~ جیسے میں بڑا ہوتا گیا ~ گئے وقتوں کی یہ بات ہے …

~ جیسے میں بڑا ہوتا گیا ~
گئے وقتوں کی یہ بات ہے
اب تو اپنا خواب بھول چکُا تھا
مگر اُس وقت بھی وہ وہیں پہ تھا
آفتاب کی تابناکی لئے سامنے تھا
پھر اک دیوار
کھڑی ہونا شروع ہوئی
آہستہ
آہستہ سے
میرے
اور میرے خواب کے درمیان
دیوار اتنی لمبی ہوگئی
کہ آسماں چھونے لگی
اُس دیوار نے ایک گھنا سایہ کردیا
ایک اداس سی تاریکی ہر سُو چھا گئی
اور میں اُس تاریکی میں لپٹ گیا
میرے خواب کی روشنی بند ہوچکی تھی
میرے سامنے
بس یہ موٹی دیوار
اور اسکا گھنا
اُداس کر دینے والا سایہ تھا
میرے ہاتھوں ،
میرے سیاہ ہاتھوں!
اس دیوار میں سوراخ کر ڈالو
میرے خواب کو ڈھونڈھ نکالو
تاریکی ختم کرنے میں مدد کرو
اس رات کو بھسم کر ڈالو
اس سائے کو بھی جلا ڈالو
اسے ہمیشہ کیلئے بدل ڈالو
ہزار آفتابوں کی تابناکی
اور
ہزار خوابوں کی روشنی میں۔۔
ترجمہ : نودخان
~ As I Grew Old ~
It was a long time ago.
I have almost forgotten my dream.
But it was there then,
In front of me,
Bright like a sun–
My dream.
And then the wall rose,
Rose slowly,
Slowly,
Between me and my dream.
Rose until it touched the sky–
The wall.
Shadow.
I am black.
I lie down in the shadow.
No longer the light of my dream before me,
Above me.
Only the thick wall.
Only the shadow.
My hands!
My dark hands!
Break through the wall!
Find my dream!
Help me to shatter this darkness,
To smash this night,
To break this shadow
Into a thousand lights of sun,
Into a thousand whirling dreams
Of sun!
by Langston Hughes
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2815916638638851



