منتخب غزلیں

ایک زمین میکشؔ اکبرآبادی جونؔ ایلیا ۔۔۔۔۔ میکشؔ آ…

ایک زمین
میکشؔ اکبرآبادی
جونؔ ایلیا
۔۔۔۔۔
میکشؔ

آجا مِرے جُنُوں کو تماشا کیے بغیر
اُلفت کو بے نیازِ تمنّا کیے بغیر

کیا مُطمئن ہیں وعدہِ فردا کے بعد وہ
کیوں کر بنے گی اُن سے تقاضا کیے بغیر

تُم آگئے تو اور خلِش دِل کی بڑھ گئی
اچھّے تھے ہم خلِش کا مداوا کیے بغیر

ہے تیری ہر نظر کو تمنّا سے دُشمنی
بنتی نہیں ہے پِھر بھی تمنّا کیے بغیر

اِک ذرّہ فیضِ حُسن سے خالی نہ تھا مگر
مانا نہ عِشق ذرّے کو صحرا کیے بغیر

کیا شے ہُوں مَیں کہ مُجھ پہ پڑی جو تِری نظر
چھوڑا نہ مَیں نے اُس کو تمنّا کیے بغیر۔۔۔!

۔۔۔۔۔
جونؔ

ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
اُس کے بغیر اُس کی تمنّا کیے بغیر

انبار اُس کا پردہِ حُرمت بنا مِیاں
دیوار تک نہیں گِری پردہ کیے بغیر

یاراں! وہ جو ہے میرا مسیحائے جان و دِل
بے حد عزیز ہے مُجھے اچھّا کیے بغیر

مَیں بِسترِ خیال پہ لیٹا ہُوں اُس کے پاس
صُبحِ ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

اُس کا ہے جو بھی کُچھ ہے مِرا اور مَیں مگر
وہ مُجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر

یہ زِندگی جو ہے اِسے معنی بھی چاہیے
وعدہ ہمیں قُبُول ہے اِیفا کیے بغیر

اے قاتِلوں کے شہر! بس اِتنی سی عرض ہے
مَیں ہوؤں نہ قتل کوئی تماشا کیے بغیر

مُرشِد کے جُھوٹ کی تو سزا بےحساب ہے
تم چھوڑِیو نہ شہر کو صحرا کیے بغیر

اُن آنگنوں میں کِتنا سُکُون و سُرُور تھا
آرائشِ نظر تِری پروا کیے بغیر

یاراں! خوشا! یہ روز و شبِ دِل کہ اب ہمیں
سب کُچھ ہے خوشگوار گوارا کیے بغیر

گِریہ کناں کی فرد میں اپنا نہیں ہے نام
ہم گِریہ کن ازل کے ہیں گِریہ کیے بغیر

آخِر ہیں کون لوگ جو بخشے ہی جائیں گے
تارِیخ کے حرام سے توبہ کیے بغیر

وہ سُنّی بچّہ کون تھا جِس کی جفا نے جونؔ
شیعہ بنا دیا ہمیں شیعہ کیے بغیر

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی
رُخصت کرو مُجھے کوئی وعدہ کیے بغیر۔۔۔!


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/