منتخب غزلیں

دردِ فرقت سے قرابت سی ہوئی جاتی ہے ہائے یہ بھی…

دردِ فرقت سے قرابت سی ہوئی جاتی ہے
ہائے یہ بھی مری عادت سی ہوئی جاتی ہے

اُف دمِ نزع بھر آئی ہیں یہ کس کی آنکھیں
مجھ کو جینے کی ضرورت سی ہوئی جاتی ہے

رشک کی یہ خِرد آشوبیاں اللہ اللہ
اپنے سایہ سے بھی وحشت سی ہوئی جاتی ہے

حُسن آمادۂ تکمیلِ جفا ہے اے دوست
پھر مجھے اپنی ضرورت سی ہوئی جاتی ہے

More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/