ایک زمین غیر مُردّف ہم قافیہ علامّہ محمد اقبالؔ می…

غیر مُردّف ہم قافیہ
علامّہ محمد اقبالؔ
میکشؔ اکبر آبادی
۔۔۔۔۔
پِھر چراغِ لالہ سے روشن ہُوۓ کوہ و دمن
مُجھ کو پِھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمن
پُھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اُودے اُودے نِیلے نِیلے پِیلے پِیلے پیرہن
برگِ گُل پر رکھ گئی شبنم کا موتی بادِ صُبح
اور چمکاتی ہے اِس موتی کو سورج کی کِرن
حُسنِ بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیے
ہوں اگر شہروں سے بَن پیارے تو شہر اچھے کہ بَن
اپنے من میں ڈُوب کر پا جا سُراغ زِندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
من کی دُنیا من کی دُنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دُنیا تن کی دُنیا سُود سودا مکر و فن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پِھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
من کی دُنیا میں نہ پایا مَیں نے افرنگی کا راج
من کی دُنیا میں نہ دیکھے مَیں نے شیخ و برہمن
پانی پانی کر گئی مُجھ کو قلندر کی یہ بات
تُو جُھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن۔۔۔!
۔۔۔۔۔
پِھر بہار آئ نہایا اشکِ شبنم سے چمن
خُون سے لالے کے ہیں دہکے ہُوۓ کوہ و دمن
آدمیت کا ہے خُوں محفل میں بھی خلوت میں بھی
مُجھ کو وہ دُنیا مِلی ہے جِس میں شہر اچھّے نہ بَن
ہوش میں لانے کو میرے کِتنے دِل بے چین تھے
ہوش جب آیا تو بےگانہ ہے ساری انجمن
پرچم آزادی کا لہرایا گیا کُچھ اِس طرح
مَیں یہ سمجھا مِل گیا شاید غریبوں کو کفن
کل جو تُم کہتے تھے وہ گر آج دُہراۓ کوئ
اپنے تھیلے میں سے کھڑکاتے ہو تُم دار و رسن
خاک کو کب تک یہ سجدے ماہ و انجم کو بھی دیکھ
جان قدرِ آدمیت اے پرستارِ وطن
میری بربادی ہے پروانہ ہلاکت کا تِری
”تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن“۔۔۔!




Bohat Khub !!
شاندار