عالمی ادب
نوبیل انعام یافتہ ادیبہ: اَولگا توکارچُک (Olga Tok…

نوبیل انعام یافتہ ادیبہ: اَولگا توکارچُک (Olga Tokarczuk)
نجم الدین احمد
پولستانی ادیبہ اَولگا توکارچُک کے لیے ادب کا نوبیل انعام برائے سال ۲۰۱۸ءکا اعلان کرتے ہُوئے اُن کے افسانوی ادب کے محاسن کے بارے میں نوبیل انعام کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا۔
’’تخیّلاتی بیانیہ جو ہمہ گیر وفورِ جذبات کی ہم رَکابی میں سرحدوں کے آرپار آمدورفت کے عمل کو زندگی کی شکل میں پیش کرتا ہے۔‘‘
اَولگا نافوجا توکارچُک (Olga Nawoja Tokarczuk)، جو صرف اَولگا توکارچُک کے نام سے لکھتی ہیں، ایک پولستانی ناول نویس، شاعرہ، مضمون نگار، سکرین رائٹر اور ماہر نفسیات دان ہیں۔ اُنھیں اپنے معاصر مصنفین میں ایک ایسی ادیب کا رُتبہ حاصل ہے جسے نہ صرف نقادوں نے سراہا بَل کہ اُنھوں نے تجارتی بنیادوں پر بھی اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے۔ ۲۰۱۸ء میں اُنھوں نے اپنے چھٹے ناول ’’اُڑانیں‘‘ (Bieguni) پر، جس کا پولستانی زبان سے انگریزی میں ترجمہ ’’Flights‘‘ کے عنوان سے جینیفر کروفٹ (Jennifer Croft) نے کیا ہے، مَین بُکر انٹرنیشنل پرائز جیت کر یہ انعام جیتنے والی پہلی پولستانی ادیب بن گئیں، کیوں کہ اُن سے قبل یہ اعزاز کسی پولستانی مصنف کو حاصل نہیں ہُوا۔ ۲۰۱۹ء میں اُنھیں اِسی ناول پر ’نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۱۸ء‘ سے نوازا گیا۔ یاد رہے کہ نوبیل پرائز کمیٹی کی ایک خاتون رُکن کے شوہر کے جنسی سکینڈل کی وجہ سے ۲۰۱۸ء کا انعام ملتوی کر دیا گیا تھا جو ۲۰۱۹ء میں اَولگا توکارچُک کو دیا گیا جب کہ اِس کے ساتھ ہی ’نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۱۹ء‘ آسٹریا کے پیٹرہانڈکے (Peter Handke) نامی ناول و ڈراما نویس، مترجم اور فلمی ہدایت کار کو دیا گیا جو نوبیل انعام کی تاریخ کے تسلسل کو قائم رکھتے ہُوئے ہمیشہ کی طرح متنازع فیصلہ قرار پایا اور اِس انعام کے واپس لینے کے مطالبے دُنیا بھر سے سامنے آئے کیوں کہ پیٹر ہانڈکے نے سربیائی مسلمانوں کے قتلِ عام کی حمایت کی تھی۔
اَولگا توکارچُک ۲۹؍جنوری، ۱۹۶۲ء کو پولینڈ کے شہر زِیلونا گورا (Zielona Gora) کے قریب واقع ایک قصبے سُلے کُوف (Sulechow) میں پیدا ہُوئیں۔ اپنی ادبی زندگی کے آغاز سے قبل، اُنھوں نے یُونیورسٹی آف وارسا سے ماہرِ نفسیات بننے کی تربیت حاصل کی۔ ۱۹۸۵ء میں گریجوایشن کرنے کے بعد، وہ بطور معالج کام کرنے کے لیے پہلے وَرٹس داف (Wroclaw) اور پھر والبزِک (Walbrzych) چلی گئیں۔اَولگا نے دو شادیاں کیں۔ پہلی ۱۹۸۵ء میں، تئیس برس کی عمر میں ’’رومن فِنگاس‘‘ نامی ایک ماہرِ نفسیات سے، جو بعد میں طلاق پر منتج ہُوئی۔ اور دُوسری ۲۰۰۸ء کے لگ بھگ، گریگر زِگیلو (Grzegorz Zygadlo) نامی شخص سے۔ پہلے خاوند سے اُن کے ہاں ۱۹۸۶ء میں بیٹے نے جنم لیا، جس کا نام زِبِّگ نِیّف (Zbigniew)ہے۔ آج کل توکارچُک نووارُوڈا (Nowa Ruda) کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں کراجانوف (Krajanow) میں قیام پذیر ہیں، جہاں وہ رُوٹا (Ruta) کے نام سے اپنی اشاعتی کمپنی چلا رہی ہیں۔ تاہم اُن کی ایک رہائش گاہ وَرٹس داف میں بھی ہے اور وہ وہاں بھی قیام کرتی رہتی ہیں۔ وہ سبزی خور، بائیں بازو اور تحریکِ نسواں کی حامی ہیں۔
اَولگا کے والدین، جوزف توکارچُک اور وانڈا سلابوسکا (Slabowska)، پیپلز یونیورسٹی میں معلّمین تھے۔ اُن کے والد جوزف توکارچُک نے ایک سکول کے لائبریرین کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ اَولگا نے اُس کتب خانے میں دستیاب لگ بھگ ہر کتاب مطالعہ کر ڈالا اور اِس طرح اپنے ادبی ذوق کو پروان چڑھایا۔ اِس بارے میں اَولگا نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا۔ ’’ایک لکھاری کے لیے یہ نہایت عمدہ آغاز تھا۔ میرے گھر میں کتابیں موجود تھیں۔ میں نے اپنے بچپن ہی سے اپنے والدین کو کتابوں پر مباحثہ کرتے، مطالعہ کرتے، کتابیں خریدتے دیکھا اور مجھے خُوب یاد ہے کہ میں اپنے والد کے ہم راہ کتب میں بہت زیادہ وقت گذارتی تھی۔ مجھے یہ بھی بخوبی یاد ہے اور میں یہاں اِس کا ذکر بھی کرنا چاہوں گی کہ ہمارے ہاں کتابوں کی ایک الماری ہوتی تھی اور زمین کے قریب والے خانے میں میری ازحد دِلچسپی کی حامل کتابیں رکھی جاتی تھیں اور میرا خیال ہے کہ اِس طرح میں نے کتابوں کو ایک دُنیا کے طور پر دریافت کیا، ایک متبادل دُنیا کے طور پر۔‘‘
اپنے وسیع مطالعے کی وجہ سے اَولگا توکارچُک نے افسانے لکھنے کا آغاز اپنے عہدِ بَرنائی ہی میں کر دیا تھا اور اُن کے پہلے دو افسانے ’’Christmas Killing a Fish‘‘ اور ’’Friends‘‘ اُن کے قلمی نام ناتاشا بوروجِن ’’Natasza Borodin‘‘ کے ساتھ ’’Na Przelaj‘‘جریدے میں شائع ہُوئے۔
توکارچُک کی پہلی کتاب، ’’آئینوں میں شہر‘‘ (Miasta w Lustrach)، ۱۹۸۹ء میں اشاعت پذیر ہُوئی، جو نظموں کا مجموعہ تھا۔ اُن کا پہلا ناول ’’اہلِ کتاب کا سفر‘‘ (Prodroz Ludzi Ksiegi) کے عنوان سے ۱۹۹۳ء میں منصہ شہود پر آیا، جو ’’کتاب کا بھید‘‘ (زندگی کے مفہوم کا ایک استعارہ) کی کھوج میں نکلے دو محبت کرنے والوں کی تمثیل ہے جس کا زمان و مکان سترھویں صدی اور فرانس ہیں۔
اگلا ناول ای ای (E.E) ۱۹۹۵ء میں شائع ہُوا۔ ناول کا عنوان مرکزی کردار، ایک نوجوان عورت کے نام ایرنا ایلٹنر (Erna Eltzner)کا مخفف ہے، جو ۱۹۲۰ء کی دہائی میں بریسلؤ (Breslau) میں ، (یہ شہر اُس زمانے میں جرمنی کے زیرِ نگیں تھا اور اِسے جنگِ عظیم دوم کے بعد پولستانی شہر وَرٹس داف بننا تھا)، ایک جرمن نژاد پولستانی بورژوائی خاندان میں پلتی بڑھتی اور بطور ماہرِ نفسیات اپنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتی ہے۔
’’پریمویل (Primeval) و دِیگر عہد‘‘ (Prawiek i inne czacy) اُن کا تیسرا ناول ہے جو ۱۹۹۶ء میں اشاعت پذیر ہُوا اور اِس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ یُوں تو پریمویل کے معنی عہدِ عتیق کے ہیں لیکن ناول میں یہ زمانہ نہیں بَل کہ ایک گاؤں کا نام ہے جو ناول کا افسانوی مکان اور پولینڈ کے عین قلب میں واقع ہے۔ گاؤں کے لوگوں کے کردار کسی حد تک سنکی اور قدیم روایتوں کے پیروکار ہیں۔ اِس ناول سے توکارچُک کی عالمی ادبی حیثیت مسلمہ ہُوئی اور اِسے توکارچُک کی نسل کے پولستانی ادب کا نہایت اہم نمائندہ گردانا گیا۔
اِس ناول کے بعد توکارچُک کا رحجان ناول کی صنف سے افسانوں اور مضامین کی طرف ہو گیا۔ ۱۹۹۷ء میں چھپنے والی اُن کی اگلی کتاب ’’الماری‘‘ (Szafa) تین کہانیوں کا، ’الماری‘، ’ہوٹل کیپیٹل‘ اور ’کمپیوٹر کا ماہر‘، مجموعہ تھی۔ پھر ۱۹۹۸ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’دِن کا گھر، رات کا گھر‘‘ (Dom dzienny, dom nocny) ، جس کا عنوان خلیل جبران کی ایک نظم سے مستعار لیا گیا ایک مصرع ہے اور ناول کے آغاز میں پُوری نظم رقم ہے۔ گو یہ کتاب ناول کی طرز پر ہے لیکن یہ مصنفہ کی گاؤں کراجانوف میں بِتائی ہُوئی زندگی کے ماضی اور حال سے متعلق آپس میں بے مَیل کہانیوں، خاکوں اور مضامین کی ایک ڈھلمل پیوند کاری ہے جن میں مصنفہ نے اپنی زندگی کے ماضی اور حال کو بیان کیا ہے۔ انگریزی زبان میں شائع ہونے والی یہ اُن کی پہلی کتاب تھی۔ ۲۰۰۰ء میں اَولگا نے بولیس لاف پرُوس (Bolaslaw Prus) کے ناول ’’گُڑیا‘‘ پر ایک مضمون ’’گُڑیا اور موتی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ اِسی برس اُنھوں نے شریک مرتب کی حیثیت سے ایک اَور کتاب بھی شائع کی، جو میلادِ مسیحؑ پر تین جدید قِصّوں پر مشتمل تھی۔ تاہم افسانوی نثر میں اُن کی کتاب ’’دِن کا گھر، رات کا گھر‘‘ کے بعد ۲۰۰۱ء میں افسانوں کا مجموعہ ’’بہت سے ساز بجانا‘‘ (Gra na wielu bebenkach) منصہ شہود پر آیا۔
۲۰۰۴ء کا اَولگا کے افسانوں کا مجموعہ ’’آخری کہانیاں‘‘ (Ostatnie historie) تین نسلوں کی اموات کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ جب کہ ۲۰۰۶ء میں اُن کا ناول ’’اَینا، کیٹاکومبس میں‘‘ پولستانی ناشر ’’ناک‘‘ (Znak) کے اسطوراتی سیریز ’’Canongate Myth Series‘‘ میں اپنا حِصّہ ڈالا۔
مَین بُکر انٹرنیشنل پرائز اور ’نوبیل انعام برائے ادب، ۲۰۱۸ء‘ سے سرفراز ہونے والا ناول ’’اُڑانیں‘‘ پولستانی زبان میں ۲۰۰۶ء میں منصہ شہود پر آیا، جو مضمون نویسی اور افسانوی نثر کی پیوند کاری ہے۔ اِس ناول کا مرکزی موضوع عہدِ جدید کی آوارہ گردی ہے۔ ۲۰۰۸ء میں ’’اُڑانیں‘‘ کو بہ یک وقت پولستانی اعزازات ’’ریڈر پرائز‘‘ اور ’’نائیک پرائز‘‘ سے نوازا گیا۔ ’’نائیک پرائز‘‘ پولستان کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ اِس ناول کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ’’نائیک پرائز‘‘ کی جیوری نے متفقہ طور پر اِس ناول کو اعزاز کا مستحق قرار دیا، جو شاذونادر پیش آنے والے واقعات میں سے ایک ہے۔
۲۰۰۹ء میں توکارچُک کا اگلا ناول ’’مُردوں کی ہڈّیوں پر ہل چلاؤ‘‘ (Prowadz swoj plug przez kosci umarlych) اشاعت پذیر ہُوا۔ یہ ناول سرّی ادب سے متعلق ہے، جس میں مرکزی کردار ایک بُوڑھی اور سنکی ہُوئی خاتون ہے، جو اپنے نقطۂ نظر سے کہانی سناتی ہے کہ اُن کے دیہی علاقے میں ہونے والی اموات دراصل وحشی جانوروں کا شکاریوں سے انتقام ہے۔ یہ ناول ۲۰۱۹ء میں ’’ مَین بُکر انٹرنیشنل پرائز‘‘ کے لیے حتمی فہرست (شارٹ لسٹ) میں شامل ہُوا۔ نیز اِس ناول پر کرائم فلم ’’Spoor‘‘ بنی جس نے سڑسٹھویں برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا ’’Alfred Bauer Priz‘‘ (چاندی کا تمغہ) جیتا۔
۲۰۱۴ء میں اَولگا توکارچُک نے ایک رزمیہ ناول ’’جیکب کی کتاب‘‘ (Ksiege Jakubowe) منظرِ عام پر آیا۔ اِس ناول پر بھی اُنھیں ۲۰۱۵ء کے ’’نائیک پرائز‘‘ ملا۔ اِس ناول کا پس منظر اٹھارہویں صدی کا پولستان اور شرق وسطی یورپ ہے اور اِس میں صیہونی تاریخ کا ایک اہم قِصّہ بیان کیا گیا ہے۔ پولستانی ادب کی تاریخی اور مثالی ادب میں تقسیم کی بِناء پر یہ کتاب پولستانی قوم پرستوں کی طرف سے خاصی ہدفِ تنقید بنی اور اَولگا توکارچُک کو انٹرنیٹ پر نفرت کا نشانہ بناتے ہُوئے خاصا ہراساں کیا گیا۔ حد یہ کہ ۲۰۱۵ء میں نووا رُوڈا پیٹریاٹس ایسوسی ایشن نے اُن پر سخت تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ اُن کی نووا رُوڈا کی اعزازی شہریت ختم کی جائے کیوں کہ وہ پولستانی قوم کی بدنامی کا باعث بنی ہیں۔ جس کے ردِّعمل میں اَولگا کو بیان دینا پڑا کہ وہ سچی محب وطن ہیں بل کہ اُن پر تنقید کرنے والے لوگ اور گروہ محب وطن نہیں ہیں اور اُن کا عمل ہی پولستان کے اندر اور باہر ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
اَولگا توکارچُک کو اُن کی تخلیقات پر پولستان اور بیرونِ ممالک سے بے شمار انعامات اور اعزازات سے نواز گیا۔ جن میں’’ مَین بُکر انٹرنیشنل پرائز‘‘، ’ ’نوبیل انعام برائے ادب‘‘ اور ’’نائیک پرائز‘‘ (پولستان) کے علاوہ ’’وِیلنیکا پرائز-۲۰۱۳ء‘‘ (پولستان)، سٹاک ہوم میں ’’کُلٹرہُوسیٹ انٹرنیشنل لٹریری پرائز-۲۰۱۵ء‘‘ (سویڈن)، ’’پرکس لورے بٹالین ایوارڈ- ۲۰۱۹ء‘‘ (فرانس) وغیرہ شامل ہیں۔
نوٹ:
نجم الدین احمد کا ترجمہ کردہ "اَولگا توکارچُک" کا ایک افسانہ اسی گروپ میں افسانہ نمبر 323 میں پوسٹ کیا جائے گا۔
— with Najam Uddin Ahmad.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2827140640849784



