___امام ابن حزم رحمہ اللہ کی وہ نظم جسے ترجمہ کرنے کے بعد عالمِ دنیا کی ساری شاع…

_________________
میرے تلامذہ نے اک روز
عمر میری پوچھی!
میں نے نگاہ اٹھا کر رات کے آخری ستارے کو دیکھا
تہجد کا نور ہمارے حلقے کو گھیر رہا تھا
خالق ارض و سماء ، آسمانِ دنیا سے ہمیں دیکھ رہا تھا
پھر وہی ستارہ میری پلک پر چمکا
میں نے پلکیں جھپکائے بغیر اپنے تلامذہ کو کہا:
"میری عمر بس ایک ساعت ہے!!”
میری داڑھی کی سفیدی
اور بالوں کا ضعف دیکھتے ہوئے ان کے قلم رک گئے!!
وہ کہنے لگے :
” استاد! آپ نے آج ہمیں یہ کیا حیرت زدہ و عجیب خبر سنائی”
” قرطبہ کی گلیوں کی قسم !! ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟”
میں انہیں کہنے لگا :
وہ لڑکی جو میرے دل کے بالا خانے میں رہتی ہے
کسی بیتے زمانے میں ، زینہ چڑھتے
کچھ ڈرتے ، کچھ شرماتے
میں نے اسے چوما تھا : اک گھڑی
میں نے اس پل سے پہلے اور بعد میں
گزری دہائیوں کو اپنی عمر میں شمار نہیں کیا کبھی !!
بس وہی اک ساعت ہی
میری عمر تھی !!
🪶…(طوق الحمامة): ابن حزم رحمه الله تعالى

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3824447031119135




بہت خوب صورت نظم
كيا خوب
اک ساعت کی رمک باقی ھے
دید کی تمنا ھے رھو پاس کچھ دم !!
*وہ (کم عمر محبوبہ)؛ اپنے روئے حسین اور عقل جمیل میں بے مثال ہے، عفت و حیاء میں غایت کمال ہے ، محبت کے عہد پر استوار اور حلم وفا سے سرشار ، ہمیشہ تازہ رو ، ملال کو مٹانے والی ، ہنستی ٹھوڑی کا نذرانہء فیاض دیتی ، راز کو نیاز بخشتی، ہر شکوے کو گم کرتی ، کم گو، جهکی پلکوں سے سمٹتی ہوئی ، نگاہِ ناز سے سہمی ہوئی ، ہر عیب سے منزہ ، بھنووں سے تیوری ہلاتی ، میٹھی سنگتوں والی ، دل کا غبار ہٹانے والی ، بندشوں کو نوازش بناتی ، عہد وفا کو جلا بخشتی ، وقار کی مورت ، کراہتوں کی لذت، نہ آرزو اس سے محور بدلے، نہ چاہتوں سے اس کا سنگم چھوٹے ، نہ دعا اس کے سوا مانگے ، اس کا چہرہ نورانی ہر دل کو اڑا لے جائے، جس سے دوستی کرے اس کے حال میں گم جائے!!*
امام حزم
کیا دنیا بھر کی شاعری پڑھ ڈالی تم نے؟
حضور! عشقیہ عاشقی معشوقی والی پوسٹ میں آپ بچوں کی تصاویر لگاتے ہیں ۔ یہ غلط روش ہے ۔ برائے مہربانی ترک کریں ۔ نوازش ہوگی