منتخب غزلیں

ہوا میں رقصاں ہیں دل کے پرزے، خرد کے طوفاں کا سلسل…

ہوا میں رقصاں ہیں دل کے پرزے، خرد کے طوفاں کا سلسلہ ہے
جنوں کی بستی اجڑ چکی ہے، وفا کے شہروں میں زلزلہ ہے

تمام صحرا نواز لوٹے ، سبھوں نے کُنجِ چمن بسایا
مگر جو صرصر سے تھی شکایت، وہی صبا سے انہیں گلہ ہے

میں جس کو وحشت میں ڈھونڈتا تھا ہر ایک جنگل، ہر ایک قریہ
وہ مصلحت کا لبادہ اوڑھے ، صفِ عدو کے قریں ملا ہے

ہزار سمتوں سے آئے پتھر، مگر جو دل کے مکیں نے پھینکا
اسی کو خلوت میں چومتا ہوں، کہ لاکھ سجدوں کا یہ صلہ ہے

جو خوں کو رکھتے تھے گرمِ گردش میں ان خیالوں کو چھو چکا ہوں
بلا سے آنکھوں سے اشک ٹپکا، بلا سے پاؤں میں آبلہ ہے

نعیم!! جینے کی آرزو ہے تو آؤ مرنے کا ڈھنگ سیکھیں
یہی دیارِ بتاں کا آئیں، یہی زمانے کا فیصلہ ہے

(حسن نعیم)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/