مختصر کہانیاں

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 16 ک…

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو
#تحریر_فرحت_اشتیاق
قسط 16

کچھ مت کہو ۔صرف مجھے سنو۔میں تم سے سچ بولنا چاہتا ہوں ۔صرف تمہارے ساتھ بولنا چاہتا ہوں جو میرے دل میں ہے ۔مجھے یہ بات قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہے تم دنیا کی پہلی لڑکی ہو جو میرے دل کے دروازے پار کر گئی وہاں منع کا بورڑ بھی نظرانداز کر میرے دل میں داخل ہو گئی اور میں تمہیں کبھی دل سے نکال نہیں پایا۔میں ایک کمزور سی لڑکی سے ہار گیا ۔تمہیں یاد ہے نا مجھے ہارنے سے نفرت ہے ۔میں تم سے ہار گیا ۔مجھے نہیں معلوم تم مجھے کب پہلی بار اچھی لگی ۔شاید تب جب بہت بے چینی سے میرا انتظار کر رہی تھی میں آیا تو بولی شکر آپ آ گئے ۔میں بہت پریشان ہو گئی تھی یا شاید اس وقت جب لڑ کر خیمے سے نکل کر پتھروں پر بیٹھ کر بدعا دے رہی تھی ۔مگر اتنا تو مجھے پتہ تھا کے میں اپنی عادت کے خلاف تم پر بہت رعایت برت رہا ہوں ۔مگر یہ بات قبول کرنے پر اماده نہیں تھا ۔مجھے لگا شاید ماحول کا اثر ہے کے میں تم میں اتنی دلچسپی لے رہا ہوں ۔اس کے منہ سے یہ باتیں سن کے وہ کچھ دیر کے لئے سب بھول گئی تھی ۔اپنی انگلی میں موجودہ انگوٹھی بھی اسے یاد نہ رہی ۔بس سر جھکائے اسے سنتی رہی ۔
وہ لوگ جو تمہیں رات تنگ
کر رہے تھے دل تھا ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں ٹھیک ہے تمہاری حفاظت کی تھی مگر میرا رویہ محض زمہ داری والا نہیں تھا میری کیفیت نے مجھے خود سے خفا کر دیا تھا اسی لیے میں تمہیں جلداز جلد اپنی منزل تک پہنچنا چاہتا تھا ۔اپنی اس کیفیت سے چھٹکارہ پانا چاہتا تھا ۔مجھے لگا وقتی ابال ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا ۔
مگر تم سے دور جا کے جانا وہ بزدل اور ڈرپوک لڑکی میرے ہاتھ سے تھپڑ کھا کر میرے ہی گلے لگ کے روتی تھی ۔اسے میں کبھی بھی بھولا نہیں سکا۔خود سے بہت جنگ کرتا رہا آخر ہار کر تمہاری تلاش میں یہاں آیا تو لگا کے میں نے تمہیں ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے جن حرکتوں کو میں چیپ سمجھتا تھا خود کہاں کہاں تمہیں نہیں ڈھونڈا ۔تم نے کتنی بار مجھے اپنے بارے میں بتانے کی کوشش کی میں نے سننا گوارا نہیں کیا وہ بات بھی میرے لیے بہت تکلیف کا باعث بنی۔مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کے پاکستان میں کہاں رہتی ہو۔اس درخت کو گھنٹوں بیٹھ کر دیکھتا رہتا جہاں میرا اور تمارا نام لکھا تھا ۔آئلہ کیا وہ دن زندگی میں واپس آسکتے ہیں تم کافی بنا کے لاؤ ہم جھیل کنارے بیٹھے ہوں ۔وہ وقت بہت خوبصورت تھا کہیں کھو گیا ۔وہ جیسے کسی خواب سے جاگی تھی ایک دم سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔جیسے بھاگ جانا چاہتی ہے ۔پلیز بیٹھ جاؤ آئلہ میری پوری بات سن لو ۔میں تمہیں مجبور نہیں کر رہا مگر کم سے کم میری بات تو سن سکتی ہو نا۔میں نے آج تک اپنا آپ کسی کے سامنے نہیں کھولاآج تم سے سب کہنا چاہتا ہوں پلیز سن لو ۔وہ عاجزی سے بول رہا تھا وہ پھر سے بیٹھ گئی ۔محبتوں پر سے میرا دل اٹھ گیا تھا کے یہ بکواس ہے سب ان کا دنیا میں کوئی وجود نہیں ۔ماں باپ نے محبت سے یقین آٹھا دیا تھا ۔انہوں نے زمانے سے ٹکر لے کر شادی کی تھی مگر میں نے ہوش سنبھالا تو کہیں محبت نظر نہیں آئی۔جاہلوں کی طرح لڑتے دیکھا ۔جب میں سولہ سال کا ہوا تو دونوں نے علیحدگی اختیار کر لی ۔اور اپنی اپنی نئی دنیا آباد کر لی اور میں اکیلا رہ گیا ۔باپ امریکہ میں نیو بیوی بچوں میں مصروف مجھے پڑھنے کے پیسے بھج دیتے ماں کو تو وقت نہیں ملا ۔میں ساری دنیا میں اکیلا آہستہ آہستہ میں بدل گیا تمہیں اتنی شدت سے رد کر کے بےکار کی خود سے ضد کی ۔مجھے آج قدرت نے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کا موقع دیا تو سب کہہ دینا چاہتا ہوں ۔آئلہ میری زندگی میں آجاؤہم بہت خوش رہیں گے ۔میں سڈنی میں چھوٹا سا کاروبار کرتا ہوں اپنا مکان ہے میرے مکان کو گھر بنا دو۔
اتنی سی بات کہنے میں اتنی دیر لگا دی جب سب ختم ہو گیا ۔اب آئے ہو ۔وہ چپ اس کی آنکھوں سے گرتے آنسو دیکھ رہا تھا ۔
وہ اسے سب بتانے والی تھی آنکھیں خشک کر کے دیکھا تو تیمور اسکی طرف آتا نظر آیا۔اسے نہیں پتہ تھا وہ کہاں سے غلط ہے کس جگہ اس سے بھول ہوئی ۔مگر اس وقت وہ خود کو ان دونوں کا مجرم سمجھ رہی تھی ۔
تمہاری فکر میں تو مجھ سے وہاں تقریر بھی نہیں سننے ہوئی ۔پھر اچانک اس کی نظر اس شخص پر پڑی جیسے آئلہ کی فکر میں دیکھ نہیں پایا تھا ۔ہیلو۔اس سے بہت خوش دلی سے ملا کے آئلہ کا دوست یا کلاس فیلو ہو گا ۔اتنی دیر میں لیلی اور دانش بھی آ گئے ۔لیلی آتے ہی شروع ہو گئی ۔تمہاری وجہ سے ہم بھی سن نہیں سکے کے محترمہ بور ہو رہی ہو گی ۔جب کے دانش اس اجنبی کو دیکھ رہا تھا لیلی نے بھی دانش کی نظروں کا تعاقب کیا ۔قیامت کی گھڑی آخر آ ہی گئی خود کو حوصلہ دیتی مسکرائی بولی۔
یہ ہارون ہیں ۔اور یہ میری کزن ہیں لیلی ۔یہ ان کے شوہر دانش اور یہ میرے فیانسی تیمور لیلی نے بے ساختگی سے دیکھا جس شخص کا روشن چہرہ ایک دم بجھ گیا ۔اور وہ جو اس کی پیاری دوست تھی ۔کون کہتا ہے یہ لڑکی بزدل ہے ۔آؤ دیکھو اس سے بہادر کوئی ہو نہیں سکتا ۔کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ بظاہر مسکراتی لڑکی کا دل اس وقت دھاڑیں مار کر رو رہا ہے ۔اس کی جگہ میں ہوتی تو حوصلہ ہار جاتی۔آئلہ میری جان اس وقت زندگی کےپل صراط کا سفر طے کر رہی ہے ۔تیمور ہارون سے بہت خوش دلی سے مخاطب تھا ۔اور ہارون صاحب آپ کی کیا مصروفیات ہیں ۔؟
اگر وہ کمزور لڑکی بہادری کا مظاہرہ کر سکتی تھی تو یہ بہادر آدمی تھا مسکراتے ہوئے بولا
مصروفیات کیا ہیں سڈنی میں ایک فرم چلاتا ہوں آرٹسٹ آدمی ہوں جو زہین میں آتا ہے پیپر پر اتار لیتا ہوں اس پر تیمور اور دانش ہنس پڑے۔آپ آئلہ کے دوست ہیں تو ہمارے بھی ہوئے ۔بس یہ بات ابھی طے ہو گئی ہے کہ ہم لوگ شادی کے بعد آپ کے پاس سڈنی آئیں گے
مجھے ویسے بھی ساحل بہت پسند ہے ہم گھر بھی وہی بنائیں گے اس کا نقشہ آپ بنا کر دو گے منظور ہے ۔بالکل منظور جناب
لیلی اس شخص کے صبر کو دیکھ رہی تھی ۔جب کے آئلہ ان کی آرام سے باتیں سن رہی تھی ۔کچھ دیر باتیں کر کے وہ بڑی گرم جوشی سے کھڑا ہو کر خداحافظ کہنے لگا ۔ایک آخری نگاہ اس پر ڈالی جو شاید اس کا تھا ہی نہیں اور وہ وہاں سے چلا گیا ۔اس نے اسے جاتے دیکھنے کی زحمت کیے بغیر تیمور سے باتیں کرنے لیلی کو اچانک کوئی کام یاد آیا وہ وہاں سے چلی گئی ۔کچھ دیر میں آئی تو وہ کسی بات پر سب ہنس رہے تھے ۔رات تیمور کو ایئرپورٹ چھوڑنے کے بعد لیلی اس کے ساتھ ہی آگئ۔اور اس کے کمرے میں آ کر جو بول رہی تھی وہ قابلِ فہم تھا ۔
لیلی تم کس قسم کی باتیں کر رہی ہو وہ آخر تنگ آ کر بولی۔
آئلہ وہ تمہیں بہت چاہتا ہے اس کی آنکھوں میں تمہارے لیے بےلوث محبت دیکھی ہے ۔اسے مایوس مت لوٹاؤ اسے روک لو۔اس کی بات سن کر آئلہ آپے سے باہر ہو گئی ۔وہ مجھے بہت چاہتا ہے میں اس کے ساتھ ہو لوں کل کوئی اور مجھ سے محبت کے دعوے کرے تو اس کو چھوڑ کر اس کے ساتھ ہو لوں
کیوں خود کو ازیت دے رہی ہو تیمور بہت آزاد خیال ہے میں اس سے بات کروں گی ۔تمہارے اوپر کوئی انچ نہیں آئے گی ۔میں سب ہنڈل کر لو گی دیکھ زندگی ایک بار ملتی ہے ۔وہ اتنی دور سے تمہاری تلاش میں آیا تھا میں اس وقت اسی کے پیچھے گئی تھی ۔وہ کتنا تھکا نڈھال لگ رہا تھا میں اس کا فون نمبر اور اڈریس لے آئی ہوں۔تم دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔آئلہ نے لیلی کا ہاتھ بہت نفرت سے جھٹک دیا ۔تم میری دوست نہ ہوتی تو اس بات پر تمہیں تھپڑ مار دیتی ۔دوبارہ مجھ سے ایسی بات مت کرنا بات اگر محبت کی ہے تو تیمور بھی بہت کرتا ہے ۔اس رستے پر تمہارے سمجھانے پر آئی تھی اب پلٹنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ یہ کوئی یورپ نہیں جہاں شادی مزاق ہوتی ہے ۔آج ایک سے کل دوسرے سے ۔میں مشرقی لڑکی ہوں جس کے ساتھ باندھ گئی مرتے دم تک نبھاؤں گی۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/