مصطفیٰ زیدی وفا کیسی ؟ __________ آج وہ آخری تص…

مصطفیٰ زیدی
وفا کیسی ؟
__________
آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نے
جس سے اُس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھی
جس سے بے نور خیالوں پہ چمک آتی تھی
کعبۂ رحمت اصنام تھا جو مدت سے
آج اُس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نے
آگ کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے پہ بڑھی
خواب کی لہر میں بہتے ہوئے آئے ساحل
مسکراتے ہوئے ہونٹوں کا سلگتا ہوا کرب
سرسراتے ہوئے لمحوں کے دھڑکتے ہوئے دل
جگمگاتے ہوئے آویزاں کی مبہم فریاد
دشتِ غربت میں کسی حجلہ نشیں کا محمل
ایک دن روح کا ہر تار صدا دیتا تھا
کاش ہم بک کے بھی اُس جنس گراں کو پا لیں
خود بھی کھو جائیں پر اُس رمز نہاں کو پا لیں
عقل اُس حور کے چہرے کی لکیروں کو اگر
آ مٹاتی تھی ____ تو دل اور بنا دیتا تھا
اور اب یاد کے اِس آخری پیکر کا طلسم
قصۂ رفتہ بنا ____ زیست کی ماتوں سے ہوا
دور اِک کھیت پہ بادل کا ذرا سا ٹکڑا
دھوپ کا ڈھیر ہوا ____ دھوپ کے ہاتھوں سے ہوا
اُس کا پیار ___ اُس کا بدن ___ اُس کا مہکتا ہوا روپ
آگ کی نذر ہوا ____ اور انہی باتوں سے ہوا
__
