عالمی ادب
چھٹی برصغیر کے مسلمانوں میں بھی چھٹی کی رسم منائی…

چھٹی
برصغیر کے مسلمانوں میں بھی چھٹی کی رسم منائی جاتی ہے ۔ یہ رسم بچے کی پیدائش کے چھٹے روز منائی جاتی ہے ۔ اس میں دودھ دھلائی ہوتی ہے اور بہنوں اور نندوں کو نیگ دیا جاتا ہے ۔ طرح طرح کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور دعوت ہوتی ۔ مہمان خاص کر میکے والے بچے کے لیے تحفے لاتے ہیں ۔
اس دن کی نسبت سے بہت سے محاورے ہیں ۔ مگر سب سے مشہور محاورہ چھٹی دودھ یاد آنے کا محاورہ ہے ۔ یہ محاور اکثر دکھ اور تکلیف میں یا تکلیف پہنچانے پر بولا جاتا ہے ۔ کچھ اور محاورے یہ ہیں ۔ چھٹی کا راجہ ۔ طنزاً غریب ، مفلس و پریشان حال ۔ چھٹی کا کھایا پیا نکالنا ۔ سخت سزا ، خوب پیٹنا ۔ چھٹی کے پوٹرے اب تک نہیں سوکھے ۔ یعنی بے وقوبی کی باتیں کرنے پر کہا جاتا ہے وغیرہ شامل ہیں ۔ ان سب محاوروں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تمام محاورے مصیبت اور پریشانی میں کہہ جاتے ہیں ۔
اس پر امیر لکھنوئی کا مشہور شعر ہے
جانب میکدہ کیا وہ ستم ایجاد یاد آیا
میکشو دودھ چھٹی کا جو تمہیں یاد آیا
وسطی ایشائ میں ایک دیوی نبیتی کی پوجا کرتے تھے ۔ اس کی تصویر ان کے سکوں پر چھ سروں کے نظر آتی ہے ۔ اسے ہستیا بھی کہتے ہیں اور اس کا سنسکرت میں نام شتی اور ہندو آج بھی اس کی پوجا کرتے ہیں ۔ ہندوؤں کا اس دیوی کا بارے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دیوی بچے کی پیدائش کے چھٹے روز آتی ہے اور بچے کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے ۔ اس لیے اس دیوی کی بھینٹ کے لیے اس روز طرح کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور دیوی کو بھینٹ پیش کرتے ہیں کہ دیوی خوش ہوجائے اور بچے کی قسمت کا فیسلہ اچھا کرے ۔
ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی اپنی کتاب محاوروں کا تہذیبی پس منظر میں لکھا ہے کہ پرانی بات یاد آنا زیادہ اہم نہیں ہے جتنا اہم چھٹی کا دودھ ہے اور اس کا تعلق سماجی رسم سے ہے ۔ جب کہ حقیقت میں ان محاوروں سے مراد یہ ہے کہ اس دن چھٹی دیوی نے قسمت یہ برائی اور ذلت لکھ دی ہے ۔ اس طرح یہ دن منانے اور تقریب منقد کرنے کا مقصد بظاہر کچھ بھی ہو مگر اس کا پس منظر یہ کہ اس دن رویا جائے جب چھٹی دیوی نے قسمت یہ ذلت اور دکھ لکھ دیا ہے ۔
(معین انصاری)
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2149366855293836
برصغیر کے مسلمانوں میں بھی چھٹی کی رسم منائی جاتی ہے ۔ یہ رسم بچے کی پیدائش کے چھٹے روز منائی جاتی ہے ۔ اس میں دودھ دھلائی ہوتی ہے اور بہنوں اور نندوں کو نیگ دیا جاتا ہے ۔ طرح طرح کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور دعوت ہوتی ۔ مہمان خاص کر میکے والے بچے کے لیے تحفے لاتے ہیں ۔
اس دن کی نسبت سے بہت سے محاورے ہیں ۔ مگر سب سے مشہور محاورہ چھٹی دودھ یاد آنے کا محاورہ ہے ۔ یہ محاور اکثر دکھ اور تکلیف میں یا تکلیف پہنچانے پر بولا جاتا ہے ۔ کچھ اور محاورے یہ ہیں ۔ چھٹی کا راجہ ۔ طنزاً غریب ، مفلس و پریشان حال ۔ چھٹی کا کھایا پیا نکالنا ۔ سخت سزا ، خوب پیٹنا ۔ چھٹی کے پوٹرے اب تک نہیں سوکھے ۔ یعنی بے وقوبی کی باتیں کرنے پر کہا جاتا ہے وغیرہ شامل ہیں ۔ ان سب محاوروں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تمام محاورے مصیبت اور پریشانی میں کہہ جاتے ہیں ۔
اس پر امیر لکھنوئی کا مشہور شعر ہے
جانب میکدہ کیا وہ ستم ایجاد یاد آیا
میکشو دودھ چھٹی کا جو تمہیں یاد آیا
وسطی ایشائ میں ایک دیوی نبیتی کی پوجا کرتے تھے ۔ اس کی تصویر ان کے سکوں پر چھ سروں کے نظر آتی ہے ۔ اسے ہستیا بھی کہتے ہیں اور اس کا سنسکرت میں نام شتی اور ہندو آج بھی اس کی پوجا کرتے ہیں ۔ ہندوؤں کا اس دیوی کا بارے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دیوی بچے کی پیدائش کے چھٹے روز آتی ہے اور بچے کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے ۔ اس لیے اس دیوی کی بھینٹ کے لیے اس روز طرح کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور دیوی کو بھینٹ پیش کرتے ہیں کہ دیوی خوش ہوجائے اور بچے کی قسمت کا فیسلہ اچھا کرے ۔
ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی اپنی کتاب محاوروں کا تہذیبی پس منظر میں لکھا ہے کہ پرانی بات یاد آنا زیادہ اہم نہیں ہے جتنا اہم چھٹی کا دودھ ہے اور اس کا تعلق سماجی رسم سے ہے ۔ جب کہ حقیقت میں ان محاوروں سے مراد یہ ہے کہ اس دن چھٹی دیوی نے قسمت یہ برائی اور ذلت لکھ دی ہے ۔ اس طرح یہ دن منانے اور تقریب منقد کرنے کا مقصد بظاہر کچھ بھی ہو مگر اس کا پس منظر یہ کہ اس دن رویا جائے جب چھٹی دیوی نے قسمت یہ ذلت اور دکھ لکھ دیا ہے ۔
(معین انصاری)
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2149366855293836



