منتخب نظمیں
اب ہمیں لطفِ رقصِ شام گیا اس محبت کا اہتمام گیا …

اب ہمیں لطفِ رقصِ شام گیا
اس محبت کا اہتمام گیا
عشق کے بدگمان موسم میں
میرے ہونٹوں سے تیرا نام گیا
اب یہی مصلحت ضروری ہے
آپ سے برملا کلام گیا
لب پہ حرفِ دعا نہیں باقی
دل سے اندیشۂ دوام گیا
حرف و معنی کے قافلے روٹھے
شاعری سے وہ التزام گیا
موت کے سوگوار رستے پر
زندگی تیرا احترام گیا
شاہِ انصاف کو خبر نہ ہوئی
جان سے، کون سا غلام گیا
نوشی گیلانی


