مختصر کہانیاں

"ہماری شمو” تحریر: زویا حسن قسط نمبر: 1 20 دسمبر…

"ہماری شمو”
تحریر: زویا حسن
قسط نمبر: 1
20 دسمبر 2017 دوبئی انٹرنیشنل ائیر پورٹ ، ڈیپارچر ہال کے عین سامنے کھڑی ہوکے میں اسد کا انتظار کررہی تھی۔ ہر دو سیکنڈ کے بعد موبائل دیکھتی کہ شائد وہ کال یا میسج کرے ۔۔ کتنا رش تھا لوگوں کا۔۔ میرے چاروں طرف طرح طرح کی زبانیں بولنے والے دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ، فلائٹس کی اناؤنسمنٹ جاری تھی۔ اس شور شرابے میں میں ایک ہی آواز کو ڈھونڈ رہی تھی۔ جسے سننے کی امید گزرتے پلوں کے ساتھ دم توڑ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دوبئی سے لاہور جانے والی فلائیٹ کی اناؤنسمنٹ ہونے والی تھی۔
"وہ نہیں آئے گا۔۔۔ ”
میں نے ایک گہری سانس لی۔۔۔ اسے الواداعی میسج کرنے کے لیے فون کی سکرین انلاک کی۔۔۔ میسج ٹائپ کرنے سے پہلے ہی سکرین پہ اسکا نمبر آیا
"وئیر آر یو۔۔۔ ؟ میں ائیر پورٹ پہنچ گیا ہوں۔۔ ”
"میں ڈیپارچر ہال کے سامنے ہوں۔۔۔ ”
"اوکے۔۔ ! میں بس ایک منٹ میں پہنچتا ہوں تمہارے پاس۔۔”
کال بند کرکے میں نے فون بیگ میں ڈالا۔۔ اور ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔ کچھ ہی پلوں میں اسکی آواز سنائی دی
"تھینکس گاڈ۔۔! میں ٹائم پہ پہنچ گیا۔۔۔”
میں نے پھیکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائی۔۔
"کیا ہوا آنٹی کو۔۔ از شی آل رائیٹ۔۔۔ ؟”
اسکے سوال پہ میری آنکھیں بھر آئیں۔۔
"او کم آن۔۔۔ ! پلیز رو مت۔۔۔ وہ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔ یو آر اے بریوو گرل۔۔ ”
اس نے دونوں ہاتھ میرے کندھے پہ رکھ دیے
"اسد۔۔! امی ٹھیک ہیں۔۔ انھیں کچھ نہیں ہوا۔۔ ”
میں نے تر ہوتی آنکھوں کو ٹشو سے صاف کیا
"واٹ۔۔! پر تم فون پہ تو کچھ اور ہی بتا رہی تھی کہ آنٹی اسپتال میں ہیں۔۔ وہ سب کیا تھا۔۔ ؟”
اسکی آنکھوں حیرانی تھی
"میں جھوٹ بول رہی تھی۔۔ ”
میں نے نظریں جھکا لیں
"کیوں۔۔؟ ”
"فرار چاہتی ہوں۔۔۔ ”
میں نے جواب دیا
"پہیلیاں مت بھجواؤ۔۔ سیدھی بات بتاؤ۔۔ کیا ہوا ہے۔۔ ”
"میں تھک گئی ہوں اسد۔۔۔۔! دو سال سے اپنے ساتھ لڑ لڑ کے ہار گئی ہوں۔۔ میں مزید نہیں چل سکتی تمہارے ساتھ۔۔۔ ”
آنکھوں میں آئے سیلاب کو میں روک نہیں پائی
"واٹ دا ہیل از دس۔۔۔ ؟ تم اکیلی اتنا بڑا فیصلہ کیسے کرسکتی ہو۔۔۔ ؟”
"اکیلی ہی تو اس رشتے کو نبھا رہی تھی۔۔ پر اب اور نہیں۔۔۔ ”
"تمہیں طلاق چاہیے۔۔ ؟”
اسکی آنکھوں میں سنجیدگی کے ساتھ غصہ بھی نمایاں تھا ۔ میں نے جواباً ہاں میں سر ہلایا۔
"طلاق کا مطلب جانتی ہو۔۔۔ ؟ کیا کہو گی اپنے گھر والوں سے۔۔۔ ؟ خاندان اورسوسائٹی میں خود بھی بدنام ہوگی اور مجھے بھی بدنام کرو گی۔۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کریں گے۔۔ برداشت کرلو گی؟”
"ہاں ۔۔ وہ ذلت برداشت کرنا آسان ہے۔۔ لیکن گھٹ گھٹ کے جینا بہت مشکل ہے۔۔ ”
"صبا۔۔! پلیز۔۔ ایک بار پھر سے سوچ لو۔۔ مانتا ہوںمیں بہت سی چیزوں میں غلط ہوں۔۔ تمہیں وقت نہیں دے پا رہا۔۔ لیکن میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔ دیکھو میں نے اس بار نیو ائیر کے لیے کیا کچھ پلان کیا ہوا ہے۔۔ تم ایک چانس تو دو مجھے۔۔ ”
اس نے میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے
اتنے میں فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہوئی۔ میں نے ہاتھ چھڑائے اور ایک قدم پیچھے ہٹی
"تو یہ تمہار آخری فیصلہ ہے۔۔ ؟”
میں نے سر ہلایا
"بہت پچھتاؤ گی تم ۔۔۔ ! یاد رکھنا۔۔ تم سبھی دروازے اپنے ہاتھوں سے بند کرکے جارہی ہو۔۔”
میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔۔ اسکی طرف پیٹھ کرکے میں آگے بڑھ گئی۔۔ فیصلہ اٹل تھا اس لیے مڑ کے دیکھنے کا سوال نہیں تھا۔
رات 9 بجے علامہ اقبال ائیر پورٹ پہ پہنچ کر میں نے سرمد کو کال کی کہ مجھے پک کرلے۔۔ کیوں کہ میں نے اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی تھی وہ حیران ضرور ہوا لیکن تھوڑی ہی دیر میں ائیر پورٹ آگیا۔ مجھے اکیلا دیکھ کے اسکی حیرانی پریشانی میں بدل گئی۔۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اسکا سب سے پہلا سوال ہی یہی تھا۔
"صبا۔۔! سب ٹھیک ہے۔۔؟”
میں نے سر ہلا کے اسے تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے۔ سرمد مجھ سے ایک سال چھوٹا تھا۔ اس لیے ہم دونوں بہن بھائی کم اور دوست زیادہ تھے۔ ایک دوسرے کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کی خبر رکھتے تھے۔ سرمد میرے اور اسد کے رشتے سے بخوبی واقف تھا۔ شائداسی کی وجہ سے ہی ہمارا رشتہ دو سال چل گیا ورنہ تو کب کا ٹوٹ گیا ہوتا۔
"اسد کیوں نہیں آیا۔۔ اور تم نے آنے سے پہلے اطلاع کیوں نہیں دی۔۔ ؟”
اس نے سوال کیا
"وہ شارجہ گیا ہوا تھا۔۔ ایک دو میٹنگز تھیں۔۔ کچھ دن میں آجائے گا۔۔۔ ہمارا پلان ہے کہ ہم نیو ائیر پاکستان میں منائیں۔ اس لیے میں پہلے آگئی۔۔۔ ”
میں سوچ سو چ کے جواب دینے لگی
"جھوٹ مت بولو صبا۔۔۔۔! دو دن پہلے میری اسد سے بات ہوئی تھی۔ اس نے اپنا نیو ائیر پلان مجھ سے شئیر کیا تھا۔۔ تم لوگ پیرس جانے والے تھے۔۔ سچ سچ بتاؤ۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔ ورنہ میں ابھی اسد کو فون کرتا ہوں۔۔ ”
اس نے بریک لگائی اور میری طرف دیکھنے لگا
"سرمد۔۔! میں سب کچھ چھوڑ آئی ہوں۔۔۔ ”
میں نے ماتھا گھٹنے پہ ٹیک دیا
"یار۔۔! میں نے تمہیں کہا تھا ناں کہ ایسی کوئی بے وقوفی مت کرنا۔۔ پھر بھی تم نے میری بات نہیں مانی۔۔۔ ”
وہ کہنے لگا
"مزید نہیں ہوتا مجھ سے۔۔۔ پلیز۔ ٹرائی ٹو انڈر سٹینڈ۔۔۔ میں نے اس سے طلاق کی بات کرلی ہے”
میں آنسو پوچھنے لگی۔۔
"صبا۔۔! ڈونٹ بی چائلڈ۔۔۔ مما اور بابا کو پتا چلا تو کیا گزرے کی ان پہ۔۔ یو نو۔۔۔ کچھ مہینے پہلے ہی بابا کا بائی پاس ہوا ہے۔۔ یہ دھچکا وہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔۔۔ ”
اسکی آواز بھاری ہونے لگی
"ہم فلحال کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔۔۔ ”
"ایک نہ ایک دن تو بتانا پڑے گا۔۔ تم اتنی خود غرض مت بنو۔۔۔ ”
"واہ۔۔! جب میں وہاں تڑپ رہی تھی۔۔ اکیلی مر رہی تھی۔۔ تب مجھ پہ کسی کو رحم آیا۔۔۔ ؟ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا گزر رہی تم پہ۔۔۔ اور آج جب میں نے تل تل مرنے کی بجائے جینے کا فیصلہ کیا تو خود غرض ہوگئی۔۔۔۔ تمہارے منہ سے یہ بات سن کے سچ مچ بہت تکلیف ہوئی ہے۔۔۔”
اس نے بنا کوئی جواب دیے گاڑی سٹارٹ کی
ہم لوگ گھر پہنچے تو اتری ہوئی شکلیں دیکھ کے امی پریشان ہوگئیں۔۔۔ شادی کے بعد میں جب بھی آئی ہوں امی نے پرتپاک استقبال کیا۔۔ لیکن اس بار نا جانے کیسے وہ آنے والے صدمے کو پہلے بھانپ چکی تھیں۔ اس لیے بار بار میرا چہرہ دیکھ کے ٹھنڈی آہیں بھر تیں۔ البتہ بابا میرے آنے سے کافی خوش ہوئے۔ سرمد نے چپ سادھ لی۔
21 دسمبر 2017 صبح آٹھ بجے امی نے مجھے نیند سے جگایا۔ ایک عرصے بعد میں سکون کی نیند سوئی تھی ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے سوتے سوتے ہی میں نے اپنی زندگی سے بیتے ہوئے دو سال مٹا دیے تھے۔ امی نے میرے ماتھے پہ بوسہ دیا۔ اور میں نے انھیں گلے لگا لیا۔
"چلو۔۔! اٹھو اب ناشتہ کرلو۔۔۔ سرمد بھی آفس کے لیے تیار ہے۔۔ سب مل کے ناشتہ کرتے ہیں۔۔”
وہ میرے بال سنوارتے ہوئے بولیں
میں جلدی سی فریش ہوئی اور ڈائننگ روم میں پہنچی
بابا اخبار پڑھ رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح میں نے باہیں انکے گرد حائل کیں۔۔ جواباً انھوں نے پیار کیا۔
"ہے برو۔۔۔۔! گڈ مارننگ ”
میں نے سرمد کے کندھے پہ ہاتھ مارا۔۔ اسکا چہرہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ اب بھی مجھ سے ناراض ہے۔۔ میں نے اسے کریدنے کی کوشش نہیں کی۔۔
"امی۔۔! جلدی سے ناشتہ لگوا دیں۔۔ آفس سے لیٹ ہورہا ہوں۔۔ آج ایک ضروری میٹنگ ہے۔۔ ”
سرمد کی نگاہیں موبائل فون پہ تھیں۔۔ امی نے ملازمہ کو آواز دی کہ ناشتہ لے آئے۔۔
"آج چھٹی کرلیتے۔۔ صبا اتنے دنوں بعد آئی ہے۔۔ کب اسکے خاوند کا بلاوا آجائے۔۔۔ پھر پتا نہیں کب یہ موقع ملے”
امی بولیں
"آپ فکر نہ کریں۔۔اب یہ موقع کہیں نہیں جاتا۔۔۔ ”
سرمد کے جواب میں گہری طنز تھی۔۔ سوائے نظر انداز کرنے کے میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا
"ارے واہ۔۔۔ آلو کے پراٹھے۔۔۔ امی آج تو آپ نے کمال کردیا۔۔ پتا ہے دوبئی میں آپکے پراٹھوں کو کتنا مس کیا میں نے۔۔۔ ”
میں نے جان بوجھ کے امی کی توجہ سرمد سے ہٹائی۔۔۔
"تمہیں ابھی تک پراٹھے بنانے نہیں آئے۔۔۔۔ ”
امی نے مجھے گھورا
"امی۔۔! میں نے کوشش کی تھی لیکن۔۔ آپکے ہاتھ والا ذائقہ نہیں آ یا ۔۔ اسد کو بھی میرے پراٹھے پسند نہیں آئے۔۔۔ ”
میرے منہ سے اسد کا نام سن کے سرمد نہ ایک گہری نگاہ میرے چہرے پہ ڈالی۔۔ میں اسکی سوالیہ نظر کی تاب نہ لاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔۔
ناشتہ ختم ہونے کے بعد سرمد آفس چلا گیا۔۔ بابا لان میں جا کے اپنے پودوں کی دیکھ بھال کرنے لگے۔۔ میں ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھنے لگی۔ ملازمہ کے ذمہ کام لگا کے امی بھی میرے پاس آکے بیٹھ گئیں۔۔
"صبا۔۔۔۔!”
میرا دھیان ٹی وی پہ تھا۔ امی کی آواز پہ میں چونکی
"جی۔۔۔!”
"تمہارے اور اسد کے بیچ میں سب ٹھیک ہے ناں۔۔۔ ؟”
ان کے خدشات جائز تھے
"ہاں امی۔۔ سب ایکدم پرفیکٹ ہے۔۔ ”
میں نظریں چراتے ہوئے چینل بدلنے لگی
"اچھا۔۔! میری بات تو کراؤ اسد سے۔۔۔ ”
انھوں نے میرے ہاتھ سے ریموٹ پکڑا اور ٹی وی کا والیوم کم کیا
"اس وقت تو وہ میٹنگ میں ہوں گے۔۔ شام میں بات کراؤں گی۔۔”
میں نے بہانہ کیا
وہ چپ ہو گئیں۔۔
"تمہیں پتا ہے۔ میں سرمد کے لیے لڑکی دیکھ رہی ہوں۔۔ اب تم آئی ہو تو تھوڑی مدد کردینا۔۔”
امی مسکراتے ہوئے بولیں
"ارے واہ۔۔۔! سرمد مان گیا شادی کے لیے۔۔۔ دیٹس آ گڈ نیوز”
میں یہ سن کے سچ مچ خوش تھی
"مانا کہاں۔۔ منانا پڑا۔۔۔ ابھی تو اسکی پسند کی لڑکی دیکھنی ہے۔۔ ”
وہ بتانے لگیں
"آپ فکر مت کریں۔۔ کوئی نہ کوئی تو مل ہی جائے گی
شام میں سرمد واپس آیا تو میں نے جان بوجھ کے اسکے ساتھ باہر جانے کا پلان بنایا۔ حالانکہ اس کا ارادہ بالکل نہیں تھا پر میری ضد اورامی کے ڈانٹنے پہ وہ مجھے باہر لے آیا۔۔۔ گاڑی گھر سے نکالتے ہی اس نے پوچھا
"کہاں جانا ہے۔۔۔ ؟”
"کہیں نہیں۔۔ میں تم سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی تھی اس لیے باہر لے آئی۔۔ ”
میں نے جواب دیا
وہ خاموش رہا۔۔ ہم قریب بیس منٹ تک سڑکوں پہ پھرتے رہے۔ میں بھی کچھ کہہ نہیں پائی
"سرمد۔۔! کیا ہم صرف بہن بھائی ہیں۔۔ ؟ دوست نہیں ہیں۔۔ ؟”
میں نے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا
"دوستی تم نے ختم کی ہے۔۔ اتنا بڑ ا فیصلہ کرلیا او ر مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا”
وہ بولا
"میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔۔ تمہیں یاد ہے، اسد کے ساتھ میری شادی کرانے میں سب سے زیادہ تم نے ساتھ دیا تھا میرا، امی اوربابا بالکل تیار نہیں تھے۔۔ پر تم نے انھیں منایا۔۔ اسدکی فیملی سے ہماری خاندانی دشمنی تھی۔ پورے خاندان نے ایڑی چوڑی کا زور لگا دیا تھا کہ یہ رشتہ نہ ہو پائے۔۔ پر تم نے اپنے بل بوتے پہ میری پسند کی کو ترجیح دی۔۔ اسد سے میری شادی کرائی۔۔ تمہارے بغیر یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ ۔۔ تم نے بھائی اور دوست ہونے کا حق ادا کیا۔۔ میں وہی حق پھر سے مانگتی ہوں۔۔ پلیز اس فیصلے میں بھی میرا ساتھ دے دو۔۔۔ ”
میں نے گہری سانس لی
"واہ۔۔۔! تم نے تو دوستی کو تماشا ہی بنا لیا۔۔ کل شادی کرانے کے لیے ساتھ مانگا تھا اور آج توڑنے کے لیے مانگ رہی ہو۔۔۔ تم نے جو فیصلہ کرنا تھا پہلے ہی کرچکی ہو۔۔ میں خاموش ہوں۔۔ مجھے خاموش رہنے دو۔۔ کچھ بھی ایسا مت مانگو جو میں دینے سے قاصر ہوں”
اس نے گاڑی گھر کی طرف موڑ لی۔۔ میں مایوس ہوگئی۔۔ مجھے امید تھی کہ اور کوئی میرا ساتھ دے یا نہ دے پر سرمد ہمیشہ میرا ساتھ دے گا۔۔ لیکن یہ امید بھی دم توڑ گئی۔
22 دسمبر 2017 کی شام، تائی ایک آفت کی طرح گھر میں داخل ہوئیں اور آتے ہی امی پہ برس پڑیں
"جب ہم سب اس رشتے کے خلاف تھے تم لوگوں نے کسی کی نہیں سنی اور اپنی بیٹی کی شادی کرادی۔۔ نتیجہ دیکھ لیا۔۔ دو سال بھی نہیں چل پائی۔۔۔ طلاق تک بات پہنچ گئی۔۔۔ ”
ڈارئنگ روم میں بیٹھ کے انھوں نے گرج کے وار کیا۔۔ پل بھر کے لیے میری دھڑکن رک گئی۔۔ امی کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔ صورت حال کچھ ایسی بن گئی تھی میں چاہ کے بھی تائی کو روک نہیں سکی۔۔۔
"بھابی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔۔ کس کی طلاق۔۔ کیسی طلاق۔۔۔ ؟”
امی کی آواز لرز رہی تھی
"لو بھلا۔۔۔ ابھی تک تمہیں خبر نہیں ہے۔۔ تمہاری بیٹی تیر مار کے آئی ہے۔۔ طلاق لے رہی ہے اسد سے۔۔ وہ تو کل مجھے اسد کی امی مارکیٹ مل گئیں۔۔ ان سے پتا چلا ۔۔۔ ان لوگوں نے تو شہر بھر میں ڈھول پیٹ دیے ہیں۔۔ اور یہاں کسی کو پتا نہیں ہے۔۔۔ ”
امی آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھنے لگیں۔۔ میں نے مجرموں کی طرح سر جھکایا ہوا تھا۔۔
"کیوں صبا۔۔۔ ماں کو نہیں بتایا تم نے۔۔ یا پھر طلاق کے کاغذوں کا انتظار کررہی تھی۔۔”
تائی کی زہر آلود تلوار نے ہم دونوں ماں بیٹی کا جگر زخمی کیا۔۔ سو طعنے کوسنے دے کے وہ اپنے گھر چلی گئیں۔۔ اور ہمارے گھر ایک قیامت برپا ہوگئی۔۔۔ بابا اپنے کمرے میں سو رہے تھے میں اور امی ڈارئنگ روم میں تھے۔۔ وہ سسکیاں لینے لگیں۔۔ میں اس حالت میں نہیں تھی کہ انھیں تسلی دے پاتی۔۔
"کیوں کیا تم نے ایسا۔۔؟”
وہ اتنا بول پائیں
اتنے میں سرمد بھی آگیا
"امی کیا ہوا۔۔۔!”
اس نے امی کی حالت غیر ہوتی دیکھی تو بھاگ کے انکے پاس آیا۔۔ اسے یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ وہ جس قیامت سے ڈر رہا تھا ہم سب اسکی زد میں آچکے تھے۔ امی کا بلڈ پریشر ہائی ہوا۔۔ وہ انھیں سہارا دے کے گاڑی کی طرف لے جانے لگا۔۔ میں اٹھ کے پاس آئی
"نو۔۔۔۔ صبا۔۔۔ دور رہو میری ماں سے۔۔۔ ”
وہ گرج کے بولا
میں گھٹنوں کے بل فرش پہ بیٹھ گئی۔۔۔
گھر پہ اداسی کے سائے چھا گئے۔ امی اور سرمد نے بابا کو کچھ نہیں بتایا۔۔ میں نے اپنے آپکو کمرے میں بند کرلیا۔۔ امی نے بات چیت ہی بند کردی۔۔ دو دن گزر گئے۔۔ میں جس اکیلے پن سے بھاگ کے یہاں آئی تھی پھر سے تنہائی کی اسی کھائی میں جا گری۔۔۔ دو دن تک میں کمرے سے نہیں نکلی۔
24 دسمبر 2017 دوپہر کے کھانے پہ ملازمہ نے مجھے نیند سے جگایا۔۔
"صبا بی بی۔۔۔! بڑے صاحب کھانے پہ آپکو یاد کررہے ہیں۔۔ ”
بابا کو خوش کرنے کے لیے میں کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔ ڈائننگ روم میں کھانا لگ چکا تھا۔ سب کو سلام کرکے میں چپ چاپ ایک کرسی پہ بیٹھ گئی
"صبا بیٹا۔۔۔ دو دن سے آپ کی شکل نہیں دیکھی ۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔ ؟”
بابا میری طرف دیکھ کے بولے
” بابا۔۔ ! میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔ اس لیے کمرے میں ہی رہی۔۔”
میں نے جواب دیا۔ امی نے میری طرف دھیان نہیں دیا۔ اتوار کا دن تھا سرمد بھی گھر پہ موجود تھا۔ وہ بھی امی کی طرح مجھے نظرانداز کررہا تھا۔
"سرمد۔۔! بہن کو اچھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔۔۔ دیکھو تو سہی پیلی پڑ رہی ہے بے چاری۔۔۔ اسد کیا سوچے گا کہ ہم نے اسکا خیال نہیں رکھا۔۔ ”
بابا سرمد سے کہنے لگے
"جی بابا۔۔ لے جاؤں گا۔۔ ”
سرمد نے آہستگی سے جواب دیا
ان لوگوں کا ایسا رویہ دیکھ کے میرا دل خون کے آنسو رونے لگا۔۔۔ با مشکل میں نے دو چار نوالے گلے سے اتارے۔۔ کھانے کے بعد میں روم میں جانے لگی تو بابا نے روک لیا
"صبا۔۔ بیٹا۔۔۔ پھر سے کمرے میں بند مت رہو۔۔۔ چلو آؤ۔۔ ہم لوگ ٹی وی پہ حالاتِ حاضرہ دیکھتے ہیں۔۔ بڑا عرصہ ہوا ہے موجودہ سیاست پہ تبصرہ کیے ہوئے۔۔ ”
میں بابا کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ گئی۔ وہ اپوزیشن اور سرکار کے درمیان چھڑی ایک جنگ پہ بات کرنے لگے۔ میں ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔۔ اتنے میں گھر کی ڈور بیل بجی۔۔ امی ملازمہ کے ساتھ باہر گئی تھیں۔۔ سرمد اپنے کمرے میں تھا۔ بابا اٹھ کے دروازے پہ جانے لگے لیکن میں نےا نھیں روک لیا اور خود گیٹ کی طرف بڑھی۔۔ دروازہ کھول کے دیکھا تو سامنے کوئی بھی نہیں تھا۔ مجھے لگا شائد بچوں نے شرارت کی ہوگی۔ میں دروازہ بند کرنے لگی۔ ۔۔
"ایک منٹ۔۔۔ دروازہ نہ بند کرنا”
ایک آواز میرے کان میں پڑی۔۔ میں باہر جھانکنے لگی۔۔ گیٹ سے چند قدم کے فاصلے پر آٹو رکشے سے سامان اتارتی ہوئی لڑکی میری طرف دیکھ کے مسکرائی۔۔ میں حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔ رکشے والے نے ایک بوری، دو تین بیگ سڑک کے کنارے رکھ دیے۔۔
"بھیا۔۔۔! یہ بوری اندر رکھ دیں۔۔ باقی سامان میں خود اٹھا لوں گی۔۔۔ ”
دبلی پتلی سی لڑکی رکشے والے کو اشارہ کرکے بولی۔ میں اس سوچ میں مبتلا تھی کہ شائد وہ غلط پتے پہ پہنچ گئی ہے۔ اس لیے میں نے اسے آواز دے کے اپنی طرف بلایا۔
"ہاں۔۔ آپی۔۔ بس میں ابھی آئی۔۔۔”
ہاتھ کا اشارہ کرکے اس نے جواب دیا۔ اور ساتھ ہی رکشے والی کی کمرے پہ بوری لاد دی۔۔۔
رکشے والا پیچھے تھا اور وہ آگے بڑھ کے میرے پاس آئی
"ہائے اللہ۔۔۔۔! آپ صبا آپی ہیں ناں۔۔ ؟”
آنکھیں گھماتے ، ہاتھ لہراتے حیرت سے منہ کھولے ۔۔ وہ مجھے سے لپٹ گئی۔۔۔ میں گھبرا کے پیچھے ہٹی
گھنگریالے بال، سانولی سی رنگت، شکل سے گوار یہ لڑکی کون ہے آخر۔۔؟
میں نے خود سے سوال کیا
"آئے۔۔ ہائے ۔۔۔ آپ نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔ میں "شمو” ۔۔۔”
وہ کھلکھلا کے بولی
میری حیرت اب بھی اپنی جگہ پہ قائم تھی۔
"باجی۔۔! میری تو کمر تھک گئی ہے۔۔”
بوری لادے رکشے والے نے درد بھری آواز میں دہائی دی
"چلو۔۔۔ چلو۔۔ بھیا اندر چلو۔۔ اندر۔۔۔ ”
میرے بازو سے پکڑ اس نے رستے سے ہٹایا اور رکشے والے کو گھر کے اندر گھسا دیا
"ایکسکیوز می۔۔۔! میں نے آپکو نہیں پہچانا۔۔۔ کون ہیں آپ اور ایسے کیسے اندر گھسی چلی جارہی ہیں۔۔ ”
میں تلملا کے بولی
"اوہو ۔۔صبا آپی۔۔ میں شمو ہوں۔۔ سلانوالی سے آئی ہوں۔۔۔ آپکی رضیہ خالہ کی بیٹی۔۔۔ ”
اس نے لاپرواہی سے جواب دیا
رکشے والے نے اندر جا کے بوری رکھ دی۔۔ وہ بیگ اٹھانے کے لیے رکشے کی طرف بڑھی۔۔ میں سراسیمگی میں یاد کرنے لگی کہ رضیہ خالہ کون ہیں۔ اتنے میں امی اور ملازمہ بھی واپس آگئے
"کیا ہوا باجی۔! آپ باہر کیوں کھڑی ہیں۔۔ ؟”
ملازمہ نے ہاتھ میں سبزیوں کا تھیلا پکڑا ہوا تھا۔۔
میں نے اس عجیب و غریب لڑکی کی طرف اشارہ کیا
امی بھی اس طرف دیکھنے لگی
دو بڑے بیگ بغلوں میں ڈالے ایک بیگ ہاتھ میں پکڑے وہ واپس پلٹی۔۔۔
"نجمہ خالہ۔۔! شکر ہے آپ آگئیں۔۔۔ صبا آپی نے تو مجھے پہچانا ہی نہیں ۔۔ ”
سار ے بیگ فرش پہ رکھ کے وہ امی سے لپٹ گئی۔۔
"رضیہ کی بیٹی ہوں ناں تم۔۔۔ ؟”
امی نے جھٹ سے پہچان لیا۔۔۔
"ہاں تو اور کیا۔۔۔ یہ دیکھیں اماں نے اتنا کچھ بھجوایا آپ کے لیے۔۔۔ ”
اس نے سامان کی طرف اشارہ کیا۔۔ امی میری حیرت کو بھانپ گئیں
"رضیہ ۔۔ سرگودھا والی۔۔۔ میری تایا زاد۔۔۔ ”
امی نے اشارہ دیا۔۔ مجھے فوراً یاد آگیا۔۔۔
دراصل امی کی تایا زاد رضیہ خالہ سرگودھا کے ایک گاؤں میں رہیتی تھیں۔ امی اور رضیہ خالہ کی پیدائیش ایک ہی ہفتے میں ہوئی۔ نانو امی کی پیدائیش کے تیسرے ہفتے ہی گزر گئیں۔ اس لیے رضیہ خالہ کی ماں یعنی امی کی تائی نے امی کو اپنا دودھ پلایا۔۔ یوں امی اور رضیہ خالہ کا ایک قدرتی بہناپہ بن گیا۔ امی بڑی ہوئیں تو نانا لاہور آگئے۔ رضیہ خالہ وہیں رہ گئیں۔ گزرتے وقت نے دوریاں بڑھا دیں۔ امی کی یہاں شادی ہوگئی اور رضیہ خالہ کی وہیں گاؤں میں ہی شادی ہوئی۔ سالوں میں کبھی کبھار ہی ان کی خبر آتی تھی لیکن امی ہمیشہ ہی ان ذکر کرتیں۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ایک دو بار وہ ہمار ے گھر آئیں۔۔ بے شک وہ غریب تھیں لیکن امی نے انکی خاطر مدارت میں کوئی کمی نہ چھوڑی ۔ سرمد اور میں اپنی اپنی زندگی میں مگن تھے۔ امی کا رضیہ خالہ سے رابطہ ہے یا نہیں اسکی ہمیں کبھی خبر نہیں ہوئی۔ اور آج ایک دم سے "شمو” یہاں آگئی ۔ میں شمو سے بچپن میں ایک بار ملی تھی۔ اور اس نے ایک ہی نظر میں مجھے پہچان لیا۔۔
امی شمو کو لیے اندر آئیں
"تمہاری ماں نہیں آئی۔۔۔ ؟”
ڈارئنگ روم میں صوفے پہ بٹھاتے ہوئے امی نے اس سے پوچھا
"لئے۔۔۔ اماں نے کہا ں آنا تھا۔۔۔ وہ تو مجھے بھی نہیں آنے دے رہی تھی۔۔ لیکن اس بار جب انکی کمیٹی نکلی تو میں گھٹنہ پکڑ کے بیٹھ گئی۔۔ کچھ بھی ہوجائے۔۔۔ ہیپی نیو ائیر تو میں لاہور جا کے مناؤں گی۔۔ ”
ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پہ مار تے ہوئے اس نے تالی بجائی۔۔۔
اس کے معصوم انداز پہ ہم ددنوں کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔
بقیہ اگلے حصے میں
لائیک ، کمنٹ اور شئیر کرنا نہ بھولیں

"اس کہانی کی بلا رکاوٹ اپ ڈیٹس لینے کے لیے ابھی اس پیج کو "فالو” کریں اور "سی فرسٹ” پہ کلک کرکے ہر قسط بر وقت پڑھیں”
Click “Following” and select “See First”

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/