مختصر کہانیاں

Man dare Ishq Episode 33 part 2 وہ تیزی سے بھاگ…

Man dare Ishq
Episode 33 part 2

وہ تیزی سے بھاگی رہی تھی جب بھی وہ اپ سیٹ یا رونے والی ہوجاتی تو وہ بھاگتی ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ اس وقت اپنے گھر کے پیچھے ایک بہت بڑے پارک کی طرف گئی ہوئی تھی رات کے آٹھ بج رہے تھی اور ثمرن کو بنا بتائیں وہ یہاں ٹریک میں جوکنگ کے بجائے ایسے بھاگ رہی تھی جیسے کوئئ ماراتھون ریس ہو ۔۔۔
"کیا نام ہے آپ کا ۔”
"بالکل غلط جواب !۔”
"مجھے تو حیرت ہے آپ یہاں کر کیا رہی ہیں !۔”
سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹ رہا تھا
وہ ایک پل کے لیے نہیں رُکی تھی حتاکہ اس کا سانس پھول رہا تھا مگر اس کو پروا نہیں تھا وہ بھاگی جارہی تھی یہ کیا ہورہا ہے کھبی وہ اسے پھول بھیجتا کھبی اس کا ٹیچر بن کر اتنے بدتمیزی سے پیش آیا
یہ کیا تھا آخر کیا ؟۔
ثمرن چھت پہ آئی اور اسے دور سے ہی بھاگتے ہوے دیکھ رہی تھی پارک کی روشنیوں میں صرف وہی اکیلی تھی اور ثمرن کو پریشانی ہوئی وہ کیوں آپ سیٹ ہے پیچھے سے کسی نے اپنے گھیرے میں لیا تھا اور اس کی کنپٹی پہ پیار کیا
"کیا دیکھ رہی ہو اور رات کو اس وقت ٹھیک تو ہو ؟۔”
اس نے دین کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور ٹیک لگا کر اپنا سر اس کی ٹھوڑی پہ رکھ دیا
"وہ پریشان لگ رہی ہے یونی سے واپس آئی ہے تو کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا آج شور بھی نہیں کیا اس نے بس خاموش رہی اور وہ اب پارک میں بھاگ رہی ہے کوئی بات ہوئی کہی وہ پھر سے اُسے !۔۔”
صلاح الدین مسکرایا اور اس کا سر چوما
"پریشان کیا ہونا ہے میڈم کا یونی دو ہفتے کے لیے کھل گیا پیپر ابھی ختم ہوے تھے تبھی محترمہ کا موڈ آف ہوگا تمھارا وہم ہے ۔”
"دین میں اسے جانتی ہوں وہ روتی کھبی نہیں رونے کے بجائے وہ اس طرح کرتی یا تو ڈھیر سارا پانی پیے گی یا پھر جاکنگ کے لیے نکل پڑے گی اور یہ دو چیزیں کررہی ہے ۔”
"سویٹ ہارٹ ٹینشن ایک تو تمھارا نام ٹینشن رکھ لینا چاہئیے صبح سے آیا مگر مجھے کوئی پوچھتا نہیں ہے ۔”
"آپ نا بس کمپلین کیجیے گا ویسے دین آپ سے بات کرنی تھی ۔”
وہ مڑی تو اس نے دین کے گلے میں بازو ڈالی
"بولو موشم !!۔”
"پرنس حماد کا بھانجا نہیں ہے قاسم !۔”
دین کو خطرے کی گھنٹی بجی مگر وہ سُنتے ہوے بولا
"ہاں تو !!۔”
"اس کی امی آئی تھی ہمارے گھر ایک دن پہلے صبح گھر پہ موجود نہیں تھی وہ صبح میں دلچپسی ظاہر کررہی تھی مجھے بھی حیرانگی ہوئی کہاں وہ شاہی خاندان کی شہزادی کا بیٹا اور کہاں میری صبح ویسے صبح میں بات تو ایسی ۔۔۔”
"موشم تم کچھ بھول رہی ہوں صبح کوئی کنواری لڑکی نہیں ہے ۔”
اب ثمرن کے تاثرات سرد پڑ گئے اس نے بازو ہٹا لی مگر صلاح الدین نے اسے پکڑیں رکھا
"میں اس نکاح کو نہیں مانتی دین ! ۔”
صلاح الدین کا حیرت سے منہ کھل گیا
"کیا مطلب ہے یہ صبح اور اسامہ کی بھرپور رضامندی سے ہو تھا ۔”
"آپ اس شخص کا نام بھی مت لیا کریں دین میرے سامنے وہ درندہ میری بہن کا کچھ نہیں لگتا !۔”
"ثمرن تم ہوش میں تو ہو !۔”
اب صلاح الدین کو بھی غصہ آگیا
"دین ایک بچی کو اب زبردستی کوئی بھی کام کرواے گے تو وہ ڈر کے مارے کر لیتے ہیں اور میں زبردستی شادی کے مانتی نہیں ہو ۔”
"تمھیں لگتا ہے نور صبح جیسی لڑکی کسی کے مرضئ کے بغیر کام کرسکتی ہے ۔”
صلاح الدین نے بات بالکل ٹھیک کی تھی مگر یہاں کوئی مانے کو تیار ہو
"اس بچی پہ زبردستی کی تھی اور زبردستی کی شادی اسلام میں نہیں قبول ہوتئ ۔”
"پھر تو ہماری بھی ہوئئ تھی ہماری بھی شادی جائز نہیں !۔”
دین اب اسے چھوڑ چکا تھا اور تیزی سے بولا
"ہماری بات اور تھی دین ۔”
"ہماری بات اور نہیں تھی ثمرن بیگم مجھے بھی میرے گھر والوں نے پریشر کیا آپ بھی دباو میں آکر اس نکاح پہ راضی ہوئی تھیں بعد میں بھی تو ۔”
"دین ہماری بات اور تھی ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ہمارے درمیان محبت بھی تھی ۔”
وہ اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوے بولی
"محبت تو ان دونوں کے درمیان بھی تھی موشم یاد ہے تمھیں نور نے اس اسامہ کو اپنے ہزبنڈ مخاطب کیا تھا
مطلب وہ اسامہ کو شوہر مانتی تھی اور دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں غصہ ۔۔۔۔”
"دین سٹاپ اٹ ! آپ کا کانٹیکیٹ ہے اسامہ سے اسے کہے نور کو طلاق دیں اس کو کاغذ بھیجے پھر میں اس کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔”
دین کو جھٹکا لگا پھر تلخ ہنسی چھوٹی
"تم پاگل ہو ثمرن بعد میں بات کرتے ہیں اس وقت آپ کا دماغ نہیں کام کررہا ۔”
وہ جانے لگا جب ثمرن نے اس کا بازو پکڑا
"دین بات سُنے میری ۔”
"کیا سُنو میں تمھاری تم اپنی بہن سے محبت نہیں کرتئ اگر کرتئ تو ایسی فضول بات اپنے منہ سے نکلاتے وقت دس بار سوچتی ۔”
ثمرن ساکت ہوگئی اس کا ہاتھ چھوٹ گیا آنکھوں میں نمی ابھری دل جیسے سسک اُٹھا
"میں محبت نہیں کرتی ، میں صلاح الدین ہاں نفرت کرتئ ہوں اس سے نفرت کرنے کے باوجود میں آغا جان کے سامنے آگئی اپنی بہن کی خاطر موت کو گلے لگانے کے لیے تیار تھی پانج دن میں نے کھانا اپنے حلق میں نہیں اُتارا مسلسل مار گالیاں ذلت میں نے سہی کیونکہ نفرت جو کرتی تھی ۔۔۔
"موشم !!۔”
صلاح الدین کو ایسا نہیں کہنا چاہئیے تھا ثمرن ایک دم پیچھے ہوئی
"نہیں صلاح الدین رات کے وقت لان میں سخت بارش سخت سردی میں کھڑی رہی کیونکہ نفرت کرتی تھی
بیلن نے پڑنے سے میرے دانتوں میں گیپ آگیا مگر پھر بھی کہتی رہی نہیں میری بہن کی خوبصورتی معصومیت قائم ہے میری رہنے دو ! گردن میں تیر لگنے کے باوجود میں صبح مار کھاتی رہی اور کام بھی کیا ۔”
اس کی آواز بھرا گئی صلاح الدین چلتے ہوے اس کے پاس
"موشی آئیم سوری میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔۔”
وہ اسے دھکا دیں کر جانے لگی
"موشم !! بے بی آئیم سورئ ۔۔”
وہ بھاگا تھا مگر وہ رُکی نہیں زندگی میں چھ سالوں میں دین نے اس کا دل بُری طرح دکھایا تھا اور دین کو خود پہ بے پناہ غصہ آرہا تھا
••••••••••••••
وہ اب بھی بھاگ رہی تھی چہرہ اس کا پیسنے سے بھر گیا ٹانگیں جلنے لگی آنکھیں بھی دندھلا رہی تھی ایک دم سے میسج آیا تو وہ بلا آخر رُکی ضرور آپی بلا رہی ہوگی اس نے میسج رُک کر چیک کیا اور منہ کھول کر گہرے گہرے سانس لینے لگی پھر اس نے دیکھا انون نمبر پہ میسج آیا تھا
"اولمپکس میں ابھی چھ مہینے پڑے ہیں تم کہی حصہ تو نہیں لے رہی ۔”
"او یو !۔”
آج تو بتاتی ہوں اسے
اس نے جلدی سے نمبر ملایا اور بیل جانے لگی مگر فون اُٹھایا نہیں گیا
"چکی یہ جو تم کررہے ہو نا میں اس میں تمھیں کامیاب نہیں ہونے دوں گی ۔”
وہ اب بینچ میں بیٹھ کر خود کو نارمل فیل کررہی تھی
اسامہ واپس آگیا اسامہ کیوں آیا وہ تو اسے اپنی زندگی سے نکال چکا تھا چلو اگر وہ مان بھی لے وہ یہاں آیا بھی کسی کوئنسیڈنس کی بنا پر مگر یہ میسج یہ پھول یہ خط وہ ثابت کیا کرنا چاہتا ہے ؟
اس نے اپنی گردن سے اسامہ نام کی گولڈ کی چین نکالی اور اسے دیکھا
"میرے دوست مجھے چھوڑ کر مت جاو میرے اچھے ہزبنڈ میں ارشد بھائی کو نہیں بتاو گی ۔”
"آئی جسٹ ہیٹ یو بلڈی ہیٹ یو صبح !۔”
"میں جارہا ہوں میں اب ایک پل بھی تمھاری ساتھ نہیں رہ سکتا ۔”
اس نے ٹیک لگا لی اور اوپر آسمان کو تکنے لگی اس اپنا پل یاد آنا لگا جب وہ چھ سال پہلے یہاں آئی تھی
••••••••••••••
ثمرن اس پر کمبل ڈال رہی تھی اور اس کے سر پہ پیار کرنے لگی
"میری جان ۔”
ایک بار پھر پیار کیا پھر وہ اُٹھ کر مڑنے لگی جب صبح نے اسے روکا
"آپی !۔”
وہ مڑی
"ہاں بولو نوری ۔”
"امی بابا کہاں ہے ؟۔”
اس پر ثمرن خاموش ہوگئی پھر چل کر اس کے پاس آگئی
"بس جہاں بھی ہے بالکل محفوظ ہیں تم فکر نہ کریں ۔”
"پھر بھی آپ کو تو پتا ہوگا آپ ان سے ملنے گئیں تھیں ۔”
ثمرن نے اس کے بال ٹھیک کیے
"سو جاو صبح مجھے دین بلا رہے ہوگے ۔”
وہ اب کیا جواب دیتی اس لیے بات بدلتے کہہ کر چلی گئی تھی وہ اب کروٹ لے چکی تھی
پھر ایسی اس کی نظر کمرے کے ایک صوفے پہ پڑئ
ایسا صوفہ وہاں بھی تھا جس پہ اسامہ لیٹا کرتا تھا اس کی آنکھوں میں نمی آگئی اور تکیوں کو بھینچ کر اس نے رونا شروع کردیا
"چکی میں تمھیں بہت مس کرتئ ہوں مجھے کیوں چھوڑ کر چلے گئے اسامہ !! اب مجھ سے کون لڑے گا میری کون پونی بنائیں گا کون مجھے رات کو کھانا دیں گا پلیز واپس آجاو چکی ۔۔۔۔۔”
ناک اس کی رونے کے باعث سُرخ ہوگئی تھی
پھر منہ صاف کرتئ وہ اُٹھی پھر بستر سے اُتری
اسے نے دروازہ کھولا اور پھر آسمان کو دیکھا
"اللہ تعالی پلیز میرا چکی مجھے واپس کردے آپ نے پہلے میرے ماما بابا سے دور کردیا مگر پلیز اللہ مجھے میرا دوست واپس دلا دیں ۔”
وہ ہچکیاں لے کر رونے لگئ
"میں روزانہ نماز پڑھوں گی بس آپ مجھے چکی دیں دے میں ابھی پڑھوں گی فجر کا بھی الارم لگاوں گی
میں کسی کو تنگ نہیں کروں گی مگر چکی دیں دے میرا دوست واپس چاہئیے ۔”
اس نے پھر دوبارہ اپنا گیلا منہ صاف کیا پھر جو اس کی ماما نے وضو کا طریقہ بتایا وہ ایسے کرتی گئی پھر الماری کھول کر اس نے ڈوپٹہ ڈھونڈا تو کوئی نہیں ملا پھر ایک چھوٹا سا ایک کپڑوں کے ساتھ ملا وہ نکال کر اس نے اپنے گرد باندھا اور کمرے میں جائے نماز نہیں تھی تو ایسے کارپٹ پہ پھر یاد آیا کہ قبلہ کس طرف ہیں گھر میں تو ایک طرف سیدھا طرح سے پڑھتے ہیں مگر یہاں اس نے یاد کرنا چاہا گھر میں آپی اور دین بھائی کہاں پڑھتے ہیں بالکل سامنے تو ایسا ہی ہوا پھر وہ نماز شروع کر چکی تھی جو اس کے قاری صاحب نے اسے سکھائی تھی
پھر جب مکمل کی تو بس ایک ہی دعا تھی لبوں پہ اس کو بس ایک بار چکی سے ملا دیں اس کا دوست واپس کردیں اس کا دوست اس کی چھ سال مسلسل دعاوں سے واپس آگیا تھا مگر ایک اور آزمائش کھڑی تھی ثمرن آپی دوسرا اسامہ کا عجیب رویہ
گہرا سانس لیتی وہ اب اُٹھی پر ایک دم رُک گئی کیونکہ بینچ کے ساتھ ہی جھاڑیوں میں ہل چل ہوئئ تھی جیری الرٹ ہوگئی ٹام کی بو آرہی تھی
قدم آہستہ آہستہ بڑھاتے وہ دوسری طرف آئی چہرے پہ بل پڑ گئے
اس نے فون نکال کر اسی نمبر پہ کال ملائی مگر مقابل بھی ٹام تھا کیسے بیل کی آواز اونچی رکھتا
اس طرف اندھیرا بھی تھا اس لیے کچھ نہیں نظر آرہا تھا اس نے فون سے ٹارچ آن کیا اور اس طرف بڑھئ اسامہ کو سمجھ نہیں آئی کس طرف بھاگے
"پٹے گا چکی !!۔”
وہ خود سے بولا اور جلدی سے ایک طرف ہورہا تھا
صبح آگئے ہوئی کہ اچانک ثمرن کی کال آنے لگی
وہ اس پر متوجہ ہوئی تو ٹام یعنی کے اسامہ دی چکی فوراً اُٹھا اور سپیڈ لگا دیں کیپ پہنے کے باعث اس کا چہرہ نظر نہیں آیا صبح نے ایک دم سر اُٹھا کر دیکھا اور اس کی بھی سپیڈ لگ گئی
"تمھیں تو میں چھوڑوں گی نہیں میری جاسوسی کررہا تھا اس نے جلدی سے دوڑتے ہوے سامنے پڑا بٹا اُٹھایا
حفاظتی تدابیر یو نو وہ اب پارک کے گیٹ سے باہر نکلنے کے بجائے دوسری طرف نکلنے کے لیے جمپ لگانے لگا مگر صبح کا نشانہ بڑا فٹ تھا تیزی سے اس نے بٹا پوائنٹ کیا بھاگتے ہوے اور مارا اور پھر بس اسامہ کی کمر صبح کے وار سے بچ نہ سکی
"اُف اللہ !!!۔”
بس جی پھر درد جسم میں ایسا پھیلا کہ اسامہ کو رات میں اب تارے نظر آئے تھے پہلے تو وہ صبح کی روشنی میں ہی کھوئے وے تھے
"رُک جاو میں تمھیں ابھی بتاتی ہوں ۔”
جیری صاحب اس سے قابل اس کو اس کی نانی یاد دلاتی ٹام صاحب نے ہمت کی اور تیزی سے اپنے گھر کی طرف بھاگے اب صبح شور نہیں کرسکتی تھی کیونکہ یہ کالونی کے لوگ جتنے اچھے ہوتے مگر اس کی جاہلوں کی طرح شور کرنے پہ ضرور سکیورٹی کو بلا دیتے ویسے بھی صبح صاحبہ کی پہلی بھی بہت کمپلین تھی اور وہ ثمرن سے مزید ڈانٹ نہیں سُنا چاہتی تھی
••••••••••••••
"اُف میری ماں !!۔”
اسامہ کہراتے ہوے بولا جب گل شیر نے برف والا بیگ اس کی کمر میں رکھا
"لالہ اُف میری ماں نہیں اُف یہ نور !! ویسے کیا ضرورت تھی ایسے جھاڑیوں میں گھسنے کی اس کے بعد فٹ بھاگے ۔”
"ہاے مجھے کیا پتا تھا وہ آفت ابھی تک سے ہے ۔”
"زیادہ نہ بنے چھ سال سے اس کی جاسوسی میں لگے ہیں اور اب کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیا پتا ؟۔”
"تم بولنا بند کرو گے میں امید نہیں کرسکتا تھا اتنے نشانے پہ لگائیں گی یہ لڑکی کہ ایسا لگا سارا میدہ باہر آجائے گا ہاے ۔۔ اور اس کو خود ہی سینس ہوگیا میں جھاڑیوں کے پیچھے ہوں کال بھی ملا رہی تھی محترمہ نے اُف گل شیر آرام سے ۔۔”
"ویسے ابھی سے یہ حال لالہ بعد میں تو بس اللہ ہی حافظ ہے آپ کا ۔۔”
"اس ویمپ کو تو چھوڑو گا نہیں تم دیکھتے چلو کمر پہ لگا اگر چہرے وغیرہ بھی لگتا تو اس کو پورا یقین ہوجانا تھا کہ میں ہی تھا ۔”
"ان کو یقین ہے لالہ آپ ہی ہے ۔”
"لیکن اب دیکھنا میں کیا کروں گا ویمپ صلاح الدین بھائی کو خود کہے گی مجھے پاگل خانہ چھوڑ آئے ۔”
وہ شرارت سے مسکراتے ہوے اپنی رولیکس میں لگا ایس الفیبٹ کو دیکھ رہا تھا
•••••••••••••••
"دیر کیوں لگا دی تھی ۔”
ثمرن نے اس کو دیکھا پھر جلدی سے ٹیبل لگاتے ہوے بولی
"سب نے کھانا کھا لیا !۔”
"ہاں کھا لیا بس میں اور تم رہتے ہیں آو بیٹھو ۔”
"ہیں دین بھائی کے ساتھ نہیں کھایا آپ نے ؟۔”
وہ آپی کے چہرے میں کچھ کھوج رہی تھی مگر ثمرن کا چہرہ سپاٹ تھا
"مجھے بھوک نہیں تھی ۔”
"کوئی بات ہوئی ہے ۔”
"نہیں بھئی سفائر کو سلانے گئی تھی رورہی تھی دین اور جسمین کھانا کھا چکے میں نے سوچا تمھارے ساتھ کھا لوں گی تم بتاو کیا بات ہے ۔”
وہ اکتائی ہوئی لگ رہی تھی نور صبح نے کندھے اچکائے
"کوئی بات نہیں ۔”
"تو اس پہر کیوں شوق چڑھا تھا یہ لو جوس پیو چہرہ پیلا کردیا ہے پہلے ہی جم جاتی ہو باسکٹ بال کھیلتی ہو اتوار کو ہمیشہ کی کرکٹ میچ جسم دیکھ رہی ہوں سوکھ کے کانٹا ہوگئی ہو ۔”
"آپی اگر آپ کو کمپلیکس ہے تو آپ بھی جوائن کر لے جم پر میرے شوق کو میرے سے دور نہ کریں ۔”
ثمرن لزانیا کی پلیٹ لائی تو مسکرا پڑی
"سیدھے سیدھے کہو موٹی ہوگئی ہوں ۔”
"ارے نہیں اب بس ہلتھی ہیں اور ابھی تو آپ کو بے بی ہوا ہے آپ نے بھی سفو کے تین مہینے بعد جاب دوبارہ سے شروع کردی ۔”
"کیا کروں جانو مصروف رہنا چاہتئ ہوں اور تعلیم حاصل کی ہے تو کیوں ضائع کروں ویسے بھی کلاس تو صرف میری دو گھنٹے کی ہوتی ہے باقی تو سارا دن سفائر ہی ہوتی ہے تم نے تو وقت دینا چھوڑ دیا ہے۔”
"تو پھر آپ بھی میرے جیسے کام شروع کردیں میں آپ کا بھرپور ساتھ دوں گی ۔”
"ہاں اور میڈم نے مجھے ہرا دینا ہے اور ناکامی مجھ سے برداشت نہیں ہوگی تم سے خوب لڑو گی موڈ آف ہوگا میرا اور جب میرا موڈ آف ہوگا تو بس اس دن گھر سے کھانا نہیں بنے گا اور پھر تم دین کو کہہ کر پیزا منگواؤں گی پھر سب کی پارٹی اور میں یہ ہونے نہیں دوں گی ۔”
صبح جو مسکرا رہی تھی اس کا منہ ایک دم لٹک آیا
"آپ نے تو باپندی لگائی ہوئی پیزا کی ۔”
"کیونکہ میں نہیں کھا سکتئ نا اس لیے میں نہیں چاہتی کہ کوئی اور کھائے ۔”
"ڈاکڑ نے منع نہیں کیا آپ کو بس آپ ویٹ کے چکروں میں ایسے کررہی ہیں ۔”
"پھر دین کی نظریں بھٹک جائے گی ۔”
"بھٹک کے دکھائیں اوّل تو وہ ایسا کریں گی نہیں کیونکہ آپ کے علاوہ ان کو کوئی خوبصورت لڑکی لگتی نہیں ہے ساری لڑکی کو دیکھتے وقت ان کی بینائی کھو جاتی اور اگر ایسا ہوا تو پھر بغیر ٹانگوں کے بیٹھے رہ جائے گے ۔”
"نوری کیسی فضول باتیں منہ سے نکلاتے ہو اللہ نہ کریں ۔”
ناراضگی کے باوجود بھی ثمرن کا دل تڑپ اُٹھا تھا اور وہ غصے سے بولی تھی
"سوری آپی پر آپ نے بات ایسے کی کہ مجھے بہت غصہ آگیا ۔”
"خیر کھانا شروع کرو جوس ہی پیتی رہو گی اور ہاں شاور نہ لینا پسینہ آیا ہوا ہے ۔”
"اُف آپی !!!۔”
"ویسے ایک بات بتاو نوری ؟۔”
"جی بولے ۔”
"ثمرن سفائر بہت رو رہی ہے ۔”
صلاح الدین تیزی سے آیا ثمرن نے اسے نہیں دیکھا اور سر ہلاتے ہوے اُٹھی
••••••••••••••••••
"آج یونی اتنی خالی کیوں لگ رہی ہے ربیکا کہاں ہیری !۔”
"تمھیں تو پتا ہے شروع کہ دنوں میں سب کو جوش چڑھا ہوتا ہے اس کے بعد چھٹیاں منانے ویسے فکر نہ کرو یہ امیر باپ کی اولاد ہیں آجائے گے چلو کنٹین چلتے ہیں ۔”
وہ بھی اپنی پونی کو کس کے باندھ کر بیگ کو کندھے پہ لٹکاتی کنٹین کی طرف بڑھی اور دروازہ کھولا
"لو سارے بھوکے کنٹین میں گھسے ہیں میں زرا عمر سے مل لوں ۔”
وہ چل کر ان کی طرف بڑھا جہاں ان کا گروپ تھا جبکہ صبح چلتے ہوے اپنا پروٹین شیک آڈر کرنے لگی وہ دیکھ رہی تھی کاونٹر پہ کوئی نہیں تھا اس نے اردگرد دیکھا پھر اچانک اسامہ سامنے آیا
"یس مس صبح آپ نے کیا آڈر کرنا ہے ۔”
وہ ایک دم پیچھے ہوئی جیسے کوئی بھوت دیکھا لیا ہو
"کیا ہوا !!۔”
وہ اب آنکھیں مسل کر اسے دیکھنے لگی پھر اردگرد دیکھا سب اپنی باتوں میں مشغول تھے اس نے حارث کو آواز دی اسامہ کے تاثرات پتھریلے ہوے جارہے تھے مگر اسے خود کو کنڑول کرنا تھا مگر اس کا ماچس کی تیلی جیسا ہیری پُتر بہرہ تھا
"سٹے سی !۔”
"یس ؟۔”
اس نے پاس کھڑی لڑکی کو پکارا جو اب دوسری طرف سے پیسڑی منہ میں ڈال رہی تھی
"کیا ہوا میں پیسڑی نہیں دینے والی !۔”
"پیسڑی کا نہیں پوچھنا یہ ہمارے سر نہیں ہے ۔”
وہ شرارت سے مسکرایا جسے اس نے چھپایا
"پاگل ہو اتنا ہینڈسم ٹیچر یہ کام کریں گا یہ حسام ہے سامی کو بھول گی ۔”
"نہیں بھولی میں ! لیکن تم سب اندھے ہوگئے ہو ۔”
"صبح آپ کا آڈر !۔”
اسامہ نے پھر دُھرایا
"یہ گولیاں مجھے دن میں نہیں اثر کرنے لگی ۔”
"سُنو ! اگر تم حسام ہو تو صبح باجی بولتے ہو باجی کیوں نہیں بول رہے ۔”
اسامہ سپٹا گیا مگر وہ بھی دی چکی تھا ایکٹنگ بھرپور کرنی تھی
"نہیں نہیں مس باجی تو جاہل بولتے ہیں میں پڑھا لکھا ہوگیا ہوں نا اس لیے مس بولوں گا آپ بتائیں کیا لے گی ۔”
اس کا منہ ایک دم کھل گیا اسامہ کو زیادہ سوچتے ہوے اب اسے حسام میں اسامہ نظر آنا لگا ہے
"آڈر !!۔”
"نہیں بھاڑ میں جاو!۔”
وہ تیزی سے کہتی مڑی سٹے سی نے اسے دیکھا اسامہ نے اسے تھمز آپ دیا اب وہ دیکھنا کیا کرتا ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/