منتخب غزلیں
دھڑکتے، سانس لیتے، رُکتے چلتے میں نے دیکھا ہے کوئی…

دھڑکتے، سانس لیتے، رُکتے چلتے میں نے دیکھا ہے
کوئی تو ہے جسے اپنے میں پلتے میں نے دیکھا ہے
کوئی تو ہے جسے اپنے میں پلتے میں نے دیکھا ہے
تمہارے خون سے میری رگوں میں خواب روشن ہے
تمہاری عادتوں میں خود کو ڈھلتے میں نے دیکھا ہے
نہ جانے کون ہے جو خواب میں آواز دیتا ہے؟
خود اپنے آپ کو نیندوں میں چلتے میں نے دیکھا ہے
مری خاموشیوں میں تیرتی ہیں تیری آوازیں
ترے سینے میں اپنا دل مچلتے میں نے دیکھا ہے
بدل جائے گا سب کچھ، بادلوں سے دھوپ چٹخے گی
بجھی آنکھوں میں کوئی خواب جلتے میں نے دیکھا ہے
مجھے معلوم ہے اُن کی دعائیں ساتھ چلتی ہیں
سفر کی مشکلوں کو ہاتھ مَلتے میں نے دیکھا ہے۔
الوک شری واستو۔۔۔۔!!
بشکریہ ۔۔۔حکیم خلیق الرحمٰن





بہت خوب۔۔قافیہ اور ردیف کا بہترین استعمال۔۔اور غزل میں ایک دلکش ترنم بھی سجا ہے۔۔۔ایسے لگتا ہے جیسے پڑھنے ولا اپنے محبوب کو سامنے دیکھ رہا ہے۔۔
مکرر داد
لاجواب ، دل آویز کلام
Wah…. Bhut khoob
Zbrdst nice