منتخب غزلیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ و…

????بسم اللہ الرحمن الرحیم
????السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

✏گنج ـ معنی کا طلسم اس کو سمجھئے۔۔۔
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے۔۔!!

✏اہلیان ادبیات سلسلہ وار سرگرمی ”شرح غزلیات غالب ”’
کا آغاز کیا گیا ہے اس سلسلے کی دوسری سرگرمی”دوسری غزل ”آپ سب کے ذوق مطالعہ کی نذر کی جارہی ہے ” میری بھرپور کوشش رہی کہ سادہ اور سلیس انداز بیان ہو تاکہ بآسانی تمام احباب سمجھ سکیں یہ غزل مفاہیم کے لحاظ سے جتنی سادہ ہے اتنی ہی پیچ دار ۔ ۔مرزا اسد اللہ خان ”غالب ”کی فکری جہت تک پہنچنا اور سمجھنا کافی مشکل امر ہے ۔۔کیونکہ غالب ایک شخص نہیں عہد ساز شخصیت ہے ۔’کلام غالب معنی و مفہوم کا ایک طلسم ہے جس کی کھوج فکر کے کئ نئے زاویئے اور ادراک کی کئ پرت کھولتی نظر آتی ہے۔”
????????????????????????????
????شعر اول۔۔✏
کہتے ہو ‘نہ دینگے ہم’دل اگر بڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجئے ‘ہم نے مدعا پایا ۔
????فرہنگ✏
دل۔۔۔قلب۔۔۔۔جسم کا اندرونی حصہ /جگر
گم۔۔۔۔۔غیر حاضر/حواس باختہ/تلف شدہ/کھویا ہوا
مدعا۔۔۔دلی مقصد/ منشاء/مال مسروقہ
(اصل لفظ مدعی تھا جو دعی بمعنی دعوی کرنے سے مفعول ہے)
????شرح شعر اول✏
غالب کا یہ شعر شوخی و ظرافت کی بھر پور عکاسی لئے ہوئے محبوب سے دل لگی کا اظہار بیان ہے اپنے دل کی گمشدگی پر غالب نے محبوبانہ انداز میں کہا ہے کہ اچھا ہے میرا دل آپ نے چرایا ہے اردو شاعری روایت میں جا بجا محبوب کی معصومیت اور بھولپن کے انداز کو برتا گیا ہے مرزا نے بھی اس مضمون کو عمدگی سے بیان کیا ہے شعر میں تفریح اور دلچسپی کا عنصر تخیل کی بے ساختگی کی بھرپور عکاسی ہے محبوب کہتا ہے میں نے آپکا دل چرایا ہے اب واپس نہ دوں گا تو غالب نے برجستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اچھا!!! میرا دل آپ کے پاس ہے اور پھر بھی آپ کہتے ہیں ”مل گیا تو نہ دوں گا”شوخی اور شرارت کی کیفیت سے مزین شاعرانہ تخیل مرزا کے قلم کا ہی شاخسانہ ہوسکتا ہے یعنی غالب جیسا چاہتے تھے کہ انکا محبوب انکی دلی کیفیت سے آگاہ ہوجائے اور جب محبوب کا مدعا جان گئے تو کہ انکا دل انکے محبوب کے پاس ہے تو وہ اس کے گم ہوجانے پر شاداں ہیں کہ چلو جو وہ چاہتے تھے ویسا ہوگیاہے۔ ۔””غالب نے مشرقی روایت کی پاسداری کا حق ادا کرتے ہوئے سادگی اور معصومیت سے عشق اور عاشقی سے بھرپور کیفیت کو سادہ اور لطف انگیز پیرائے میں بیان کیا ہے ۔”(‘ڈاکٹر فرمان فتح پوری)
”تم کہتے ہو کہ اگر تمہارا دل کہیں پڑا پایا تو ہم تمہیں نہیں دینگے تمہاری لگاوٹ سے ہم سمجھ گئے ہمارا دل تمہارے ہی پاس ہے ۔”۔(شرح غالب طباطبائ )????
????????????????????????????

????شعر دوم✏
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائ ‘درد بے دوا پایا
????فرہنگ✏
طبیعت۔۔۔۔اصل/خاصہ /خصلت/سبھاو/جبلت
زیست۔۔۔زندگی/عمر/وجود/حیات
درد۔۔۔سوز و گداز/تکلیف/رنج و الم(مجازا۔۔شراب کی تلچھٹ)
???? شرح شعر✏
اس شعر میں غالب نے عشق کی عظمت کی بلندی کو بیان کیا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ عشق باعث آزار ہے درد لادوا ہے تکالیف اور پریشانیوں کا پیش خیمہ ہے مصائب کا سر چشمہ ہے جب کہ میں کہتا ہوں عشق تو لذت احساس ہے سرور ہے کیف ہے درد دل کا طبیب ہے ایسا طبیب جو ابدی ہے وجود میں اتر جانے والا ‘تاحیات پنپنے والا ‘اسکا درد لطیف احساس کی مانند نشاط آور ہے جس سے چھٹکارا نہ ممکن ہے عشق بظاہر بے دوا ہی سہی لیکن ایک سرور ہے جو روح و قلب کو جاوداں رکھتا ہے””یعنی زیست میرے لئے ایک درد تھی اور اسکی دوا خود وہ بے درد ہوگیا ”'(طباطبائ)
????۔
????????????????????????????
????شعر سوئم۔✏
دوستدار دشمن ہے ‘اعتماد دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی ‘نالہ نارسا پایا
????فرہنگ✏
دوستدار۔۔ساتھی /ہمدرد/غمگسار/غم خوار
دشمن ۔۔۔رقیب
اعتماد۔۔۔امید واثق /یقین /سمجھوتا
اعتماد دل معلوم۔۔یعنی دل قابل اعتبار نہیں
معلوم۔۔۔جاننا / تمیز کرنا
بے اثر۔۔۔بے تاثیر/ بے فائدہ
نالہ۔۔۔آواز گریہ/ شور فغاں / آہ و بکا / فریاد زاری
نارسا۔۔۔بے اثر / نامراد /ناکام
???? شرح شعر✏
مرزا نے اس شعرکو پرلطف انداز میں بیان کرتے ہوئے اپنی عشقیہ کیفیت کو بیان کیا ہے عشق کا مرکز دل ہے اور میرا دل ہی مجھ سے بغاوت پر اتر آیا ہے وہ میرے محبوب کے ساتھ ہے اپنے آپ کو خود سے علاحدہ کرتے ہوئے اپنی اہ و فغاں کی بے اثیری کا سبب دل کا دار مفارقت دینا ہے کہ میرے وجود میں ڈھرکنے کے باوجود وہ میرے رقیب کی حمایت کرتا ہے میرا محبوب ہی مجھ سے دشمنی پر اتر آیا ہے اور میرا دل ہی مجھ میں میرا رقیب بنکر رہتا ہے میری نالہ رسائ میری آہ وو فغاں سب بیکار گئ میرا دل در پردہ میرا دشمن ہے جو مجھ سے ہی بد ظن ہے جسکی وجہ سے میری فریاد آہ و بکا اور صدق دل سے نکلی ہر صدا بے نتیجہ ثابت ہوئ ۔
”’یوں لگتا ہے کہ مجھ سے زیادہ میرے رقیبوں اور دشمنوں کا ہمدرد و غمخوار ہے تبھی تو میرے نالے و شیون کا محبوب پر کچھ اثر نہیں ہںوتا اور وہ میرے حال زار پر توجہ نہیں کرتا””(ڈاکٹر فرمان فتح پوری)
”یعنی آہ میں اثر نہیں ہے نارسائ نہیں دل پر بھروسہ نہیں کہ وہ دشمن کا دوست ہے ”'(طباطبائ)
????????????????????????????????
????شعر چہارم✏
سادگی و پرکاری ‘بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں ‘جرات آزما پایا
????فرہنگ✏
سادگی۔۔آسان زبان و بیان /صاف دلی /تصنع اور تکلف سے پاک
بے خودی۔۔۔بے خبری کا عالم / وجد کی حالت
ہشیاری۔۔۔۔چالاک/تجربہ کار/ صاحب ادراک
پرکاری۔۔۔پرتکلف/ مرصع سازی
تغافل ۔۔کم توجہی/ بے پرواہی/بے التفاتی/
جرات ۔۔۔بہادری / جگرداری/ بےباکی
آزما۔۔۔پڑتال کرنے والا/ آزمانے والا/ جانچنے پرکھنے والا
????شرح شعر✏
غالب نے اس شعر میں محبوب کے حسن تغافل اور انداز بے نیازی کو بیان کیا ہے یعنی محبوب کی سادگی اور پرکاری بظاہر تو تصنع و تکلف سے پاک ہے لیکن یہی سادہ انداز اسکی ہشیاری اور چالاکی کے روپ ہیں اور یہی سادگی اور پرکاری ہے کہ جسکی وجہ سے لوگ اسکے عشق کے مدعی ہیں اسکے حوصلے اور ہمت کی داد دینی چاہئے کہ وہ ان کے حسن تغافل کے باوجود گرفتار محبت ہیں اسکی بے نیازی ‘بے خودی حد درجہ تغافل پسندی جرات آزما اور آزمائش میں ڈالنے والی ادائے خاص ہے جس سے نکلنا صبر آزما مرحلہ ہے سادگی اور بے خودی کی خواہش اسکی کرشمہ سازی پر استدلال اور اسکی جان لیوا ادا ہیں????
????????????????????????????
????شعر پنجم✏
غنچہ پھر لگا کھلنے ‘آج ہم نے اپنا دل
خون کیا ہوا دیکھا’گم کیا ہوا پایا۔
????فرہنگ✏
غنچہ۔۔۔بن کھلا پھول/بند کلی
خون۔۔۔سرخ آب /بےوفا ہونا/دغا باز/خیانت کرنا
گم۔۔۔غیر حاضر/حواس باختہ/کھویا ہوا
???? شرح شعر✏
شاعر نے غنچہ کے کھلنے اور سرخی گل میں ڈھل جانے کو بیان کیا ہے ‘ ماضی کے تجربات ‘تلازماتی تخیل اور ادراک و فہم کی مدد سے تجربات و مشاہدات کو حیات نو کی کسوٹی پر پرکھا ہے اور حیات انسانی کے اسی پہلو سے فائدہ اٹھاتے ہوئےکہا ہے ہہ غنچےکی شگفتگی سے میرا دل شگفتہ نہیں ہوتا اسکی سرخی سے دل کا خون ہوجاتا ہے ایسا لگتا ہے کہ میرا جگر خون خون ہوگیا ہے اور یہ بات مجھے سوگواراور دل شکستہ کردیتی ہے میرا حوصلہ کمزور پڑنے لگتا ہے غنچے کاکھل کر سرخ گلاب بن جانا مجھے اداس کرجاتا ہے یعنی بہار کی آمد اور موسم کی رنگینی میری طبیعت کو پرسکون نہیں کرتی بلکہ ملول اور افسردہ کردیتی ہے۔۔”’ایک عاشق ہے دل غنچہ پر یہ گمان کرتا ہے یہی میرا دل ہے جو مدت سے کھویا ہوا ہے””(طباطبائ)????
????????????????????????????????????شعر ہفتم ✏
حال دل نہیں معلوم ‘لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا ‘تم نے بارہا پایا
????فرہنگ✏
حال دل۔۔۔دلی کیفیت /دل کی حالت
قدر۔۔۔قدر و قیمت/ عزت / فرمان / تقدیر
بارہا۔۔۔۔بار بار/ متعدد بار/کئ بار
????شرح شعر✏
ہمیں دل کا کچھ حال نہین معلوم ہم صرف اتنا چاہتے ہیں ہم اسے برابر ڈھونڈتے رہے ہیں اسکی تلاش میں سرگرداں رہ کر بھی اسے پا نہیں سکے اے میرے محبوب!!! تم نے تو اسے بغیر ڈھونڈے ہی پالیا ہے میرا دل جب سے آپکے قبضہ جان میں ہے میں اسکی تلاش میں ہوں میں اس کے حال سے بے خبر ہوں یہ میرے قابو سے باہر ہے میرا دل ہمیشہ آپکا گرویدہ رہا ہے کیونکہ اسکے حال ہی خبر آپکو ہوگی میں تو اسکی کیفیت سے بالکل انجان ہوں۔۔
”’یعنی دل اصلا عاشق کے نہیں محبوب کے قبضے میں ہے اس لئے محبوب سے ہی اسکا حال پوچھنا ضروری ہے” ”(ڈاکٹر فرمان فتح پوری)
”’ڈھونڈا اور پایا کا مفعول بہ دل ہے”'( طباطبائ)????
????????????????????????????????
????شعر ہشتم✏
شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئ پوچھے تم نے کیا مزا پایا۔ْ¿¿
????فرہنگ✏
شور۔۔شورو غل/ ہنگامہ/ بکواس
پند ناصح ۔۔ ناصحانہ مقولہ ۔
ناصح۔۔نصیحت کرنے والا/ خبر دینے والا/خیر اندیش
زخم۔۔۔۔کٹ جانا /نقصان
زخموں پر نمک چھڑکنا ۔۔۔تنگ کرنا / ایذا دینا/ تکلیف دینا
????شرح شعر✏
ناصح نے ترک محبت کی نصیحت کرکے ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہےجو حد درجہ دکھ وتکلیف کا باعث ہے شور اور نمک کی مناسبت کسی بھی تشریح کی محتاج نہیں شور سے مراد یہاں ناصح کی ہنگامہ آرائ کرتے ہوئے نصیحت ہے شور اور نمک کی رعایت لفظی کی مدد سے غالب کا کہنا ہے ناصح کی بے معنی اور تلخ نصیحت نے میرے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے اسکی باتیں میرے لئے باعث آزار ہیں وہ مجھے جتنا عشق سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے اتنا زیادہ ہی مجھے دکھ ہوتا ہے ۔
”’ناصح کی گفتگو مجھے عشق سے تو کیا باز رکھتی ہاں عشق کی تکلیف دو چند کرنے کا باعث ضرور بن گئ ہے یہاں”آپ ”اور ”تم”شتر گربہ دانستہ ہے پر لطف ناصح کی تحقیر اور تضحیک کے لئے استعمال ہوا ہے” (فرمان فتح پوری)
”غالب نے” مزہ” کو قافیہ کیا ہے اور” ہائے مختفی ”کو” الف ”سے بدلا ہے اردو کہنے والے اس طرح قافیہ کو جائز سمجھتے ہیں وجہ قافیہ میں حروف ملفوفہ کا اعتبار ہے جبکہ یہ ”ہ” ملفوفہ نہیں ہے بلکہ ”’ز” کے اشباع سے الف پیدا ہوتا ہے تو پھر کون مانع ہے اسے حروف روی قرار دینے سے اس طرح فورا ”دشمن”قافیہ ہوجاتا ہے گو رسم خط اسکے خلاف ہے لیکن فارسی والے مزہ اور دوا کا قافیہ نہیں کرتےاور وجہ اسکی یہی ہے کہ وہ ہائے مختفی کو کبھی حروف روی ہونے کے ابل نہیں گردانتے”( طباطبائ)
????????????????????????????

بشُکریہ ادبیات


Related Articles

One Comment

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/