منتخب نظمیں
وطن کے لیے . گھر میں رہنا ہے تو آؤ سارے مل جُل کر …

وطن کے لیے
.
گھر میں رہنا ہے تو آؤ سارے مل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
ایسے ہم یک جان ہوں جیسے پہاڑوں پر چنار
جیسے قطرے آب کے مِل کر بنائیں آبشار
جیسے دریا میں ندی کے دھارے مِل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
اک اکیلے پھُول سے گلشن کبھی مہکا نہیں
کوئی طائر شاخ پر تنہا کبھی چہکا نہیں
ان حسیں راہوں میں آؤ سارے مِل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
ذرّہ ذرّہ مِل کے اِک کوہِ گراں بن جائے گا
تنکا تنکا جمع ہو تو آشیاں بن جائے گا
بس یہی ہم سوچ لیں اور سارے مِل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
.
خالد شریف
.
گھر میں رہنا ہے تو آؤ سارے مل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
ایسے ہم یک جان ہوں جیسے پہاڑوں پر چنار
جیسے قطرے آب کے مِل کر بنائیں آبشار
جیسے دریا میں ندی کے دھارے مِل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
اک اکیلے پھُول سے گلشن کبھی مہکا نہیں
کوئی طائر شاخ پر تنہا کبھی چہکا نہیں
ان حسیں راہوں میں آؤ سارے مِل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
ذرّہ ذرّہ مِل کے اِک کوہِ گراں بن جائے گا
تنکا تنکا جمع ہو تو آشیاں بن جائے گا
بس یہی ہم سوچ لیں اور سارے مِل جُل کر رہیں
آسماں پر دیکھو جیسے تارے مِل جُل کر رہیں
.
خالد شریف

