ھمارے دو ٹیچر ماسٹر حشمت علی اور ماسٹر قطب الدین ھ…

پھر اچانک یہ ھُوا کہ ماسٹر حشمت علی کی بدلی ھو گئی – اور وہ ھمارے ضلعے کی کسی اور تحصیل میں چلے گئے – دونوں دوستوں کے درمیان اِس تبدیلی سے جو خلیج پیدا ھُوئی ، وہ تو ھُوئی ، ھم جو طالب علم تھے یا جو دُوسرا اسٹاف تھا ، ان کے لیے بھی بہت تکلیف دہ صورتحال تھی –
میں نے ماسٹر قطب الدین سے پُوچھا ، آپ کی حشمت علی صاحب سے بڑی دوستی تھی ؟
کہنے لگے ، ھاں ٹھیک ھے.
میں نے کہا اُن کے جانے سے آپ کی طبیعت پر بوجھ پڑا ؟
کہنے لگے ھاں پڑا ھے ، مگر زیادہ نہیں –
میں نے کہا یہ آپ حیران کن بات کرتے ھیں – وہ تو آپ کے بہت عزیز دوست تھے ، قریب ترین تھے –
کہنے لگے ، لیکن آپ اِس کو ایک اعلیٰ درجے کی معیاری دوستی قرار نہیں دے سکتے – بیشک ھمارے معمُولات اکٹھے تھے – اکٹھے کھاتے پیتے تھے اور کوئی لمحہ بھی ایک دُوسرے کے بغیر نہیں گزرا لیکن یہ دوستی کی نشانی نہیں ھے –
دوستی کی نشانی یہ ھے کہ جب تک آدمی اکٹھے بیٹھ کر روئے نہ ، اُس وقت تک دوستی نہیں ھوتی ، اورھم کبھی بھی اکٹھے بیٹھ کر روئے نہیں تھے اس لیے آپ نہیں کہ سکتے کہ ھم بہت اچھے دوست تھے –
”اَشفاق احمد“
زاویہ ١ – ”دوستی اور تاش کی گیم“ سے اقتباس
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

