مختصر کہانیاں

#توہی_عشق_توہی_جنون #ازصاحبہ_فردوس_ #چوتھا_حصہ …

#توہی_عشق_توہی_جنون
#ازصاحبہ_فردوس_
#چوتھا_حصہ

اس نےعمائمہ پر پانی کی بوندھے ڈالاجس سے وہ ہو ش میں آگئی اور اپنی جگہ اٹھ کر بیٹھ گئی اب وہ ارشمیل کو نفرت و غصے سے ملی جھلی کیفیت میں گھورنے لگی اور بولی ۔
"تم کیو ں کررہے ہو یہ سب کچھ "۔
"تم سے بد لہ لینے کے لیے "۔ارشمیل نے صاف گوئی کا مظاہر کیا جس سے وہ اپنی جگہ اور بھی تپ گئی ۔
"کوئی اور بھی تو طریقہ ہے بدلہ لینا کا "۔وہ اس کے پاس بیٹھ گیااور اس کےبکھر ے ہوئے بال اپنے ہاتھ سنوارتے ہوئے بولا۔
"میں پرانے طریقوں سے تنگ آچکا ہو اس لیے اب نیاطریقہ آزمانہ چاہتا ہو "۔اس نے ارشمیل کا ہا تھ جھٹک دیا اور بولی ۔
"تم بہت بڑی غلطی کررہ ہو میں مر جاؤ گی مگر کبھی تم سے نکاح نہیں کروگی "۔
"میں بھی مر جاؤ گا مگر تم سے ہی نکاح کرؤگا "۔وہ بھی اس ہی کی طرح بولاجسے دیکھ کر عمائمہ کو اور
بھی زیادہ غصہ آیاوہ اپنی جگہ پر سے اٹھی اور اس کے کالر پکڑ کر کہنے لگی ۔
"تم کچھ بھی کر لو میں تم سے نکا ح نہیں کرؤ گی "۔اسکی اس حرکت کا جواب ارشمیل نے کچھ اسطرح سے دیاکے اپنے کالر پرسے اس کے ہاتھ ہٹادیااور اس کے بال پکڑ کراسے اپنے قریب کر لیااور بولا ۔
"تمہیں پہلے ہی کہا تھا مرتضی کے ساتھ نظر مت آنا مگر پھر بھی تم نظر آئی اب بھگتوں "۔ اسے جتنا درد اس کے بال پکڑنے پر نہیں ہوا تھااتناہی اس کے یہ کہنے پر ہوا تھا کیوں وہ اسے اپنی جاگیر سمجھ بیٹھا تھا کیوں اس پر اپنی مرضی تھوپنا چاہتا تھایہ بات سہی تھی کے عمائمہ نے اپنی زندگی کا اختیار اسے دیاتھامگر پھر بھی وہ اس کی اور مرتضی کی زندگی کا فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا وہ شاید اسے مرتضی کے ساتھ خو ش دیکھ کرجیلس ہوتا تھا یا پھر بات کچھ اور تھی جسے وہ بھی سمجھ نہیں پارہا تھا عمائمہ نے اس کے پیر پراپنا پیررکھ دیاجس سے وہ تلملا کر پیچھے ہٹا تھا عمائمہ موقع کافائدہ اٹھا کروہاں سے نکلنا چاہتی تھی مگر ارشمیل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیااور اسے دیوار سے لگادیاجس سے اس کا سر بر ی طرح دیوار سے ٹکرایااور وہ اپنی جگہ کراہ کررہ گئی ۔
"زیادہ اسمارٹ بننے کی کوشش مت کیا کرؤ جب کے تمہیں پتا ہے کے کون سب سے زیادہ اسمارٹ ہے اب سیدھے طرح سے تیار ہوجاؤ مولوی صاحب آنے والے ہے "۔
"تمہیں پتا ہے کے میں مرتضی سے محبت کرتی ہو اور اس سے انگیجڈ ہو پھر کیوں کررہ ہو تم یہ سب "۔اس کے ہونٹ بری طرح کانپ رہ تھے اس کے منہ سے الفاظ ہی آدا نہیں ہو رہ تھے گھبراہٹ سے اسے پسینے چھوٹ رہ تھے مگر پھر بھی و ہ ر و نہیں رہی تھی بلکہ ڈٹ کر اس کا مقابلہ کر رہی تھی ۔
"جو سکون تمہاری خوشیاں چھننے میں مجھے ملتا ہے وہ سکون دنیاکے کسی بھی کونے میں میسر نہیں آتا ہے اب تیار ہو جاؤ ورنہ اس مرتبہ بھی مجھے زبردستی کر نا پڑے گا”۔
"ت۔۔۔تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتےم۔۔۔ مجھے سوچنے کےلیے کچھ وقت چاہیے "۔اس کی بات سن کر وہ پر سوچ لہجے میں بولا ۔
"اوکے تمہارے پاس ایک گھنٹے کا ٹائم ہے تم سوچ لو "۔
"ن۔۔۔نہیں مجھے دو دن کا وقت چاہیے "۔اس کی بات سن کر وہ کچھ سوچتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھ گیا پھر بولا۔
"ٹھیک ہے دو دن کا ٹائم ہےتمہارے پاس مگر تمہارا فیصلہ میرے حق میں ہونا چاہئے "۔اتنا کہے کروہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ واپس چلا گیا جس سے عمائمہ نے سکون کا سانس لیا پھر وہ من ہی من میں اس سے چھوٹکارا پانے کے منصوبے بنا نے لگی اس کےسمجھ نہیں آرہاتھا کے وہ کیسے
کے بچھائے ہوئے جال سے باہر نکلے وہ چاروں طرف سے اس کے گھیرے میں پھنستے جارہی تھی اسے ایسا لگ رہا تھا وہ ارشمیل کی وجہ سے مر تضی سے دور ہوتے جا رہی ہے اس نے بہت سوچ بچار کے بعد حتمی فیصلہ لیا۔
٭٭٭
اس نے اپنی اور سب کی بھلائی کے لیے اس شہر کو چھوڑنے کافیصلہ لیاتھاوہ نہیں چاہتی تھی اس کے وجہ سے عدینہ اور مرتضی کی لائف میں کسی بھی قسم کی پریشانی آئے انھیں اس کی ذات کی وجہ سے کوئی دکھ پہنچے اس لیے اس نے ان سب سے دور جانے کافیصلہ لیاتھا وہ کل رات سے چپ چاپ طریقے سے اپنے جانے کی تیاری کر رہی تھی اسے یقین ہوچکاتھاکے اس کی ہرایک حرکت پر ارشمیل کی نظر ہے اس لیے وہ اس بار الرٹ ہوچکی تھی اس نے کسی بھی قسم کی کوئی غلظی کی گونجائش نہیں رکھا تھا اسے دکھ تو بہت ہورہاتھاکے وہ اسطرح سے اس کے اپنوں کو بتائے بغیرجارہی ہے انھیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جارہی ہے مگر پھر اس کی نظروں میں ارشمیل یزدانی کاتمسخر آڑاتا ہوا چہرہ گھوم گیاجس سے اس کافیصلہ پہلے سے زیادہ پختہ ہوگیااس نے سوچااگر قسمت میں مرتضی اور عدینہ سے ملنارہاتو قسمت انھیں دوبارہ ملاکررہے گئی پھراس نے ایک آخری نظرارشمیل کے فلایٹ پرڈالااور سوچنے لگی کے اب اسے دوبارہ یہاں نہیں رہناہوگا اور نا
اس ذلیل انسان کے بے وجہ ٹاچر برداشت کرنا ہو گا اس نے اپنا ایک بیگ ضروری سامان سے بھرااور دوسرا کپڑوں سے بھرا بیگ اٹھایااور وہاں سے نکل گئی وہ رات کے اندھیرے میں گھر سے نکلی تھی تاکےارشمیل کو خبر نا ہو مگر پتا نہیں کیسے اسے خبر ہوگئی اس نے عمائمہ کے جانے کی ہر راہ مسدود کردیااس نے شہر کے کونے کونے میں ناکہ بندی کرؤادیاتھاہرراستے کے چپے چپے پر پولیس کی چھاپہ ماری چل رہی تھی پولیس سبھی کاروں کی ٹرکوں کی گاڑیوں باریک بینی سے تلاشی لے رہی تھی اسے ایک پولیس والے کے ہاتھ میں اپنی عدینہ کی شادی میں نکالی ہوئی تصویر نظرآئی تو وہ سمجھ گئی کے یہ سب کچھ ارشمیل کررہاہے وہ جس ٹیکسی میں بیٹھی تھی اس نے اس ٹیکسی ڈرائیوار سے کہا۔
"بھائی یہ کیا ہورہاہے "۔
"لگتا ہے کسی کو تلاش کیاجارہا ہے یہ کوئی معمولی شخص کا کام نہیں ہے بہت امیر آدمی کا کام لگتا ہے "۔اس ڈرائیوار کی بات سن کر اس کا شک یقین میں بدل گیااس سے پہلے ان کی ٹیکسی آگے بڑھتی اور پولیس والوں کی نظر اس پر پڑھتی وہ دوبارہ ڈرائیوار سے بولی۔
"بھائی پلیز آپ کسی دوسرے راستے سے چلے "۔
"ہم کسی بھی راستے سے آئیر پورٹ جائے گے تو ہمیں ایسی ہی Checking کاسامنا کرنا پڑھے گا”۔اس ٹیکسی ڈرئیوار کی بات عمائمہ کو سو فی صد درست لگی تھی پھر اس نے دوبارہ اس ڈرائیوار کو مخاتب کیا۔
"آ۔۔۔آپ مجھے جہاں سے لائے تھے وہی پر مجھے دوبارہ چھوڑ دے اب مجھے کہی نہیں جانا ہے "۔اس کا حکم سنتے ہی ٹیکسی ڈرائیوار نے اپنی ٹیکسی موڑ لیا پھرجہاں سےوہ اس ٹیکسی میں بیٹھی تھی وہی وہ بارہ آکر کھڑے ہوگئی پھر وہ اپنے خدا سے مدد کی گوہار لگا نے لگی تبھی خدا نے اس کی مدد کرنے کے لیے سامان سے بھرا ہوا ٹرک بھیج دیااس نےلفٹ لینے کے لیے ہاتھ دیکھایاجس سے وہ ٹرک اس کے پاس آکھڑا ہوا اس میں آدھڑ عمر کا آدمی تھا اس کے چہرے سے ہی وہ بھلا آدمی معلوم ہو رہا تھا اس نے اس ٹرک ڈرئیور سے کہا۔
"انکل میں بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہو پلیز میری مدد کیجیے "۔اس ٹرک ڈرائیورنے ایک نظراس کے معصوم سے چہرے پر ڈالااور بڑے ہی شفقت سے کہا۔
"بیٹا میں کیامدد کر سکتا ہو آپکی "۔
"کچھ لوگ میرے پیچھے پڑھ گئے ہے مجھے آئیرپورٹ جانا ہے کیا آپ مجھے لفٹ دے سکتے ہے "۔
اس کی بات سن کر ٹرک ڈرئیورکچھ سوچنے کے بعد بولا۔
"ٹھیک میں آپ کو چھوڑ دیتا ہو مگر بیٹا آپ کو پیچھے بیٹھنا ہوگا سامنے بہت قیمتی سامان رکھا ہوا ہے "۔اس ٹرک ڈرائیوار کی بات سن کر وہ خوش گئی کیونکہ وہ خود ہو کر اس ڈرائیور سے کہنا چاہ رہی تھی کے وہ اسے ٹرک کے پچھلے حصے میں جگہ دیے دے جس سے وہ ٹرک کے سامان کے بیچ پوری طرح چھپ جائے اور پولیس سے بچ جائے پھر وہ ٹرک کے پچھلے حصے میں جاکر بیٹھ گئی وہاں پر بہت اندھیرا تھا جس سے اس کا دم گھٹ رہا تھا مگر اس نے کچھ دیر کے لیے اپنے ڈر کو قابو میں کیا اور اللہ سے دعائیں مانگنے لگی کے پولیس اسے نا دیکھے پھر راستے میں ٹرک ایک بار رکھا تھا جس سے وہ سمجھ گئی کے وہ لو گ ہائی وے پرپہنچ گئے ہے پولیس والوں نے ان کے ٹرک کی بھی
Checking کیے مگر اس کا نازک سا وجود کچھ اس طرح سے ٹرک کے سامان کے پیچھے چھپاتھا کے پولیس کو کچھ دیکھا نہیں پولیس نے ان کے ٹرک کو آگے جانے دیا جس سے اس نے خدا کا لاکھ بار شکر آدا کیا پھر وہ ٹرک سے نکلی اور اس ٹرک ڈرئیور کا شکریہ آدا کیا ۔
"تھنک یو انکل آ پ کو نہیں پتاآپ نے میری کتنی بڑی مدد کیا ہے "۔اس کی بات سن کر ٹرک ڈرئیوا ر مسکراتے ہوئے بولا۔
"بیٹا شکریہ کی کوئی بات نہیں تم میری بیٹی جیسی ہو "۔ پھر وہ آئیر پورٹ پر Checking کرنے کے بعد پلین میں بیٹھ گئی اور دعا کرنے لگی کے پلین جلدی سے Takeoff کر لے تا کے وہ سکون
کاسانس لے سکے وہ جس سیٹ پر بیٹھی تھی اس کے پہلو میں ایک خوش شکل شخص بیٹھا تھا اس نے عمائمہ کو دیکھ کر مسکرایا تو عمائمہ بھی مروت مسکرانے لگی پھر کچھ دیر بعد وہ شخص اس سے باتیں کرنے لگا تو وہ بھی اس کی باتوں کا ہوں ہاں میں جواب دینے لگی اس کی دل کی ڈھڑکنیں تیز ہونے لگی اس کی چھٹی حس اسے سائن دینے لگی تھی کے ابھی کچھ نا کچھ غلط ہونے والا ہے مگراس نے دھیان نہیں دیاوہ پھر سے اس شخص سے باتیں کرنے لگ گئی تبھی اس کی ناک کی نتھوں میں کلون کی خوشبو پڑی تو وہ مڑ کر دیکھنے پر مجبور ہوگئی ارشمیل اس کے سامنے ہی کھڑا تھااسے دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر اچھل پڑی اور ڈر کراس شخص کا ہاتھ پکڑ لیا یہ دیکھ کر پہلے سے ہی بپھرا ہوا ارشمیل اپنی جگہ اور بر ہم ہو گیااس نے عمائمہ کا ہا تھ پکڑ کر اسے اس شخص سے دور کرنے کی کوشش کر نے لگا مگر پتا نہیں اس میں اتنی قوت کیسے آگئی تھی کے وہ اپنی جگہ سے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
"سرمد پلیز مجھے بچا ئیے میں اس شخص کے ساتھ نہیں جانا چاہتی ہو "۔باتوں کے دوران اس شخص نے عمائمہ کو اپنا نام بتایا تھا ۔
” آپ کیوں ان کے ساتھ زبردستی کر رہ ہے "۔وہ انجانا شخص بھی اس کی مدد کے لیے بیچ میں کود پڑا تھایہ دیکھ کر ارشمیل اور بھی زیادہ غصے میں آگیااس نے زور سے کہا ۔
"آپ ہم دونوں کے معملات میں دخل ناہی دے تو بہتر ہو گایہ میری ہونے والی بیوی ہے "۔پلین میں موجود سبھی لوگ اس کا تماشہ دیکھ رہ تھے مگر کوئی بھی اس کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا تھا وہ خود کو بچا نے کے لیے بولی ۔
"میں اس شخص کو جانتی بھی نہیں ہو مگر پھر بھی یہ میرے پیچھے پڑا ہے "۔اس کے جھوٹ بولنے پر ارشمیل نے اسے شعلہ بار نظروں سے گھورا تھا ۔
"پلیزآپ مس عمائمہ کو چھوڑ دیجیے ورنہ مجبوراً ہمیں پولیس کو بلانا ہو گا "۔اس کی با ت کر ارشمیل ہنسنے لگااور بولا ۔
"پولیس تو خود میرے ساتھ آئی ہےان محترمہ کو گرفتار کرنے کے لیے کیونکہ انھوں نے ارشمیل یزدانی کو دھوکا دینے کی کوشش کیا ہے "۔اس کی بات سن کروہ شخص بھی پیچھے ہٹ گیا پھر ارشمیل نے اسے زبردستی گھسٹتے ہوئے لے گیاوہ روتی رہی چلاتی مگر ارشمیل نے اس کی ایک بھی نہیں سنا تھا ۔
٭٭٭
ارشمیل اور اس کی پوری ٹیم اسے لے کر فارم ہاؤس آئے تھے ارشمیل کا فارم ہاؤس جدید طرز پر بنایاگیا اب اس میں گھپ اندھیرے کی جگہ روشنی نے لے لیاتھاوہاں کی ہرایک چیز بحش قیمتی تھی
مگر اس کے کچھ بھی کا م کی نہیں تھی ارشمیل کی سیکرٹری نے اسے ایک شاندار سے روم میں لا یااسے زبردستی بیٹھا دیا اور اس کے سامنے بے حد قیمتی بیلو کلر کا جوڑا رکھ دیاجس پر گولڈن کلر کا ورک تھا وہ ڈریس دیکھ کراسے عدینہ کے شادی والا ڈریس یاد گیا تھا پھر وہ اسے یہ ڈریس پہننے کا حکم دے کر دروازہ باہر سے لاک کر کے چلی گئی پھرجب وہ واپس آئی تو اس کے ساتھ ایک ماہر بیوٹیشن تھی یہ دیکھ کر اسکا دماغ گھوم گیا تھااس نے آؤ دیکھا نا تاؤ وہاں پر جتنا بھی قیمتی سامان تھاوہ سب اٹھا اٹھا کر پھنکنے لگی جس سے ڈر کر وہ بیوٹیشن اور ارشمیل کی سیکر ٹر ی بھاگ گئے کچھ دیر بعد ارشمیل آیا تھااس نے عمائمہ کے سرخ چہرے کو دیکھ کر اندزہ لگالیا کے وہ بہت روئی ہے وہ اس کے قریب آیااور اسے پکڑکراپنے سامنے بیٹھایااور بولا۔
"میں تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کررہا ہو تو تم اس کا بہت فائدہ اٹھا رہی ہو سیدھے طرح سے تیار ہو جاؤ ورنہ میں خود تمہیں تیار کرؤ گا پھربعد میں مجھے کچھ مت کہنا ٹھیک ہے "۔اس کی بات سن کرعمائمہ ایسا برتاؤ کررہی تھی جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں ہو وہ جاتے جاتے دوبارہ رک گیااور اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔
"اس ہی ہاتھ سے اس انجان شخص کاہاتھ پکڑا تھا ناتم نے "۔ اس کی بات سن کر عمائمہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھنچناچاہا تھا مگر ارشمیل نے ایسا ہونے نہیں دیااس نے اب مضبوطی سے عمائمہ
کا ہاتھ تھا م لیااور پتا نہیں اس کے ہاتھ پر کوئی نوکیلی ٹھوس شے مارا تھاجس سے اس کے ہاتھ سے خون بہنے لگا تھاوہ اپنی جگہ کراہ کررہ گئی اور دبی دبی آواز میں سسک نے لگی تھی ۔
"یہ ہاتھ کا زخم تمہیں ہمیشہ یاددلائے گا کے تم نے اس ہاتھ سے کسی غیر شخص کا ہاتھ تھاما تھا اب سیدھے طرح سے تیار ہو جاؤ "۔اتنا کہے کروہ واپس چلا گیا وہ ایسی ہی جگہ پر بیٹھے رہی تھی ۔
اس کے ہاتھ سے کتنا خون بہے کرزمین پرگراتھااسے یہ تک خبر نہیں ہوئی تھی وہ تو بس اپنے جگہ ساخت بیٹھی تھی اور چپ چاپ آنسوں بہارہی تھی اسے اپنی قسمت رونا آرہاتھاجو ہر بار اسے عین وقت پر دھوکہ دیتی تھی جو ہربار اس ظالم شخص کواس کے سامنے لاکھڑاکرتی تھی جواسے کٹھ پتلی کی طرح اپنے انگلیوں سے ناچ نچا تاتھااور وہ ویسے ہی کرتی جاتی جیسا وہ چاہتاتھا اس کی سیکرٹری ایک بار پھراس کی حدمت میں حاضرتھی اب وہ اس سے کہے رہی تھی ۔
"میم آپ بینڈیج کرؤالے "۔وہ لڑکی اس کے قریب بیٹھ کراس کاہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے زخم کا معائنہ کرتے ہوئے بولی ۔
"نہیں مجھے نہیں کروانا”۔اس نے اس لڑکی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھنچ لیامگر وہ لڑکی بے چارگی سے بولی ۔
"پلیز میم سمجھنے کی کوشش کرے آپ کی ضد کی وجہ سے میری جا ب بھی جاسکتی ہے اور آپ خود
ہی اپنے ہاتھ کے زخم کو دیکھے کتنا گہرا ہے "۔اس نے ایک نظراس لڑکی کے چہرے پرڈالاجس کے چہرے سے صاف جھلک رہاتھا کے اسے اپنی جاب ہاتھ سے نکلنے کا خوف ستارہاہے پھراس نے خون بہتے ہوئے اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں پر کافی گہرا زخم تھا اس نے اپنا ہاتھ اس لڑکی کے طرف بڑھادیاصرف اس لیے کے اس کی جاب نا جائیے کیونکہ اسے پتا تھا ارشمیل یزدانی کتنا ظالم شخص ہے وہ اس کا غصہ اس بے چاری لڑکی پر نکالے گااس کو ہمیشہ کے لیے جاب سے فارغ کر دے گا پھر وہ لڑکی نے ایک رحم بھری نظر عمائمہ کے جود پر ڈالی اور بولی ۔
"میم پلیز آپ تیار ہوجائیے کیونکہ ارشمیل سر نے کہاہے پانچ منٹ بعد نکاح کے لیے مولوی صاحب آرہے ہے "۔اس لڑکی بات سن کر اس کے رکے ہوئے آنسوں پھرسے نکل گئے تھے وہ لڑکی اپنا کام کرکے وہاں سے چلی گئی اب دوبارہ عمائمہ اس روم میں اکیلی تھی عمائمہ نے روم کے چاروں طرف نظریں دوڑاکردیکھا یہ شاید پہلے والا ہی روم تھا جب ارشمیل نے اسے اغوا کرکے یہی پر رکھا تھامگراب اس روم میں بہت ساری تبدیلیاں کی گئی تھی اسے نئے طریقے سے سیٹ کیا گیا تھاایسا لگ رہاتھا اس گھر کی نئی تعمیر کی گئی تھی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آگئی اور وہاں سے نکلنے کے لیے وہ کھڑکی پھلانگنے لگی تھی کے تبھی ارشمیل پیچھے سے آیااور اسے بازوں سے پکڑ کر ا پنے سامنے کھینچا وہ اسے نفرت سے دیکھنے لگی تھی تبھی ارشمیل نے اسے زبردستی گھسٹتے ہوئے بیڈ تک لایا اور اسے نیلے رنگ کاڈوپٹہ اڑایا جسے اس نے دور اچھا ل پھیک دیا تھاارشمیل نے شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھا پھروہ دوپٹہ اٹھاکرلایااور دوبارہ اسے اڑھا دیااور کہنے لگا۔
"بنا شور شرابے کے چپ چاپ نکاح نامہ پر سائن کر ؤ”۔وہ زور سے دھاڑی تھی ۔
"چاہے تم میرا قتل ہی کیوں نا کر دو میں اس نکاح نامے پر سائن نہیں کروگئی تم سے نکاح کرنا مطلب اپنی موت کو دعوت دینا ہے میں خود ہوکر اپنی موت کو دعوت نہیں دے سکتی ہو "۔
"تم اپنی موت کو تبھی دعوت دیے چکی تھی جب تم پہلی بار مجھ سے ٹکرائی تھی اب سائن کر ؤ "۔
"نہیں کروگی "۔وہ بھی ضد پر آڑ چکی تھی تبھی ارشمیل نے اس کا سیدھا ہاتھ پکڑا جس پر اس کی دی ہوئی زخم تھی اور پھر زبردستی اس کے ہاتھ میں قلم پکڑاتے ہو ئے اس سے سائن کروانے لگا
زبردستی ہی سہی مگرعمائمہ کے ہاتھوں نکاح نامے پر سائن ہوچکی تھی وہ یہ سب دیکھ کر اپنی جگہ بکھر کررہ گئی یہ مقام اس کے لیے موت سے بھی زیادہ بدتر تھا جس کی وہ غلام بن کررہ رہی تھی اس کی تقدیر نے ہمیشہ کےلیے اس شخص کی غلا می لکھ دی تھی ارشمیل کافی خوش تھا کیونکہ اسے ہمیشہ کے لیےاس کی زندگی کواپنے ہاتھ سے کنٹرول کرنے کا سرٹفکیٹ جو مل گیا تھا ارشمیل نے اپنے نکاح میں موجود ان چند لوگوں کےلیے کھانے کااہتمام کیا تھاوہ سب لوگ ان دونوں کے نکاح کا کھانا کھاکر وہاں سے رخصت ہوگے تووہ اپنے روم میں آیاوہ اسے روم میں موجود نہیں
دیکھی توارشمیل سمجھ گیاکےوہ باتھ روم میں ہے کیونکہ وہاں سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی ارشمیل نے ایک نظر آئینہ میں ابھرتے ہواپنے عکس پر ڈالابلیک بلیزر اور ٹراوزر میں وہ ہمیشہ کی طرح شاندار دیکھ رہا تھا اپنی جیت کی وجہ سے خوشی سے چمکتی ہوئی اس کی خوبصورت آنکھیں اسے احساس دلا رہی تھی کے اس نے آج جو کام کیا ہے وہ قابل اے تعریف ہےاسے اپنی جیت پربہت خوشی ہورہی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتاتھاعمائمہ حیدر کسی اور کے ساتھ خوش رہ اس لیے تواس نے مرتضی کو اور عمائمہ کودور کرنے کے لیے اسے نکاح کے بندھن میں باندھ دیاتھاتاکہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہ تواس کے نام سے منسوب رہ وہ کسی اورکے وجود سے اپنی زندگی کی خوشی تلاشنے کی کوشش کرے تو پہلےاسے ارشمیل کا ہی خیال آئے وہ چاہتا تھاوہ اسے ہی سوچتے رہ اس کے وجود سے خوف زدہ رہ اگر وہ اس سے خوف زدہ رہے گی تبھی تواسے تڑپانے میں مزا آئے گا نا ارشمیل نے گھڑی میں وقت دیکھ کر باتھ روم کے طرف دیکھااسے باتھ روم میں گھسے ہوئے دس منٹ ہوچکے تھے ارشمیل تشویش میں پڑ گیا کے کئی وہ باتھ رو م کی کھڑ کی سے بھاگ نا گئی ہو ہربار کی طرح اس لیے اس نے دو تین دھکے دے کر باتھ روم کا دروازہ کھولا تو دیکھاوہ بے سو سی شارو کے نیچے بھیگ رہی تھی اس کے سارے کپڑے گیلے ہوچکے تھے وہ اس کے پاس آیااور اسے ایک زور دار تھپڑ لگا کر ہوش میں لایا اس کا تھپڑ کھاتے ہی وہ فرش پر گر گئی تھی وہ جیسی گری تھی ویسے ہی رہی اس نے اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش بھی نہیں کیا تھاارشمیل اس کے پاس آیااور اسے زبردستی اٹھا کرروم میں لے آیااور بولا۔
"تمہیں لگ رہا ہوگا میں تمہاری ان سب حرکتوں سے تم پر تر س کھاؤگا تمہیں بخش دو گاتو تم بالکل غلط سوچ رہی ہومجھ تم پر ترس نہیں ہنسی آرہی کے تم اب کیسے آگے کی زندگی گزاروگی اپنے منگتر کےبغیراپنی پہلی محبت کے بغیر جب کے تم تواس کے بغیرسانس لینابھی گناہ سمجھتی تھی اور تمہیں کیا لگتا ہے میں ساری دنیا کے سامنے تمہیں اپنی بیوی کے طور پر قبول کرؤگا تمہاری غلط فہمی دور کرنے کے لیے تمہیں بتادو کے تم صرف اس لیے میرے نکاح میں ہوتاکے تم اپنی محبت کو حاصل نا کرسکوں اپنے منگتر مرتضی سے شادی کر کےاس کے ساتھ خوشی سے زندگی نا بسر کر سکوں اور کوئی بات نہیں ہے اس نکاح کو لے کر خوش فہمی مت پال لینا کے تمہارا مجھ پرکوئی حق ہے”۔وہ اتنا کہے کر چلا تھاکے عمائمہ میں پتا نہیں کیسے اتنی ہمت آگئی کے اس نے ارشمیل کا ہاتھ پکڑا اور اس کے جیب سے نکاح نامہ اچک لیاپھر وہ آتش دان کے طرف بڑھی وہاں جاکر اس نے وہ نکاح نامہ جلادیاارشمیل اس کی اتنی ہمت دیکھ کر دنگ رہ گیاتھانکاح نامہ جلا کر وہ اس کے پاس آئی اور بولی ۔
” تم بھی یہ مت سمجھ لینا کے زبردستی نکاح کرکے تم میرے سب کچھ بن گے ہو جب میں اس زبردستی کے نکاح کو نہیں مانتی تو تمہیں اپنے شوہر کے روپ میں کیسے قبول کر سکتی ہواب تم
دیکھنا یہ معمولی سی لڑکی کیا کیا کرتی ہے تم یہ ثابت کرنے کے لیے کتنی بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے رہ جاؤگے کے میں تمہاری بیوی ہو مگر تم ثابت نہیں کر پاؤگے "۔اس کی بات سن کر ارشمیل ہمیشہ کی طرح ہنستے ہوئے بولا تھا ۔
"Oh wow I like it "اتنا کہے کر وہ آگے بڑھ گیااور اسے اس روم میں قید کر کے چلاگیا اور وہ وہاں سے بھاگنے کی تدابیر سوچنے لگی مگر ارشمیل نے اس کےجانے کے سارے راستے
ایسے بند کردیے تھے کے وہ اپنی جگہ پیچ وتاب کھاتے رہ گئی اور خود سے بولی ۔
"بہت ہو گیاتم سے ڈرنااب میں تمہیں بتاؤگی کے عمائمہ حیدر حقیقت میں کیا ہے ”
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/