کالم

فیمنزم : سائنس دشمن آئیڈیالوجی ۔۔۔۔ وحید مراد

نظریات اور آئیڈیالوجیز دو دھاری تلوار کی مانند ہوتے ہیں۔ جب تک یہ خاص قسم کے عقائد کی سرشاری کا سبب بن رہے ہوتے ہیں تو قابل تعریف ہوتے ہیں لیکن جب اسکے برعکس واضح حقائق اور ثبوتوں کے مقابلے میں رکاوٹ اور عدم استحکام پیدا کرنے لگتے ہیں تو یہی نظریا ت اور آئیڈیالوجی ایک خطرناک چیز بن جاتے ہیں۔ ایک نظریاتی سختی اور بنیاد پرستی جو فلسفیانہ اور سیاسی نظریات کے ماننے والوں میں پائی جاتی ہے وہ سائنس کی شواہد پر مبنی تفتیش کو مسترد کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔

کسی سیاسی، معاشی یا سماجی تھیوری و آئیڈیالوجی کے خالق ماہرین اپنے مخصوص تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر جب عمومی نظریات اور پیشنگوئیاں کرتے ہیں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس تھیوری، نظریہ اور آئیڈیالوجی سے ہر معاشرے میں مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں لیکن سوشل سائنسز کی تھیوریز، نیچرل سائنسز کی طرح ہر جگہ وہی نتائج نہیں دیتیں۔ عملی طور پر ہر معاشرے میں بہت ہی مختلف مزاج، طرز عمل اور سوچ کے لوگ، ادارے، مفادات، محرکات اور متغیرات ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندہ انسانوں کا کردار اور طرز عمل چونکہ قیاسی نوعیت کا نہیں ہوتا اس لئے سوشل سائنسز کی تھیوریز سے نیچرل سائنس کی تھیوریز کی طرح توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان نظریات اور آئیڈیالوجیز سے اگر کوئی جزوی فائدہ اٹھایا بھی جا سکتا ہے تو اسکے لئے ضروری ہے کہ انکے عملی پہلو اور نتائج پر نظر رکھی جائے اور نئے سے نئے طریقے آزمائیں جائیں۔ کسی نظریہ، تھیوری یا آئیڈیالوجی سے جذباتی وابستگی، عملی نتائج کے حوالے سے کبھی بھی کارآمد نہیں ہو سکتی۔

فیمنسٹ تحریک جن نظریات و عقائد پر قائم کی گئی ہے انہیں نہ تو سوشل سائنس کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں سائنسی طریقہ کار کے مطابق ثابت کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً پدرسری نظام کی تھیوری کے سائنسی ثبوت موجود نہیں ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے تحت تمام علوم کو پدرسری نظام کے آدرش کا شاخسانہ قرار دے دیا گیا۔ فیمنسٹ اسکالر ز کا خیال ہے کہ صنف جیسی خصوصیات حیاتیات کی بجائے ثقافت سے متعین ہوتی ہیں جیسا کہ سیمون دی بووا کا مشہورفقرہ ہے کہ ‘ عورت، پیدائشی طور پر عورت نہیں ہوتی بعد میں عورت بنا دی جاتی ہےOne is not born, but rather becomes a women’۔ ماڈرن فیمنزم میں اس عقیدے کے ساتھ اتنا غلو برتا گیا کہ اب مرد، عورت کے حیاتیاتی اختلاف کا براہ راست ذکر کرنا بھی انکے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو اس میں اس قدرسخت گیر واقع ہوئے ہیں کہ صنفی اختلاف کے اظہار کو ٹرانسجنڈر کے خلاف گالی یا حملہ کے برابر تصور کرتے ہیں اور وہ تمام بنیادی وجوہات اورعناصر جو مرد اور عورت کے درمیان امتیاز قائم کرتے ہیں مثلاً ہارمون، اعصابی اور حیاتیاتی اختلافات وغیرہ پر بات کرنا بھی ایک جرم تصور کیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے اصناف کے جنسی فرق اور امتیاز کے مابین تشکیل پانے والے رویوں کی تشکیل میں ثقافت کا ایک کردار ہوتا ہے لیکن اصناف کی زندگی میں حیاتیات کے نمایاں کردار کا انکار کرنا ایک بہت ہی خطرناک اور لغو بات ہے۔ یہ عقیدہ اور واہمہ خواتین کو کبھی بااختیار نہیں بنا سکتا بلکہ انکی زندگی کو مزید خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ خواتین کے اندر سردرد، افسردگی، اضطراب، چڑچڑاپن، معدے اورآنتوں کا سنڈروم، درد شقیقہ، دائمی تھکاوٹ کا سینڈروم، لیوپس، ملٹیپل اسکلیروسیس وغیرہ جیسی بیماریاں زیادہ عام ہوتی ہیں۔ کیا ان پیتھولوجیکل اختلافات کو ‘پدرسری نطام’ کی سماجی کاری سے تعبیر کرنے سے ان بیماریوں کی تشخیص میں کوئی مدد مل سکے گی؟

کئی دہائیاں پہلے صنفی تقدیر کو حیاتیات میں تلا ش کیا جاتا تھا لیکن اب فیمنسٹ آئیڈیالوجی تقدیر کا تعین حیاتیات میں نہیں بلکہ ثقافت میں تلاش کر رہی ہے‘biology doesn’t determine fate, but culture۔ اب مرد وں کو جنسی ہامونز کی وجہ سے مستحکم، پرجوش یا پر تشدد نہیں قرار دیا جاتا بلکہ ثقافتی اور معاشرتی (Social Constructionism) طور پر مردانگی کو ‘زہریلی مردانگی’ قرار دیا جارہا ہے۔ اسی طرح انکا یہ دعویٰ ہے کہ عورتیں بچوں کی پیدائش اور پرورش اس لئے نہیں کرتیں کہ وہ انکا فطری جنسی و حیاتیاتی تقاضہ ہے بلکہ وہ معاشرتی جبر(Sexist conditioning,) کے نتیجےکے طور پر کرتی ہیں۔

فیمنسٹ ماہرین اس بنیادی حیاتیاتی حقیقت کو بھی تسلیم نہیں کرتے کہ مرد جسمانی طور پر اوسطاً ایک خاتون سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے اسی لئے خواتین ایتھلیٹ مرد ایتھلیٹس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں کیونکہ دونوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ اگر خواتین ایتھلیٹس کی تعداد کم ہے تو اسکو اس طرح بیان نہیں کیا جاتا کہ خواتین کی اکثریت نازک مزاج ہوتی ہے اورانکے لئے ایتھلیٹ بننا آسان نہیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اسکی معاشرتی وجوہات ہیں جن کے باعث خواتین کو مواقع نہیں دئے جاتے۔ جسمانی طاقت کے حوالے سے انکی دلیل یہ ہے کہ آجکل مشینوں اور کمپوٹر کا دور ہے ایک بٹن دبانے سے سب کام ہوجاتے ہیں لہذا مرد اور عورت کی جسمانی طاقت کا موازنہ کرنا بے معنی ہے۔ لیکن دوسری طرف انہیں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی اس رائے سے کوئ اختلاف نہیں کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں ذلت اٹھانے سے محفوظ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ مردوں اور عورتوں کیلئے الگ الگ کھیلوں کے مقابلے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانوں میں نر اور مادہ کے درمیان متعدد حیاتیاتی اختلافات ہیں کیونکہ انکا شمار جانوروں کی جس نوع میں ہوتا ہے وہ جنسی طور پرافزائش نسل کرتے ہیں۔ انکے اعصاب اور ہارمونز کے اختلافات جذبات اور صلاحیتوں(بشمول ادارک و قوت فیصلہ)، دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن فیمنسٹ ماہرین ان تمام حقائق کی تردید کرتے ہیں کیونکہ جینیاتی اور حیاتیاتی خصوصیات کا امتیاز، خواتین کو فائدہ اٹھانے کی سہولت مہیا نہیں کرتیں۔ اور وہ حیاتیاتی خصوصیات جو خواتین کی مساوات یا برتری کی راہ میں دیوار ثابت ہوتی ہیں انکو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ جب فیمنسٹ ماہرین، جینیات اور حیاتیات کو جھٹلاتے ہیں تو فیمنزم سائنس کا دشمن بن کر سامنے آتا ہے۔

جبر اور ظلم کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن اسکی تلاش ایک بہت پیچیدہ عمل ہے اور یقناً اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے کہ جس سادگی کے ساتھ کالجز میں طالب علموں کو انڈر گریجوئیٹ تعلیمی ماحول میں وومن اسٹیڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کے مضامین میں یہ تھیوریز بتائی جاتی ہیں۔ طالب علموں کو یہ سکھانا کہ دنیا کو ظلم کی عینگ سے کس طرح دیکھنا چاہیے یہ صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ خود ایک ظالمانہ فعل ہے۔ اس سے زیادہ ظلم کی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی کہ آپ کے پروفیسرز حضرات آپ کو سوشیالوجی کے ہر سبق کا مطلب صرف یہ بتا رہے ہوں کہ آپ بحثیت عورت ایک وکٹم ہیں۔

Toni Airaksinen اپنے ایک مضمون بعنوان ‘میں نے وومن اسٹڈیز کلاس میں کیا سیکھا؟’ میں لکھتی ہیں کہ فیمنسٹ ماہرین جو ڈسکورس تخلیق کر رہے ہیں وہ سیاسی پروپیگنڈے سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ کسی صنف کو بھی با اختیار بنانے میں ناکام ثابت ہوگا۔ پدرسری نظام کی تھیوری میں یہ بتایا جاتا ہے کہ خواتین پر مردوں کا ادارہ جاتی کنٹرول اور حکومت ہے اور اسکے نتیجے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہر قسم کا جبر و ظلم روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن جب کیٹ ملٹ Kate Millet کی کتاب جنسی سیاست (1970) میں پدرسری کی تھیوری کو پیش کیا گیا تو اسکے بعد بہت سے فیمنسٹ ماہرین کوخود ہی انداہ ہو گیا کہ ظلم اور جبر صرف صنفی امتیازات کے ساتھ ہی وابستہ نہیں ہے۔ چنانچہ 1989 میں کمبرلی کرین شا Kimberle Crenshaw نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ جبر اور ظلم کا واحد محور صنفی امتیاز ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی اس نے صنفی امتیا ز کی بجائے ظلم و ستم کا محور’نسل پرستی ‘ کو قرار دیا۔ اس سے یہ سلسلہ آگے بڑھا اور پھر کئی دیگر اسکالرز نے یہ سوچا کہ ظلم و ستم کا تجزیہ کرتے وقت اس کے محور کو صرف صنفی امتیاز اور نسلی امتیاز میں ہی کیوں تلاش کیا جائے؟ ظلم اور جبرتو ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔ لیکن وومن اسٹڈیز میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ ظلم و جبر تاریخ میں ہر جگہ پایا جاتا ہے کیونکہ فیمنسٹ ماہریں ظلم تلاش نہیں کرتے وہ تو ہر قسم کے ظلم کو صرف ایک خاص جگہ میں تلاش کرکے دکھانا چاہتے ہیں۔

سائنس سے فیمنزم کی دشمنی، خاص طور وہاں نظر آتی ہے جہاں کوئی سائنسی علم، فیمنزم کے خودساختہ نظریات کی تصدیق نہیں کرتا۔ اسکی ایک وضح مثال ‘ عظیم تر مرد تغیر پذیری کا تصور Greater Male Variability Hypothesis’ ہے۔ تھیوڈور پی ہل Theodore P. Hill (جارجیا ٹیک میں ریاضی کے پروفیسر)، ایمریٹس Emeritus اورکیلیفورنیا پولی ٹیکنک اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک اسکالر نے اپنے ایک مقالے میں بیان کیا ہے کہ : انسانی ذہانت کے انتہائی متنازعہ معاملے میں، گریٹر مرد تغیر پذیری کا نظریہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ مرد، عورتوں کے مقابلے میں زیادہ بیوقوف اور زیادہ جینیس ہوتے ہیں۔ مخصوص خصائص اور نوع کے بہت سے استثنیٰ کے باوجود جانوروں کی پوری سلطنت animal kingdom میں ایک نوع کی مادہ کی نسبت نروں میں زیادہ تغیر پایا جاتا ہے۔ اس نظریے کے ثبوت کیلئے کافی مضبوط شواہد موجود ہیں جو انسانوں کے ساتھ ساتھ تمام اقسام کے جانوروں کے مطالعہ سے اخذ کئے گئے ہیں۔ اسی طرح متعدد مطالعات سے یہ پتہ چلا ہے کہ پیدائش کے وقت جسمانی وزن اور دماغی ڈھانچے سے لیکر ایک گھنٹہ کی دوڑ، ریڈنگ اور ریاضی کے امتحانوں کے اسکور تک کے بے شمار زمروں میں اوسط سے زیادہ اونچے اور نیچے حصوں پر لڑکوں اور مردوں کی نمائندگی، عورتوں کی نسبت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر نوبل انعام یافتہ، میوزک کمپوزر، شطرنج کے چمپئین، بے گھر افراد، خودکشی کرنے والے، جیلوں میں قیدی وغیرہ میں خواتین کے مقابلے میں مرد نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔

مذکورہ مقالہ جب اشاعت کیلئے دو بڑے جرائد کو بھیجا گیا تو انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا لیکن بعد ازاں فیمنسٹ تحریک کی مداخلت اور دھمکیوں کےباعث ان جریدوں نےاسے شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ اور یہ معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ فیمنسٹ تحریک کے ‘Women in Mathematics Group’ اور دیگر فیمنسٹ لابیز نے اس مقالے کی اشاعت رکوانے کے بعد نیشنل سائنس فائونڈیشن کو بھی اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس تحقیق کیلئے مزید فنڈز جاری نہ کرے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح جن اسکالرز نے اس تحقیق میں حصہ لیا تھا انکو ملازمتوں سے نکالے جانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ ریاضی کے نام پر بنائے گئے فیمنسٹ خواتین کے گروپ کا کہنا تھا کہ یہ مقالہ اور اسکے تحقیقی نتائج نوجوان خواتین کےآزاد روی پر مبنی جوش، جذبے اور امنگوں کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔

مقالے کے محققین کے یونیورسٹی کولیگز، فیمنسٹ پروفیسرز نے کہا کہ خواہ مقالے کی تحقیق کے نتائج درست ہی کیوں نہ ہوں لیکن اگر اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ریاضی میں خواتین کی صلاحیت نسبتاً کم یا انکی کامیابی کے نسبتاً کم مواقع ہوتے ہیں تو یہ فیمنسٹ آئیڈیالوجی کے خلاف ہے اور اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مذکورہ مقالے کے شریک مصنف کے محکمے کے ہیڈ نے کہا کہ تعلیمی و تحقیق آزادی اور تقریر کی آزادی کی اقدار اگر ہماری دیگر اقدارسے متصادم ہو رہی ہوں تو پھر اس آزادانہ تحقیق کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یعنی دوسرے الفاظ میں فیمنزم کو علمی آزادی کی نفی کرنے اور سائنسی شواہد کی اشاعت سے انکار کرنے کی اجازت ہے۔ فیمنسٹ تحریک کا جبر صرف سائنسی شواہد چھپانے اور انکی اشاعت سے انکار کرنے پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ امریکہ اور یورپ کے تعلیمی اداروں میں سائنس دانوں پر دھونس ڈالی جاتی ہے اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات کے وہ نتائج پیش کریں جو فیمنسٹ عقائد کے حق میں ہوں۔

یورپین تنظیم برائے نیوکلئیر ریسرچ (CERN)کے ایک سنئیر سائنسدان اور Pisa University کے پروفیسر Alessandro Strumia نے 28 ستمبر 2018 کو ایک گفتگو میں کہا کہ فیمنزم کے عقائد کے پرچار کیلئے جو ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں ان میں بتایا جاتا ہے کہ مرد جنس پرست ہیں اور وہ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں اور عورتوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ وکٹم ہیں حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ پروفیسر اسٹرومیا نے مزید کہا کہ طبیعات اور دیگر سائنسز میں مروں کا کام زیادہ ہے اور اسکی تاریخی وجوہات جو بھی ہوں لیکن آج تک فزکس میں خواتین نے صرف تین نوبل انعام جیتےہیں اور مردوں نے 207۔ پروفیسر اسٹرومیا کے اس بیان کے فوری بعد اسے نوکری سے برخواست کر دیا گیا اور اسکے خلاف انکوائری شروع ہو گئی۔ اسکے خلاف 1600 سائنسدانوں سے ایک پٹیشن پر دستخط کروائے گئے جس میں لکھا گیا کہ پروفیسر اسٹرومیا کے دلائل فیمنسٹ اخلاقیات کے مطابق قابل مذمت ہیں اور اسکی طرف سے رنگ برنگی اور سفید چمڑی والی خوبصورت خواتین سائنسدانوں کی صلاحیتوں پر سوال اٹھانے کا عمل شرمناک ہے۔

پروفیسر اسٹرومیا نے تو سائنسدانوں کے رنگ، نسل، زبان، وطن، مذہب اورجنسی شناخت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی اس نے تو صرف اعداد و شمار اور حوالہ جات سے متعلق کہا کہ طبعیات میں خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا اور صنف سے قطع نظر میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ لیکن اسکے خلاف فیمنسٹ لابیز کی طرف سے جو رد عمل ظاہر کیا گیا وہ سراسر تعصب، ، ناانصافی، سائنس دشمنی اور ا س امتیازی عقیدے پر مبنی تھا کہ ہر شعبے میں میرٹ کو مد نظر رکھے بغیر لازمی طور پر 50 فیصد خواتین کوشامل کیا جانا چاہیے اور اس عمل کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دینا چاہیے۔ چنانچہ پروفیسر اسٹرومیا کے خلاف شدید غصے اور نفرت کا اظہار کرکے اسے یہ باور کرایا گیا کہ اگر آپ فیمنسٹ عقیدے اور اقدار کے خلاف بات کریں گے تو آپ کو نوکری اور تمام دیگر مراعات سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

ایک امریکی اسکالر مارگریٹالیون Margarita Levin کا کہنا ہے کہ سائنس کے راستے میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں اور آج کے مغرب میں فیمنسٹ آئیڈیالوجی نے تعلیمی اور علمی آزادی کو مجروح کر دیاہے۔ پچاس، ساٹھ سال قبل اعلیٰ تعلیم کی درسگاہیں ایک کھلی ثقافت کا منظر پیش کرتی تھیں جہاں طلباء اور پروفیسرز بہت سے مختلف معاشرتی اور سیاسی نقطہ نظر، آراء و اقدر اور نظریات پر بحث مباحثہ کرتے تھے لیکن اب یونیورسٹیاں ایک بند ثقافت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کچھ خاص نظریات، عقائد اور اقدار کو اپنا لیا گیا ہے اور دیگر کو خارج کر دیا گیا ہے اور جب بھی کوئی متبادل نظریات، دلائل، شواہد کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے اس لئے اب نارتھ امریکہ کے کالجز اور یونیورسٹیاں بہت تیزی کے ساتھ کمیونسٹ سویت یونین اور مائو کے چین جیسے معاشروں کی طرف بڑھتی جارہی ہیں۔

مارگریٹالیون نے مثالیں دے کر بتایا ہے کہ فیمنسٹ ماہرین کس طرح ہر سائنسی نظریہ کو تعصب کی عینک سے دیکھتے ہوئے اس میں مردانہ تسلط کو تلاش کرتے ہیں جیسے ڈی این اے فنکشن کی ماسٹر مالیکول تھیوری، ارتقا ء اور زندہ رہنے کے کیلئے جدوجہد کرنےکے حوالے سے “تنازع البقاء” کی تھیوری، وسائل کی کمی کے پیش نظر “جانوروں کے مابین مسابقت” کی تھیوری اسی طرح بیشمار سائنسی ماڈل جیسے Symbiosis, feedback, catalysis, mutual attraction وغیرہ حتیٰ کہ انہیں اس سائنسی حقیقت پر بھی اعتراض ہےکہ زمین (مونث)، سورج (مذکر) کے گرد گردش کیوں کرتی ہے اور اس میں بھی وہ مردانہ تسلط کو تلاش کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ جب Ptolemaic نظام کو کوپرنیکس کے گردشی نظام سے تبدیل کیا گیا تو سائنسی تھیوری کی شکل میں یہ بھی گویا مردوں کا خواتین پر تسلط قائم کرنے کا ایک علامتی اظہار تھا۔

پہلے فیمنزم مختلف ثقافتوں اور معاشروں میں ایک زہرکی مانند پھیل رہا تھا اور اب یہ زہر سائنس کی جڑیں بھی کھوکھلی کررہا ہے۔ فیمنزم کی طرف سے سائنس پر نئے حملے اس مطالبے کے ساتھ جاری ہیں کہ سائنس کو “فیمنسٹ سائنس” میں تبدیل کیا جائے یعنی پانچ سو سالوں سے جو سائنس رائج ہے اسکے سارے نظریات اور ایجادات وغیرہ مردوں کی حاکمیت کو ظاہر کرتی ہیں لہذا اب اسے ترک کرکے ایسی نسوانی سائنس رائج کی جائے جو معاشرتی انصاف اور مساوات کے اصولوں کی ترقی کا باعث ہو۔

جو چیز علوم کو سائنسی بناتی ہے وہ صرف یہ نہیں کہ یہ علوم متعلقہ ثبوت اکٹھا کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صرف مفروضے کی حمایت کرنے والے ثبوتوں پر غور نہیں کیا جاتا بلکہ ہر قسم کے ثبوتوں پر غور کیا جاتا ہے۔ جب ثبوت کسی مفروضے کے خلاف جاتے ہیں تو مفروضے کو یا تو ان مخالف شواہد کا جواب دینا پڑتا ہے ورنہ وہ مفروضہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔ محقیقین اپنے مفروضے کی خواہ مخواہ تصدیق کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اگر ثبوت ا س مفروضے کی حمایت نہیں کرتے تو اس مفروضے کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح نتائج اور جوابات جانچ کے عمل کے اختتام پر پیش کئے جاتے ہیں تحقیق کے آغاز میں دعوے نہیں کئے جاتے۔

لیکن سائنسی علوم کے برعکس فیمنسٹ ریسرچ کی ابتدا اس مفروضے اور دعوے سے ہوتی ہے کہ عورتیں جسمانی طور پر مردوں کے برابر مضبوط ہوتی ہیں لیکن مرد کی وکٹم ہوتی ہیں اور تمام فیمنسٹ ریسرچز ہمیشہ یہی وضاحت کرتی ہیں، اور ہمیشہ ہر متبادل کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ فیمنزم میں جس قسم کی اسٹریٹیجی استعمال کی جاتی ہے وہ ایک مفروضے سے شروع ہوتی ہے کہ کچھ سچائیاں پہلے سے طے شدہ اورعیاں ہیں اور پھر ایسی مثالوں کی تلاش کی جاتی ہیں یا گھڑی جاتی ہیں جو ان مفروضوں کی سچائیوں کی شکل میں تفہیم کر سکیں۔ یہ خود اثباتی کی حکمت عملی ہوتی ہے جو تصدیق کے تعصب کو ادارہ جاتی جہت دیتی ہے۔ یہ آراء کی ایک ایسی حکمت عملی ہوتی ہے جس میں ثبوت کی ہر منتخب شکل مفروضوں کی تصدیق کرتی ہے اور تفہیم کو زیادہ سے زیادہ انتہائی پوزیشن پر لے جاتی ہے۔ اس حکممت عملی کو استعمال کرنے والا فیمنزم سائنس تو کیا کسی علم کے درجے پر بھی پورا نہیں اترتا۔

فیمنسٹ ماہرین، فیمنزم کو سائنس ثابت کرنے کیلئے ہر قسم کے حیلے آزما رہےہیں اور بلند و بانگ دعوے کررہے ہیں لیکن  حقیقت یہ ہے کہ فیمنزم نہ سائنس ہے اور نہ سوشل سائنس ۔ یہ تعصب پر مبنی عقائد کا ایک نظام ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ ایک آئیدیالوجی تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسکا شمار علوم میں نہیں ہوتا کیونکہ علم میں تحقیق، مشاہدات اور ثبوتوں سے پہلے دعوے نہیں کئے جاتے۔ علم کےحصول میں سوال اس طرح اٹھائے جاتے ہیں کہ انکے جوابات تلاش کئے جا سکیں بجائے اسکے کہ پہلے سے موجود جوابات کو سوالوں کے ساتھ فٹ کیا جائے۔ علم میں مفروضوں کو ثبوتوں کے ذریعے پرکھا جاتا ہے اور اگر یہ ثبوتوں کے مطابق پورے اتریں تو انہیں عارضی طور پر قبول کیا جاتا ہے ورنہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ آئیڈیالوجی تو چند اقدار کےساتھ ایک مذہب اور عقیدے کی طرح چمٹی ہوئی ہے اور انکا دعویٰ ہے کہ جس قدر کی وہ حمایت کرتے ہیں وہ زیادہ اہم ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر قدر کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کبھی دو اقدار میں مطابقت نہ ہو اور دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑی ہوجائیں تو پھر ایک کے بڑھنے کا مطلب دوسرے کی کمی ہوگی اور پھر دونوں میں سے ایک کا انتخاب دوسرے کی قیمت پر ہی کرنا پڑے گا۔ ایک کو اپنانے کیلئے دوسرے کی قربانی دینی پڑے گی۔ اپنی پسند کی اقدار کو تمام معاشروں پر مسلط کرنے اور دیگر تمام اقدار کو تہس نہس کر دینے کی ضد، تعصب ، جبر  اورظلم تو کہلا سکتی ہے لیکن اسکا علم اور سائنس سے کوئی واسطہ نہیں ہو سکتا۔

References:

  1. Goldbery, Steven, Feminism Against Science, https://aimhs.com.au/cms/index.php?page=against-science
  2. Carl Salzman, Philip (2019), Feminists Assault Science, https://fcpp.org/2019/01/23/feminists-assault-science/
  3. Berezow, Alex (2016), Is Modern Feminism Incompatible with Science?
  4. Lopez, Martin Corr (2018) “Gender Ideology In Science: The New Gogma and the New With Hunt” https://www.science20.com/martin_lopez_corredoira/gender_ideology_in_science_the_new_dogma_and_the_new_witch_hunt-235318
  5. Salzman, Philip, Carl (2018) “Toxic Feminism”
    https://fcpp.org/2018/07/11/toxic-feminism/
  1. Nardi, William (2018) “Feminist Science event teaches researchers how to do socially just science”
    https://www.thecollegefix.com/feminist-science-event-teaches-researchers-socially-just-science/
  1. Salzman, Philip, Carl (2019) “Today’s Social Science Courses-More Feelings, Fewer Facts ”
    https://http//fcpp.org/2019/01/26/todays-social-science-courses-more-feelings-fewer-facts/
  1. Airaksinen, Toni (2016) “What I learned in Many Women’s Studies Classes”
    https://quillette.com/2016/08/26/what-i-learned-in-my-womens-studies-classes/

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/