منتخب غزلیں

سچ سمجھ کر ترے بیانوں کو ہاتھ چُھونے لگے ہیں کانو…

سچ سمجھ کر ترے بیانوں کو
ہاتھ چُھونے لگے ہیں کانوں کو

اپنے ایقان کی دراڑوں میں
آو بھرتے ہیں کچھ گمانوں کو

ایک درویش اپنے کاسے میں
ڈال کر چل دیا زمانوں کو

ہاتھ رکھے رہے نکیلوں پر
لے گئے اونٹ ساربانوں کو

میں وہاں بِن بلائے جاتا ہوں
آپ سنتے رہیں اذانوں کو

ایک کھڑکی کھٹکتی رہتی ہے
اُس گلی کے سبھی مکانوں کو

پھر ملاقات ٹل گئی لیکن
شرم آنے لگی بہانوں کو

قہر پھوٹے گا ہر بُنِ مُو سے
کاٹ دو گے اگر زبانوں کو

اسد رحمان

اِنتِخاب
سفیدپوش


Related Articles

4 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/