منتخب نظمیں
اٹھو وطن کے باسیو . اٹھو کہ وقت آگیا اُٹھو کہ زند …

اٹھو وطن کے باسیو
.
اٹھو کہ وقت آگیا
اُٹھو کہ زند گی پہ اب عزاب سخت آگیا
اٹھو کہ وقت آگیا
یہ حکمراں ، یہ بازی گر
کریں گے ھم کو دربدر
یہ تاجران رنج و غم
قلم کریں گے ہر وہ سر
کہ جس پہ ان کو شک ھوا، ھے سر بلند و دیدہ ور
آٹھو کہ سیاہ ابر سارے آسماں پہ چھاگیا
اٹھو کہ وقت آگیا
اٹھو وطن کے باسیو
اٹھو درندے کُھل گئے
آُٹھے نہ گر تو رل گئے
وگرنہ پھر نہ کہنا ھم
تو جل گئے ھیں گھُل گئے
اُ ٹھو کہ اب عوام کو یہ مارنے پہ تل گئے
اُ ٹھو وگرنہ ظلم سب کی گردنیں دبا گیا
اُ ٹھو کہ وقت آگیا
اُٹھو وطن کے باسیو
.
جھجھک کو چیر پھاڑ دو
پابندیاں اُکھاڑ دو
یہ تاج و تخت و کرّ و فر
پچھاڑ دو لتاڑ دو
انہیں خود ان کے ظلم کی نشانیوں میں گاڑ دو
اٹھو وطن عوام ہی کے خون سے نہا گیا
آٹھو کہ وقت آگیا
مرے وطن کے باسیو
اٹھو کہ وقت آگیا
.
فرحت عباس شاہ
.
اٹھو کہ وقت آگیا
اُٹھو کہ زند گی پہ اب عزاب سخت آگیا
اٹھو کہ وقت آگیا
یہ حکمراں ، یہ بازی گر
کریں گے ھم کو دربدر
یہ تاجران رنج و غم
قلم کریں گے ہر وہ سر
کہ جس پہ ان کو شک ھوا، ھے سر بلند و دیدہ ور
آٹھو کہ سیاہ ابر سارے آسماں پہ چھاگیا
اٹھو کہ وقت آگیا
اٹھو وطن کے باسیو
اٹھو درندے کُھل گئے
آُٹھے نہ گر تو رل گئے
وگرنہ پھر نہ کہنا ھم
تو جل گئے ھیں گھُل گئے
اُ ٹھو کہ اب عوام کو یہ مارنے پہ تل گئے
اُ ٹھو وگرنہ ظلم سب کی گردنیں دبا گیا
اُ ٹھو کہ وقت آگیا
اُٹھو وطن کے باسیو
.
جھجھک کو چیر پھاڑ دو
پابندیاں اُکھاڑ دو
یہ تاج و تخت و کرّ و فر
پچھاڑ دو لتاڑ دو
انہیں خود ان کے ظلم کی نشانیوں میں گاڑ دو
اٹھو وطن عوام ہی کے خون سے نہا گیا
آٹھو کہ وقت آگیا
مرے وطن کے باسیو
اٹھو کہ وقت آگیا
.
فرحت عباس شاہ

