منتخب غزلیں
ہر سانس ہے شرحِ ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے تکم…
ہر سانس ہے شرحِ ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے
تکمیلِ وفا ہے مٹ جانا ، جینے کی تمنا کون کرے
تکمیلِ وفا ہے مٹ جانا ، جینے کی تمنا کون کرے
جو غافل تھے ہُشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہوئے
جس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے
ہر صبح کٹی ہر شام کٹی ، بیداد سہی افتاد سہی
انجامِ محبت جب یہ ہے، اس جنس کا سودا کون کرے
حیراں ہیں نگاہیں دل بیخود محجوب ہے حسنِ بے پروا
اب عرضِ تمنا کس سے ہو؟ اب عرضِ تمنا کون کرے؟
فطرت ہے ازل سے پابندی کچھ قدر نہیں آزادی کی
نظروں میں ہے دلکش زنجیریں رخ جانبِ صحرا کون کرے
(دل شاہجہاں پوری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


ماشااللہ بہت خوب
Bohttt khoobsurat ❤️
بہت اعلی
♥
"اب عرضِ تمنا کس ہو، اب عرضِ تمنا کون کرے”
جو غافل تھے ہُشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہوئے
جس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے
واہ واہ واہ
Wah.
Wah boht khoob
Zabardast
Zabardast, copy….
اهااااااا
V.nice