کٹی ہے عمر کسی آب دوز کشتی میں سفر تمام ہوا اور …

سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا
..
آج مشہور و معروف شاعر ، براڈ کاسٹر اور صحافی افتخار نسیم افتی کی برسی ہے
Jul 22, 2011
افتخار نسیم 15 ستمبر 1946ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد خلیق قریشی معروف صحافی تھے اور روزنامہ عوام، فیصل آباد کے مالک مدیر تھے۔افتخار نسیم 1971ء کے لگ بھگ ترک وطن کرکے امریکا چلے گئے تھے۔ امریکا میں انہوں نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کی۔افتخار نسیم شکاگو میں پاکستانی کمیونٹی کے مقبول اور متحرک افراد میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے سنگت ریڈیو کے نام سے ایک ایف ایم چینل بھی قائم کیا تھا ۔افتخار نسیم ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ ان کے شعری مجموعے، غزال، مختلف، ایک تھی لڑکی ،نرمان اور آب دوز کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے جبکہ افسانوں کا مجموعہ شبری کے نام سے چھپا۔ وہ مقامی اردو اخبار میں کالم نگاری بھی کرتے تھے۔ ان کے کالموں کے دو مجموعے افتی نامہ اور افتی نامہ 2 کے نام سے شائع ہوئے تھے۔افتخار نسیم 22جولائی 2011ء کو شکاگو میں وفات پاگئے۔وہ شکاگوکے مقامی مسلم قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
….
وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا، اُسے کس نے اپنا بنا لیا۔۔
میری آنکھ کس نے اجاڑ دی،میرا خواب کس نے چرا لیا۔۔
تجھے کیا بتائیں کہ دلنشیں، تیرے عشق میں تیری یاد میں،
کبھی گفتگو رہی پھول سے، کبھی چاند چھت پہ بلا لیا۔۔
میری جنگ کی وہ ہی جیت تھی،میری فتح کا وہی جشن تھا،
میں گرا تو دوڑ کےاُس نےجب مجھے بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔
میری چاند چھونے کی حسرتیں،میری خوشبو ہونے کی حسرتیں،
تُو ملا تو ایسا لگا صنم! مجھے جو طلب تھی وہ پا لیا۔۔
میرے دشمنوں کی نظر میں بھی میرا قد بڑا ہی رہا سدا،
میری ماں کی پیاری دعاؤں نے،مجھے ذلتوں سے بچا لیا۔۔
مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تیرا حال تھا مجھے یاد ہے،
کبھی جل گئیں تیری روٹیاں، کبھی ہاتھ تُو نے جلا لیا۔۔
میری ڈائری، میری شاعری میرے افتی پڑھ کے وہ رو پڑی،
میرے پاس آ کے کہا مجھے،”بڑا روگ تُو نے لگا لیا”۔۔
۔۔۔۔
افتخار نسیم افتی



Allah Pak darjaat buland farmaye