منتخب غزلیں
سچ سمجھ کر ترے بیانوں کو ہاتھ چُھونے لگے ہیں کانو…

سچ سمجھ کر ترے بیانوں کو
ہاتھ چُھونے لگے ہیں کانوں کو
ہاتھ چُھونے لگے ہیں کانوں کو
اپنے ایقان کی دراڑوں میں
آو بھرتے ہیں کچھ گمانوں کو
ایک درویش اپنے کاسے میں
ڈال کر چل دیا زمانوں کو
ہاتھ رکھے رہے نکیلوں پر
لے گئے اونٹ ساربانوں کو
میں وہاں بِن بلائے جاتا ہوں
آپ سنتے رہیں اذانوں کو
ایک کھڑکی کھٹکتی رہتی ہے
اُس گلی کے سبھی مکانوں کو
پھر ملاقات ٹل گئی لیکن
شرم آنے لگی بہانوں کو
قہر پھوٹے گا ہر بُنِ مُو سے
کاٹ دو گے اگر زبانوں کو
اسد رحمان
اِنتِخاب
سفیدپوش



Bht zbrdssst
Waaah
waaaah
زبردست جناب….یہ حال ہی میں پردو فیس بک پر نمعدار ہوئے اور بہت اچھا اضافہ. فن کو جانا مانا چاہئے