عالمی ادب

افسانہ نمبر 68 : آخری پتامصنف:اوہینری (امریکا)مترج…

افسانہ نمبر 68 : آخری پتا
مصنف:اوہینری (امریکا)
مترجم:طیبہ بتول (واہ کینٹ)
مغربی واشنگٹن سکوا ئر کے مضا فات میں واقع شہر کے ایک چھوٹے سے حصے میں موجود گلیاں سنسان ہو گئی ہیں ۔وہ مختلف سمتوں اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں منقسم ہو گئی ہیں ۔ ایک گلی کم از کم ایک یا دو مر تبہ اپنے ہی اندر سے گز رتی ہوئی ملتی ہے ۔ ایک مصور نے اس گلی کے بارے میں کچھ ممکنہ اور قیمتی چیز دریافت کی یعنی یہ فرض کیا جا ئے کہ ایک مصور کے پاس مصوری کا سامان موجود ہے ۔ لیکن اس نے اس کی قیمت نہیں چکائی۔ شاید اس لئے کہ اس کے پاس رقم مو جود نہیں تھی۔ اوروہ یہاں وہی رقم حاصل کرنے آیا ہے ۔ وہ گلی کی تمام اطراف میں گیا لیکن اچا نک ہی خود کو بغیر کسی معاوضے کے واپس پایا۔
شہر کایہ حصہ” گرین وچ گاوں“کے نام سے موسوم ہے اور ایسا ممکن ہوا کہ جلد ہی مصور اپنے ” گرین وچ گاوں“ کی طرف لوٹے اور وہاں پر انہوں نے کم قیمت اور روشنی سے بھر پور کمرے پائے ۔ سوئی اور جو نسی تین منزلہ عمارت کی سب سے اوپر والی منزل میں رہائش پذ یر تھیں ۔ ان دونوں نوجوان لڑکیوں میں سے ایک ”مہینے“اور دوسری کیلیفو رنیا سے یہاں آئی تھیں۔ یہاں ان کی ملا قات آٹھویں گلی میں واقع ایک ریسٹو رنٹ میں ہوئی۔ جہاں ان پر یہ راز افشاء ہوا کہ انھیں ایک ہی قسم کے کھانے ، پو شاک اور مصوری پسند ہے۔ اسی وجہ سے انھوں نے ایک ساتھ رہنے اور مل کر کام کر نے کا فیصلہ کیا۔
یہ جاڑے کا موسم تھا جب ایک سر د مہر اجنبی” گرین وچ گاوں“ میں داخل ہوا۔کسی کی نظر اس پر نہیں پڑی۔ وہ اپنی بر فیلی انگلیوں سے کبھی ایک شخص اور کبھی دوسرے شخص کو چھوتا ہوا چلتا جا رہا تھا۔ اسے ڈاکٹر نمونیا کے نام سے پکا را جا تا تھا۔ شہر کے مشر قی جانب وہ بہت سے لوگوں کو چھوتا ہوا بھا گا۔ لیکن ”گرین وچ گاوں“کی تنگ گلی میں سے تیزی سے نہ چل سکا۔ ڈاکٹر نمو نیا ایک بر گزید ہ آدمی تھا۔ اس بر گزیدہ آدمی نے کیلیفو رنیا سے آئی ہوئی کم عمر لڑکی ”جونسی“کو اپنی بر فیلی انگلیوں سے چھوا ۔ وہ اپنے بستر سے ہی لگ گئی۔ یہاں تک کہ وہ بالکل ساکت سی ہو گئی۔ وہ ہر وقت کھڑکی سے باہر اپنے گھر سے ملحقہ دوسرے گھر کی دیوا ر کو جھانکتی رہتی تھی۔
ایک صبح ایک معروف ڈاکٹر نے سوئی کو ایک ہال میں تنہائی میں بتا یا جہاں سے آواز جو نسی کی سماعتوں تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔
’’اس کے پاس بہت کم امکا ن ہے ‘‘۔ڈاکٹر گو یا ہوا
’’اس کے پاس ایک ہی حل ہے وہ بھی اس صورت میں کہ وہ خود جینا چاہے۔ اگر مریض خود جینا چاہے تو زیاد ہ کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ صرف قوتِ ارادی کے بل پر تند رست ہو سکتے ہیں ۔ لیکن آپ کی ننھی دوست نے ذہن بنا لیا ہے کہ وہ صحت یاب نہیں ہوسکتی۔ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو اسے پر یشان کر رہا ہے۔‘‘
’’وہ ہمیشہ سے اٹلی جانے کی خوا ہاں تھی اور وہ نیپال کے خلیج کی نقاشی کرنا چاہتی تھی۔‘‘ سوئی نے جواب دیا۔
’’نقاشی !نقا شی نہیں ، کوئی اور ایسی بات ہے جو اسے پر یشان کیے ہوئے ہے ۔کوئی مرد‘‘؟
’’کوئی مرد !سوئی نے استفسار کیا ۔’’ایک انسان کی اتنی اہمیت۔۔۔۔۔۔ نہیں ڈاکٹر ۔ ایسا کوئی شخص نہیں ہے۔‘‘
’’شاید یہ ذہنی کمزوری کے باعث ہے۔‘‘ڈاکٹر نے جواب دیا۔
’’مجھ سے جو بن پڑی میں کروں گا۔ لیکن جب مر یض اپنے جنازے میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد گننا شروع کر دے تو میں اپنی دوا کی تا ثیر میں سے پچاس فیصد منہا کر دیتا ہوں۔اس سے مو سم سر ما کے کپڑوں کے بارے میں اظہارِ خیال کریں اگر وہ اپنے مستقبل میں دلچسپی رکھتی ہو ئیں تو ان کے صحت یا بی کی طرف امکانات بڑھ جا ئیں گے۔
ڈاکٹر کے رخصت ہو نے کے بعد سو ئی اپنے کمرے کی جا نب بڑھی اور رونے لگی۔اس کے بعد وہ جونسی کے کمرے میں گئی۔ اس کے پاس مصوری کا کچھ سامان تھا اور وہ گنگنا رہی تھی۔
جونسی اپنے بستر میں بے حس و حرکت پڑی تھی۔ وہ بہت ہی نا تواں اور خاموش تھی۔ اس کا چہرہ کھڑکی کی جا نب مڑا ہو اتھا۔اس خیال کے پیش نظر کہ جو نسی سوئی ہوئی ہے۔ سوئی نےگنگنا نا چھوڑ دیا تھا۔
سوئی نے اپنے کا م کا آغاز کیا ۔ جیسے ہی وہ کام میں مشغول ہوئی!اسے با ر بار ایک دھیمی آواز سنائی دی ۔ وہ جلدی سے بستر کی جانب بڑھی ۔ جو نسی کی آنکھیں پوری کھلی ہوئی تھیں۔وہ کھڑی کے باہر نظارہ کررہی تھی اور الٹی گنتی گن رہی تھی۔
’’بارہ‘‘اس نے کہا۔ پھر کچھ لمحے کے بعد’’ گیارہ‘‘، پھر’’دس‘‘،’’نو‘‘،’’آٹھ ‘‘، ’’سات‘‘جلدی جلدی گنے۔
سوئی نے تشو یش زدہ نظروں سے کھڑکی سے باہر دیکھا یہ جاننے کے لیے کہ کھڑکی سے باہر گننے کے لیے کیا تھا ؟ صرف ایک خالی اجا ڑ صحن اور گھر کی پچھلی دیوار جس پر انگو ر کی ایک بہت پرانی بیل لپٹی ہوئی نظر آرہی تھی۔ جاڑے کے موسم کی ایک یخ بستہ لہرنے انگور کی بیل کے قریب قریب سارے ہی پتے جھاڑ دیے تھے اور اب تقریباً گھنی بیل دیوار سے لپٹی نظر آرہی تھی۔
’’تم کیا گن رہی ہو ڈئیر؟سوئی نے سوال کیا۔
’’چھے ‘‘جونسی نے تقریباً سر گو شی میں کہا۔’’وہ اب پہلے کے مقابلے میں تیزی سے گِر رہے تھے ۔ تین دن قبل وہ سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔ ان کو گنتے گنتے میں سر درد میں مبتلا ہو جاتی تھی ۔ لیکن اب یہ بہت سہل ہے۔ اب ایک اور گِر چکا ہے۔ اب صرف پانچ باقی بچے ہیں۔‘‘
’’پانچ کیا مطلب؟مجھے نہیں بتاو گی؟‘‘سوئی نے مشفقا نہ انداز میں پو چھا۔
’’انگور کی بیل کے پتے!جب یہ آخری پتا گِرے گا تو مجھے بھی جا نا ہو گا۔ مجھے یہ بات گزشتہ تین دن سے معلوم ہے۔ کیا تمھیں ڈاکٹر نے مطلع نہیں کیا۔؟‘‘
’’اوہ!میں نے آج تک ایسی احمقانہ بات نہیں سنی ! ‘‘سوئی نے انتہائی غصے کے عالم میں کہا۔ ’’بھلا انگور کی بیل کے پتوں کا تمھارے صحت یاب ہو نے سے کیا تعلق ہے؟‘‘ اور تم تو اس بیل سے والہانہ محبت رکھتی تھی بےوقوف لڑکی!ڈاکٹر نے مجھے آج صبح ہی تمھاری صحت یابی کے امکانات کی بابت بتا یا ہے۔ اس نے کہا کہ تمھارے پاس صحت یاب ہونے کے بہت امکانات ہیں ۔ اب سوپ پیو اور مجھے اپنا کام مکمل کرنے دو تا کہ میں رسالے سے اپنا معاوضہ وصول کرکے اپنی پیاری دوست کو طاقت ور بنانے کے لیے کچھ پھل خرید سکوں۔
’’تمھیں میرے کھانے کے لیے کچھ بھی خریدنے کی ضرورت نہیں۔‘‘جونسی نے کہا ۔ اس کی آنکھیں ابھی تک کھڑکی سے باہر جمی ہوئی تھیں۔
’’اب ایک اور گِر چکا ہے۔ نہیں۔ مجھے کوئی بھی چیز کھانے کی ضرورت نہیں ۔ اب وہاں صرف چار پتے باقی بچے ہیں ۔ عین تاریکی ہونے سے قبل آخری پتے کو گر تے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں ۔ پھر میں خو د بھی یہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جا وں گی۔‘‘
’’پیاری جونسی‘‘، سوئی نے اس پر جھکتے ہوئے کہا۔’’کیا تم میرے ساتھ وعدہ کرو گی کہ جب تک میں اپنا کام مکمل نہ کر لوں ، تم اپنی آنکھیں بند رکھوں گی اور کھڑکی سے باہر نہیں دیکھو گی۔جونسی نے سرد مہری سے پوچھا۔”مجھے یہاں تمھارے ساتھ رہنا ہے ۔“سوئی نے کہا اور نہ ہی میں یہ چاہتی ہوں کہ تم ،اس طرح مجھے یہ تصویر کل تک تیار کرنی ہے ۔ مجھے روشنی کی ضرورت ہے ورنہ میں کھڑکی کا پر دہ گرادیتی۔‘‘
’’کیا تم دوسرے کمرے میں جاکر اپنا کام نہیں کر سکتیں ؟‘‘جونسی نے سر د مہری سے کہا۔میں نہیں چاہتی کہ تم اس طرح باہر انگور کی بیل کو تکتی رہو۔’’
’’اچھا!تم جیسے ہی اپنا کام مکمل کرلو،مجھے بتا دینا۔‘‘جونسی نے اپنی نیم وا آنکھوں سے کہا اور سیدھا ہو کر لیٹ گئی۔ وہ کسی مر دے کی طرح سفید اور بے حس و حرکت نظر آرہی تھی۔
’’کیونکہ میں آخری پتے کو گر تا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں ۔ میں انتظار کر تے کرتے تھک چکی ہوں ۔ میں سوچ بچار کرتے کر تے تھک چکی ہوں۔ میں ان غریب پتوں کی طرح خاموشی سے گر جاناچاہتی ہوں ۔ سب کچھ چھوڑ دینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تم سونے کی کوشش کرو ‘‘۔ سوئی نے کہا
’’مجھے ضعیف بر من کو یہاں آنے کے لیے کال کر نی ہے۔ میں ایک ایسے آدمی کا خاکہ بنا نا چاہتی ہوں۔ جو بر من کی طرح دکھائی دے۔ اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش نہیں کرنا، جب تک میں واپس نہ آوں تم یہاں سے جانے کی کوشش نہ کرنا۔‘‘
ضعیف برمن ایک مصور تھا جو ان کے گھر کی پہلی منزل میں رہا ئش پذیرتھا۔ اس کی عمر ساٹھ سال سے تجاوز کر گئی تھی۔ اسے بحیثیت مصور کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ وہ ہمیشہ سے ایک شا ہکار بنانے کی بات کرتا۔ کچھ معا وضہ وہ شہر میں رہنے والے نوجوان مصوروں کے لیے ماڈل بنا کر حاصل کر لیتا تھا۔ وہ بہت زیادہ شراب نوشی کرتا تھا۔ اس کے باوجود وہ ہر کسی سے اپنے خوابوں کی اس شاہکار پینٹنگ کے بارےمیں باتیں کرتا رہتا تھا۔ جو اس نے ابھی بنانی ہی شروع نہیں کی تھی۔
اسے اس بات کا احساس تھا کہ سوئی اور جونسی کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا اس کا اولین فرض ہے۔ سوئی نے اسے اس کے تنگ و تاریک کمرے میں دیکھا اور وہ اس بات سے بخوبی آشنا تھی کہ اس نے شراب نوشی کی ہے۔ وہ اس کی بد بو بھی محسوس کر سکتی تھی۔ سوئی نے اسے جو نسی کی طبعیت اور انگور کی بیل کے پتوں کی بابت بتا دیا۔ وہ خوفزدہ تھی کہ جونسی جو خود ایک سوکھے پتے کی طرح کمزور اور ہلکی پھلکی ہو چکی ہے، کہیں واقعی ایک پتے کی طرح اپنی گرفت دنیا سے کھو نہ بیٹھے۔
ضعیف برمن کی آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں۔’’یہ کیسی حماقت ا نگیز سوچ ہے؟کیسے احمقانہ خیالات ہیں؟‘‘وہ چلا یا۔
’’کیا دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی زندگی کو کسی خزاں رسیدہ بیل کے پتے گرنے سے وابستہ کرلیتے ہیں؟ تمھاری دوست احمق ہے۔ جاو جا کر اپنی احمق دوست کی تیمار داری کرو۔‘‘نہیں،میں اوپر نہیں آوں گا اور میں یہیں بیٹھوں گا ۔ تم میری تصویر بناو۔تم نے ایسی بات سوچنے کی اجا زت کیسے دی؟وہ بیمار ہے جونسی! ’’
‘‘وہ بیمار اور ناتواں ہے۔ اس کی کمزور ی کی وجہ سے ایسے عجیب و غریب خیالات اس کے ذہن میں ابھرے’’۔ مسٹر بر من۔ سوئی نے بُرا مانتے ہوئے کہا۔
’’اگر آپ میرے لیے کام نہیں کر نا چاہتے تو آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ مگر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتی کہ آپ ایک سخت دل انسان ہیں ۔ شہر کے لوگ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔
’’ساری لڑکیاں جلد باز اور احمق ہو تی ہیں۔‘‘برمن چلا یا
’’میں نے یہ کب کہا کہ میں مدد نہیں کروں گا۔ میں تمھارے ساتھ چل رہا ہوں۔میں تو جونسی کے بیمار ہونے کی وجہ سے پریشان ہوں ۔ مگر یاد رکھنا،میں کسی نہ کسی دن اپنا شاہکار ضرور بناوں گا۔اورا یک دن ہم سب یہاں سے چلے جا ئیں گے۔ کیا سمجھیں؟ اب چلو!۔’’
جب وہ دونوں اوپر پہنچے جونسی نیند میں مد ہو ش تھی ۔ سوئی نے کھڑکی کا پردہ نیچے گر ادیا اور برمن کو اشا رے سے دوسرے کمرے میں لے گئی۔ دوسرے کمرے کی کھڑکی سے وہ دونوں خوف زدہ نظروں سے انگور کی ٹنڈ منڈ بیل کو دیکھتے رہے اور پھر خاموشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ سردیوں کی ایک برفیلی بارش شروع ہو گئی تھی۔ تیز ہواوں کے جھکڑ سنتے سنتے سوئی نے برمن کی تصویر بنا نا شروع کردی۔ وہ کئی راتیں اسی طرح کام کرتے رہی۔اگلی صبح ایک گھنٹے کی نیند سے جاگنے کے بعد سوئی جانسی کے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔ و ہ کھڑکی کے گہرے سبز پردے کو خالی خالی نظروں سے گھور رہی تھی۔پر دہ ہٹا دو میں باہر دیکھنا چاہتی ہوں ۔‘‘اس نے نحیف آواز میں حاکمانہ انداز میں کہا ۔
سوئی نے جھجکتے ہوئے پر دہ ہٹا دیا۔
مگر اوہ!ساری رات طوفانی بارش اور خوف ناک آندھیوں کے باوجود بھی دیوار کے اس پار انگور کی بیل پر ایک پتا ۔ ابھی تک نظر آرہا تھا۔یہ بیل کا آخری پتا تھا۔بیچ میں سے زرد مگر کناروں سے ابھی تک سبز یہ بہادر پتا زمین سے تقریباً بیس فٹ اوپر دیوا ر پر لپٹی بیل پر مو جود تھا ۔
’’یہ آخری ہے ۔‘‘جونسی نے کہا۔ میرا خیال ہے کہ رات کو یہ بھی گر چکا ہو گا۔ میں کل تیز آندھیوں کی آواز سن رہی تھی۔ خیر!اب یہ آج گرجا ئے گا اور میں بھی اس کے ساتھ مر جا وں گی ۔‘‘
’’ڈئیر !‘‘سوئی نے تھکی تھکی آواز میں کہا۔
’’اگر تمھیں اپنا خیال نہیں ہے میرا ہی کچھ خیال کرو۔ میرا کیا بنے گا ؟‘‘ مگر جو نسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس دنیا میں سب سے اکیلا کر دینے والی چیز ایک ایسی روح ہے جو ایک پر اسرار، دوردراز سفر پر جانے کے لیے تیارہو ۔ اور وہ بند ھن جنہوں نے اسے زمین اور اس کی دوستی سے باندھ رکھا ہو لیکن جب وہ ایک ایک کرکے ٹوٹ رہے ہوں ۔ دن آہستگی سے گز ر تا رہا ۔ سورج غروب ہو تے وقت تاریکی میں وہ دونوں آخری پتے کو بیل سے لپٹے ہوئے دیکھ سکتی تھیں اور پھر رات ہوتے ہی مغر بی جانب سے طوفا نی آندھیاں دوبارہ چلنا شروع ہو گئیں ۔ تیز بارش ابھی تک کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھی جیسے ہی صبح کی روشنی پھیلنا شروع ہوئی ۔ جو نسی بضد تھی کہ اسے باہر دیکھنے دیا جا ئے ۔ آخری پتا اب بھی وہاں مو جود تھا ۔
جونسی کا فی وقت لیٹے ہوئے اسے دیکھتی رہی اورپھر اس نے سوئی کو آوازدی جو کہ باورچی خانے میں اس کے لیے کچھ پکا نے میں مصروف تھی۔
”میں بہت بُری ہوں سوئی “، جونسی نے کہا
”کسی نے وہ پتا وہاں مجھے یہ باور کر انے کے لیے چھوڑ ا ہے کہ میں کتنی بڑی خود غرض اور کمزور اعتقاد کی ناشکری لڑکی ہوں ۔ مرنے کی خوا ہش کر نا گناہ ہے۔ مایوسی کفر ہے ۔ میں اب کھانے کی کوشش کر وں گی لیکن پہلے مجھے ایک چھوٹا آئینہ لا کر دو تا کہ میں خو د کو دیکھ سکوں۔ اور پھر میں اٹھ بیٹھوں گی اور تمھیں پکاتے ہوئے دیکھوں گی ۔“
ایک گھنٹے کے بعد وہ گو یا ہوئی۔ سوئی!مجھے یقین ہے کہ میں ایک دن نیپال کی خلیج کی نقا شی کروں گی۔دوپہر میں ڈاکٹر آیا۔ سوئی اس سے بات کر نے کے لیے جونسی کے کمرے کے باہر ہال کی جانب بڑھی ۔
”خد مت اور محبت سے زندگی کے امکانات کو بڑھا یا جا سکتا ہے ۔ اس کا بہت زیادہ خیال رکھو وہ صحت یاب ہو جائے گی ۔ وہ پھر سے جینا چا ہتی ہے ۔ اب مجھے اجا زت دیں مجھے آپ کے نیچے والے فلیٹ ایک مریض کو دیکھنے جا تا ہے ۔ اس کا نام برمن ہے ۔ اور غالباً وہ بھی کوئی مصور ہے۔ اس کو نمو نیا ہو گیا ہے ۔ وہ بہت ہی ضعیف اور ناتواں آدمی ہے ۔ او روہ شدید بیمار ہے ۔ اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ لیکن آج اسے ہسپتال لے کر جا نا ہے۔ ہم اس کے لیے جو ممکن ہو سکا کریں گے۔“
اگلے دن ڈاکٹر نے سوئی سے کہا ۔”جونسی کی حالت اب خطرے سے با ہر ہے۔ تم نے اس کے لیے بہت کچھ کیا ہے ۔ خوراک اوردیکھ بھال ۔۔۔۔۔ یہی کا فی ہے ۔ “
اور اس دو پہر سوئی ، جونسی کے بستر کی طرف آئی جہاں جونسی لیٹی ہو ئی تھی ۔ سوئی نے جونسی کے گلے میں بانہیں ڈا ل کر کہا ۔”میں تمھیں کچھ بتا نا چا ہتی ہوں ۔ میری ننھی دوست! “اس کی آواز مد ہم ہو گئی۔
”مسٹر بر من نمو نیے کے حملے کی وجہ سے آج ہسپتال میں انتقال کر گئے ۔ انہوں نے صرف دو دن علالت میں گزارے ۔ دو روز قبل کسی نے ان کو بے یا رو مددگار اپنے کمرے میں پا یا تھا۔ وہ درد سے بے قرار تھے ۔ ان کے کپڑے اور جوتے گیلے اور برف کی طرح یخ بستہ تھے۔ عمارت کے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسی طوفانی بارش والی رات میں کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے اور پھر ان لوگوں کو ایک لالٹین ملی جو اس وقت بھی جل رہی تھی اور وہ اس کو اپنے ساتھ با ہر لے کر گئے تھے اور وہاں کچھ مصوری کا سامان۔۔۔۔رنگ و روغن اور برش بھی بکھرے ہوئے تھے اور رنگوں کی تختی بھی جس میں سبز اور زرد رنگ گھو لا گیا تھا۔
”کھڑکی سے با ہر جھا نکو میری دوست!بیل پر موجود اس آخری پتے کی جانب دیکھو ، کیا تمھیں یہ سوچ کر کبھی حیرت نہیں ہوئی کہ آخر یہ پتا شدید آندھی میں بھی حرکت کیوں نہیں کرتا؟“
”آہ!میری پیاری دوست !یہ بر من کا شاہکا ر ہے ۔ اس نے اس پتے کی دیوار پر بیل کے ساتھ اس طوفانی رات میں نقاشی کی تھی جس رات اس بیل کا آخری پتا گر گیا تھا۔“
Original Title:
The Last Leaf
Short story by O. Henry

— with Tayyaba Mohsin.

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2843871519176696

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/