منتخب غزلیں
لوگ یک رنگئ وحشت سے بھی اُکتائے ہیں ہم بیاباں سے…
لوگ یک رنگئ وحشت سے بھی اُکتائے ہیں
ہم بیاباں سے یہی ایک خبر لائے ہیں
ہم بیاباں سے یہی ایک خبر لائے ہیں
پیاس بنیاد ہے جینے کی، بجھا لیں کیسے؟
ہم نے یہ خواب نہ دیکھے ہیں، نہ دکھلائے ہیں
ہم تھکے ہارے ہیں اے عزمِ سفر! ہم کو سنبھال!
کہیں سایا جو نظر آیا ہے، گھبرائے ہیں
زندگی! ڈھونڈ لے تُو بھی کسی دیوانے کو
اُس کے گیسُو تو مرے پیار نے سلجھائے ہیں
یاد جس چیز کو کہتے ہیں، وہ پرچھائیں ہے
اور سائے بھی کسی شخص کے ہاتھ آئے ہیں؟
ہاں! اُنہِیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں
ہاں! وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں
اِس بیابانِ در و بام میں کیا رکّھا ہے؟
ہمِیں دیوانے تھے، صحرا سے چلے آئے ہیں
(راہیؔ معصوم رضا)


