منتخب غزلیں
دل تک پہنچ کے روح میں اُترا نہیں ہے تُو جیسا تِرا …


دل تک پہنچ کے روح میں اُترا نہیں ہے تُو
جیسا تِرا جمال ہے ویسا نہیں ہے تُو
کیوں مصلحت کی آڑ میں چُپ اوڑھ لے زباں
سچ ہے کہ جو بھی کہتا ہے، کرتا نہیں ہے تُو
شاید زَمامِ وقت بدل دے تجھے کبھی
مجھ کو مگر یقیں ہے ،کہ ایسا نہیں ہے تُو
دیکھے نہیں ہیں تُو نے محبت کے خارزار
میری طرح سے ٹُوٹ کے بکھرا نہیں ہے تُو
پھرتے ہیں اور لوگ بھی حیدر ڈسے ہوۓ
اس کُوۓ ناشناس میں تنہا نہیں ہے تُو
نعیم حیدر۔۔!!



