مختصر کہانیاں

Epi 1 man dare ishq bahsahma hastam من درِعشق باشم…

Epi 1
man dare ishq bahsahma hastam
من درِعشق باشما ھستم
وقتی قلبم را دیدم قلبم شروع به ضرب و شتم کرد✨
(میرے دل نے ایک بار پھر دھڑکنا شروع کردیا جب سے تم کو دیکھا )
نیلم ویلی شمالی علاقے میں سے سب سے خوبصورت اور دل کو ہلا دینے والے منظروں میں سے ایک ہے ۔وجہ ایک تو اس کی دلکش نظارے کے ساتھ ساتھ یہاں کی روایات ،لوگ سب کچھ کی اپنی ہی بات اور اپنی ہی خوبصورتی تھی تیزی سے چلتی سیاہ چمکتی آسٹن مارٹن کا رُخ سُنہری حویلی کی طرف ہی تھا گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا تو سیاہ رے بین کا چشمہ اُتارتا اپنی سبز رنگ آنکھیں جو امیرالڈ سٹون کے طرح لگتی لیکن آغا جان کا کہنا تھا سارے پتھر پہ اس کی خوبصورت اگلے کو چت کردینے والی آنکھیں کے آگئے کچھ بھی نہیں ہے لیکن آج اس کی چمکتی ہری آنکھوں میں آج سارے رنگ چھین چکے تھے جبکہ اردگرد لالئ ہی بھرئ ہوئی تھی اس کا دماغ تقریباً پھٹنے کے قریب تھا لیکن چہرے پہ پتھریلے تاثرات ابھی بھی قائم تھے اس نے موڑ کاٹتے ہوئے سُنہری حویلی کے قریب پہنچا اس کی منزل آگئی تھی لیکن وہ منزل کے پاس جانا نہیں چاہتا تھا وہ چاہتا تھا یہ پل تھم جائے یا سب کچھ پیچھے سے چلا جائے جہاں اس کا بھائی ،اس کا یار اس کا بازو ہادی علی خان ہوتا ہادی کو سوچتے ہوئے صلاح الدین علی خان کی آنکھوں میں ناچاہتیے ہوئے بھی نمی آگئی جس کو سختی سے صاف کیا کیونکہ پٹھان مرد رویا نہیں کرتے ۔
※※※※※※※※※※※※
"بولتے کیوں نہیں ہو جب بلاتے ہو تو پورا تھانہ ہلا دیتے ہو اور جب تمھارے شور سے میں آجاتی ہو تو بالکل خاموش ۔”
وہ اپنی کالی سنیجدہ آنکھیں اپنے سے تین سالا چھوٹے بھائی ارسل پہ گاڑتے ہوئے بولی اور وہ سر جھکائے ٹیبل پہ ناخن کڑھوچ رہا تھا ۔ اس کی حالت جیل میں ایک ہفتے رہنے کی باعث عجیب سی ہوگئی تھی اور ثمرن کو اپنے چھوٹے بھائی کو اس طرح دیکھتے ہوئے تکلیف ہوئی کیا سے کیا کردیا تھا وہ جانتی تھی وہ بے قصور ہے لیکن کوئی ثبوت نہ ہونے پر وہ چُپ تھی
"ارسل کچھ بول بھی دوں ورنہ میں جاوں یہاں سے ۔”
"وہ اکسیڈنٹ مجھ سے نہیں ہوا رینی ! ”
"میں جانتی ہو لیکن تمھیں کس نے کہا تھا اپنے دوست کو گاڑی دینے کو وہ تو فرار ہوگیا پیسے والا جو ٹہرا لیکن تمھیں کیسے نکالوں !۔”
"کچھ بھی کر کے نکال دو رینی میں یہاں نہیں رہ سکتا ۔”
وہ رودینے والا ہوگیا آخر تھا تو پندرہ سال کا بچہ روتا کیسا نا
"اچھا رو تو نا پریشان کیوں ہوتے ہو میں ہونا تمھارے ساتھ ۔”
وہ زیادہ سنیجدگی نہیں دکھا سکتی تھی ابا نے بھی ایک بار اسے آکر نہیں دیکھا تھا اماں کی طبیعت نہیں تھی وہ یہاں آتی تھی اس نے ہمت کی اس نے گھروالوں کو نہیں بتایا تھا وہ جیل آتی ہے ۔
"جانتا ہوں لیکن پلیز کچھ جلدی کرو ثمر میں ایسے نہیں رہ سکتا ۔”
وہ بہت زیادہ پریشان لگ رہا تھا
"میں بات کرو گی نا اس فمیلی سے دیکھو کیا ہوتا ہے سُنا ہے ان کے کوئی بڑے آرہے ہیں وہ کوئی فیصلہ کریں گے ۔”
"مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا رینی !۔”
ثمرن نے اسے دیکھا اور پھر ہاتھ اس کے ہاتھوں میں رکھا
"تم فکر نہ کرو تمھاری رینی ہے نا لڑتی ہو تو کیا ہوا لیکن تمھارے لیے دُنیا سے بھی لڑ سکتی ہوں ۔”
وہ ضبط کرتے بولی وہ سب کو دلاسا دیں رہی تھی مگر خود کو کیسے دیتی اسے بھی کسی کی دلاسے کی ضرورت تھی لیکن فل حال اسے وہ کندھا میسر نہیں ہورہا تھا جس پہ وہ سر رکھ کر روتی ۔
※※※※※※※※※※※※※※※※※※
آغا جان خاموشی سے کھڑکھی کی طرف دیکھ رہے تھے جب دروازے پہ آتا صلاح الدین رُک گیا وہ ہادی کے بعد سے بالکل خاموش ہوگئے تھے وہ سمجھ رہا تھا کے وہ ہنگامہ کھڑا کریں گے اس لڑکے پہ گولیوں نچھاور کردینے کا حکم دیں گے لیکن اتنی خاموشی نے سب کو چُپ کروادیا تھا لیکن حرا تائی کا تو رو رو کر بُرا حال ہوگیا تھا وہ چاہتی تھی ان کے بیٹے کے قاتلوں کو سزا ملے اور آغا جان کی اتنی بے جا خاموشی پہ انہیں مزید تاو آگیا، سب تو آغا جان کے مزاج سے واقف تھے اس لیے ان کو سنبھال رہے تھے اور آگئے سے نہ کوئی فیصلہ سُنایا نہ ہی آغا جان کو کچھ بولا کے کچھ کریں
"رُک کیوں گئے اندر آجاو ۔”
آغا جان کی بھاری آواز کمرے میں گونجی لیکن اس بار خاصی تھکی ہوئی تھی صلاح الدین کے دل کو کچھ ہوا
وہ آگئے آیا اور دروازہ بند کرنے لگا اسے پتا تھا وہ اسے کس بات کے لیے بلائے گئے ۔
※※※※※※※※※※※※※※※※※※※
میری عشق دی خیر نا منگ
کیونکہ میرا عشق بھی مجھ سے روٹھ گیا
بابا کی بات سُن کر وہ اک دم تڑپ کر اُٹھی
"یانی آپ پیسے نہ ہونے کی خاطر نوری دیں دے گے ۔”
وہ اپنے باپ کے سامنے پہلی بار چلائی امی کے آنکھ میں بھی آنسو تھے لیکن ثمرن کے اس طرح چلانے پر وہ تیزی سے بولی
"ثمرن !۔”
"آپ تو ایک سکینڈ کے لیے خاموش ہوجائے ماما بابا آپ کو ہو کیا گیا ہے نوری کوئی بیس سال کی لڑکی نہیں ہے وہ بارہ سال کی بچی ہے ! اور یہ شادی بھی کوئی عام شادی نہیں ہے خون بہا ہے جو ساری زندگی ایک دلدل میں دھنس جانے کی بات ہے وہاں سے نکلوں کو تبھی زخم آپ کے وجود میں آئے گے اور اس میں رہوں گے تو اس کو سہتے سہتے بھی مرجاو گے گناہ بیٹا کریں اور سہے ہم بیٹیاں ۔”
کہتے ہوئے تو اس کا دل بیٹھ گیا اور چہرہ سُرخ ہوگیا بابا کا سر جھکا ہوا تھا اور امی تڑپ کر بولی
"میرے بیٹے نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔”
"اچھا تو پھر نوری نے گناہ کیا ہے نوری بابا کو اتنی سی عمر میں گاڑی کی چابی مانگتی ہے اور پھر دوستوں کو پکرا دیتی ہے اور جو قانوں میں ہے کے آٹھارہ سال سے کم کوئی بھی گاڑی نہیں چلا سکتا تو کیوں دیتے ہے آپ بیشک گاڑی چلانے آتی ہوگئ لیکن عقل کیا ان کے آپ جتنی ہے بڑے سے بڑے لوگوں سے اکسیڈنٹ ہوجاتا تو وہ تو پھر پندرہ سال کا بچہ تھا اور کیوں نہیں کیا جرم سارا الزام ہم دوسرے پہ لگا کر اپنا دل ہلکہ کردیتے ہیں یہ نہیں پتا جرم کا گندم ہم نے بویا ہوتا ہے اور پھر قدرت کیوں دوسرے سے وہ بوج کٹوائے ۔”
آج اس کا دل کیا پورا شہر اکھٹا کر لے وہ تو شروع سے ہی سینسٹو تھی کوئی بڑا سا بڑا واقعہ ہوجاتا تو رونے لگ جاتی یا سارا دن ڈیپریشن میں چلی جاتی اور جو اب ہوا تھا اس کا کلیجہ سوچتے ہوئے ہی پھٹ رہا تھا خون بہا یہ جتنا ناولز اور فلموں میں اس کی حُسین اور دلکش تصویر کھینچی ہوتی ہے حقیقت میں ایک ایسا زہر ہے جو جسم پھیلتا جاتا ہے کے اسے کوئی دوا کوئی طریقہ نکال نہیں پاتا۔
"وہ کہتے ہیں ہم بے غیرت نہیں ہے جو اپنے جگر کے خون کا پیسہ لے ہمیں لڑکی چاہئیے ورنہ موت کا بدلہ موت ۔”
بابا کے زبان لڑکھڑا رہی تھی ثمرن نے اپنے کان بند کرنے چاہیے لیکن وہ آواز دل کی ہر کونے میں پہنچ کر چھڑا کے طور پہ گھونپتی جارہی تھی
"انھیں نوری کیوں چاہئیے کوئی اور بھی لڑکی ہوسکتئ ہے ۔”
جن دل تکلیف سے کہراتا تو وہ اپنے مرہم کے لیے کوئی حل نکالتا ہے چاہئیے وہ بعد میں نقصان دیں ہی کیوں نہ ہو
"تم تو اپنے تائی کے بیٹے کے ساتھ منسوب ہو انھیں پتا چلا تو نوری کو مانگا ۔”
مرہم مل چکا تھا اور اس مرہم کی بھاری قیمت تھی لیکن وہ قیمت چکانے کے لیے تیار تھی
"کوئی منسوب نہیں ہوئی اگر انھیں خون کے بدلے لڑکی ہی چاہئیے تو وہ نورِصباح نہیں ثمرن فرحاد ہوگی ۔”
وہ اپنا فیصلہ سُنائے وہ تیزی سے اُٹھ پڑی جبکہ اس کے ماں باپ ساکت ہوگئے یہ کیا کہہ کر گئی ہے
※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※
وہ پلین سے اُترا نہیں تھا باقی اس کے کو پائلٹس تک ایر ہوسٹس سمیت اُتر چکے تھے لیکن وہ سیٹ میں بیٹھا رہا اس کی نظر سامنے مختلف پلینز کی طرف تھی لیکن اس کی آنکھیں کافی خالی تھی کوئی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی بلکہ نہیں کانوں میں نہیں پورے کوک پٹ میں گونجی تھی کوئی اس کے کندھے پہ ہلکہ سے ہاتھ مار رہا تھا کوئی پاگلوں کئ طرح ایک ایک کنڑول کا پوچھ رہا تھا اور انھیں چھونے بھی لگا تھا وہ سب سے خطرناک دن بھی تھا اس کے لیے لیکن اس کے عشق کا آغاز بھی وہ جتنی پاگل اور جھلی سی تھی لیکن حددرجے کی صاف اور سادگی سے بھرپور تھی وہ اس کو سوچتے ہوئے مسکرایا تھا لیکن اچانک آغا جان کی آواز کانوں میں ابھری
"تمھیں ان کی لڑکی سے نکاح کرنا ہوگا ۔”
نکاح وہ کیسے نکاح کرسکتا نکاح کا مطلب صرف آپ کا نام اور آپ کو وجود کا دینا نہیں ہوتا تھا نکاح ایسا خوبصورت بندھن ہے جس سے روح اور دل بھی سونپنا پڑتا تھا اور وہ دل کسی کو ایک سال انجانے میں دیں چکا تھا شاہد دل کو حاصل کرنے والے کو خود بھی معلوم نہیں ہوگا گہرا سانس لیتا ہوا وہ کھڑا ہوگیا اور حسرت سے اس جگہ کو دیکھتے ہوئے کیپ اُتار چکا تھا اور پلین سے نکلنے کے لیے بڑھ گیا ۔
※※※※※※※※※※※※※※
"تم کیا بکواس کررہی ہو ۔”
وہ چلا ہی اُٹھا ثمرن خاموش رہی
"دیکھو ثمرن دوبارہ یہ بولا تو میں تمھارا منہ توڑ دوں گا ۔”
رمیض چلا اُٹھا ثمرن کسی کی اونچی آواز برداشت نہیں کرسکتی تھی کجا کے بدتمیزی
"آپ اپنی زبان کو لگام رکھے آپ کا کوئی حق نہیں ہیں میرے سے اس لہجے میں بات کرنے کی جو بات کرنی تھی وہ میں نے کردی اللّٰلہ حافظ ۔”
وہ سختی سے بولی
"بات سنو تم میری تمھاری سے منگنی ہوئی ہے میری اجازت کے بغیر تم ہوتی کون ہو فیصلہ کرنے والی ۔”
"اچھا کوئی ثبوت ہے منگنی کا کوئی پیپر مسٹر رمیض منگنی کی کوئی شریعت میں اہمیت نہیں ہے نکاح ہوتا تو میں آپ کے احتجاج کو تسلیم کرتی مگر آپ کا میرے پہ کوئی حق نہیں ہے اس لیے آپ اب آزاد ہیں کسی اچھی لڑکی سے شادی کرلجیے گا ۔”
"تم کتنی گھٹیا لڑکی ہو جو اپنے منگیتر کے منہ پہ بے حد منہ پھٹ ہوکر کہہ رہے ہو ۔”
یہ مرد آنا پر چوٹ پڑتی ہی بلا بلا اُٹھتے ہیں یہ نہیں سوچتے کے جس کو وہ گھٹیا کہہ رہے ہیں اس نے آخر ایسا کیا کہہ دیا یا کردیا جس سے وہ گھٹیا ہوگئی ایک انکار بس انکار سے وہ مشکوک ،بُری ،ظالم بن جاتی ہے جبکہ کوئی حق بھی نہیں ہوتا اس رشتے میں پھر بھی وہ گنہگار ٹہرائی جاتی ہے یہ نہیں دیکھتے وہ ایک جان بچا رہی بلکہ ایک جانوں سمیت بہت سے جانوں پر اپنا آپ قربان کررہی ہے مگر کون مانے اور کون جانے ۔
"ہاں تو آپ لکی ہے اس گھٹیا لڑکی سے جان چھوٹ گئی آپ کو اچھی لڑکی مبارک ہو ۔”
ہر لفظ کو چبا کر کہتے اس کی آنکھوں میں مرچی آنے لگی
جسے اس نے سختی سے صاف کیا
"آپی آپ نے کوئی بُکس منگوائی تھی ۔”
ان کی کام والی ہاجرہ نے اس کے کمرے میں آتے ہوئے کہا وہ مڑی تو ہاتھ میں بُکس تھی وہ سمجھ گئی کس نے بھیجی ہے وہ کب رُکے گا شاہد وہ اب رُک جائے گا ، وہ جانتی نہیں تھی وہ کون ہے لیکن اس اس شخص سے ملنا تھا اس کو اپنے دل کا حال بتانا تھا جو پورے سال اس کے ساتھ ایک مسیحا کے طور پہ تھا ایک دوست ایک استاد کے طور پہ ہر روپ میں لیکن وہ اس کے اصل سے ناواقف تھی پارسل کو کھولا اور فارسی کی شاعری کی کتابیں دیکھ کر اس کا دل کیا وہ انجانا شخص کاش اسے مل جات

جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/