منتخب غزلیں
فراقؔ گورکھپُوری نہ پُوچھ تیری محبّت میں ہاتھ کیا…

فراقؔ گورکھپُوری
نہ پُوچھ تیری محبّت میں ہاتھ کیا آیا
نہ چاہیے مجھے اب کُچھ بھی اور، بھر پایا
تھے تُجھ سے، یا تھے زمانے سے بے خبر، اے دوست!
یہ جان بُوجھ کے دھوکا دِلوں نے کیوں کھایا
نِگاہِ ہوش رُبا تک تو، تھے حَواس بجا
میں کھو گیا ہُوں اُن آنکھوں کا جب پتہ پایا
تُو عِشق ہی کی پشیمانیوں کو روتا ہے
تُجھے خبر ہی نہیں، حُسن بھی تو پچھتایا
دِلوں نے تُجھ سے بھی جس کو بچا کے رکّھا تھا
نگاہِ یار! وہی درد آج کام آیا
فراقؔ گورکھپُوری



