایتوں میں انتہائی بُعد تھا، یونانی آسمان پر جا بہ جاخداؤں، دیوی دیوتاؤں کا سلسلہ نظر آتا تھا جبکہ قدیم بدوی عربوں کاآسمان ایسے دیوی دیوتاؤں سے عاری تھا، یہ بالکل مختلف بیانیے سامنے لاتا ہے۔ صوفی نے فیصلہ کیاکہ دونوں روایتوں کے قوانین یکجا کیے جائیں، اور ایک دوسرے کی اصطلاحوں میں بیان کیے جائیں۔ یہ ’فلکیات‘ کے بیان میں ایک ایسا مربوط بیانیہ تھا، کہ جس سے دسویں صدی کا عربی دان واقف تھا۔ صوفی کا اصل کارنامہ یہ ہے، کہ ستاروں کے قدیم عرب ناموں سے دنیا کو متعارف کروایا، یہ وہ نام تھے جنھیں یورپی نشاۃ ثانیہ میں Peter Apianos جیسے کئی سائنس دانوں نے اختیار کیا،اور انھیں ہمارے لیے محفوظ رکھا، یہی وجہ ہے کہ آج ہم جب کوئی بھی آسمانی نقشہatlas of the sky دیکھتے ہیں، ہمارا واسطہ اُن ستاروں سے پڑتا ہے، کہ جن کے نام الطائر، المضاع،القائد وغیرہ نظر آتے ہیں۔ یہ وہ قدیم عربی ستارے ہیں، جو ہم تک صوفی اورApianosکے ذریعہ پہنچے۔
الفرغانی ایک مختلف منصوبے پر کام کررہا تھا۔یہ مامون کا دور تھا۔ وہ بنیادی طورپر ایک انجنئیرتھا،نہ کہ کوئی لائق فائق ماہر فلکیات! مگر اُس نے یونانی علم فلکیات کے قوانین کا مطالعہ کیا، اور اُس کا ایک تعارفی متن تحریر کیا، یہ علم کونیات کے طلبہ کی تدریس کے لیے فائدہ مند تھا۔ یہ دور مسلم دنیا میں علم و تحقیق و تخلیق کا زرخیز دور تھا، اس لیے فرغانی نے چند جدید کونیاتی قوانین اور قدروں کوبھی اپنے کام کا حصہ بنایا۔ یوں یونانی علم فلکیات اپنی اپ ڈیٹ صورت میں طلبہ کے سامنے ظاہر ہوا۔ یہ تیس چالیس صفحات کا نصابی کتابچہ اختصار اور جامعیت کاشاہکار ثابت ہوا۔ اسے بعد میں لاطینی میں ترجمہ کیا گیا۔
ابن شاطر، اُس کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ وہ دمشق کی مسجد الموی کا مُوَقِت تھا، بلکہ یہاں ہم ایک ایسے فرد کو دیکھتے ہیں، جواعلٰی سیاراتی نظریہ ساز ہے، اور وہ سارے قدیم نظریات مسترد کردیتا ہے، جوکہتے آئے تھے کہ مذہب اور سائنس میں ہم آہنگی نہیں ہے۔ شاطر کی عبقریت صرف یہی نہیں ہے کہ ہمیں نئے سیاراتی نظریات سے متعارف کرواتا ہے، بلکہ چاند کی حرکت پر ایک نیا نمونہ بھی وضع کرتا ہے، اور اس کی ریاضیاتی وضاحت کرتا ہے، کہ کس طرح چاند زمین کے گرد حرکت کرتا ہے، یہ اعداد شمار درست ہیں، ان کی مدد سے آپ چاند کی کسی بھی حالت کی درست پیش گوئی کرسکتے ہیں۔ یہی وہ نمونہ ہے، جسے کوپرینکس نے لفظ بہ لفظ نقل کیا ہے۔
المامون، جس پر بڑی لوک کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔ اُس کے بارے میں میرا ذاتی احساس یہ ہے کہ وہ اسلامی تہذیب سے متعلق واحد سیاستدان تھا،جوعلوم کے حصول میں گہری سنجیدگی اوراہلیت ظاہر کررہا تھا۔، تاہم نویں صدی میں علمی ذخیرے کی پیداوار میں سب سے زرخیز دور المتوکل کا تھا۔ حبش الحاسب اور حنین ابن اسحاق جیسے علماء اسی دور میں اہم ترین کام انجام دے رہے تھے۔
سائنسی آلہ اصطرلاب کی بات کرلیتے ہیں۔ ہم عجائب خانوں میں یہ آلہ دیکھ سکتے ہیں، اس کا سائز پانچ سے دس انچ ہوتا ہے۔ کئی گول دھاتی پرتوں پربنا پیچیدہ شماریاتی نظام ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ آپ ہر طرح کی ریاضیاتی گتھی سلجھاسکتے ہیں۔ وہی عبدالرحمان صوفی جو ستاروں کے نظام پر کام کررہا تھا، نے اصطرلاب سازی اور استعمال پر ایک کتاب رقم کی۔ اُس نے ہمیں 385ایسے فلکیاتی ریاضیاتی مسائل کی فہرست مہیا کی کہ جنہیں اصطرلاب سے حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ اتنا ہی فعال تھا کہ جتنا آج آپ کی جیب میں موجود ایک کیلکولیٹرہے۔ یہ آلہ علم ِفلکیات صدیوں استعمال ہوا، اور آج ہر وہ عجائب خانہ جو خود کو عجائب خانہ کہلوانا چاہتا ہے، وہاں ایک یا دو اصطرلاب آپ کوضرور ملیں گے۔
وہی حبش الحاسب، ماہر فلکیات، جوالمتوکل کے دور میں سائنسی اکتشافات کررہا تھا۔ اُس نے ایک ایسا جغرافیائی نقشہ تیار کیا، کہ جس میں مکہ مکرمہ وسط میں تھا، یہ ایک کمپاس کی طرح تھا، کہ جس کے مرکز میں سوئی حرکت کرتی ہو۔اسی طرح کا ایک آلہ سترہویں صدی کے ایران میں بھی بنایا گیا تھا، اور اُس آلہ پر پوری ایک کتاب لکھی گئی تھی، یہ آلہ بھی مکہ کی سمت رہنمائی کرتا تھا۔ حبش الحاسب ہی نے ہموار سطحوں پرکروں کا نظری خاکہ theoretical projection تیار کیاا، یعنی اُس نے ریاضیاتی مہارت سے یہ ممکن بنایاکہ دنیا کے کسی بھی غیر مسلم شہر سے مکہ مکرمہ کی سمت کا نہ صرف درست تعین کیا جاسکے بلکہ فاصلہ بھی معلوم کیا جاسکے۔ آج ہم اس ضمن میں جتنا بھی کام دیکھتے ہیں، وہ حبش الحاسب ہی کی ذہانت سے برآمد شدہ ”تھیم“ کی تغیر پذیر صورت ہیں۔
جدید سائنس کی بات کی جائے، یہ سچ کا ایک تسلسل ہے، مگر اس سچ کا ”ٹی“ کیپیٹل Tنہیں ہے۔ یہ ایک بدلتا منظر نامہ ہے۔اگر ہم قرآن حکیم کی کسی ایک آیت کو کسی ایک سائنسی نظریہ پرمنطبق کریں، اور ممکن ہے کہ آنے والے کل میں وہ سائنسی نظریہ باقی نہ رہے۔اس لیے انتہائی احتیاط کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کے لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ قرآن کا مطالعہ صرف اُس کام کے لیے کریں کہ جس کے لیے وہ نازل کیا گیا ہے: یہ اخلاقی پیغام کہ کس طرح بہترین انسان بننا ہے، ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح بہترین برتاؤ کرنا ہے، اور کائنات میں انسان کے وجود کی کیا غایت ہے، خدا سے اُن کے تعلق کی کیا نوعیت ہے، اور اُن کا اپنی روحانیت سے کیا تعلق ہے۔ قرآن کی یہ غایت نہیں کہ طبیعات کی کسی تجربہ گاہ میں لے جایا جائے، اور اُس کی بنیاد پرکسی جدید سائنسی قدر یا نظریہ کوجانچا جائے۔
اب بات میری تحقیق اور اُس پرردعمل کی،میں کئی دہائیوں سے اس موضوع پر کام کررہا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، کہ ستر کی دہائی میں جب میں New York Academy of Scienceتھا، اور کہا کرتا تھا کہ ابن شاطر اور کوپرینکس میں کہیں کوئی تعلق ضرور ہے۔ پہلی بار جب یہ بات میں نے حاضرین کے سامنے کی، وہاں موجود ایک ’کوپرینکن اسکالر‘ احتجاجا ہال سے باہر چلے گئے تھے۔ یقینا ایسے بہت سارے لوگ تھے، جو مجھ سے میری تحقیق پرخفا تھے۔ سالوں بعد، مجھے ای میلز ملنا شروع ہوئیں، کہ جن میں صحیح سوال اٹھائے گئے۔ وہ میری تحقیق کامطالعہ و مشاہدہ کرنا چاہتے تھے، تاکہ اس کی قدر کا تعین کرسکیں۔ یہ فطری تھا، کہ کوئی نئی تحقیق پچاس سے ساٹھ سال میں اپنا رستہ بنائے۔ بات وہاں تک پہنچی، کہ لوگ اس تحقیق تک رسائی پانے لگے تھے، یہاں تک کہ ویٹیکن کتب خانہ کی ویب سائیٹ نے اپنی ہی لائبریری میں موجود قلمی نسخہ، نصیر الدین طوسی کے عربی نسخہ کوچسپاں کیا، اس کی شرح شامل کی، اور اس بات کا واضح تذکرہ کیا کہ، یہ نسخہ ابن شاطر اور کوپرینکس میں تعلق ثابت کرتا ہے۔ اگر آپ ویٹیکن کواپنی تحقیق کا قائل کرلیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم از کم ایک اہم قدم اٹھایا جاچکا۔
ایک اور چیز ہے، جو مجھے ہمیشہ پریشان کرتی ہے، اور حاضرین و سامعین کی جانب سے سامنے آتی ہے، اور حیران کردیتی ہے، کہ مسلم دنیا میں لوگ اپنی ہی تاریخ پرجدید تحقیق سے لاعلم ہیں، اور اسلام پر اُسی معلومات پر انحصار کرتے ہیں کہ جویورپی مستشرقین کی جانب سے انیسویں صدی میں وضع کی گئی تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں میں خود کو تنہا محسوس کرتا ہوں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ تنہا ہی صدا بہ صحرا ہوں! حالانکہ، میں سمجھتا ہوں امریکا میں، یورپ میں، اور انگلینڈ میں صورتحال بہت امید افزا ہے، اور مجھے کسی بھی سوال سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ زیر گفتگو موضوع پرہم کامیاب پیشرفت کررہے ہیں۔
ایک بات بیت الحکمت کے ضمن میں ضروری ہے، بغداد کی اس درس گاہ پرجامع تحقیق و تحریر کی ضرورت ہے۔ اس کا کسی رصد گاہ سے کچھ تعلق نہیں۔ بغداد میں کوئی رصد گاہ موجود نہیں تھی۔ یہاں ماہرین فلکیات کا ایک گروہ تھا، جس کی واحد مشاہدہ گاہ مکان کا عقبی صحن یا چھت ہوا کرتی تھی۔ مامون کے دورمیں واحد رصد گاہ، جس کا آغاز ہارون الرشید کے دور میں ہوا تھا، جبل قاسیون پر تعمیر کی گئی تھی۔ تاہم یہ بھی تکنیکی طورپر مکمل رصد گاہ نہ تھی۔ یہ جگہ دمشق سے قریب تھی۔جہاں خالد الورودی جیسے کچھ علماء نے چند مشاہدات وغیرہ کیے تھے۔
رصدگاہ کے صحیح دور کی ابتدا آل بویہ کے دور میں ہوئی۔ پھر اگلی اہم رصد گاہ وہ تھی جو مراغہ میں تعمیر کی گئی۔ یہاں محی الدین العرضی جیسے ماہرین موجود تھے کہ جنھوں نے تجرباتی آلات ایجاد کیے۔ محی الدین العرضی ہی وہ معمار تھاکہ جس نے اس رصد گاہ کا نقشہ بنایا اور اسے تعمیر کروایا۔ یہاں کے تجرباتی آلات ہی کی نقل پر الغ بیگ نے 1440میں سمرقند کی رصدگاہ کے آلات تیار کروائے، اور انھیں مزید ترقی دی۔ یہ آلات پھر اٹھارہویں صدی کے ہندوستان میں جے سنگھ کی چندر منتر رصدگاہ میں نظر آئے، آپ انھیں جے پور میں بھی دیکھتے ہیں، نئی دلی میں بھی یہ نظر آئے، اور پھر آپ مدراس تک چلے جائیں توایسی رصد گاہیں نظر آئیں گی۔ یہ سب اپنے دور میں مراغہ رصد گاہ کی نقل کررہے تھے۔ اہمیت اس بات کی نہیں تھی کہ یہ لوگ نئے ستارے دریافت کررہے تھے، نئے سیاروں یا فطرت کے دیگر مظاہر سے آشنا ہورہے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے تحقیق کے ادارے قائم کردکھائے تھے۔ بلاشبہ، یہ علماء کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، کہ جہاں وہ تبادلہ تحقیق کرسکیں، مل کر مسائل حل کرسکیں، اور ایک دوسرے کو نئے علوم سے بہرہ مند کرسکیں۔ یہ ان رصد گاہوں کا سب سے اہم کام تھا۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب رُک کیوں گیا؟ یہ بالکل واضح ہوجانا چاہیے کہ ایسا غزالی کی وجہ سے ہرگز نہیں ہوا، جیسا کہ لوگ کہتے آئے ہیں، اور What Went Wrong in Islamجیسی کتابوں میں بیان کرتے رہے ہیں۔یہ سب گمراہ کن تشریحات ہیں۔ زوال کا دور سولہویں صدی سے شروع ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات سیاسی اور معاشی ہیں۔ ایک اہم وجہ یورپ میں ’دور دریافت‘ کی اوج بھی ہے۔ صرف یہی نہیں ہوا کہ اسلامی سائنس پیچھے رہ گئی بلکہ یورپی سائنس تیزی سے آگے بڑھی، اورنئی دنیا (امریکا) کی دریافت کے ساتھ ساتھ سونے چاندی کی کثرت سے درآمد بھی بڑی معاون ثابت ہوئی۔ یہ دور صرف اسلامی معاشروں پرزوال کا نہیں تھا بلکہ تمام غیر یورپی معاشرے اس صورتحال سے متاثر ہوئے۔
آخر میں بوجھل دل سے ہرنوجوان مرد عورت سے فقط اتنا ہی کہوں گا کہ اپنی ثقافت اپنی تہذیب کا خود مطالعہ کریں، خود تحقیق کریں، اور انیسویں صدی کے مستشرقین کے مطالعہ سے پرہیز کریں۔ سارے اصل متون تک خود رسائی حاصل کریں، اپنے فہم کی قوت سے انھیں سمجھیں پرکھیں، کہ کس طرح اُن کے آباء نے علوم کی دریافت کی اوراُنھیں پروان چڑھایا۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کس طرح اُن کے آباء نے تحقیق کی اور علوم کی تحصیل اور تدریس کی، اور کس طرح کائنات کے بیان میں اپنی علمی استعداد کا مظاہرہ کیا۔ اس کام کے لیے بہت سارے لوگوں کی ضرورت ہے۔ افسوس مطالعہ وتحقیق کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔ یہ خبر دیتے ہوئے دل دکھی ہے، کہ آج بھی سات سے آٹھ سو ایسے قلمی نسخے، کہ جن سے میں خود واقف ہوں، صرف دو یاتین ہی شایع ہوسکے ہیں۔ آپ اندازہ لگایے کہ کس قدر کام ہمارے لیے موجود ہے، اور کتنے ہی نوجوان اس کام کے لیے درکار ہوں گے!

(جارج صلیبانودسمبر1939کولبنان میں پیدا ہوئے۔ امریکن یونیورسٹی بیروت سے ریاضی سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اعلٰی تعلیم کے لیے 1967میں امریکا گئے۔University California, Berkeley سے شمال مشرقی مطالعات پرڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ نیویارک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسرکے فرائض انجام دیے۔ انھیں عربی اور اسلامی علوم کے نمایاں علماء کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ وہ International Astronomical Union, American Oriental Society, History of Science Society, اور Middle East Studies Associationکے رکن بھی ہیں۔
اُن کی اہم کتابوں میں Islamic Science and the Making of the European Renaissance (2007)، Rethinking the Roots of Modern Science: Arabic Scientific Manuscripts in European Libraries، Center forContemporary Arabic Studies،اور The Origin and Development of Arabic Scientific Thought in Arabicنمایاں ہیں۔)

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2917508841812963

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/