مختصر کہانیاں
#تو_ہی_عشق_تو_ہی_جنون #از_صاحبہ_فردوس #قسط_تین …

#تو_ہی_عشق_تو_ہی_جنون
#از_صاحبہ_فردوس
#قسط_تین
ارشمیل اسے پول میں ڈوبنے کے لیے وہاں چھوڑ کر چلاگیااس نے سوچا کے کچھ دیر وہ سوئمنگ پول میں رہی تو اس کی عقل ٹھکانے آجائےگی مگراس کی سوچ کے بر عکس وہ تیرتے ہوئے پول سے نکل آئی اس نے کافی عرصے پہلے سوئمنگ سکھاتھاجوآج اس کے کام آگئی تھی اب وہ اپنے بھیگے ہو ئے کپڑوں کے ساتھ سوئمنگ پول کے قریب کھڑی تھی اسے اس وقت اپنے حلیے سے بے حد شرم محسوس ہورہی یہ اس کے لیے ڈوب مرنے کامقام تھا وہ تو اچھاتھااس وقت سوئمنگ کے آئیریامیں کوئی نہیں تھاوہ بس اکیلی کھڑی تھی اگر اس وقت یہاں کوئی موجود رہتاتو وہ سچ میں شرم سےمرجاتی اس نے اپنے پانی اور آنسوؤں سے بھیگے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اپنے لیے کسی کونے کی تلاش کرنے لگی وہ اس طرح سے بھیگی ہوئی سب کے سامنے تو نہیں جاسکتی تھی اس لیے وہ ایک کونے میں آگئی ،ارشمیل کو کچھ دیر بعد اپنی لاپروائی کااحساس ہوا تو وہ دوڑتے ہوئے وہی آگیا جہاں اس نے اسے مرنے کے لیے چھوڑا تھا اسے پول میں دیکھاتووہ اسے نظرنہیں آئی جس سے وہ مزید پریشان ہوگیا پھراسے ڈھونڈنے کےلیےاس نے اپنی نظریں ادھر اوھر دوڑائی تووہ اسے ایک کونے میں اپنا بھیگاہواوجود چھپاتے ہوئے نظرآئی ارشمیل جلدی سےاس کے پاس آیاوہ ارشمیل کودیکھ کر اپنی جگہ برہم ہوگی اس نے ارشمیل کے طرف نفرت سے دیکھااور اپنی نظریں پھیر لیالاکھ اس کے وجود سے نفرت ہونے کے باوجود ارشمیل کواس وقت اپنے اس فعل پر غصہ آیا اس نے عمائمہ کے بھیگے ہوئے وجود کے طرف دیکھنے سے گریز کیااور بولا۔
"تم ٹھیک ہو "۔وہ اس وقت اس سے یہ سوال کرنے کاحق دار نہیں تھامگر پھر بھی وہ اس سے پوچھ رہاتھا۔
"واو کتنی اچھی پالیسی ہے تمہاری پہلے خود ہی مرنے کے لیے مجھے سوئمنگ پول میں گراتے ہو اور اب خود ہی دیکھاؤےکےلیےمیری خیریت دریافت کر رہے ہو "۔ارشمیل نے اسے کچھ نہیں
کہا وہ بس اپنی نگاہیں جھکاکر زمین کو گھورنے لگاعمائمہ نے اس کے طرف نہیں دیکھاوہ وہاں سے اپنے گھر جانے کےلیے نکل گئی وہ کچھ ہی آگے آئی تھی کے ارشمیل اس کے پاس آیااور اس کاہاتھ کھنچ کراسےاپنے سامنے کرتےہوئے بولا۔
"کہاجارہی ہو تم "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے نفرت سے اسکے وجود کو گھورااور اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ چھڑاکراسے پیچھے دھکّا دیااوربولی ۔
"میں کئی بھی جاؤ اس سے تمہیں کیا”۔ارشمیل نے اس کی بات سن کر غصےمیں کہا۔
"تم اس حالت میں یہاں سے نہیں جاسکتی ہو "۔
"تم مجھے روکنے والے کوئی نہیں ہوتے ہو "۔اتناکہے کروہ اور آگے بڑ گئی تبھی دوبارہ ارشمیل اس کے پاس آیااور اب سختی سے اس کاہاتھ موڑ کراسےاپنے سامنے کیا اور بولا۔
"جتناکہاہے اتنا ہی سنو ورنہ انجام بہت برا ہو گا "۔اس کی یہ دھمکی سن کر بھی عمائمہ پر کوئی اثرنہیں ہوا اس نے ارشمیل کو اپنے سے دور کرنے کی کوشش کیا جس سے وہ اور بھی زیادہ اس کے قریب ہو گئی تھی ۔
"تم ہروقت فضول کی کوششیں مت کیاکرو جب کے تمہیں پتاہے کے تم ہروقت مجھ سے ہار جاتی
ہو اب سیدھے سے جوکہاہے وہ کرو چپ چاپ یہاں کھڑے رہو ں "۔ اس نے عمائمہ کوایسے ہی پکڑے رکھاپھراپنےجیب میں سےموبائیل نکالااوراس پرنمبرڈائیل کرکےکسی کوفوراًآنے کاحکم دیااس کاحکم ملتے ہی اس کی سیکرٹری بھاگتے ہوئے ان دونوں تک آئی اس نے غصےسے اپنی پرسنل سیکرٹری کوکہا ۔
"فوراًً میم کےلیے کوئی مناسب ڈریس کاانتظام کر ؤ اور ڈرئیوار کو جلد ی آنے کاکہو ں”۔اس کی بات سن کروہ لڑکی جیسے تیزی سے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی اور کچھ دیر میں اس نے ایک عمائمہ کے لیے ایک اچھاساڈریس لے آئی عمائمہ نےاس لڑکی کو غصےسےگھوراجو اس کے سامنے ڈریس لے کر کھڑی تھی وہ لڑکی اس کے غصے کی تعاب نالاسکی اس نے اپنی نظریں جھکالیااسے اس طرح سے اس بے چاری لڑکی کو گھورتادیکھ کر ارشمیل بولا۔
"نامیری جان میراغصہ اس بے چاری لڑکی پر مت نکالوں وہ بھی تمہاری طرح صرف میرےحکم کی پابند ہے تم جلدی سے روم میں جاکر چینج کرلو پھر میراڈرائیور تمہیں گھر ڈراپ کردیے گا”۔پھر اسےزیادہ دیرتک ضدکرنامناسب نہیں لگااس لیے وہ اس لڑکی کے پیچھے چلی گئی پھربعد میں اسےارشمیل نظرنہیں آیااس کی وہی سیکرٹری نے اسے ڈرائیور کے ساتھ مل کراس کے گھرچھوڑدیاگھرآکراس نے ارشمیل کے لائے ہوئے سارے کپڑے شاپرز میں سے نکالےاورانھیں جلادیا جیولری کو اورسینڈیلز کو ڈسبین میں ڈال دیا تب جاکربھی اسے سکون نہیں ملاتووہ اپنے گھر کے سامان کو تہس نہس کرنے لگی ۔
٭٭٭
کئی دنوں کی محنت کے بعد آج آخرکار اسے اپنے مرضی کے مطابق جاب مل ہی گئی تھی وہ خوشی خوشی گھر لوٹ تھی تبھی اسے اپنے فلائٹ کادروازہ کھولادیکھاجس سےوہ سمجھ گئی تھی کے اس وقت کون اس کےگھرمیں بلاایجازت گھس آیاہے وہ غصےسے اندار آئی تبھی وہ ایک ہاتھ میں کوک اور ایک ہاتھ میں پیزالے کرکھاتاہواوہ دیکھااورساتھ ہی ساتھ وہ ٹی وی بھی دیکھ رہاتھا وہ اس کے پاس گئی اور غصےسے بولی ۔
"یہ کیاطریقہ ہے کسی کے بھی گھر میں گھسنےآنے کا "۔اس کی بات سن کر ارشمیل نے سرتاپاؤں تک اسے دیکھا تھااس کا یو ں دیکھنا عمائمہ کو ناگوارہ گزراتھا۔
"یہ کیاطریقہ ہے اس پوری بلڈینگ کے اونر سے بات کرنے کا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کاجی چاہاکے اس کا منہ توڑ دے مگر اس نے اپنے اس ارادے کو بعد کے لیے ٹال دیااوربولی ۔
"کیوں بار بار مجھ سے ٹکرانے کے بہانے ڈھونڈتے ہو کیوں بار بار میرے پیچھے آتے ہو کیاارادے ہے تمہارےتم واضح طور پر بتادو تاکہ میں کچھ حل نکال سکوں”۔اس کی بات سن کر
ارشمیل نے اپنے ہاتھ میں پکڑاہواکوک اور پیزاوہی میزپررکھ دیااوراس کے پاس آیااور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
"آج شام آٹھ بجے میرے آفس پہنچ جانا پھر میں تمہیں بتاؤ گا کے میرے ارادے کیاہے اگرتم وقت پرنہیں پہنچی تو میں دوبارہ تمہارے گھر آؤ گا اور تمہیں رات کی طر ح لےجاؤ گا”۔ اس کی بات سن کرعمائمہ نے نفرت سے اس سے کہا۔
"میں تمہاری بات ماننے سےانکار کرتی ہو”۔
"آناتوتمہیں پڑھے گا چاہے اس میں تمہاری مرضی شامل ہویاناہو "۔اتناکہے کروہ آگے بڑگیاپھر کچھ یاد آنے پر واپس مڑااور بولا۔
"کل رات جو میں نےتمہارے لیے ڈریس لایا تھااس میں کاکوئی بھی ڈریس پہن کر آنا اور ہاں یہ صاف کرلینا "۔اس نے میز کی طرف اشارہ کرکے وہاں سے چلاگیااس نے جان بوجھ کراس کے سامنے اپنے لائے ہوئے کپڑوں کا ذکرکیا جب کے اسے پتاتھاکے عمائمہ نے وہ سارے کپڑے جلادیے ہے عمائمہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھتے چلی گئی اوررونے لگی اسے معلوم تھاوہ اگراس کے بتائے ہوئے وقت پرنہیں گئی تو وہ کچھ بھی کرسکتاہے اسے اندزہ ہوگیاتھاکے وہ آج بھی کل رات کی طرح اسے بے عزت کرنے کے لیے بلارہاہے کل رات کی بے عزتی کے بارے میں سوچ کراس کی آنکھوں میں ڈھیرسارے آنسوں اترآئے وہ جب بھی سوچتی ہے کے وہ آج بہت خوش رہے
گی آجاپنے سب سے بڑےجانی دشمن کے بارے میں نہیں سوچےگی مگر ہربار اس کی سوچ غلط ثابت ہو جاتی وہ ہربار کالی بلّی کی طرح اس کاراستہ کاٹ جاتھا۔
وہ رات کے آٹھ بجے اس کے آفس میں حاضرتھی رات کے وقت اس کاآفس پوراخالی ہوچکاتھااس وقت اتنے بڑے آفس میں وہ دونوں موجود تھے وہ اپنے کانپتے ہوئے وجود میں تھوڑا سا اعتماد پیداکرتے ہوئے اس کے سامنے جاکھڑی ہوئی ارشمیل نے اسے بیٹھنے کااشارہ کیاتو وہ بیٹھ گئی ارشمیل مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگاجس سے وہ کنفیوز ہوگئی اور سوچنے لگی کے وہ اسے دیکھ کر ہمیشہ کیوں مسکراتارہتاہے ارشمیل نے بناتمہد باندھے بولناشروع کیا۔
” تم مجھ سے پوچھ رہی تھی نا کے میرے کیاارادے ہے میں کیا چاہتا ہو تو پھر آج تم سن ہی لو "۔
اتناکہے کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کراس کے پاس آگیااور بولا۔
"میں نےتم سے جو کچھ لیاہے میں وہ سب کچھ واپس کر دوگا مگر میری ایک شر ط ہے "۔ شرط لفظ سن کر ہی وہ اپنی جگہ سن ہوگئی کیونکہ اسے پتاتھااس کی شرطیں معمولی سی نہیں رہتی ہے وہ جو بھی شرط رکھتا ہے اس میں اس کا نفع اور سامنے والے کانقصان ہی ہوتاہےپھر بھی اسے مہم سی امید تھی کے اس کی یہ شرط زیادہ بڑی نہیں ہوگی اسے اپنی آزادی بہت پیاری تھی اگر اس کے لیے اسے کوئی بھی قیمت آدا ہی کرنا پڑھتاتو وہ ضرور کرگی اس لیے اس نے ارشمیل سے کہا۔
"بتاؤ میری آزادی کی کیا قیمت لوگے تم "۔اسی بات سن کروہ دوبارہ ہنسنے لگااور بولا ۔
"تمہیں اپنی آزادی کے لیے صرف ایک رات میرے ساتھ گزارناہوگا ایک رات میرے نام کرناہوگایہ شاید تمہارے لیے زیادہ بڑی بات نہیں ہے "۔اس کی باتیں سن کر ہمیشہ عمائمہ کا سر چکرانے لگتاآج بھی یہی ہوا تھااس کاسر چکرانے لگاتھا وہ اس سے اس کی آزادی کی کتنی بڑی قیمت مانگ رہاتھا اس بار تو حد ہی پار ہوگئی تھی اس بار وہ اس سے اسکی عزت کا سودا کرنے لگاتھا
وہ اپنے کانپتے ہوئے وجود کے ساتھ اٹھی اور ایک زور دار تھپڑ اپنے سامنے کھڑے کمینے پن سے مسکراتے ہوئے ارشمیل یزانی کے سرخ و سفید گال پر مار دیا ہر بار کی طرح اس بار بھی ارشمیل کو بہت غصہ آیااس نے عمائمہ کے لمبے بال پکڑکراسے اپنے سے قریب کیااور بولا۔
"میں چاہوں توابھی اس تھپڑ کابدلہ لے سکتاہوکیونکہ یہاں نا تم مجھے روک سکتی ہونا ہی کوئی اور سیدھے سے میری بات مان جاؤاتنے نکھرے کیوں دیکھارہی ہو مشرقی لڑکیوں کی طرح "۔
عمائمہ نے آنسوں سے بھر آنکھوں سےاسے دیکھااس وقت اسکی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھانا ہی فریاد نا ہی رحم کی بھیک تھی تو صرف نفرت جو اس شخص کے ہرایک اقدام سے بڑھتی جارہی تھی ارشمیل نے اسے ایک بار پھراکسایہ تھا۔
"کیامیں تمہاری اس خاموشی کو ہاں سمجھ لو "۔
"ارشیل یزدانی تم کیا سمجھتے ہو مجھے کیامیں کوئی چابی سے چلنے والا کھیلوناں ہو جو تم کہوں گے میں وہ کرؤ گی تم آج جس کی مجبوری کا فائدہ اٹھارہے ہوناکئی ایسانا ہو کل کو تم خود اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجاؤ مجھ سے نہیں تو خداسے تو ڈرؤ اس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جب پڑھے گی نا تو سب کچھ بھول جاؤگے تم "۔
” میرے سامنے زیادہ بکواس مت کرؤ جوکہاہے اس کا ہاں یا نا میں جواب دو "۔
"سن لو ارشمیل یزدانی مجھے اپنی آزادی سے زیاد ہ عزت پیاری ہے میں تو پہلے سے ہی جانتی تھی کے تم ایک ہوس پرست انسان ہو جسے ہروقت اپنے ارد گر دلڑکیوں کا منڈلانہ بہت پسند ہےپہلے ان سے محبت کرنے کا دعوا کرتے ہو پھر ان کے جذبات سے کھیل کر انھیں پہچاننے سے انکار کرتے ہو "۔وہ آگے بھی بہت کچھ کہنے والی تھی مگر ارشمیل نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا کیونکہ اسے اتنے غلط الزامات بالکل بھی پسند نہیں آئے تھے مانا کے وہ کچھ سال قبل بہت فلرٹی ٹائپ کا بندہ تھامگر وہ جب سے انگلینڈ گیاتھا تب سے اس نے صرف اپنا کرئیر بنانے پر فوکس کیاتھا اور اس سے بدلہ لینے کے بارے میں سوچتا رہتاتھاوہاں پر بھی وہی اس کے ہواس پر سوار رہتی تھی اس لیے تو وہ انگلینڈ میں رہ نہیں پایاتھا عمائمہ نے زبر دستی اسکا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا اور اسے دھکا دے کر وہاں سے بھاگ گئی مگر اس کے قدموں کی رفتار سے زیادہ ارشمیل
کے قدم تیز تھے ارشمیل لمبے لمبے ڈگ بھر تے ہوئے اس کے پاس گیااور اس کاہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اپنے ساتھ گھسٹتے ہوئے لایا وہ زمین پر ریڑھنے لگی تھی مگرارشمیل نے اس کی ایک بھی نا چلنے دیا پھراسے چئیر پر زبردستی بیٹھایااوراسکے ہاتھ پیر باندھ دیا جس سے وہ اپنی جگہ چیخنے چلانے لگی ۔
"مجھے جانے دو ارشمیل یزدانی میں اس بار تمہاری زیادتی برداشت نہیں کروگی”۔
"یہ مجھےتم نے جتنے تھپڑ مارےہے نا اس کابدلہ ہے اب جب تک میں چاہوں گاتب تک تم ایسے بندھے رہوگی ناہی تمہیں کھاناملےگاناہی پانی کی ایک بوندھ ملےگی”۔ اس کی بات پر عمائمہ نے اسے نفرت سے دیکھااور بولی ۔
"تم سے یہی امید کی جاسکتی ہے "۔اتناکہے کروہ چپ ہوگئی کیونکہ اسے پتاتھااس کے سامنے زیادہ بولنامطلب اپنی شامت لانا ہے اس لیے تووہ بس آنسوں بہاتے ہوئے رہ گئی اور اپنے آپ کواس رسّی سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی اور دل ہی دل میں اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر گالیوں سے نوازنے لگی مگر اس کے سامنے بھی ارشمیل یزدانی کھڑا تھاوہ تواسے دل ہی دل میں بھی برےبرے القابات سے نواز نہیں سکتی تھی ۔
” اب مجھے اتنے بھی بری طرح سے گالیاں مت دو کہ میں برداشت نا کر پاؤ "۔اس کی بات سن کر وہ حیرت میں پڑ گئی کےاسے کیسے پتاچلاکے وہ اسے گالیاں دے رہی ہے ۔
"میں نے تمہیں کوئی گالی وغیرہ نہیں دیا ہے "۔اتناکہے کراس نے من ہی من میں اسے گالیاں دینے کااردہ ترک کردیااور پھر اسی کام میں جٹ گئی جو وہ کررہی تھی ارشمیل کو اسکی بے توجی پسند نہیں آئی اس لیے وہ اس کا دھیان اپنی طرف بھٹکانے کے لیے اس کے پاس آیااوراس کاچہراپنے ہاتھ میں لے کر بے رحمی سے بولا ۔
"دیکھوں تمہیں سوچنے کے لیے ابھی بھی کچھ وقت ہے تم چاہوں توایک بار پھر میرے اس آفر پر غور کرسکتی ہو "۔عمائمہ نے اپناچہرہ پیچھے ہٹایااور نفرت سے بولی ۔
"تمہارے اس آفر کو قبول کرنے سے پہلے میں خود ہی زہر کھا کر مرنا پسند کروگی تمہیں ان ڈیسنٹ پرپوزل پیش کرتے ہوئے شرم تو نہیں آئی ہو گی مگر مجھ میں ابھی شرم باقی ہے میں تمہاری طرح بے باک نہیں ہو جو کچھ بھی منہ میں آیاوہ بول دیااور تم سمجھ رہ ہوگے کے میرے سر پر میرے والدین کا سایہ نہیں ہے تو تم کچھ بھی کر سکتے ہو ساتھ میرے والدین نہیں ہے مگر مرتضی اور عدینہ ہےاگر تم نے میرے ساتھ کچھ بھی کرنے کی کوشش کیا تو وہ دونوں تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گے”۔اس کی بچکانہ دھمکی سن کر ارشمیل اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
"ٹھیک ہے بلاؤ ان دونوں کو میں بھی دیکھتاہووہ میرا کیا بگاڑ سکتے ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ خاموش ہو گی وہ جانتی تھی کے عدینہ اور مرتضی دونوں ہی مل کرارشمیل یزدانی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہے بلکی وہ ان دونوں کا بہت کچھ بگاڑ سکتا ہے پھر اس کی کھوکھلی دھمکی سے ارشمیل پر کوئی اثر نہیں پڑا تو اس نے دوبارہ پھر سے اپنے آنسوؤں کو ہتھیار بنا نے کی کوشش کیا ۔
"پلیز مجھے جانے دو تم مجھ سے اتنا تو بدلہ لے رہ ہو اب مجھے یوں اس طرح باندھ کر کیا فائدہ ہو گا تمہارا "۔
"فائدہ ہوگا نا تم شاید میرا پرپوزل قبول کر لوگی "۔اتنا کہے کر وہ اس کے سامنے رکھ کاؤنچ پر جاکر بیٹھ گیااور اپنا موبائیل نکال کر اس میں کچھ کرنے لگا تبھی لائٹ چلی گئی اور چاروں طرف اندھیرا چھا گیاجس سے وہ چلانے لگی ۔
"پلیز لائٹ اون کرؤ اندھیرے میں میرا دم گھٹتا ہے۔۔۔ پلیز لائٹ اون کرو "۔اسے تکلیف میں دیکھ کر ارشمیل کو خوشی مل رہی تھی وہ ایسے ہی اپنی جگہ پر بیٹھا رہا تھااس نے اٹھ کراس کا
حال دریافت کرنے کی بھی زحمت نہیں کیاتھا وہ تو ایسے بیٹھا تھا جیسے اس کے علاوہ دوسرا کوئی اس روم میں موجود نہیں ہے ۔
"پلیز مجھے جا۔۔۔جانے دو میں سچ کہے رہی ہو میرا دم گھوٹ رہا ہے "۔وو بار با ر یہی کہے جارہی تھی جس سے ارشمیل کو غصہ آیا اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کے اس کی سانس اکھڑ رہی ہے اس نے ٹیپ لایا اور اس منہ پر باند ھ دیااور بولا۔
"تم حد سے زیادہ بک بک کرتی ہو "۔اتنا کہے کر وہ اپنی جگہ پرواپس جاکر بیٹھ گیا اور پھر سے موبائیل میں کچھ کرنے لگا کافی دیر بعد لائٹ آئی تو اس نے اس بے چاری لڑکی کے طرف دیکھنے کی زحمت کیااس نے دیکھا کے کچھ دیر پہلے اس سے لڑنے جھگڑنے والی عمائمہ حیدراس وقت بے ہوش پڑی ہے اس نے اپنا موبائیل وہی پھیک دیااور اس کے پاس آیا اسے آوازیں دینے لگا مگر وہ نہیں جاگی اس پر پانی کے ڈالا مگر وہ پھر بھی نہیں آٹھی پھراس نے جھک کراس کی ڈھڑکن دیکھاجو کافی مدہم چل رہی تھی اس نے عمائمہ کے ہاتھ پیر آزاد کردیااس کے منہ پر بندھا ٹیپ نکال دیااور اسے اپنے باہوں میں بھر کر اپنا رخ ہاسپٹل کے طرف کیا اسے اپنے آفس سے جو بھی ہاسپٹل قریب لگاوہ عمائمہ کو وہی لے آیا ڈاکٹر نے فوراًاس کا ٹریٹمنٹ شروع کیاوہ ہاسپٹل کے کوریڈور میں ٹہل رہاتھا جب ہی ڈاکٹرصاحب اس کے پاس آئیے اوربولا۔
” گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے آپ کی بیوی کو کسی چیز کاشدید فوبیا جس سے وہ بے ہوش ہو چکی ہے اور کچھ نہیں ہے "۔ڈاکٹر کی بیوی والی بات سن کر جہاں وہ حیران ہواوہی اسے یہ سن کراطمینان ملا کے اسے کچھ نہیں ہوا ہے وہ ٹھیک ہے پھر وہ اسے دیکھنے کے لیے اس کے روم میں آیا وہ سوئی ہوئی تھی ارشمیل نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا کوٹ سائیڈ پر رکھ دیا اس کے بیڈ پر بیٹھ گیااور غورسے اسے دیکھنے لگااسے دیکھ کر اسے اپنی حرکت پر شرمندگی محسوس ہوئی مگرجیسے ہی اپنا ماضی آنکھوں کے سامنے گھوما تو وہ ہی اسے قصوروار نظرآئی اس نے ایک نفرت بھر ی نظر اس کے وجود پر ڈالااور اپنا کوٹ اٹھا کر وہاں سے چل گیا آج اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر دل بغاوت بھی کرنے لگا تھاکے اسے جانے دے اسے بخش دے مگر دماغ کہے رہا تھا اسے اواتڑپا اسے اور رلااس نے اپنےدل کی نہیں دماغ کی بات مانا اور اسے آگے تنگ کرنے کے منصوبے بنانے لگا ۔
٭٭٭
وہ ایک ہی دن ہاسپٹل میں رہی تھیاس کے بعد ڈاکٹر نے اسے ڈسچارج کردیا تھا ڈسچارج ہوتے وقت ڈاکٹرنے اسے کہا تھا۔
"آپ کے شوہر آپ کے لیے بہت پریشان ہو رہے تھے”۔ وہ ڈاکٹر کی بات سن کر غصے سے ڈاکٹر کو بولی تھی ۔
"پلیز ڈاکٹر کچھ بھی کہنے سے پہلے سامنے والے سے پوچھ لینا چاہیے کے وہ پیشنٹ کا کیا لگتا ہے ایسا ضروری نہیں کے ہر پیشنٹ آپ کے یہاں ہزبینڈ وائف ہی آئے یہ بھی تو ہو سکتا ہےکے وہ ایک دوسرے کے دشمن ہو "۔اس کی بات سن کر ڈاکٹر اپنے جگہ شرمندہ ہو کر رہ گیا تھا ۔
"جی آپ نے درست فرمایا آئندہ ایسا نہیں ہوگا "۔پھر وہ ڈسچارج ہو کر اپنے گھر آگئی تھی ایک دو دن تک آرام کرنے کے بعد اس نے اپنی نئی جاب پر جانا شروع کردیا تھا ارشمیل کا اس دن کے بعد سے کوئی آتاپتا نہیں تھا اسے اپنے ارد گرد نا پا کر وہ تھوڑی سی مطمئن ہو گئی تھی اس لیے جب اسے مرتضی نے ڈنر کے لیے ریسٹورنٹ میں بلایا تو وہ فوراًمان گئی اور اب وہ دونوں ایک دوسرے کی کمپنی میں ڈنر کو بہت انجوئے کر رہے تھے تبھی اچانک عمائمہ کے موبائیل پرارشمیل کی کال آئی وہ مرتضی سے ایکسوز کرتے ہو ئے اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنا سیل کان سے لگا لیا ۔
"ہیلو تم کہا ہو "۔ سیل فون میں سے دھاڑتے ہوئے ارشمیل کی آواز اس کے کانوں میں پہنچی تو وہ حیرت سے اپنے فون کو گھورنے لگی پھر اس نے دوبارہ موبائیل کان سے لگا یا اور بو لی ۔
” ڈنر کر رہی ہو "۔
"کس کے ساتھ "۔
"میرے منگتر مرتضی کے ساتھ "۔اس کی بات سن کر پتا نہیں ارشمیل کو کیا ہوا وہ اور بھی زیادہ
غصے میں آگیا اور بولا ۔
"تم ابھی کے ابھی اپنے فلائٹ پر پہنچو ں کیونکہ میں آرہا ہو "۔اتنا کہے کر ارشمیل نے فون کاٹ دیااوروہ اپنے فون کو حیرت سے گھورنے لگی اسے ارشمیل کی یہ حکم دینے والی عادت سے نفرت تھی مگر وہ مجبور تھی اس کا حکم ماننے کی پاپند تھی اس لیے وہ مرتضی سے معذرت کرکے گھر آگئی تھی ۔ وہ کچھ دیر تک بیٹھی رہی کے ارشمیل یعنی کےاس کی زندگی کاسب سےبڑاعذاب کب آئےگامگر وہ نہیں آیااسےارشمیل پرتاو آرہاتھاوہ کیوں اس پرزندگی کادائرہ تنگ کرتےجارہاتھاکیوں اسے اتناہریشان کررہاتھا اس کاذہن بہت ساری سوچوں میں الجھ گیاتھا تبھی دروازےپردستک ہوئی جس سے وہ سمج گئی کے شیطان حاضرہوچکاہےاس نےدوازہ کھولا تو دیکھاوہ اکیلا نہیں تھااس کے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ تھےجو اس کے سامنے سرجھکاِئے کھڑے تھےیہ دیکھ کروہ گھبراگئی اور دروازہ بند کرنے لگی تھی کے ارشمیل نے بیچ میں آکراسے روک دیااور بولا۔
"اندار نہیں آنے دوگی ہمیں "۔اس کی بات سن کرعمائمہ گھبراکربولی۔
"ت۔۔۔۔۔۔تم اتنے سارے لوگوں کو ساتھ کیوں لائےہو۔”اس کی بات سن کر ارشمیل مسکراتے ہوئےبولا۔
"یہ لوگ ہمارے نکاح میں شامل ہونے کے لیے آئے ہے "۔اس کی بات سن کر وہ جہاں کھڑی تھی وہی بے ہوش ہوگئی وہ تو اچھاہواارشمیل اس کے قریب کھڑا ہواتھااس نے اسے عین وقت پر اپنی باہوں میں جھل لیا تھا۔
جاری ہے
#از_صاحبہ_فردوس
#قسط_تین
ارشمیل اسے پول میں ڈوبنے کے لیے وہاں چھوڑ کر چلاگیااس نے سوچا کے کچھ دیر وہ سوئمنگ پول میں رہی تو اس کی عقل ٹھکانے آجائےگی مگراس کی سوچ کے بر عکس وہ تیرتے ہوئے پول سے نکل آئی اس نے کافی عرصے پہلے سوئمنگ سکھاتھاجوآج اس کے کام آگئی تھی اب وہ اپنے بھیگے ہو ئے کپڑوں کے ساتھ سوئمنگ پول کے قریب کھڑی تھی اسے اس وقت اپنے حلیے سے بے حد شرم محسوس ہورہی یہ اس کے لیے ڈوب مرنے کامقام تھا وہ تو اچھاتھااس وقت سوئمنگ کے آئیریامیں کوئی نہیں تھاوہ بس اکیلی کھڑی تھی اگر اس وقت یہاں کوئی موجود رہتاتو وہ سچ میں شرم سےمرجاتی اس نے اپنے پانی اور آنسوؤں سے بھیگے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اپنے لیے کسی کونے کی تلاش کرنے لگی وہ اس طرح سے بھیگی ہوئی سب کے سامنے تو نہیں جاسکتی تھی اس لیے وہ ایک کونے میں آگئی ،ارشمیل کو کچھ دیر بعد اپنی لاپروائی کااحساس ہوا تو وہ دوڑتے ہوئے وہی آگیا جہاں اس نے اسے مرنے کے لیے چھوڑا تھا اسے پول میں دیکھاتووہ اسے نظرنہیں آئی جس سے وہ مزید پریشان ہوگیا پھراسے ڈھونڈنے کےلیےاس نے اپنی نظریں ادھر اوھر دوڑائی تووہ اسے ایک کونے میں اپنا بھیگاہواوجود چھپاتے ہوئے نظرآئی ارشمیل جلدی سےاس کے پاس آیاوہ ارشمیل کودیکھ کر اپنی جگہ برہم ہوگی اس نے ارشمیل کے طرف نفرت سے دیکھااور اپنی نظریں پھیر لیالاکھ اس کے وجود سے نفرت ہونے کے باوجود ارشمیل کواس وقت اپنے اس فعل پر غصہ آیا اس نے عمائمہ کے بھیگے ہوئے وجود کے طرف دیکھنے سے گریز کیااور بولا۔
"تم ٹھیک ہو "۔وہ اس وقت اس سے یہ سوال کرنے کاحق دار نہیں تھامگر پھر بھی وہ اس سے پوچھ رہاتھا۔
"واو کتنی اچھی پالیسی ہے تمہاری پہلے خود ہی مرنے کے لیے مجھے سوئمنگ پول میں گراتے ہو اور اب خود ہی دیکھاؤےکےلیےمیری خیریت دریافت کر رہے ہو "۔ارشمیل نے اسے کچھ نہیں
کہا وہ بس اپنی نگاہیں جھکاکر زمین کو گھورنے لگاعمائمہ نے اس کے طرف نہیں دیکھاوہ وہاں سے اپنے گھر جانے کےلیے نکل گئی وہ کچھ ہی آگے آئی تھی کے ارشمیل اس کے پاس آیااور اس کاہاتھ کھنچ کراسےاپنے سامنے کرتےہوئے بولا۔
"کہاجارہی ہو تم "۔اس کی بات سن کر عمائمہ نے نفرت سے اسکے وجود کو گھورااور اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ چھڑاکراسے پیچھے دھکّا دیااوربولی ۔
"میں کئی بھی جاؤ اس سے تمہیں کیا”۔ارشمیل نے اس کی بات سن کر غصےمیں کہا۔
"تم اس حالت میں یہاں سے نہیں جاسکتی ہو "۔
"تم مجھے روکنے والے کوئی نہیں ہوتے ہو "۔اتناکہے کروہ اور آگے بڑ گئی تبھی دوبارہ ارشمیل اس کے پاس آیااور اب سختی سے اس کاہاتھ موڑ کراسےاپنے سامنے کیا اور بولا۔
"جتناکہاہے اتنا ہی سنو ورنہ انجام بہت برا ہو گا "۔اس کی یہ دھمکی سن کر بھی عمائمہ پر کوئی اثرنہیں ہوا اس نے ارشمیل کو اپنے سے دور کرنے کی کوشش کیا جس سے وہ اور بھی زیادہ اس کے قریب ہو گئی تھی ۔
"تم ہروقت فضول کی کوششیں مت کیاکرو جب کے تمہیں پتاہے کے تم ہروقت مجھ سے ہار جاتی
ہو اب سیدھے سے جوکہاہے وہ کرو چپ چاپ یہاں کھڑے رہو ں "۔ اس نے عمائمہ کوایسے ہی پکڑے رکھاپھراپنےجیب میں سےموبائیل نکالااوراس پرنمبرڈائیل کرکےکسی کوفوراًآنے کاحکم دیااس کاحکم ملتے ہی اس کی سیکرٹری بھاگتے ہوئے ان دونوں تک آئی اس نے غصےسے اپنی پرسنل سیکرٹری کوکہا ۔
"فوراًً میم کےلیے کوئی مناسب ڈریس کاانتظام کر ؤ اور ڈرئیوار کو جلد ی آنے کاکہو ں”۔اس کی بات سن کروہ لڑکی جیسے تیزی سے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی اور کچھ دیر میں اس نے ایک عمائمہ کے لیے ایک اچھاساڈریس لے آئی عمائمہ نےاس لڑکی کو غصےسےگھوراجو اس کے سامنے ڈریس لے کر کھڑی تھی وہ لڑکی اس کے غصے کی تعاب نالاسکی اس نے اپنی نظریں جھکالیااسے اس طرح سے اس بے چاری لڑکی کو گھورتادیکھ کر ارشمیل بولا۔
"نامیری جان میراغصہ اس بے چاری لڑکی پر مت نکالوں وہ بھی تمہاری طرح صرف میرےحکم کی پابند ہے تم جلدی سے روم میں جاکر چینج کرلو پھر میراڈرائیور تمہیں گھر ڈراپ کردیے گا”۔پھر اسےزیادہ دیرتک ضدکرنامناسب نہیں لگااس لیے وہ اس لڑکی کے پیچھے چلی گئی پھربعد میں اسےارشمیل نظرنہیں آیااس کی وہی سیکرٹری نے اسے ڈرائیور کے ساتھ مل کراس کے گھرچھوڑدیاگھرآکراس نے ارشمیل کے لائے ہوئے سارے کپڑے شاپرز میں سے نکالےاورانھیں جلادیا جیولری کو اورسینڈیلز کو ڈسبین میں ڈال دیا تب جاکربھی اسے سکون نہیں ملاتووہ اپنے گھر کے سامان کو تہس نہس کرنے لگی ۔
٭٭٭
کئی دنوں کی محنت کے بعد آج آخرکار اسے اپنے مرضی کے مطابق جاب مل ہی گئی تھی وہ خوشی خوشی گھر لوٹ تھی تبھی اسے اپنے فلائٹ کادروازہ کھولادیکھاجس سےوہ سمجھ گئی تھی کے اس وقت کون اس کےگھرمیں بلاایجازت گھس آیاہے وہ غصےسے اندار آئی تبھی وہ ایک ہاتھ میں کوک اور ایک ہاتھ میں پیزالے کرکھاتاہواوہ دیکھااورساتھ ہی ساتھ وہ ٹی وی بھی دیکھ رہاتھا وہ اس کے پاس گئی اور غصےسے بولی ۔
"یہ کیاطریقہ ہے کسی کے بھی گھر میں گھسنےآنے کا "۔اس کی بات سن کر ارشمیل نے سرتاپاؤں تک اسے دیکھا تھااس کا یو ں دیکھنا عمائمہ کو ناگوارہ گزراتھا۔
"یہ کیاطریقہ ہے اس پوری بلڈینگ کے اونر سے بات کرنے کا "۔اس کی بات سن کر عمائمہ کاجی چاہاکے اس کا منہ توڑ دے مگر اس نے اپنے اس ارادے کو بعد کے لیے ٹال دیااوربولی ۔
"کیوں بار بار مجھ سے ٹکرانے کے بہانے ڈھونڈتے ہو کیوں بار بار میرے پیچھے آتے ہو کیاارادے ہے تمہارےتم واضح طور پر بتادو تاکہ میں کچھ حل نکال سکوں”۔اس کی بات سن کر
ارشمیل نے اپنے ہاتھ میں پکڑاہواکوک اور پیزاوہی میزپررکھ دیااوراس کے پاس آیااور اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔
"آج شام آٹھ بجے میرے آفس پہنچ جانا پھر میں تمہیں بتاؤ گا کے میرے ارادے کیاہے اگرتم وقت پرنہیں پہنچی تو میں دوبارہ تمہارے گھر آؤ گا اور تمہیں رات کی طر ح لےجاؤ گا”۔ اس کی بات سن کرعمائمہ نے نفرت سے اس سے کہا۔
"میں تمہاری بات ماننے سےانکار کرتی ہو”۔
"آناتوتمہیں پڑھے گا چاہے اس میں تمہاری مرضی شامل ہویاناہو "۔اتناکہے کروہ آگے بڑگیاپھر کچھ یاد آنے پر واپس مڑااور بولا۔
"کل رات جو میں نےتمہارے لیے ڈریس لایا تھااس میں کاکوئی بھی ڈریس پہن کر آنا اور ہاں یہ صاف کرلینا "۔اس نے میز کی طرف اشارہ کرکے وہاں سے چلاگیااس نے جان بوجھ کراس کے سامنے اپنے لائے ہوئے کپڑوں کا ذکرکیا جب کے اسے پتاتھاکے عمائمہ نے وہ سارے کپڑے جلادیے ہے عمائمہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھتے چلی گئی اوررونے لگی اسے معلوم تھاوہ اگراس کے بتائے ہوئے وقت پرنہیں گئی تو وہ کچھ بھی کرسکتاہے اسے اندزہ ہوگیاتھاکے وہ آج بھی کل رات کی طرح اسے بے عزت کرنے کے لیے بلارہاہے کل رات کی بے عزتی کے بارے میں سوچ کراس کی آنکھوں میں ڈھیرسارے آنسوں اترآئے وہ جب بھی سوچتی ہے کے وہ آج بہت خوش رہے
گی آجاپنے سب سے بڑےجانی دشمن کے بارے میں نہیں سوچےگی مگر ہربار اس کی سوچ غلط ثابت ہو جاتی وہ ہربار کالی بلّی کی طرح اس کاراستہ کاٹ جاتھا۔
وہ رات کے آٹھ بجے اس کے آفس میں حاضرتھی رات کے وقت اس کاآفس پوراخالی ہوچکاتھااس وقت اتنے بڑے آفس میں وہ دونوں موجود تھے وہ اپنے کانپتے ہوئے وجود میں تھوڑا سا اعتماد پیداکرتے ہوئے اس کے سامنے جاکھڑی ہوئی ارشمیل نے اسے بیٹھنے کااشارہ کیاتو وہ بیٹھ گئی ارشمیل مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگاجس سے وہ کنفیوز ہوگئی اور سوچنے لگی کے وہ اسے دیکھ کر ہمیشہ کیوں مسکراتارہتاہے ارشمیل نے بناتمہد باندھے بولناشروع کیا۔
” تم مجھ سے پوچھ رہی تھی نا کے میرے کیاارادے ہے میں کیا چاہتا ہو تو پھر آج تم سن ہی لو "۔
اتناکہے کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کراس کے پاس آگیااور بولا۔
"میں نےتم سے جو کچھ لیاہے میں وہ سب کچھ واپس کر دوگا مگر میری ایک شر ط ہے "۔ شرط لفظ سن کر ہی وہ اپنی جگہ سن ہوگئی کیونکہ اسے پتاتھااس کی شرطیں معمولی سی نہیں رہتی ہے وہ جو بھی شرط رکھتا ہے اس میں اس کا نفع اور سامنے والے کانقصان ہی ہوتاہےپھر بھی اسے مہم سی امید تھی کے اس کی یہ شرط زیادہ بڑی نہیں ہوگی اسے اپنی آزادی بہت پیاری تھی اگر اس کے لیے اسے کوئی بھی قیمت آدا ہی کرنا پڑھتاتو وہ ضرور کرگی اس لیے اس نے ارشمیل سے کہا۔
"بتاؤ میری آزادی کی کیا قیمت لوگے تم "۔اسی بات سن کروہ دوبارہ ہنسنے لگااور بولا ۔
"تمہیں اپنی آزادی کے لیے صرف ایک رات میرے ساتھ گزارناہوگا ایک رات میرے نام کرناہوگایہ شاید تمہارے لیے زیادہ بڑی بات نہیں ہے "۔اس کی باتیں سن کر ہمیشہ عمائمہ کا سر چکرانے لگتاآج بھی یہی ہوا تھااس کاسر چکرانے لگاتھا وہ اس سے اس کی آزادی کی کتنی بڑی قیمت مانگ رہاتھا اس بار تو حد ہی پار ہوگئی تھی اس بار وہ اس سے اسکی عزت کا سودا کرنے لگاتھا
وہ اپنے کانپتے ہوئے وجود کے ساتھ اٹھی اور ایک زور دار تھپڑ اپنے سامنے کھڑے کمینے پن سے مسکراتے ہوئے ارشمیل یزانی کے سرخ و سفید گال پر مار دیا ہر بار کی طرح اس بار بھی ارشمیل کو بہت غصہ آیااس نے عمائمہ کے لمبے بال پکڑکراسے اپنے سے قریب کیااور بولا۔
"میں چاہوں توابھی اس تھپڑ کابدلہ لے سکتاہوکیونکہ یہاں نا تم مجھے روک سکتی ہونا ہی کوئی اور سیدھے سے میری بات مان جاؤاتنے نکھرے کیوں دیکھارہی ہو مشرقی لڑکیوں کی طرح "۔
عمائمہ نے آنسوں سے بھر آنکھوں سےاسے دیکھااس وقت اسکی آنکھوں میں کچھ بھی نہیں تھانا ہی فریاد نا ہی رحم کی بھیک تھی تو صرف نفرت جو اس شخص کے ہرایک اقدام سے بڑھتی جارہی تھی ارشمیل نے اسے ایک بار پھراکسایہ تھا۔
"کیامیں تمہاری اس خاموشی کو ہاں سمجھ لو "۔
"ارشیل یزدانی تم کیا سمجھتے ہو مجھے کیامیں کوئی چابی سے چلنے والا کھیلوناں ہو جو تم کہوں گے میں وہ کرؤ گی تم آج جس کی مجبوری کا فائدہ اٹھارہے ہوناکئی ایسانا ہو کل کو تم خود اس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوجاؤ مجھ سے نہیں تو خداسے تو ڈرؤ اس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جب پڑھے گی نا تو سب کچھ بھول جاؤگے تم "۔
” میرے سامنے زیادہ بکواس مت کرؤ جوکہاہے اس کا ہاں یا نا میں جواب دو "۔
"سن لو ارشمیل یزدانی مجھے اپنی آزادی سے زیاد ہ عزت پیاری ہے میں تو پہلے سے ہی جانتی تھی کے تم ایک ہوس پرست انسان ہو جسے ہروقت اپنے ارد گر دلڑکیوں کا منڈلانہ بہت پسند ہےپہلے ان سے محبت کرنے کا دعوا کرتے ہو پھر ان کے جذبات سے کھیل کر انھیں پہچاننے سے انکار کرتے ہو "۔وہ آگے بھی بہت کچھ کہنے والی تھی مگر ارشمیل نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا کیونکہ اسے اتنے غلط الزامات بالکل بھی پسند نہیں آئے تھے مانا کے وہ کچھ سال قبل بہت فلرٹی ٹائپ کا بندہ تھامگر وہ جب سے انگلینڈ گیاتھا تب سے اس نے صرف اپنا کرئیر بنانے پر فوکس کیاتھا اور اس سے بدلہ لینے کے بارے میں سوچتا رہتاتھاوہاں پر بھی وہی اس کے ہواس پر سوار رہتی تھی اس لیے تو وہ انگلینڈ میں رہ نہیں پایاتھا عمائمہ نے زبر دستی اسکا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا اور اسے دھکا دے کر وہاں سے بھاگ گئی مگر اس کے قدموں کی رفتار سے زیادہ ارشمیل
کے قدم تیز تھے ارشمیل لمبے لمبے ڈگ بھر تے ہوئے اس کے پاس گیااور اس کاہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اپنے ساتھ گھسٹتے ہوئے لایا وہ زمین پر ریڑھنے لگی تھی مگرارشمیل نے اس کی ایک بھی نا چلنے دیا پھراسے چئیر پر زبردستی بیٹھایااوراسکے ہاتھ پیر باندھ دیا جس سے وہ اپنی جگہ چیخنے چلانے لگی ۔
"مجھے جانے دو ارشمیل یزدانی میں اس بار تمہاری زیادتی برداشت نہیں کروگی”۔
"یہ مجھےتم نے جتنے تھپڑ مارےہے نا اس کابدلہ ہے اب جب تک میں چاہوں گاتب تک تم ایسے بندھے رہوگی ناہی تمہیں کھاناملےگاناہی پانی کی ایک بوندھ ملےگی”۔ اس کی بات پر عمائمہ نے اسے نفرت سے دیکھااور بولی ۔
"تم سے یہی امید کی جاسکتی ہے "۔اتناکہے کروہ چپ ہوگئی کیونکہ اسے پتاتھااس کے سامنے زیادہ بولنامطلب اپنی شامت لانا ہے اس لیے تووہ بس آنسوں بہاتے ہوئے رہ گئی اور اپنے آپ کواس رسّی سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی اور دل ہی دل میں اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر گالیوں سے نوازنے لگی مگر اس کے سامنے بھی ارشمیل یزدانی کھڑا تھاوہ تواسے دل ہی دل میں بھی برےبرے القابات سے نواز نہیں سکتی تھی ۔
” اب مجھے اتنے بھی بری طرح سے گالیاں مت دو کہ میں برداشت نا کر پاؤ "۔اس کی بات سن کر وہ حیرت میں پڑ گئی کےاسے کیسے پتاچلاکے وہ اسے گالیاں دے رہی ہے ۔
"میں نے تمہیں کوئی گالی وغیرہ نہیں دیا ہے "۔اتناکہے کراس نے من ہی من میں اسے گالیاں دینے کااردہ ترک کردیااور پھر اسی کام میں جٹ گئی جو وہ کررہی تھی ارشمیل کو اسکی بے توجی پسند نہیں آئی اس لیے وہ اس کا دھیان اپنی طرف بھٹکانے کے لیے اس کے پاس آیااوراس کاچہراپنے ہاتھ میں لے کر بے رحمی سے بولا ۔
"دیکھوں تمہیں سوچنے کے لیے ابھی بھی کچھ وقت ہے تم چاہوں توایک بار پھر میرے اس آفر پر غور کرسکتی ہو "۔عمائمہ نے اپناچہرہ پیچھے ہٹایااور نفرت سے بولی ۔
"تمہارے اس آفر کو قبول کرنے سے پہلے میں خود ہی زہر کھا کر مرنا پسند کروگی تمہیں ان ڈیسنٹ پرپوزل پیش کرتے ہوئے شرم تو نہیں آئی ہو گی مگر مجھ میں ابھی شرم باقی ہے میں تمہاری طرح بے باک نہیں ہو جو کچھ بھی منہ میں آیاوہ بول دیااور تم سمجھ رہ ہوگے کے میرے سر پر میرے والدین کا سایہ نہیں ہے تو تم کچھ بھی کر سکتے ہو ساتھ میرے والدین نہیں ہے مگر مرتضی اور عدینہ ہےاگر تم نے میرے ساتھ کچھ بھی کرنے کی کوشش کیا تو وہ دونوں تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گے”۔اس کی بچکانہ دھمکی سن کر ارشمیل اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
"ٹھیک ہے بلاؤ ان دونوں کو میں بھی دیکھتاہووہ میرا کیا بگاڑ سکتے ہے "۔اس کی بات سن کر عمائمہ اپنی جگہ خاموش ہو گی وہ جانتی تھی کے عدینہ اور مرتضی دونوں ہی مل کرارشمیل یزدانی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہے بلکی وہ ان دونوں کا بہت کچھ بگاڑ سکتا ہے پھر اس کی کھوکھلی دھمکی سے ارشمیل پر کوئی اثر نہیں پڑا تو اس نے دوبارہ پھر سے اپنے آنسوؤں کو ہتھیار بنا نے کی کوشش کیا ۔
"پلیز مجھے جانے دو تم مجھ سے اتنا تو بدلہ لے رہ ہو اب مجھے یوں اس طرح باندھ کر کیا فائدہ ہو گا تمہارا "۔
"فائدہ ہوگا نا تم شاید میرا پرپوزل قبول کر لوگی "۔اتنا کہے کر وہ اس کے سامنے رکھ کاؤنچ پر جاکر بیٹھ گیااور اپنا موبائیل نکال کر اس میں کچھ کرنے لگا تبھی لائٹ چلی گئی اور چاروں طرف اندھیرا چھا گیاجس سے وہ چلانے لگی ۔
"پلیز لائٹ اون کرؤ اندھیرے میں میرا دم گھٹتا ہے۔۔۔ پلیز لائٹ اون کرو "۔اسے تکلیف میں دیکھ کر ارشمیل کو خوشی مل رہی تھی وہ ایسے ہی اپنی جگہ پر بیٹھا رہا تھااس نے اٹھ کراس کا
حال دریافت کرنے کی بھی زحمت نہیں کیاتھا وہ تو ایسے بیٹھا تھا جیسے اس کے علاوہ دوسرا کوئی اس روم میں موجود نہیں ہے ۔
"پلیز مجھے جا۔۔۔جانے دو میں سچ کہے رہی ہو میرا دم گھوٹ رہا ہے "۔وو بار با ر یہی کہے جارہی تھی جس سے ارشمیل کو غصہ آیا اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کے اس کی سانس اکھڑ رہی ہے اس نے ٹیپ لایا اور اس منہ پر باند ھ دیااور بولا۔
"تم حد سے زیادہ بک بک کرتی ہو "۔اتنا کہے کر وہ اپنی جگہ پرواپس جاکر بیٹھ گیا اور پھر سے موبائیل میں کچھ کرنے لگا کافی دیر بعد لائٹ آئی تو اس نے اس بے چاری لڑکی کے طرف دیکھنے کی زحمت کیااس نے دیکھا کے کچھ دیر پہلے اس سے لڑنے جھگڑنے والی عمائمہ حیدراس وقت بے ہوش پڑی ہے اس نے اپنا موبائیل وہی پھیک دیااور اس کے پاس آیا اسے آوازیں دینے لگا مگر وہ نہیں جاگی اس پر پانی کے ڈالا مگر وہ پھر بھی نہیں آٹھی پھراس نے جھک کراس کی ڈھڑکن دیکھاجو کافی مدہم چل رہی تھی اس نے عمائمہ کے ہاتھ پیر آزاد کردیااس کے منہ پر بندھا ٹیپ نکال دیااور اسے اپنے باہوں میں بھر کر اپنا رخ ہاسپٹل کے طرف کیا اسے اپنے آفس سے جو بھی ہاسپٹل قریب لگاوہ عمائمہ کو وہی لے آیا ڈاکٹر نے فوراًاس کا ٹریٹمنٹ شروع کیاوہ ہاسپٹل کے کوریڈور میں ٹہل رہاتھا جب ہی ڈاکٹرصاحب اس کے پاس آئیے اوربولا۔
” گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے آپ کی بیوی کو کسی چیز کاشدید فوبیا جس سے وہ بے ہوش ہو چکی ہے اور کچھ نہیں ہے "۔ڈاکٹر کی بیوی والی بات سن کر جہاں وہ حیران ہواوہی اسے یہ سن کراطمینان ملا کے اسے کچھ نہیں ہوا ہے وہ ٹھیک ہے پھر وہ اسے دیکھنے کے لیے اس کے روم میں آیا وہ سوئی ہوئی تھی ارشمیل نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا کوٹ سائیڈ پر رکھ دیا اس کے بیڈ پر بیٹھ گیااور غورسے اسے دیکھنے لگااسے دیکھ کر اسے اپنی حرکت پر شرمندگی محسوس ہوئی مگرجیسے ہی اپنا ماضی آنکھوں کے سامنے گھوما تو وہ ہی اسے قصوروار نظرآئی اس نے ایک نفرت بھر ی نظر اس کے وجود پر ڈالااور اپنا کوٹ اٹھا کر وہاں سے چل گیا آج اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر دل بغاوت بھی کرنے لگا تھاکے اسے جانے دے اسے بخش دے مگر دماغ کہے رہا تھا اسے اواتڑپا اسے اور رلااس نے اپنےدل کی نہیں دماغ کی بات مانا اور اسے آگے تنگ کرنے کے منصوبے بنانے لگا ۔
٭٭٭
وہ ایک ہی دن ہاسپٹل میں رہی تھیاس کے بعد ڈاکٹر نے اسے ڈسچارج کردیا تھا ڈسچارج ہوتے وقت ڈاکٹرنے اسے کہا تھا۔
"آپ کے شوہر آپ کے لیے بہت پریشان ہو رہے تھے”۔ وہ ڈاکٹر کی بات سن کر غصے سے ڈاکٹر کو بولی تھی ۔
"پلیز ڈاکٹر کچھ بھی کہنے سے پہلے سامنے والے سے پوچھ لینا چاہیے کے وہ پیشنٹ کا کیا لگتا ہے ایسا ضروری نہیں کے ہر پیشنٹ آپ کے یہاں ہزبینڈ وائف ہی آئے یہ بھی تو ہو سکتا ہےکے وہ ایک دوسرے کے دشمن ہو "۔اس کی بات سن کر ڈاکٹر اپنے جگہ شرمندہ ہو کر رہ گیا تھا ۔
"جی آپ نے درست فرمایا آئندہ ایسا نہیں ہوگا "۔پھر وہ ڈسچارج ہو کر اپنے گھر آگئی تھی ایک دو دن تک آرام کرنے کے بعد اس نے اپنی نئی جاب پر جانا شروع کردیا تھا ارشمیل کا اس دن کے بعد سے کوئی آتاپتا نہیں تھا اسے اپنے ارد گرد نا پا کر وہ تھوڑی سی مطمئن ہو گئی تھی اس لیے جب اسے مرتضی نے ڈنر کے لیے ریسٹورنٹ میں بلایا تو وہ فوراًمان گئی اور اب وہ دونوں ایک دوسرے کی کمپنی میں ڈنر کو بہت انجوئے کر رہے تھے تبھی اچانک عمائمہ کے موبائیل پرارشمیل کی کال آئی وہ مرتضی سے ایکسوز کرتے ہو ئے اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنا سیل کان سے لگا لیا ۔
"ہیلو تم کہا ہو "۔ سیل فون میں سے دھاڑتے ہوئے ارشمیل کی آواز اس کے کانوں میں پہنچی تو وہ حیرت سے اپنے فون کو گھورنے لگی پھر اس نے دوبارہ موبائیل کان سے لگا یا اور بو لی ۔
” ڈنر کر رہی ہو "۔
"کس کے ساتھ "۔
"میرے منگتر مرتضی کے ساتھ "۔اس کی بات سن کر پتا نہیں ارشمیل کو کیا ہوا وہ اور بھی زیادہ
غصے میں آگیا اور بولا ۔
"تم ابھی کے ابھی اپنے فلائٹ پر پہنچو ں کیونکہ میں آرہا ہو "۔اتنا کہے کر ارشمیل نے فون کاٹ دیااوروہ اپنے فون کو حیرت سے گھورنے لگی اسے ارشمیل کی یہ حکم دینے والی عادت سے نفرت تھی مگر وہ مجبور تھی اس کا حکم ماننے کی پاپند تھی اس لیے وہ مرتضی سے معذرت کرکے گھر آگئی تھی ۔ وہ کچھ دیر تک بیٹھی رہی کے ارشمیل یعنی کےاس کی زندگی کاسب سےبڑاعذاب کب آئےگامگر وہ نہیں آیااسےارشمیل پرتاو آرہاتھاوہ کیوں اس پرزندگی کادائرہ تنگ کرتےجارہاتھاکیوں اسے اتناہریشان کررہاتھا اس کاذہن بہت ساری سوچوں میں الجھ گیاتھا تبھی دروازےپردستک ہوئی جس سے وہ سمج گئی کے شیطان حاضرہوچکاہےاس نےدوازہ کھولا تو دیکھاوہ اکیلا نہیں تھااس کے ساتھ اور بھی بہت سے لوگ تھےجو اس کے سامنے سرجھکاِئے کھڑے تھےیہ دیکھ کروہ گھبراگئی اور دروازہ بند کرنے لگی تھی کے ارشمیل نے بیچ میں آکراسے روک دیااور بولا۔
"اندار نہیں آنے دوگی ہمیں "۔اس کی بات سن کرعمائمہ گھبراکربولی۔
"ت۔۔۔۔۔۔تم اتنے سارے لوگوں کو ساتھ کیوں لائےہو۔”اس کی بات سن کر ارشمیل مسکراتے ہوئےبولا۔
"یہ لوگ ہمارے نکاح میں شامل ہونے کے لیے آئے ہے "۔اس کی بات سن کر وہ جہاں کھڑی تھی وہی بے ہوش ہوگئی وہ تو اچھاہواارشمیل اس کے قریب کھڑا ہواتھااس نے اسے عین وقت پر اپنی باہوں میں جھل لیا تھا۔
جاری ہے


