لیو ٹالسٹائی کا اعتراف ============= کسی دن میں آ…

=============
کسی دن میں آپ کو اپنی زندگی کی کہانی بھی سناؤں گا کہ میری جوانی کے ابتدائی دس برس کتنے اہم اور سبق آموز تھے۔ میرا خیال ہے کہ لا تعداد دوسرے لوگ بھی اسی تجربے سے گزرے ہوں گے۔ میری شدید خواہش تھی کہ ایک اچھا انسان بنوں لیکن میں نوجوان تھا، میرے اندر جزبات کا جوش بھی تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں اکیلا تھا، تلاشِ خیر کے اس سفر میں بالکل تنہا لیکن ہمیشہ ایسا ہوتا تھا کہ جب بھی میں اپنی اس شدید ترین آرزو کا اظہار کرتا کہ میں اخلاقی فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہوں مجھے ناپسندیدگی اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور جب بھی ادنٰی اور لغو سرگرمیوں میں حصہ لیتا مجھے نہ صرف بے حد سراہا جاتا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی جاتی۔ ہمارے گردوپیش میں دولتمندی کی حرص، ہوس، اقتدار، جاہ پرستی، خود غرضی، تکبر، غصے اور انتقام کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ جب کبھی بھی میں ان صفات کی پذیرائی کرتا تھا میرے بزرگ میرے اقدام کو سراہتے تھے اور مجھ سے خوش ہوتے تھے۔ میری ایک بوڑھی پھوپھی مجھ سے بے حد محبت کرتی تھیں، وہ خود ایک نہایت پاکباز خاتون تھیں لیکن مجھ سے بے حد محبت کرتی تھیں، وہ خود ایک نہایت پاکباز خاتون تھیں لیکن مجھ سے ان کا سب سے بڑا مطالبہ یہی تھاکہ میں کسی شادی شدہ عورت سے تعلقات استوار کروں۔ ان کی دوسری شدید خواہش یہ تھی کہ میں زارِ روس کا ایڈ جوٹینٹ بنوں اور تیسری اور سب سے بڑی آرزو یہ کہ میں کسی امیر ترین لڑکی کو اپنی دلہن بناؤں اور جہیز میں زیادہ سے زیادہ غلام حاصل کروں۔
زندگی کے ان برسوں کو میں نفرت، خوف اور رنج کے بغیر یاد نہیں کرسکتا۔ میں نے جنگ میں لوگوں کو ہلاک کیا، بعض انسانوں کو مروانے کے لیے انفرادی مقابلے (deul) منعقد کروائے، تاش کے پتوں پر جوا کھیلا ، دہقانوں کی محنت پر عیش کی اور جواباً انہیں سزائیں دیں، میں نے زناکاری کی اور دھوکے دیے۔ جھوٹ، چوری، ہر قسم کی بدکاری، شراب نوشی، تشدد، قتل ۔۔۔۔۔ الغرض وہ کونسا جُرم تھا جسکا میں نے ارتکاب نہیں کیا۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ہر کسی نے میری تعریف کی اور میرے ہمعصروں نے ہمیشہ مجھے اخلاقی اعتبار سے دوسروں سے بہتر گروانا بلکہ آج بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔
دس برس میں نے اسی طرح گزار دیے۔
اس دوران میں نے لکھنے کا آغاز کردیا بلکہ اس کے پسِ پردہ محرکات میں صرف خودنمائی، ذاتی شوق اور غرور شامل تھے۔ اپنی تحریروں میں بھی میں نے وہی کچھ کیا جو زندگی میں کرنے کا عادی تھا۔ شہرت اور دولت کے حصول کے لیے میں نے اپنے ناولوں اور افسانوں میں اپنی اچھائی اور نیکی کی بجائے اپنی برائی کو اجاگر کیا۔ یقیناً میں نے یہی کچھ کیا۔ بارہا تفنن، مزاح یا لاتعلقی کے پردے میں ، میں نے ان اچھائیوں کو چھپادیا یا نظر انداز کردیا جو زیست کو اسکا مفہوم عطا کرتی ہیں لیکن اس میں بھی نہ صرف میں پوری طرح کامیاب رہا بلکہ بے حد سراہا گیا۔
جنگ کے بعد میں سینٹ پیٹرز برگ واپس آگیا اور ادیبوں اور مصنفوں کی صحبت میں اُٹھنے بیٹھنے لگا۔ انہوں نے مجھے اپنا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا اور میری خوشامد کرنے لگے۔ اب میرے پاس رکنے اور پلٹ کر دیکھنے کا وقت ہی نہ تھا، میں نے زندگی کے متعلق انہی افراد کے نقطہء نظر کو پوری طرح اپنالیا اور جلد ہی میری وہ کوششیں جو میں خود کو سدھارنے کے لیے کبھی کبھار کرلیتا تھا، ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئیں۔ انکی بدولت مجھے اپنی غیر شائستہ اور غیر منظم زندگی کے لیے گویا جواز سا مل گیا۔
میرے ساتھیوں خصوصاً ادیبوں کا زندگی کے تئیں رویہ نہایت خودپرستانہ تھا ان کے نزدیک زندگی تغیر و ترقی کا ایک عمل تھا، جس میں سب سے اہم کردار مفکرین کا تھا اور مفکروں میں بھی سب سے بڑھ کر ممتاز شاعراور ادیب تھے اور ہم ہی وہ لوگ تھے جو زندگی پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوسکتے تھے۔ ہمارا فریضہ عوام کو تعلیم دینا تھا۔ ان سوالات سے بچنے کے لیے کہ "ہم جانتے ہیں اور ہمیں کیا سکھانا چاہیئے؟” انہوں نے یہ نظریہ تراش رکھا تھاکہ تعلیم کا نفسِ مضمون جاننا شاعر یا ادیب کے لیے ضروری نہیں وہ لاشعوری طور پر عوام کو علم کا انتقال کرتا رہتا ہے۔ چونکہ میں اپنے دور کا ایک عظیم فنکار اور ادیب تھا چنانچہ میرے لیے ضروری تھاکہ اس نظریے کو درست تسلیم کرلوں۔ میں بھی بطور ادیب ہمیشہ یہ جانے بغیر لکھتا رہا کہ میں عوام کو کیا تعلیم دے رہا ہوں۔ اس کے باوجود مجھے اس کا معاوضہ ملتا رہا۔ مجھے اچھے سے اچھا کھانا، رہائش، عورتیں، محبت اور دولت میسر آتی رہی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں روز بروز مشہور ہوتا گیا۔ اس سے یقیناً یہی ثابت ہوتا ہے کہ میں بہت اچھی "تعلیم” دے رہا تھا۔
شاعری اور ارتقائے حیات گویا میرے لیے مذہب تھے اور میں اس مذہب کا مبلغ یا پادری تھا۔ یہ ایک سودمند، خوشگوار اور عظیم منصب تھا اور میں طویل عرصہ اس مذہب کی صداقت کو کسی شک و شبے کے بغیر تسلیم کرتا رہا۔ تاہم یہ صورتِ حال تادیر قائم نہ رہ سکی۔ اور میں اسکی حقیقت کا جائزہ لینے پر مجبور ہوگیا۔ سب سے پہلا شبہ جو میرے دل میں ابھرا وہ یہ تھاکہ خود کو انسانیت کا امام سمجھنے والے شاعر، مفکر اور ادیب ایک دوسرے سے کس طرح دست و گریباں رہتے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی بزعمِ خود برحق اور دوسرا غلط اور جاہل تھا۔ یہ پیغمبر زیادہ تر ایک دوسرے کی کردار کشی میں مصروف رہتے تھے اور ان کی اہم ذمہ داریوں میں ایک دوسرے سے لڑنا، دھوکہ دینا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانا شامل تھا۔ ہم میں سے متعدد ایسے تھے، جنہیں ان ادنٰی جھگڑوں اور چپقلشوں سے کوئی سروکار نہ تھا لیکن وہ اپنے اپنے حال میں مست تھے اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل تھے۔ ان کے اس رویے نے مجھے اس مذہب کی صداقت پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا۔
مزید برآں جس چیز نے میرے شبے کو تقویت دی وہ یہ کہ میں نے مشاہدہ کیا یہ شاعر اور ادیب نہایت ہی بداخلاق اور گھٹیا انسان تھے، ان کی اکثریت بہت برے لوگوں پر مشتمل تھی ان میں سے بیشتر تو کردار کے اعتبار سے ان فوجیوں سے بھی گئے گزرے تھے جنہیں میں اپنے سابق کیریئر کے دوران کل چکا تھا۔ یہ لوگ نہایت ہی آسودہ اور مطمئن تھے اور ان کا انداز ایسا تھا جیسے نہایت مقدس افراد اور درویشوں کا ہوتا ہے۔ صرف وہی لوگ اس قدر مسرور ہوسکتے جو تقدیس کا مفہوم جانتے ہی نہ ہوں۔ جلد ہی یہ لوگ مجھے بے حد بُرے لگنے لگے اور میری ذات میری اپنی نظر میں کھٹکنے لگی اور مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ مذہب بھی محض جھوٹ ہی کا ایک پلندہ ہے۔
یہاں حیرت کا امر یہ ہے کہ جلد ہی میں نے انسانوں کے اس گروہ کی بددیانتی کو جانچ لیا اور انہیں مسترد کردیا لیکن میں اس مرتبے اور اعزاز کو ہر گز ترک نہ کرسکا جو انہوں نے مجھے فنکار، دانشور، معلم، ادیب اور شاعر جیسے الفاظ کی صورت میں دیا تھا۔ مجھے بھی یہی فریب ہوتا تھا کہ میں یہ سب کچھ ہوں اور واقعتاً معاشرے کو تعلیم سے بہرہ ور کررہا ہوں، یہ جانے بغیر کہ سکھائے جانے والے علم کی نوعیت کیا ہے لیکن اس سے مجھے ایک اور نقصان ہوا، ان افراد سے اپنا موازنہ کرنے کے نتیجے میں میرے اندر تکبر، رعونت اور نخوت جیسے جزبات بھی پیدا ہوگئے۔ اب جبکہ میں اپنی زندگی کے اس دور اور ذہنی حالت کے متعلق سوچتا ہوں تو شدید رنج اور شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ اس سے میرے اندر بالکل ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جیسے کسی کی پاگل خانے میں ہوسکتی ہو۔
اس وقت ہم سب کو یقین تھاکہ ہمارا مقصد صرف باتیں کرنا مزید باتیں کرنا، لکھنا اور چھپوانا ہے اور ہمیں جس قدر جلدی اور جس قدر زیادہ ممکن ہوسکے لکھنا اور شائع کروانا چاہیئے کیونکہ یہ انسانیت کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔ ہم جیسے ہزاروں ادیب جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اور ذلیل کرتے تھے انسانیت کی "بھلائی” کے لیے شب و روز کتابیں لکھتے اور چھپواتے تھے۔ اپنی لاعلمی سے بے خبر، ہم زندگی کے بنیادی ترین سوال کا جواب بھی نہیں جانتے تھے کہ خیرکیا ہے شر کیا ہے؟ ہم سب اکٹھے بولا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی بات سننا کبھی گوارہ نہیں کرتے تھے۔ کبھی کبھار ہم ایک دوسرے پر دادو تحسین کے ڈونگرے برساتے تھے لیکن اسکا مقصد بھی جوابی ستائش اور تعریف حاصل کرنا ہوتا تھا۔ یہ بالکل اسی طرح تھا جیسے ہم کسی پاگل خانے میں بند ہوں۔ اس پاگل خانے میں ہزاروں مزدور دن رات کام کرتے تھے اور لاکھوں کروڑوں الفاظ کا انبار لگاتے تھے جنہیں ڈاک کے ذریعے روس کے طول و عرض میں پھیلا دیا جاتا تھا۔ اس طرح ہم شب و روز بزعم خود قوم کی خدمت کرتے تھے اور پھر اس بات پر غمزدہ ہوتے تھے کہ ہمیں خاطر خواہ اہمیت اور توجہ نہیں دی جاتی۔
اب مجھے اس دور کی ہولناک، لرزہ خیز اور حیرت انگیز باتیں یاد آتی ہیں۔ ہمارا مقصدِ حیات صرف دولت اور شہرت حاصل کرنا تھا۔ اسکی زیادہ سے زیادہ طلب میں ہم کتابوں اور جرائد کے ڈھیر پیدا کرتے تھے۔ اپنے وجود کی بے معنویت اور کام بے مقصدیت کا احساس رفع کرنے کے لیے ہم زیادہ بحث و تمحیص اور استدلال کا ہسارا لیتے تھے تاکہ صرف خود کو اپنی اہمیت اور جواز کا قائل کرسکیں۔ اس کے لیے ہم نے کچھ اس قسم کے نظریات کو فروغ دیا "ہر شے جو موجود ہے وہ عقلی ہے اور ارتقاء کے راستے پر گامزن ہے، یہ ارتقاء خرد افروزیت کے تحت ہوتا ہے جبکہ خرد افروزی کو جانچنے کا پیمانہ رسائل و جرائد اور کتب کی فروخت ہے۔ ہماری عزت اور دولت کا راز کتابیں اور مقالے لکھنے میں پنہاں ہے یہی اس امر کا ثبوت ہے کہ ہم بہت اہم اور کارآمد انسان ہیں۔” جلد ہی ہم نے دلائل کے اس سلسلے کو بھی ترک کردیا کیونکہ ہم ایک دوسرے سے متفق ہونے کو توہین گردانتے تھے۔ ہماری واحد خوشی ایک دوسرے کی مخالفت اور تردید تھی لیکن ہم سب کو فراواں رزق اور ستائش بلا روک ٹوک ملتے رہے اور ہم اس سوچ میں پختہ ہوگئے کہ ہم سب یہ درست اور برحق ہیں۔
اب مجھ پر افشاء ہوا کہ ہمارے اور پاگلوں کے رویے میں کچھ زیادہ فرق نہ تھا۔ تب مجھے شبہ تھاکہ جواب یقین میں بدل چکا ہے۔ تاہم سب پاگلوں کی طرح میں بھی خیال کرتا تھاکہ اس پاگل خانے میں میرے سوا سب پاگل ہیں۔
(اقتباس )
مترجمہ: ڈاکٹر ثوبیہ طاہر
انتخاب و کمپوزنگ: یاسر حبیب
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/1891930984370759



