منتخب غزلیں
دل سے اک خواہشِ بیتاب لگا دیتا ہے پھر وہ پابندئ…
دل سے اک خواہشِ بیتاب لگا دیتا ہے
پھر وہ پابندئ آداب لگا دیتا ہے
لفظ بے صوت ہوں لیکن ترا کاتب لہجہ
میرے اطراف میں اعراب لگا دیتا ہے
پہلے کہتا ہے کہ افلاک سے آگے دیکھوں
پھر کہیں بیچ میں مہتاب لگا دیتا ہے
ہر وہ الزام جو دشمن نہ لگائے مجھ پر
وہ میرا حلقۂ احباب لگا دیتا ہے
رات دیتا ہے تھکے دن کو تھپکنے کے لئے
پھر تعاقب میں کوئی خواب لگا دیتا ہے
(احمد سلمان)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

